تمہید:
واضح رہے کہ راقم کا مقصد اس مناظرہ پر تبصرہ کرنا ہے، جو 20 دسمبر کو نئی دلی میں عالمِ اسلام کے معروف عالمِ دین مفتی شمائل ندوی صاحب اور مشہور زمانہ ملحد جاوید اختر کے مابین ہوا۔ لیکن اس سے پہلے چونکہ چند بنیادی مقدمات اور اہم اصطلاحات کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر مناظرہ کو سمجھنا ممکن نہیں۔یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی فکری یا مناظرانہ گفتگو شروع کرنے سے پہلے اصطلاحات کی پہچان ضروری ہے۔ اس لیے تفصیل کی طرف جانے سے پہلے چند بنیادی اصطلاحات کو واضح کر لیا جائے تاکہ سننے والا ابتدا ہی میں بات کو صحیح زاویے سے سمجھ سکے،
یہاں تین اصطلاحات کو سمجھنا ضروری ہے:
یہاں تین اصطلاحات کو سمجھنا ضروری ہے:
- Infinite Regress
- Necessary Being
- Argument of Contingency
لامتناہی تسلسل( infinite regress) کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کے وجود کی وجہ پوچھی جائے تو جواب میں کہا جائے کہ وہ کسی دوسری چیز کی وجہ سے ہے پھر اس دوسری کی وجہ پوچھی جائے تو کہا جائے کسی تیسری کی وجہ سے اور یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھتا رہے اور کہیں بھی رک کر کسی بنیاد تک نہ پہنچے یعنی ہر چیز کسی اور پر منحصر ہو اور کوئی ایک بھی ایسی چیز نہ ہو جو اپنی ذات سے قائم ہو ایسی صورت میں حقیقت میں وہ چیز کبھی وجود میں ہی نہیں آ سکتی کیونکہ جو خود محتاج ہو وہ کسی اور کو وجود نہیں دے سکتا۔
دوم:واجب الوجود( necessary being)
دوم:واجب الوجود( necessary being)
واجب الوجود(necessary being) اس ہستی کو کہتے ہیں جس کا وجود کسی اور پر منحصر نہ ہو جو خود سے موجود ہو اور جس کے نہ ہونے کا تصور ممکن ہی نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں ہم انسان درخت زمین ستارے اور پوری کائنات ایسی چیزیں ہیں جو ہو بھی سکتی تھیں اور نہ بھی ہوتیں اس لیے یہ سب محتاج ہیں اور Necessary Being غیر محتاج ہوتی ہے سادہ الفاظ میں Necessary Being وہ اصل بنیاد ہے جس پر باقی سب چیزیں قائم ہوتی ہیں۔
سوم: دلیل امکان/دلیل ممکنات( Argument of Contingency)
دلیل امکان/دلیل ممکنات( Argument of Contingency) ایک عقلی دلیل ہے جو یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کچھ نہ ہونے کے بجائے کچھ موجود کیوں ہے؟ یہ دلیل کہتی ہے کہ چونکہ دنیا میں جو کچھ موجود ہے وہ سب ممکن ہے یعنی اس کا ہونا لازمی نہیں۔ اس لیے یہ سب چیزیں خود کو وجود نہیں دے سکتیں بلکہ ان کے پیچھے کسی ایسی ہستی کا ہونا ضروری ہے جو خود ممکن نہ ہو بلکہ ضروری ہو یہی ہستی Necessary Being کہلاتی ہے۔
تینوں اصطلاحات کا مشترکہ خلاصہ:
ان تینوں اصطلاحات کو ایک سادہ مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر ہر چیز کسی سہارے پر کھڑی ہو اور وہ سہارا بھی کسی اور سہارے پر ہو اور کہیں بھی زمین موجود نہ ہو تو کوئی چیز کھڑی نہیں رہ سکتی۔Infinite Regress:اس لامتناہی سلسلے کو کہتے ہیں جس میں سہارے تو ہوتے ہیں مگر آخر میں کوئی مضبوط بنیاد موجود نہیں ہوتی۔
Necessary Being :اس مضبوط بنیاد یا زمین کی مانند ہے جس پر تمام سہارے قائم ہوتے ہیں اور جو خود کسی سہارے کی محتاج نہیں ہوتی۔
Argument of Contingency :دراصل یہی بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ اگر آخر میں کوئی ایسی مستقل بنیاد موجود نہ ہو تو یہ پورا نظام وجود میں کیسے آ سکتا ہے اور قائم کیسے رہ سکتا ہے؟
شرائط اور اصولِ مناظرہ:
کسی بھی سنجیدہ ڈیبیٹ میں سب سے پہلا اور بنیادی قدم یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ بحث کے لیے کون سا معیار معتبر ہوگا اور کون سا نہیں؟ اگر معیار واضح نہ ہو تو گفتگو نتیجے کے بجائے انتشار پیدا کرتی ہے۔ اسی اصول کے تحت اس موضوع میں چند باتوں کو ابتدا ہی میں واضح کرنا ضروری ہے۔
پہلا معیار: سائنس:
سائنس خدا کے وجود کو ثابت کرنے یا رد کرنے کا معیار نہیں بن سکتی۔ اس کی وجہ خود سائنسی ادارے بیان کرتے ہیں۔ نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے مطابق سائنس کے پاس ایسے طریقے موجود نہیں جن کے ذریعے خدا کے وجود کو ثابت یا منسوخ کیا جا سکے۔ سائنس کا دائرہ تجرباتی شواہد تک محدود ہے اور تجرباتی شواہد کا تعلق فطری اور مادی دنیا سے ہے۔جبکہ خدا ایک غیر مادی اور مابعد الطبیعی حقیقت ہے۔ غیر مادی حقیقت کو ایسے آلے سے جانچنا جو صرف مادی اشیاء کے لیے بنایا گیا ہو ایک بنیادی فکری غلطی ہے۔ اسی لیے اس مناظرے میں سائنسی دلائل کو معیار نہیں مانا جائے گا۔
دوسرا معیار: وحی
وحی ایک معتبر ذریعۂ علم ہے مگر صرف اہلِ ایمان کے نزدیک۔ چونکہ ملحد وحی کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے، اس لیے اس مناظرے میں مذہبی نصوص یا وحی پر مبنی دلائل پیش کرنا غیر متعلق ہوگا۔ چنانچہ کسی بھی دلیل کی بنیاد مذہبی حوالوں پر نہیں رکھی جائے گی۔
تیسرا معیار: مشاہدہ
یہ مطالبہ کہ خدا کو دکھایا جائے یا اس کے وجود پر تجرباتی ثبوت پیش کیے جائیں۔ دراصل غلط آلے کے استعمال کے مترادف ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پلاسٹک کو میٹل ڈیٹیکٹر سے تلاش کرے اور پھر یہ دعویٰ کرے کہ چونکہ پلاسٹک ظاہر نہیں ہوا، اس لیے وہ موجود ہی نہیں۔ مسئلہ عدمِ وجود کا نہیں بلکہ غلط طریقِ تحقیق کا ہوتا ہے۔ اس لیے مشاہداتی یا تجرباتی مطالبات بھی اس بحث میں معتبر نہیں ہوں گے۔
واحد قابلِ قبول معیار: عقل اور منطق
ان تینوں معیارات کے بعد صرف ایک ہی معیار باقی رہ جاتا ہے اور وہ ہے عقلِ سلیم اور منطقی استدلال۔ خدا کے وجود یا عدمِ وجود پر بحث صرف اسی بنیاد پر کی جائے گی۔ دلائل ایسے ہوں گے جو واضح، مربوط اور بدیہی ہوں، جنہیں جذبات، تاثر یا خطابت کے سہارے نہیں بلکہ خالص منطق کے ذریعے سمجھا جا سکے۔اس کے ساتھ یہ شرط بھی طے ہے کہ کسی قسم کا جذباتی یا تاثراتی ثبوت قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ یہ بحث احساسات کی نہیں بلکہ عقل کی کسوٹی پر ہوگی۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Tags:
معاصر افکار
