گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
سیمون کے مطابق عورت کی تقدیر اور سوشلسٹ تحریک کا تعلق گہرا ہے۔ بیبل کے مطابق عورت اور محنت کش طبقہ دونوں مظلوم ہیں اور دونوں کو معاشرتی انقلاب اور مشینی ترقی کے ذریعے آزادی حاصل ہو سکتی ہے۔ عورت کا مسئلہ اس کی محنت کی صلاحیت سے جڑا ہے: جب اوزار اور تکنیکیں اس کی صلاحیتوں کے مطابق تھیں تو وہ مضبوط تھی، اور جب یہ مواقع اس کی پہنچ سے باہر ہو گئے تو اس کا سماجی مقام کمزور ہو گیا۔
اینگلز کے مطابق جدید دنیا میں عورت مرد کے برابر ہے، لیکن قدیم سرمایہ دارانہ نظام اور پدرانہ مزاحمت اس برابری کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ سوویت یونین میں، سوویت پروپیگنڈہ کے مطابق، یہ برابری حقیقت میں موجود تھی۔ جب دنیا بھر میں سوشلسٹ معاشرہ قائم ہو جائے گا، تو مرد اور عورت کے درمیان علیحدہ شناخت ختم ہو جائے گی اور سب محنت کش برابری کے اصول پر زندگی گزاریں گے۔
تاریخ میں سب سے بڑا موڑ وہ ہے جب معاشرتی ملکیت سے ذاتی ملکیت کی طرف منتقلی ہوئی۔ اینگلز کہتے ہیں کہ:
ہمیں اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔
وہ نہ صرف تاریخی تفصیلات سے لاعلم ہیں بلکہ اس کا کوئی تجزیاتی جواب بھی نہیں دیتے۔ سیمون نے وضاحت کی ہے کہ ذاتی ملکیت کی وجہ سے عورت کی غلامی لازمی نہیں تھی۔ انسانی مفاد اور شعور کی بنیاد پر ملکیت کے ادارے وجود میں آئے، لیکن یہ مفاد خود کہاں سے آیا، اس کی وضاحت تاریخی مادیت نہیں کر پاتی۔
ذاتی ملکیت اور انسان کے اوزار کے استعمال کی کہانی کچھ یوں ہے: ابتدائی انسان نے خود کو گروپ اور کلان کے ساتھ شناخت کیا۔ وہ فطرت کے سامنے غیر فعال اور کمزور محسوس کرتا تھا۔ کانسی کے اوزار کی دریافت نے انسان کو محنت کے ذریعے خود کو خالق کے طور پر دیکھنے کا موقع دیا۔ فطرت پر قابو پانے اور رکاوٹوں پر قابو پانے کے بعد انسان نے خود کو ایک فعال اور خودمختار قوت کے طور پر پہچانا اور فرد کے طور پر خود کو مکمل کیا۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صرف انسان کی فردیت کو تسلیم کرنا ذاتی ملکیت کی وضاحت کے لیے کافی نہیں۔ ہر فرد جدوجہد اور محنت کے ذریعے اپنی خودمختاری حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کلان میں رسمی تحائف یا زمین اور اوزار کی ملکیت نے فردیت کو مضبوط کیا، کیونکہ انسان نے پہلے خود کو ان میں کھو دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی ملکیت کی حفاظت اور اہمیت کو اپنی زندگی جتنی اہم سمجھتا ہے۔
اینگلز نے عورت کے ظلم کو صرف جسمانی کمزوری سے جوڑا، لیکن یہ کافی نہیں۔ عورت کی محنت کی محدودیت صرف اس وقت نقصان بن گئی جب مرد نے اسے اپنی ترقی اور دولت کے منصوبے کے تناظر میں دیکھا۔ اگر مرد اور عورت کے درمیان تعلق صرف دوستانہ ہوتا، تو غلامی نہ ہوتی۔ عورت پر ظلم انسانی شعور کی سامراجیت اور دوسروں پر قابو پانے کی خواہش کی وجہ سے ہوا۔ اگر انسانی شعور میں دوسروں پر قابو پانے کی ابتدائی خواہش نہ ہوتی، تو کانسی کے اوزار کی ایجاد عورت پر ظلم کا سبب نہ بنتی۔
یعنی عورت کی آزادی اور برابری صرف معاشرتی اور اقتصادی انقلاب سے ممکن نہیں، بلکہ یہ انسانی شعور، تاریخی ترقی اور فرد کی خودمختاری کے پیچیدہ عمل کا نتیجہ ہے۔ معاشرتی، اقتصادی اور انسانی عوامل کے امتزاج نے عورت کی آزادی اور حقوق کی شکل دی، اور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عورت کی برابری کا سفر محض قانونی یا معاشی اقدامات سے مکمل نہیں ہوتا۔
Tags:
معاصر افکار
