حجاب: ثقافتی روایت یا دینی روح کا محافظ اور تہذیبی وقار کا استعارہ؟
اسلام کے اجزائے تحسینی:
دینِ اسلام اپنی فطری جامعیت اور ہمہ گیریت کے اعتبارسے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی فکری، روحانی اور عملی زندگی کے ہر گوشے کے لیے واضح اور متوازن رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے احکام و تعلیمات میں جہاں عقائد کی درستگی اور عبادات کی صحت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، وہیں اخلاقِ حسنہ، آدابِ معاشرت، تزکیۂ نفس اور تعلق باللہ کی گہرائی کو بھی ایمان کی تکمیل کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے فرائض و واجبات کی پابندی کو اولین درجہ دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ سنن، نوافل، مستحبات اور آداب کو بھی دین کے حسن و جمال کا لازمی جزو بتایا ہے، کیونکہ یہی اعمال ایمان میں روح پھونکتے ہیں اور بندے کو قربِ الٰہی کی اعلیٰ منازل تک پہنچاتے ہیں۔
تسہل پسندی کا المیہ:
تاہم عصرِ حاضر کا ایک المیہ یہ ہے کہ دینی شعور رکھنے والے طبقے میں بھی ایک غیر محسوس مگر خطرناک رویہ پنپ رہا ہے یعنی دین کو صرف فرض و واجب تک محدود کر دینا، اور ان کے ماوراء موجود سنن و نوافل، اخلاقی ذمہ داریوں، اور دینی ذوق و شوق کو غیر ضروری سمجھنا۔ اس رویے کے نتیجے میں دین کی روحانیت، اس کی حلاوت اور اس کے کمالات سے محرومی پیدا ہو جاتی ہے، اور رفتہ رفتہ یہ تسہل پسندی اس مقام تک پہنچ سکتی ہے کہ فرض و واجب کی ادائیگی بھی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک دین کے تمام پہلوؤں پر توازن کے ساتھ عمل نہ کیا جائے، اُس وقت تک نہ ایمان کا جمال مکمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی بندگی کا مقصد پورا ہوتا ہے۔
دینِ اسلام اپنی فطری جامعیت اور ہمہ گیریت کے اعتبارسے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی فکری، روحانی اور عملی زندگی کے ہر گوشے کے لیے واضح اور متوازن رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے احکام و تعلیمات میں جہاں عقائد کی درستگی اور عبادات کی صحت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، وہیں اخلاقِ حسنہ، آدابِ معاشرت، تزکیۂ نفس اور تعلق باللہ کی گہرائی کو بھی ایمان کی تکمیل کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے فرائض و واجبات کی پابندی کو اولین درجہ دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ سنن، نوافل، مستحبات اور آداب کو بھی دین کے حسن و جمال کا لازمی جزو بتایا ہے، کیونکہ یہی اعمال ایمان میں روح پھونکتے ہیں اور بندے کو قربِ الٰہی کی اعلیٰ منازل تک پہنچاتے ہیں۔
تسہل پسندی کا المیہ:
تاہم عصرِ حاضر کا ایک المیہ یہ ہے کہ دینی شعور رکھنے والے طبقے میں بھی ایک غیر محسوس مگر خطرناک رویہ پنپ رہا ہے یعنی دین کو صرف فرض و واجب تک محدود کر دینا، اور ان کے ماوراء موجود سنن و نوافل، اخلاقی ذمہ داریوں، اور دینی ذوق و شوق کو غیر ضروری سمجھنا۔ اس رویے کے نتیجے میں دین کی روحانیت، اس کی حلاوت اور اس کے کمالات سے محرومی پیدا ہو جاتی ہے، اور رفتہ رفتہ یہ تسہل پسندی اس مقام تک پہنچ سکتی ہے کہ فرض و واجب کی ادائیگی بھی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک دین کے تمام پہلوؤں پر توازن کے ساتھ عمل نہ کیا جائے، اُس وقت تک نہ ایمان کا جمال مکمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی بندگی کا مقصد پورا ہوتا ہے۔
ایک خاتون کا استفسار:
یہ رویہ خاص طور پر موجودہ دور کے نوجوانوں میں کچھ زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آ رہا ہے۔ اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ چند روز قبل ایک خاتون نے آنلائن ایک سوال کیا کہ ان کی نوجوان بیٹی قرآن کریم کی تلاوت کے وقت سر نہیں ڈھانپتی بلکہ کھلے بالوں کے ساتھ بیٹھ کر تلاوت کرتی ہے۔ انہوں نے کئی بار اپنی بیٹی کو سمجھایا کہ تلاوت کے آداب یہ ہیں کہ سر کو ڈھانپا جائے، باوضو ہو کر، مناسب لباس میں، مؤدبانہ انداز میں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کی جائے۔ لیکن بیٹی کا جواب یہ تھا کہ سر ڈھانپنا ایک کلچرل (ثقافتی) چیز ہے جس کا شریعت کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی اس کا تلاوت کے ثواب پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ اس کے نزدیک صرف باوضو ہونا اور قرآن پڑھ لینا ہی کافی تھا، باقی آداب محض اختیاری امور ہیں۔میں نے اس خاتون کو جواب دیا کہ شریعت کی رہنمائی یہی ہے کہ اگر کوئی عورت گھر میں نامحرم کی نظروں سے محفوظ ہو اور کسی اجنبی شخص کے آنے کا اندیشہ نہ ہو تو کام کاج کے دوران یا کسی مجبوری میں بغیر چادر کے بھی گھوم سکتی ہے، اور تلاوت بھی کر سکتی ہے، لیکن یہ طرز عمل تلاوت کے مسنون و مستحب آداب کے خلاف ہے۔
تاہم، اس نوجوان لڑکی کے استدلال نے مجھے حیرت میں ڈال دیا کہ اگر ایک بارہ یا تیرہ سالہ بچی، محض اس خیال کے تحت کہ یہ ایک "ثقافتی" عمل ہے، سر ڈھانپنے کو غیر ضروری سمجھے، اور تلاوت جیسے اہم اور عظیم عمل کے لیے بھی اس آداب کو اپنانے کی کوشش نہ کر سکے، تو کل جب اس کے ہاتھ میں موبائل فون آئے گا، اور وہ کالج یا یونیورسٹی میں آزادانہ میل جول اختیار کرے گی، تو اس رویے کی وسعت کہاں تک پہنچے گی؟
یہ کوئی جذباتی یا فرضی اندیشہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ جن بچیوں کے دل میں بچپن سے جذباتی وابستگی تو دین کے ساتھ ہوتی ہے، مگر عملی اطاعت میں کمزوری رہتی ہے، ان کے اندر شریعت کے احکام کی پابندی کا مزاج پروان نہیں چڑھتا۔ رفتہ رفتہ یہ کمزوری عادت اور عادت فطرت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر جب عملی زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جہاں شریعت کے اصولوں کی پابندی ناگزیر ہو، تو یہی افراد ان چیزوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی دینی شناخت متاثر ہوتی ہے اور خود ان کی شخصیت بھی ایک اندرونی تضاد اور کمزوری کا شکار ہو جاتی ہے۔
یہ رویہ خاص طور پر موجودہ دور کے نوجوانوں میں کچھ زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آ رہا ہے۔ اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ چند روز قبل ایک خاتون نے آنلائن ایک سوال کیا کہ ان کی نوجوان بیٹی قرآن کریم کی تلاوت کے وقت سر نہیں ڈھانپتی بلکہ کھلے بالوں کے ساتھ بیٹھ کر تلاوت کرتی ہے۔ انہوں نے کئی بار اپنی بیٹی کو سمجھایا کہ تلاوت کے آداب یہ ہیں کہ سر کو ڈھانپا جائے، باوضو ہو کر، مناسب لباس میں، مؤدبانہ انداز میں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کی جائے۔ لیکن بیٹی کا جواب یہ تھا کہ سر ڈھانپنا ایک کلچرل (ثقافتی) چیز ہے جس کا شریعت کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی اس کا تلاوت کے ثواب پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ اس کے نزدیک صرف باوضو ہونا اور قرآن پڑھ لینا ہی کافی تھا، باقی آداب محض اختیاری امور ہیں۔میں نے اس خاتون کو جواب دیا کہ شریعت کی رہنمائی یہی ہے کہ اگر کوئی عورت گھر میں نامحرم کی نظروں سے محفوظ ہو اور کسی اجنبی شخص کے آنے کا اندیشہ نہ ہو تو کام کاج کے دوران یا کسی مجبوری میں بغیر چادر کے بھی گھوم سکتی ہے، اور تلاوت بھی کر سکتی ہے، لیکن یہ طرز عمل تلاوت کے مسنون و مستحب آداب کے خلاف ہے۔
تاہم، اس نوجوان لڑکی کے استدلال نے مجھے حیرت میں ڈال دیا کہ اگر ایک بارہ یا تیرہ سالہ بچی، محض اس خیال کے تحت کہ یہ ایک "ثقافتی" عمل ہے، سر ڈھانپنے کو غیر ضروری سمجھے، اور تلاوت جیسے اہم اور عظیم عمل کے لیے بھی اس آداب کو اپنانے کی کوشش نہ کر سکے، تو کل جب اس کے ہاتھ میں موبائل فون آئے گا، اور وہ کالج یا یونیورسٹی میں آزادانہ میل جول اختیار کرے گی، تو اس رویے کی وسعت کہاں تک پہنچے گی؟
یہ کوئی جذباتی یا فرضی اندیشہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ جن بچیوں کے دل میں بچپن سے جذباتی وابستگی تو دین کے ساتھ ہوتی ہے، مگر عملی اطاعت میں کمزوری رہتی ہے، ان کے اندر شریعت کے احکام کی پابندی کا مزاج پروان نہیں چڑھتا۔ رفتہ رفتہ یہ کمزوری عادت اور عادت فطرت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر جب عملی زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جہاں شریعت کے اصولوں کی پابندی ناگزیر ہو، تو یہی افراد ان چیزوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی دینی شناخت متاثر ہوتی ہے اور خود ان کی شخصیت بھی ایک اندرونی تضاد اور کمزوری کا شکار ہو جاتی ہے۔
حجاب:
ستر اور حجاب کا حکم قرآن و سنت کی نصوص سے صراحت کے ساتھ ثابت ہے۔ جو محض سماجی رسم یا ثقافتی روایت نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے، جس کی حکمت میں عورت کی عزت کی حفاظت، معاشرتی تطہیر اور اخلاقی بگاڑ کی روک تھام شامل ہے۔ اسلامی ممالک میں حجابِ شرعی کے نفاذ اور اس پر عمل درآمد کی صورتیں مختلف ہیں۔پاکستان اور برصغیر کے دیگر مسلم معاشروں میں حجاب ایک قدیم روایت کے طور پر موجود ہے، خاص طور پر دیہات اور نیم شہری علاقوں میں خواتین عموماً دوپٹہ یا چادر کو اپنی شناخت کا حصہ سمجھتی ہیں۔ تاہم، شہری مراکز میں ذرائع ابلاغ، اشتہارات، فیشن انڈسٹری اور مغربی ثقافت کے اثرات نے حجاب کو "اختیاری" یا "کلچرل" مسئلہ بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس بیانیے نے نئی نسل میں یہ سوچ پیدا کی ہے کہ حجاب دین کی لازمی تعلیمات میں شامل نہیں، بلکہ یہ ایک معاشرتی رسم ہے جس کا مذہب یا مذہبی تعلیمات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
یہ طرزِ فکر کسی خاص علاقہ یا شہر کا انفرادی رجحان نہیں بلکہ ایک مجموعی فکری بحران ہے۔ دینی احکام کے آداب اور تکمیلی پہلوؤں کو غیر ضروری سمجھنا، رفتہ رفتہ فرائض اور واجبات کے بارے میں بھی بے نیازی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے اسلام نے ہمیشہ شعائرِ دین کے احترام کو ایمان کی علامت اور اس کی حفاظت کو اجتماعی ذمہ داری قرار دیا ہے۔
موجودہ حالات میں اس مسئلے کی سنگینی دو پہلوؤں سے بڑھ جاتی ہے:
1. داخلی پہلو: مسلم معاشروں میں مغربی اور غیر اسلامی ثقافت کے فروغ نے روایتی دینی شعور کو کمزور کر دیا ہے۔
2. خارجی پہلو: بین الاقوامی سطح پر بعض غیر مسلم ریاستیں قانونی اقدامات کے ذریعے اسلامی شعائر، خصوصاً حجاب، کو محدود یا ممنوع قرار دے رہی ہیں۔
ان دونوں چیلنجز کا مقابلہ اسی وقت ممکن ہے جب مسلم ریاستیں اور معاشرے حجاب کے حکم کو محض ثقافتی علامت نہیں بلکہ ایک واجب التعظیم اسلامی حکم کے طور پر پیش کریں، اور اس کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی حکمتوں کو علمی انداز میں عام کیا جائے۔ کیونکہ اس کے اثرات فرد، خاندان اور معاشرے کے ہر پہلو پر مرتّب ہوتے ہیں۔ بے پردگی اور نمائشِ نسواں، فطرتِ انسانی کی کمزوریوں کو بھڑکا کر ایسے اخلاقی اور نفسیاتی مسائل پیدا کرتی ہے جو جرائم، معاشرتی انتشار اور اخلاقی انحطاط کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ خواتین کی بے حجابی جہاں خود ان کے وقار، عصمت اور ذہنی سکون کو نقصان پہنچاتی ہے، وہیں گھریلو ناچاقی، سماجی بدامنی اور حتیٰ کہ معاشی عدم استحکام تک کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے پردہ عورت کے لیے عزت کا ہتھیار اور معاشرے کے لیے امن کا حصار قرار دیا ہے۔ آج کا مسلمان معاشرہ اگر اس حصار کو کمزور کر دے، تو اسے صرف مذہبی گراوٹ ہی نہیں بلکہ تہذیبی زوال، اخلاقی افلاس اور اجتماعی بربادی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ پس لازم ہے کہ ہم پردے کو مذہبی حکم اور تہذیبی ضرورت سمجھتے ہوئے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کریں، کیونکہ عزت، امن اور بقا کا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔
Tags:
تجزیے اور تبصرے

ماشاءاللہ ، عمدہ طرزِ بیان اور مضبوط و موثر استدلال اللھم زد فزد
جواب دیںحذف کریں