رد الحاد میں مفتی مختار اللہ حقانی صاحب کا منہج


 


ردِّ الحاد سے وابستہ علمی و فکری کاوشیں بلاشبہ آج ایک نئی شدّت اور توجّہ کے ساتھ جاری ہیں، اور حالیہ مباحث و مناظرات نے اس مسئلے کو غیر معمولی طور پر نمایاں کر دیا ہے۔ یہ امر اپنی جگہ خوش آئند ہے کہ اب اس موضوع کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، تاہم یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ الحاد کا مسئلہ نہ تو آج پیدا ہوا ہے اور نہ ہی کل کا حادثہ ہے، بلکہ یہ ایک طویل المدّت فکری عمل کا نتیجہ ہے جو خاموشی کے ساتھ عرصۂ دراز سے پروان چڑھ رہا ہے۔ روز بہ روز سامنے آنے والی رپورٹس، تحقیقی مشاہدات اور انکشافات اس بڑھتے ہوئے رجحان کی سنگینی کو مزید عیاں کرتے ہیں، جو ہم جیسے اہلِ ایمان کے لیے فکری اضطراب اور قلبی تشویش کا باعث ہیں۔


یہ تشویش اس لیے ہرگز نہیں کہ—معاذ اللہ—اسلام کا فکری و اعتقادی مقدمہ کمزور پڑ گیا ہے، اسلام تو ازل سے ابد تک حق کی مضبوط ترین تعبیر ہے، جس کے دلائل آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہیں۔ اصل اضطراب اس حقیقت سے جنم لیتا ہے کہ اس فکری یلغار کی زد میں زیادہ تر وہ عام، سادہ لوح اور فکری تربیت سے محروم مسلمان آ رہے ہیں جن کے پاس نہ تو شکوک کے جواب ہیں اور نہ ہی سوالات کو سنبھالنے کی فکری صلاحیت۔ یہ وہ نقصان ہے جو اعداد و شمار سے نہیں ناپا جا سکتا، مگر امت کے اجتماعی وجود کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔


ایمان، بلا شبہ، انسان کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ دنیا کی کوئی دولت، کوئی مرتبہ اور کوئی کامیابی اس کے ہم پلہ نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ اگر کوئی فرد اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہو جاتا ہے تو بحیثیتِ مسلمان ہمارے دل کا ٹوٹ جانا ایک فطری امر ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی ایک انسان کو بھی ہماری کاوش، گفتگو یا کردار کے ذریعے راہِ ہدایت نصیب ہو جائے تو وہ ہمارے لیے دنیا و مافیہا سے بڑھ کر سعادت ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ سے خطاب کرتے ہوئے نہایت بلیغ پیرائے میں واضح فرمایا کہ اگر تمہاری وجہ سے کسی ایک شخص کو ہدایت مل جائے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں—یعنی اس دور کی سب سے قیمتی متاع—سے بھی بہتر ہے۔ 


یہ امر اب کسی سے مخفی نہیں رہا کہ الحاد کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، اور اس کے پسِ پشت متعدد اسباب کارفرما ہیں۔ ان اسباب کو جذباتیت یا سطحی ردّعمل کے بجائے معروضی، سنجیدہ اور فکری بنیادوں پر سمجھنا اور ان کے تدارک پر غور کرنا ہر صاحبِ ایمان کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ میری رائے میں اس بڑھتے ہوئے رجحان کی سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری آنے والی نسل تیز رفتار ٹیکنالوجی کے سیلاب اور حیران کن سائنسی ترقیات کے باعث اپنی روحانی جڑوں سے بتدریج کٹتی جا رہی ہے۔


آج کے بچے کی نفسیات ماضی کے بچے سے یکسر مختلف ہے۔ ڈیجیٹل دنیا، اسکرینوں کی چمک، اور گیجٹس کی مسلسل رفاقت نے اسے غیر معمولی حد تک جری، سوال کرنے والا اور بعض اوقات بے باک بنا دیا ہے۔ وہ اب محض سنی سنائی باتوں پر قناعت نہیں کرتا، بلکہ ہر شے کو عقل، منطق اور تجربے کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتا ہے۔ سائنسی ترقی نے اس کے ذہن کو سوالات کی جرأت تو عطا کر دی ہے، مگر بدقسمتی سے ان سوالات کے روحانی اور فکری جوابات اس کے اردگرد کے ماحول میں ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔


یہاں ایک نہایت اہم اور تلخ حقیقت سامنے آتی ہے،  جب والدین اور معاشرہ خود روحانیت کے ذوق، ایمانی حرارت اور فکری بصیرت سے محروم ہوتے جا رہے ہوں تو وہ یہ خزانہ اپنی اولاد کو کیسے منتقل کر سکتے ہیں؟ نتیجتاً بچہ خدا کی ذات، کائنات کے مقصد اور زندگی کے مفہوم سے متعلق سوالات سب سے پہلے اپنے قریبی ماحول سے پوچھتا ہے۔ جب اسے وہاں سے تسلی بخش، مدلل اور حکیمانہ جوابات نہیں ملتے تو اس کے دل میں تشکیک جنم لیتی ہے، اور بالآخر یہی شک الحاد کی وادی میں لے جاتا ہے۔

دینی مدارس کے نظامِ تعلیم پر اگر سنجیدگی سے نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ وہاں، کم از کم ایک حد تک، فکری و اعتقادی تحفظ کا ایک مربوط نظم موجود ہے۔ دینی علوم سے گہری وابستگی، مسلسل صحبتِ اساتذہ، اور علمی روایت سے جڑا ہوا نصاب ایسے قدرتی برئیرز تشکیل دیتا ہے جو طالبِ علم کو فکری بے سمتی اور نظریاتی انتشار سے محفوظ رکھتے ہیں۔ مدرسے کا طالب علم ہر سوال کو محض اپنی محدود عقل کے ترازو میں تول کر فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ جب کسی نکتے پر ذہن الجھتا ہے تو وہ اپنے اساتذہ کی طرف رجوع کرتا ہے، رہنمائی چاہتا ہے، اور علمی تسلسل کے اندر رہتے ہوئے تشفی پانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں عقل کو مطلق حاکم بننے نہیں دیا جاتا، بلکہ اسے وحی، روایت اور علمی وراثت کے تابع رکھا جاتا ہے—اور یہی توازن اسے گمراہی کے دلدل میں پھسلنے سے بچا لیتا ہے۔

اس کے برعکس عصری تعلیمی اداروں کا منظرنامہ بالکل مختلف ہے۔ یہاں نہ استاد اور شاگرد کے درمیان وہ قلبی و فکری رشتہ قائم ہو پاتا ہے، نہ ہی کوئی واضح نظریاتی یا اعتقادی سرحدیں موجود ہوتی ہیں جو سوال کے رخ کو درست سمت میں موڑ سکیں۔ طالب علم سوال کرتا ہے—اور سوال کرنا اس کا حق بھی ہے—مگر اکثر اوقات استاد خود ان بنیادی فکری و ماورائی مباحث سے ناآشنا ہوتا ہے، جن کا تعلق ایمان، وجودِ باری تعالیٰ، مقصدِ حیات اور ما بعد الطبیعات سے ہے۔ چنانچہ وہ طالب علم کو ایسا جواب دینے سے قاصر رہتا ہے جو دل و دماغ دونوں کو مطمئن کر سکے۔

یہیں سے وہ خطرناک فکری سفر شروع ہوتا ہے جس کی ابتدا ایک معصوم سوال سے اور انتہا ایک سنگین نظریاتی انحراف پر ہوتی ہے۔ جب سوال کا جواب نہ ملے تو طالب علم تشکیک کا شکار ہوتا ہے، تشکیک اسے مزید سوالات پر اکساتا ہے، اور یوں وہ بغیر کسی رہنما، بغیر کسی فکری نقشے کے ایک ایسے راستے پر چل پڑتا ہے جہاں ہر موڑ پر الحاد اور انکار کی کھائیاں منتظر ہوتی ہیں۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کی بنا پر کالجز اور یونیورسٹیوں میں یہ رجحان نسبتاً زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں سوال تو بے شمار ہیں مگر ان کے جوابات دینے والا کوئی مضبوط فکری نظام موجود نہیں۔

گزشتہ روز جب میں نے برسوں پر محیط تحقیقات، قدیم انکشافات اور ماضی میں سامنے آنے والے فکری رجحانات کو موجودہ منظرنامے کے ساتھ جوڑ کر سمجھنے کی سعی کی تو  انتہائی افسوس اور دکھ ہوا۔ اس اضطراب کی کیفیت میں، میں نے چند مختصر   نکات اور اعدادوشمار قلم بند کیے اور  اپنے اساتذۂ کرام تک پہنچائے جس پر اساتذہ کرام نے اپنے اپنے زاویۂ نظر سے رائے دی، کسی نے اس مسئلے کو تہذیبی بحران کے تناظر میں دیکھا، کسی نے تعلیمی کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا، اور کسی نے دعوت و تربیت کے فقدان کو اصل سبب قرار دیا۔

ہمیشہ کی طرح استادِ محترم حضرت مولانا مفتی مختار اللہ صاحب نے میری بے چینی اور اندرونی اضطراب کو فوراً محسوس کر لیا۔ نہایت شفقت اور سنجیدگی کے ساتھ انہوں نے واضح کیا کہ بلاشبہ یہ صورتِ حال خطرناک ہے، مگر اس خطرے سے آنکھیں چرا لینا یا محض افسوس پر اکتفا کرنا ہماری ذمہ داری سے فرار کے مترادف ہے۔ انہوں نے  یہ بات سمجھائی کہ صرف اپنے ذاتی ایمان پر قناعت کرتے ہوئے مسجد یا مدرسے کی چار دیواری میں محدود ہو جانا اب محفوظ حکمتِ عملی نہیں رہا،کیونکہ فکری یلغار سرحدوں، اداروں اور مقدس مقامات کی تمیز نہیں کرتی۔

استادِ محترم نے زور دے کر فرمایا کہ اگر سوالات میدان میں ہیں تو جوابات بھی میدان میں ہونے چاہئیں، اور اگر تشکیک جدید زبان، سائنسی اصطلاحات اور فکری دلائل کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے تو اس کا جواب بھی اسی فہم، اسی زبان اور اسی فکری سطح پر دیا جانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے ایک ایسا طریقۂ کار تجویز فرمایا جو میرے نزدیک نہ صرف وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے فکری تحفظ کے لیے ایک ناگزیر لائحۂ عمل بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس بصیرت افروز رہنمائی کو، پوری دیانت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ، آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں—کہ شاید یہ بات محض ایک فرد کے اضطراب کا مداوا نہ ہو، بلکہ ایک اجتماعی فکری بیداری کا پیش خیمہ بن جائے۔

استادِ محترم نے گفتگو کے دوران اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ موجودہ دور میں الحادی مقدمات اور فکری اشکالات کی اساس زیادہ تر عقلِ مجرد پر قائم ہے۔ ملحد، اپنے متضاد اور باہم متصادم دعوؤں کو بھی عقل ہی کے سہارے استوار کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور جہاں اس کی عقل کی رسائی ختم ہو جاتی ہے، وہاں وہ توقف، تسلیم یا تعبد کے بجائے انکار کو اختیار کر لیتا ہے۔ گویا عقل اس کے ہاں  میزانِ مطلق بن چکی ہے، اور یہی مطلقیت اسے ایسے انکار تک لے جاتی ہے جس کی بنیاد دلیل سے زیادہ عجزِ فہم پر ہوتی ہے۔

اسی تناظر میں استادِ محترم نے  فرمایا کہ اگر اشکال عقل کے میدان میں پیدا ہو رہے ہیں تو ان کا جواب بھی  خطیبانہ جوش یا روایتی تعبیرات سے نہیں دیا جا سکتا، بلکہ ضروری ہے کہ اسلامی عقائد و تعلیمات کو عقلی اسلوب اور استدلالی پیرائے میں پیش کیا جائے۔ عقیدہ اپنی جگہ وحی پر مبنی حقیقت ہے، مگر اس حقیقت کی توضیح، تفہیم اور دفاع کے لیے عقلِ سلیم کو مخاطب بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جب اسلامی تعلیمات کو ان کی حکمت، علت اور مقصد کے ساتھ عقل کی زبان میں بیان کیا جائے تو وہ  تشکیک کے پردے چاک کرتی ہیں اور عقلِ انسانی کو اپنے ہی حدود کا شعور  عطا کرتی ہیں۔

اسی ضمن میں استادِ محترم نے حضرت الامام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کی شہرۂ آفاق تصنیف حجۃ اللہ البالغہ کی غیر معمولی اہمیت کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ کتاب  شریعت، عقائد اور احکامِ اسلامیہ کی عقلی، مقاصدی اور حکیمانہ تعبیر ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے اس کتاب میں عبادات، معاملات، اخلاقیات اور معاشرتی احکام کے پسِ پردہ کارفرما حکمتوں کو جس گہرائی اور توازن کے ساتھ واضح کیا ہے، وہ آج کے فکری بحران میں ایک مضبوط علمی ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے۔  مدارسِ دینیہ کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ حجۃ اللہ البالغہ کے جملہ مباحث کو  بطورِ فکری منہج سمجھیں۔ اس کتاب کی روح کو اپنانے سے اسلامی تعلیمات کو جدید ذہن کے سامنے مدلل انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے اور الحادی فکر کے بنیادی مغالطوں، عقل پرستی کے افراط اور انکار کی نفسیات کو بھی علمی وقار کے ساتھ بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔ 

دوسری کتاب جس کی طرف استادِ محترم نے اس فکری محاذ پر سرگرم مجاہدینِ اسلام کی توجہ دلائی، وہ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی نہایت وقیع اور فکر افروز تصنیف "احکامِ اسلام عقل کی نظر میں" ہے۔ استادِ محترم کے بقول یہ کتاب اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ اس میں شریعتِ اسلامیہ کے جملہ احکام کو محض نقلی یا تعبدی انداز میں پیش نہیں کیا گیا، بلکہ عقلِ انسانی کو مخاطب بنا کر ان کی حکمت، مصلحت اور معقولیت کو نہایت سادہ مگر گہرے استدلال کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔

اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ حضرت تھانویؒ نے عقل کو نہ تو شریعت پر حاکم بنایا ہے اور نہ ہی اسے یکسر نظر انداز کیا ہے، بلکہ عقل کو اس کے صحیح مقام پر رکھ کر یہ سمجھایا ہے کہ شریعت کے احکام انسانی فطرت، سماجی توازن اور اخلاقی ارتقا سے کس درجہ ہم آہنگ ہیں۔  یہ کتاب بالخصوص ان طلبہ، اساتذہ اور داعیانِ دین کے لیے نہایت مفید ہے جو جدید ذہن کے سامنے اسلام کا تعارف  عقلی و استدلالی بنیادوں پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ دور کا ملحد جب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسلامی احکام عقل کے خلاف ہیں تو درحقیقت وہ عقل کی محدود تعریف کو معیار بناتا ہے؛ اور حضرت تھانویؒ کی یہ تصنیف اسی مغالطے کو جڑ سے اکھاڑ دیتی ہے، یہ بتا کر کہ عقل کی کوتاہ نگاہی اور انسانی تجربے کی محدودیت کسی حکمِ الٰہی کے بطلان کی دلیل نہیں ہو سکتی۔

تیسری کتاب جس کی طرف استادِ محترم نے خصوصی توجہ دلائی، مولانا رضا الحق صاحب کی شرحِ عقیدۂ طحاویہ ہے، جو دو جلدوں میں شائع ہو کر اہلِ علم کے مابین اپنی علمی وقعت منوا چکی ہے۔ استادِ محترم کے نزدیک یہ تصنیف اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ اس میں اہلِ سنت کے مسلمہ عقائد کو نہایت منظم، متوازن اور استدلالی انداز میں پیش کیا گیا ہے، اور ہر عقیدے کی ایسی عمدہ اور مفصل توضیح کی گئی ہے جو  روایت سے جڑی ہوئی ہے اور عقلِ سلیم کو بھی پوری طرح مطمئن کرتی ہے۔

 صفاتِ باری تعالیٰ، تقدیر، ایمان، نبوت، آخرت اور دیگر بنیادی اعتقادی مباحث کو اس اسلوب میں واضح کیا گیا ہے کہ قاری کو نہ تو خشک کلامی کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی غیر ضروری فلسفیانہ پیچیدگی کا۔ بلکہ نصوصِ شرعیہ، اقوالِ سلف اور عقلی دلائل کے حسین امتزاج سے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا ہے جو جدید ذہن کے اشکالات کا سنجیدہ اور باوقار جواب فراہم کرتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ تمام نکات استادِ محترم حضرت مفتی مختار اللہ صاحب سے ہونے والی ایک غیر رسمی گفتگو سے ماخوذ ہیں۔ یہ نہ کوئی حتمی لائحۂ عمل ہے اور نہ ہی آخری فیصلہ، بلکہ  ایک وائس کلپ سے اخذ کی گئی فکری رہنمائی کا خلاصہ ہے، جسے دیانت داری کے ساتھ پیش کر دیا گیا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی