توحیدی نقطہ نظر (Tawhidic Paradigm)


 

        اسلامی تانیثیت کی تیسری تفسیری بنیاد نصوص کا توحیدی تناظر میں مطالعہ ہے، جو اسلامی عقیدہ توحید سے ماخوذ ہے۔ یہ بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وحدہ لا شریک ہے، جو رحم، عدل، شفقت اور مہربانی جیسے صفات کی حامل ہے۔ یہ عقیدہ واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظلم کا حامی نہیں ہو سکتا، لہٰذا صنفی یا نسلی تفریق جیسی ناانصافی بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف ہے۔

مسلم مفکرین اور تانیثی علما اس نکتہ پر زور دیتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کے کلام کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے صفاتِ عالیہ کو مدنظر رکھ کر ہی تفسیری اور تشریحی رجحانات طے کیے جائیں۔ اس عمل میں یہ لازمی ہے کہ غیر منصفانہ اور امتیازی عناصر سے اجتناب کیا جائے تاکہ کلامِ الٰہی کی معنوی تطہیر متاثر نہ ہو۔ ان کے نزدیک انسان اپنی محدود عقل اور فہم کے ساتھ قرآن کی تشریح کرتا ہے، اس لیے کسی بھی تشریح کو حرفِ آخر نہیں سمجھا جا سکتا۔مزید برآں، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے فہم و عقل کو بروئے کار لاتے ہوئے اللہ کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ تاہم، اس کوشش میں انصاف، مساوات، اور غیر جانب داری کو یقینی بنانا ضروری ہے،ایسی کوئی تشریح جو ان اصولوں سے انحراف کرتی ہو، وہ ناقابلِ قبول ہے۔

یہ حقیقت بھی تسلیم کی جاتی ہے کہ متن کی تفہیم وقت، سیاق و سباق اور مختلف فکری رجحانات کے تحت متنوع ہو سکتی ہے۔ اسی لیے قرآن کے پیغام کے مختلف مفاہیم کی تلاش اور تفہیم کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔توحید کا فلسفہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی خالق کے بندے ہیں اور سب کا مقام و مرتبہ برابر ہے۔ یہ اصول واضح کرتا ہے کہ کوئی شخص اپنے فہمِ خدا کو دوسروں پر مسلط نہیں کر سکتا۔ جب قرآن بیان کرتا ہے کہ تمام انسان "نفس واحدہ" سے پیدا کیے گئے ہیں، تو یہ حقیقت بھی اجاگر ہوتی ہے کہ ان کے حقوق و فرائض میں کوئی فرق روا نہیں رکھا جا سکتا۔اس کی مثال یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ :

فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللـٰهُ ۚ[1]

پھر نیک عورتیں تابعدار ہوتی ہیں کہ مردوں کی غیر موجودگی میں اللہ کی مدد سے(ان کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں۔

        یہاں جو روایتی تفسیر کی گئی ہے تو اس میں عورت کو خاوند کا فرماں بردار اور تابع قرار دیا گیا جو مسلم فیمنسٹ کے ہاں مسلم توحیدی فلسفہ کے خلاف ہے کیونکہ مسلم فکر میں اطاعت و فرماں برداری کا حق خالصتاً اللہ تعالیٰ کا ہے جو کل کائنات کے خالق و مالک ہیں۔ کسی اور کو اس میں شریک کرنا شرک کے زمرے میں آتا ہے، جسے اسلام کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرتا اور خود اللہ تعالیٰ نے اس کو جرمِ عظیم سے تعبیر کیا ہے۔[2]

        متاخرین مفسرین کی جانب سے عورت کی نیکی اور اطاعت کو خاوند کی رضا سے مشروط کرنے پر مسلم فیمنسٹ ماہرین تنقید کرتے ہوئے یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی رضا کو عبادت کی قبولیت کے لیے لازم قرار دینا توحیدی اصول کے خلاف ہے اور شرک کے مترادف ہے، کیونکہ خدا کی حاکمیت ناقابل تقسیم ہے۔ اس طرح کی پدرانہ تشریحات توحید کے بنیادی اصول کے منافی ہیں اور ان کو قبول کرنا محل نظر ہے۔مسلم فیمنسٹ ماہرین کے مطابق، اگر اس تشریح کو درست مان لیا جائے تو ازدواجی تعلقات میں مرد کی برتری کو ایک مقدس حیثیت حاصل ہو جائے گی، جو خواتین کے ساتھ غیر منصفانہ رویے کو جائز قرار دیتی ہے۔ یہ تصور مرد کی اطاعت کو خدا کی اطاعت کے برابر قرار دے کر عورت کے ایمان کو شوہر کی تابع داری سے مشروط کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ازدواجی تعلقات میں عدم توازن اور مردانہ غلبے کو تقویت ملتی ہے۔

        ان ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی تشریحات کو چیلنج کیا جانا ضروری ہے تاکہ قرآن کے اصل پیغام، جو انصاف، مساوات اور غیر جانبداری پر مبنی ہے، کو سمجھا جا سکے۔ یہ نقطہ نظر مرد و زن کے درمیان غیر ضروری تفریق کو ختم کرنے اور خدا کی حاکمیت کو برقرار رکھتے ہوئے تمام انسانوں کے مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ان کے ہاں قدیم روایتی طرزِ تفسیر پر تنقیدی جائزہ لینا یا اسے مسترد کرنا کوئی غلط بات نہیں، کیونکہ انسانی فہم محدود ہے اور اس میں خطا کا امکان موجود ہے، جس کی بنا پر الہٰی متن کی تفہیم میں بعض اوقات غلطیاں واقع ہو سکتی ہیں۔اسی حوالے سے آمنہ ودود نے لکھا ہے تفسیر انسان کے بنائے ہوئے کاموں میں سے ایک کام ہے اور اس وجہ سے یہ انسانی پہلوؤں، خصوصیات، اور محدودیت کے تابع ہے۔[3] یعنی قرآن کی تفسیر ایک انسانی کوشش ہے جو تاریخی، ثقافتی، اور ذاتی تعصبات سے متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے ابتدائی مفسرین کی تشریحات کو حتمی یا آخری نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ یہ تشریحات ان کے زمانے کے فکری پس منظر اور محدود انسانی علم کی پیداوار تھیں۔ ہر زمانے میں، قرآن کی تفہیم کے نئے زاویے اور مختلف تشریحات کی گنجائش ضروری ہے تاکہ اس کے اصل پیغام کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔ اس عمل میں ہر تشریح کو پرکھنے، سوال اٹھانے، اور چیلنج کرنے کا حق ہونا چاہیے، تاکہ قرآن کی تعلیمات کی اصل روح تک پہنچا جا سکے۔

        مسلم فیمنسٹ ماہرین قرآن کی تشریح میں اجتہاد، فکری تنوع اور تنقیدی جائزے کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قرآن کی تفاسیر کو صنفی اور سماجی تعصبات سے پاک کرتے ہوئے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے، تاکہ ماضی کی محدود تشریحات کو حتمی نہ سمجھا جائے۔ چونکہ قرآن کا کامل علم صرف اللہ کے پاس ہے اور انسانی فہم محدود ہے، اس لیے کسی بھی تفسیر کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اجتہادی دروازے کو کھلا رکھنے سے قرآن کی تعلیمات کو انصاف، مساوات اور انسانیت کے اصولوں کے مطابق عصری حالات سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔[4]

تلخیصِ کلام:


       اسلامی تانیثیت قرآن اور حدیث کی از سرِ نو تشریح پر زور دیتی ہیں تاکہ مرد و عورت کے درمیان مساوات اور صنفی انصاف کو ممکن بنایا جا سکے۔ مسلم فیمنسٹ کے مطابق، یہ ضروری ہے کہ قرآن کے متون کو مخصوص سماجی و تاریخی سیاق و سباق میں دیکھا جائے اور انہیں پدرشاہی کی تفسیرات سے آزاد کر کے ایک زیادہ جامع اور متوازن تشریح کی جائے۔ خاص طور پر آیت قوامیت کے تناظر میں یہ نظر آتا ہے کہ مردوں کی فضیلت کسی مخصوص جنس سے وابستہ نہیں بلکہ انفرادی صلاحیتوں اور ذمہ داریوں پر مبنی ہے، اور اس کا مقصد معاشرتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔مزید یہ کہ مسلم فیمنسٹ نے قرآن میں مرد و عورت کی یکساں تخلیق اور اخلاقی ذمہ داریوں کو اجاگر کیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ قرآن کا پیغام جنس و صنف سے آزاد ہے، اور روحانی ترقی کا دارومدار تقویٰ اور نیک عمل پر ہے۔ قرآن کے اس جامع پیغام کو سمجھنے کے لیے ہمیں نصوص کی تنقید و تشریح میں توازن کی ضرورت ہے۔

References:👇👇👇


[1] سورہ نساء:34
[2] سورہ لقمان:13

[3] Amina Wadud, “Alternative Qur’anic Interpretation and the Status of Muslim Women,” in Windows of Faith: Muslim Women Scholar Activists in North America, ed. Gisela Webb (Syracuse: Syracuse University Press, 2000), 11

[4] ڈاکٹر مریم نورین، ادیانِ ثلاثہ کے اساسی متون اور فیمنسٹ تھیالوجی: منتخب مفکرین کی تعبیرات کا تحقیقی و تقابلی جائزہ، (عبدالولی خا ن یونیورسٹی مردان سیشن: 2024-2021) ص 322

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی