سیمون دی بوار: ایک تعارف
سیمون لوسی ایرنسٹین میری برٹرینڈ دی بوار (Simone Lucie Ernestine Marie Bertrand de Beauvoir) 9 جنوری 1908ء کو پیرس کے ایک متوسط مگر تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد جارج دی بوار قانون کے شعبے سے وابستہ تھے جبکہ والدہ فرانسواز ایک مذہبی کیتھولک خاتون تھیں۔ ابتدائی تعلیم کے دوران ان کی فکری نشوونما مذہب اور عقل کے درمیان جدلیاتی کشمکش میں ہوئی۔ اسی ذہنی تضاد نے ان میں فکری خودمختاری اور فلسفیانہ تجسس پیدا کیا۔
سیمون نے سوربون یونیورسٹی سے فلسفہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1929ء میں Agrégation کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اسی دوران ان کی ملاقات ژاں پال سارتر (Jean-Paul Sartre) سے ہوئی، جو ان کی فکری و جذباتی زندگی میں ہمیشہ کے لیے شریکِ سفر بنے۔ دونوں نے وجودیت (Existentialism) کے فکری دھارے کو نئی جہت بخشی اور آزادی، شعور اور وجود کی معنویت پر گہرے مباحث کیے۔
سیمون دی بوار کی شہرت کا نقطۂ عروج ان کی شہرۂ آفاق تصنیف The Second Sex (1949ء) ہے، جس نے جدید نسوی فکر (Modern Feminist Thought) کی بنیاد رکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے عورت کی کم مایگی کے تمام تاریخی، سماجی، اور فلسفیانہ تصورات کا تجزیہ کیا۔ ان کا مشہور جملہ "One is not born, but becomes a woman" (انسان عورت پیدا نہیں ہوتا، بلکہ عورت بنایا جاتا ہے) نے صنفی نظریات میں انقلاب برپا کر دیا۔ ان کے نزدیک عورت کی محکومی کی اصل وجہ اس کا "دیگر" (The Other) کے طور پر تعین ہے، یعنی مرد کو اصل اور عورت کو ضمنی و تابع سمجھنے کا رویہ۔ انہوں نے اپنی کتاب The Second Sex میں تاریخی مادیت کے حوالے سے تفصیلی کلام کیا ہے جس کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔
تاریخی مادیت (Historical Materialism) کا نقطۂ نظر:
سیمون کے مطابق تاریخی مادیت کے نظریے نے انسانی زندگی سے متعلق چند نہایت اہم حقائق کو واضح کیا ہے کہ انسان محض ایک حیوانی نوع نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ انسانی معاشرہ فطرت کے تابع نہیں بلکہ کسی حد تک فطرت کے مخالف (antiphysis) ہے — یعنی یہ فطرت کے سامنے خاموش تماشائی بن کر نہیں رہتا بلکہ اس پر قابو پانے اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سیمون کے ہاں عورت کو صرف ایک جنسی وجود کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ حیاتیاتی خصوصیات میں سے صرف وہی اہمیت رکھتی ہیں جو عملی سرگرمی میں کوئی حقیقی کردار ادا کرتی ہیں۔ عورت کا شعورِ ذات صرف اس کی جنسیت سے متعین نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک ایسی سماجی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے جو معاشی نظامِ حیات پر منحصر ہے، اور یہ نظامِ معیشت دراصل اس تکنیکی ارتقاء کے درجے کو ظاہر کرتا ہے جو انسانیت نے حاصل کیا ہے۔
کتاب کے آغاز میں سیمون نے عورت کی حیاتیاتی خصوصیات میں سے دو نمایاں باتوں کو ذکر کیا:
- دنیا پر عورت کی گرفت مرد کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔
- اور وہ نوعِ انسانی (Species) کی بقا سے زیادہ وابستہ ہے۔
یہ دونوں حقائق اپنی قدر و اہمیت معاشی اور سماجی پس منظر کے مطابق بدل لیتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں دنیا پر قابو پانے کی صلاحیت کبھی صرف جسمانی طاقت سے متعین نہیں ہوئی۔ انسان کا ہاتھ، جس میں انگوٹھا مخالف سمت میں حرکت کرتا ہے، خود ایک ایسے آلے کی پیش بندی کرتا ہے جو اس کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔تاریخ کے قدیم ترین ادوار میں بھی انسان ہمیشہ ہتھیار بند دکھائی دیتا ہے۔ جب انسان بھاری ڈنڈوں سے جانوروں کا مقابلہ کرتا تھا، تب عورت کی جسمانی کمزوری اس کی نمایاں کم تری بن جاتی تھی، کیونکہ اگر کسی آلے کے استعمال کے لیے اتنی طاقت درکار ہوتی جو عورت کی قدرتی طاقت سے کچھ زیادہ ہوتی، تو وہ بالکل بے بس اور کمزور سمجھی جاتی۔
لیکن جیسے جیسے ٹیکنالوجی نے ترقی کی، اس نے مرد و عورت کے درمیان عضلاتی فرق کو ختم کر دیا۔طاقت کی زیادتی صرف اسی وقت معنی رکھتی ہے جب ضرورت موجود ہو، اور "زیادہ ہونا" ہمیشہ "کافی ہونے" سے بہتر نہیں ہوتا۔بہت سے جدید مشینوں کے استعمال کے لیے اب مردانہ طاقت کا صرف ایک حصہ کافی ہوتا ہے، اور اگر کم از کم مطلوب طاقت عورت کے دائرۂ استطاعت میں ہو تو وہ اپنے کام میں مرد کی برابر ہے اور آج تو یہ صورت ہے کہ بڑی سے بڑی توانائی کو محض ایک بٹن دبانے سے قابو میں کیا جا سکتا ہے۔
سیمون نے واضح کیا کہ جہاں تک زچگی (Maternity) کے بوجھ کا تعلق ہے، ان کی اہمیت مختلف معاشرتی روایات اور سماجی حالات کے لحاظ سے بدلتی ہے۔اگر عورت کو بار بار حمل سے گزرنا پڑے، دودھ پلانے اور بچوں کی پرورش کے لیے اسے کوئی مدد نہ ملے، تو یہ ذمہ داریاں اس پر انتہائی بوجھ بن جاتی ہیں۔
لیکن اگر وہ اختیاری طور پر اولاد پیدا کرے، اور معاشرہ حمل کے دوران اس کی معاونت کرے اور بچوں کی دیکھ بھال کا انتظام کرے، تو زچگی کے یہ بوجھ ہلکے ہو جاتے ہیں اور مناسب سماجی و پیشہ ورانہ سہولتوں کے ذریعے آسانی سے متوازن کیے جا سکتے ہیں۔
تاریخی مادیت کے مطابق عورت کی تاریخ — (اینگلز کے نظریے کی روشنی میں):
اینگلز نے اپنی مشہور تصنیف "The Origin of the Family, Private Property, and the State" میں عورت کی تاریخ کو اسی نقطۂ نظر سے بیان کیا ہے، اور دکھایا ہے کہ عورت کی تاریخ کا انحصار بنیادی طور پر تکنیکی ارتقاء پر ہے۔
پتھر کے زمانے میں، جب زمین قبیلے کے تمام افراد کی اجتماعی ملکیت ہوا کرتی تھی، تو ابتدائی زرعی آلات جیسے بیلچہ اور کھُرپی کی سادہ ساخت نے کاشتکاری کے امکانات کو محدود کر رکھا تھا۔ اس دور میں عورت کی جسمانی قوت باغبانی کے لیے کافی تھی۔
اس ابتدائی تقسیمِ محنت میں مرد اور عورت دو الگ "طبقات" کی مانند تھے، اور ان کے درمیان برابری پائی جاتی تھی۔ مرد شکار اور مچھلیاں پکڑنے جاتا، جبکہ عورت گھر پر رہتی؛ مگر گھریلو کاموں میں پیداواری مشقت بھی شامل تھی — جیسے برتن بنانا، بُنائی کرنا، اور باغبانی — اس طرح عورت معاشی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔
لیکن جب انسان نے تانبہ، قلعی، کانسی (Bronze) اور لوہا دریافت کیا، اور حل (Plough) ایجاد ہوا، تو زراعت کی وسعت میں اضافہ ہوا۔ اب جنگلات کی صفائی اور کھیتوں کی کاشت کے لیے زیادہ محنت درکار تھی۔ اس مرحلے پر مرد نے دوسرے مردوں کو غلام بنا کر ان سے کام لینا شروع کیا۔
یوں ذاتی ملکیت (Private Property) کا آغاز ہوا۔
غلاموں اور زمین کا مالک بننے کے بعد، مرد نے عورت کو بھی اپنی ملکیت بنا لیا۔اینگلز کے مطابق، یہی وہ لمحہ تھا جسے وہ "عورت کی جنس کی عظیم تاریخی شکست" (The great historical defeat of the feminine sex) قرار دیتا ہے۔
یہ شکست پرانے نظامِ تقسیمِ محنت کے الٹ جانے کے سبب پیش آئی، جو نئے آلات کی ایجاد سے پیدا ہوئی۔
اینگلز لکھتا ہے:
وہی سبب جس نے عورت کو گھر کے اندر بنیادی اقتدار عطا کیا تھا — یعنی اس کی گھریلو ذمہ داریوں تک محدودیت — وہی سبب اب مرد کے غلبے کی ضمانت بن گیا؛ کیونکہ اب عورت کا گھریلو کام مرد کی پیداواری محنت کے مقابلے میں بے حیثیت ہو گیا — مرد کی محنت سب کچھ بن گئی، اور عورت کا کام ایک معمولی ضمنی سرگرمی۔
نتیجتاً، ماں کی حکمرانی کی جگہ باپ کی حکمرانی نے لے لی۔
اب وراثت عورت یا اس کے قبیلے کی بجائے باپ سے بیٹے کو منتقل ہونے لگی۔یہی وہ مقام ہے جہاں ذاتی ملکیت پر مبنی پدرشاہی (Patriarchal) خاندان کی ابتدا ہوئی۔اس خاندان میں عورت محکوم بن گئی۔مرد اپنی بالادستی کے نشے میں جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے آزاد ہو گیا — وہ غلام عورتوں یا کسبیوں کے ساتھ تعلقات رکھتا، یا کثرتِ ازدواج (Polygamy) اختیار کرتا۔جہاں کہیں مقامی رسم و رواج عورت کو تھوڑی بہت جوابی آزادی دیتے تھے، وہاں وہ بے وفائی (Infidelity) کے ذریعے انتقام لیتی۔یوں ازدواجی تعلق کا فطری انجام زناکاری (Adultery) کی صورت میں ظاہر ہوتا۔
اینگلز کے نزدیک، یہی عورت کا واحد دفاع تھا اس گھریلو غلامی کے خلاف جس میں وہ بندھی ہوئی تھی۔یہی معاشی استحصال دراصل اس سماجی جبر کی بنیاد ہے جس کا عورت شکار ہے۔
اینگلز کے مطابق، برابری اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک دونوں جنسوں کو قانونی مساوات حاصل نہ ہو۔لیکن عورت کی یہ آزادی اسی وقت ممکن ہے جب تمام عورتیں اجتماعی سطح پر پیداوار میں حصہ لینے لگیں۔
اینگلز لکھتا ہے:
عورت اُس وقت ہی آزاد ہو سکتی ہے جب وہ وسیع سماجی پیمانے پر پیداوار میں حصہ لے، اور اس کا گھریلو کام محض ایک غیر اہم حد تک محدود ہو جائے۔اور یہ اُس وقت ہی ممکن ہوا ہے جب جدید صنعتی نظام نے ترقی کی، جس نے نہ صرف عورتوں کی محنت کو وسیع پیمانے پر قبول کیا بلکہ باقاعدہ اس کی ضرورت پیدا کی۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔
Tags:
معاصر افکار

بہترین انتخاب۔۔۔۔۔۔ماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریں