ڈاکٹر سعدیہ شیخ کا تعارف:
ڈاکٹر سعدیہ شیخ (Sa'diyya Shaikh) جنوبی افریقہ کی نامور مسلم محققہ، مفکرہ اور ماہرِ نسوانی الٰہیات ہیں، جو اسلامی فکر، صوفیانہ روایت اور تانیثی نظریے (Feminist Theory) کے امتزاج پر اپنی علمی و تحقیقی کاوشوں کے باعث بین الاقوامی سطح پر ممتاز مقام رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اس وقت یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن (University of Cape Town) میں مذہب کی پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
سعدیہ شیخ 1969ء میں جنوبی افریقہ کے شہر کرگرزڈورپ (Krugersdorp) میں ایک بھارتی نژاد مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے نسلی امتیاز کے دور میں پرورش پائی اور ظلم و نسلی تفریق کے خلاف تحریکوں کو قریب سے دیکھا، جس تجربے نے ان کی فکری تشکیل پر گہرا اثر ڈالا۔ یہی پس منظر انہیں قرآن اور اسلامی روایت کی تحریری تفسیرات سے آگے بڑھ کر تحریری و عملی آزادی کے زاویے سے دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ان کی علمی جستجو دراصل اسلامی روایت کی رہائی پسند قرأت (Liberatory Reading) کی کوشش ہے، جو انسان، خدا، اور عدلِ اجتماعی کے باہمی رشتے کو نئے معنی دیتی ہے۔
علمی و تحقیقی خدمات:
ڈاکٹر سعدیہ شیخ کے تحقیقی موضوعات میں تصوف، اسلامی قانون، حدیث، قرآن فہمی، مسلم خواتین، اور صنفی تشدد (Gendered Violence) جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی تحقیق کی اساس یہ تصور ہے کہ اسلام کے باطن میں ایک ایسی روحانی و اخلاقی قوت موجود ہے جو صنفی مساوات، رحمت، اور انسانی وقار کی ضامن ہے۔انہوں نے متعدد علمی مضامین اور کتابیں لکھیں، جن میں نمایاں کام یہ ہیں:
“Knowledge, Women and Gender in the Hadith: A Feminist Interpretation” — حدیث اور علم کے تانیثی مطالعے پر ایک علمی تجزیہ۔
“Family Planning, Contraception and Abortion in Islam” — اسلامی اخلاقیات کے تناظر میں تولیدی آزادی اور ذمہ داری کا تجزیہ۔
“Transforming Feminisms: Islam, Women and Gender Justice” — اسلامی فکر اور جدید فیمینزم کے درمیان فکری مکالمہ۔
“The Veil: A Feminist Theological Analysis” — پردے کے مذہبی مفہوم پر تانیثی الٰہیات کی نظر۔
“Narratives on Narration: A Feminist Hermeneutics on Hadith” — حدیثی روایت کی نئی تفہیم۔
تصوف اور ابن عربی پر تحقیق:
ڈاکٹر سعدیہ شیخ کی فکری شناخت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی تصوفی تحقیق ہے، خصوصاً شیخ محی الدین ابن عربیؒ کے نظریات پر۔
ان کی مشہور کتاب Sufi Narratives of Intimacy: Ibn 'Arabi, Gender, and Sexualit میں وہ ابن عربیؒ کے فکری نظام کو فیمینسٹ تھیالوجی (Feminist Theology) کے تناظر میں پیش کرتی ہیں۔ اس کتاب میں وہ یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا اسلامی تصوف میں عورت کے لیے خدا کے مشاہدے، محبت، اور معرفت کے مساوی امکانات موجود ہیں؟
ان کے نزدیک ابن عربیؒ کی فکر عورت کو محض مخلوق کے درجے میں نہیں بلکہ مظہرِ الٰہی کے طور پر دیکھتی ہے، جہاں نسوانیت خود الٰہی تخلیق اور جمال کا استعارہ بن جاتی ہے۔
خواتین میں خدا کا مشاہدہ — ابن عربی کی فکر میں الٰہی نسوانیت کی جلوہ گری:
اسلامی تصوف کی تاریخ میں شیخِ اکبر محی الدین ابن عربیؒ ایک ایسے مفکر کی حیثیت رکھتے ہیں جنہوں نے وجود، تخلیق اور الوہیت کے باہمی تعلق کو نہایت عمیق اور رمزی انداز میں بیان کیا۔ ان کے ہاں انسان، خاص طور پر عورت الٰہی حقیقت کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔ ڈاکٹر سعدیہ شیخ اپنی تصنیف میں ابن عربیؒ کی انہی صوفیانہ بصیرتوں کو ایک نئے تناظر میں پیش کرتی ہیں اور دکھاتی ہیں کہ ان کے نزدیک عورت الٰہی جمال اور تخلیقی طاقت کی علامت ہے، جو مرد کے لیے معرفتِ خدا کا آئینہ بنتی ہے۔
تخلیق اور الٰہی نسوانیت کا باطنی رشتہ:
ڈاکٹر سعدیہ شیخ لکھتی ہیں کہ ابن عربیؒ کے نزدیک تخلیق کی ابتدا الذاتِ الٰہی سے ہوئی، اور چونکہ عربی میں لفظ “ذات” مؤنث ہے، وہ اسے علامتی طور پر نسوانی ماخذِ تخلیق قرار دیتے ہیں۔ یعنی کائنات کی تخلیق خود ایک مؤنثِ الٰہی حقیقت سے پھوٹی ہے۔ یہی حقیقت اپنے اندر تخلیق کے تمام امکانات سموئے ہوئے ہے۔ اس سرچشمۂ مؤنث سے پہلا انسان وجود میں آیا، جو بعد ازاں دو پہلوؤں — آدم (فاعل) اور حوّا (قابل) — میں ظاہر ہوا۔
اس تقسیم کے باوجود ابن عربیؒ کے نزدیک عورت کسی ثانوی یا کم تر درجہ کی مخلوق نہیں، بلکہ وہ تخلیق کے باطن میں پوشیدہ اصل حقیقت ہے۔ چنانچہ نسوانیت تخلیق کے تمام مدارج میں غالب اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اسی سے وجود کو حرکت، نمو اور دوام حاصل ہوتا ہے۔
حدیثِ نبویؐ کی روحانی تعبیر:
ابن عربیؒ نبی کریم ﷺ کے ارشادِ مبارک سے خاص استدلال کرتے ہیں:
تمہارے دنیاوی امور میں سے تین چیزیں مجھے محبوب بنائی گئیں: عورتیں، خوشبو، اور نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی ہے۔
ابنِ عربیؒ اس ترتیب میں ایک گہرا روحانی راز دیکھتے ہیں۔ وہ راز یہ ہے کہ نبی ﷺ نے "عورت" کا ذکر سب سے پہلے فرمایا، جو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ مؤنث حقیقت، مرد سے معنوی طور پر مقدم ہے۔ ابن عربیؒ کے مطابق یہ نحوی ترتیب درحقیقت ایک باطنی علامت ہے کہ عورت تخلیق اور محبت دونوں کی بنیاد ہے۔
ان کے نزدیک "عورت" اور "نماز" دونوں مؤنث ہیں، جبکہ "خوشبو" مذکر ہے۔ گویا مرد، دو مؤنث جہتوں — الٰہی ذات اور عورت — کے درمیان واقع ہے، اور انہی کے ذریعے الٰہی جمال کا مشاہدہ کرتا ہے۔
نسوانیت بطور تخلیقی قوت:
ابن عربیؒ کے تصور میں نسوانیت محض نرمی یا انفعال کی علامت نہیں بلکہ تخلیقی عمل کی روح ہے۔ جیسے عورت رحمِ مادر میں نئی زندگی کو وجود بخشتی ہے، ویسے ہی الٰہی نسوانیت تمام مخلوقات کے وجود میں روح پھونکتی ہے۔ان کے نزدیک "قبولیت" کمزوری نہیں بلکہ سب سے بلند تخلیقی قوت ہے، کیونکہ وہی نئے وجود کے ظہور کا ذریعہ بنتی ہے۔
اسی لیے ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ وجود کے ہر درجے میں نسوانی پہلو کارفرما ہے۔ یہ پہلو فعال اور قابل دونوں حیثیتوں کو اپنے اندر جمع کیے ہوئے ہے، اور یہی جامعیت الٰہی صفات کی کامل ترجمانی کرتی ہے۔
عورت کا درجۂ فوق:
ڈاکٹر سعدیہ شیخ مزید لکھتی ہیں کہ:
قرآنِ مجید میں آیا ہے:
وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ
اور مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ حاصل ہے۔
ابن عربیؒ اس آیت کی ایک روحانی تعبیر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ "درجہ" محض دنیاوی نظم و معاشرت سے متعلق ہے، کیونکہ حقیقی یا وجودی سطح پر عورت مرد پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ اس نکتہ کو نہایت لطیف لسانی رمز سے واضح کرتے ہیں کہ "مرء" (مرد) اور "امرأة"(عورت) دونوں میں فرق صرف ایک اضافی حرف "ہ" کا ہے — یہ اضافہ عورت کے درجۂ فوق کی علامت ہے۔ گویا عورت میں وہ اضافی روحانی جوہر موجود ہے جو مرد کو عطا نہیں ہوا۔
عورت بطور مقامِ مشاہدۂ الٰہی:
ابن عربیؒ کی فکر کا سب سے لطیف اور حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ عورت کو "خدا کے کامل مشاہدے کا مقام" قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک عورت وہ آئینہ ہے جس میں انسان الٰہی حسن کا سب سے واضح ظہور دیکھ سکتا ہے۔جو شخص عورت سے محبت کرتا ہے — اس معنوی تعلق میں جو رسولِ اکرم ﷺ کی سنت ہے — وہ دراصل خدا سے محبت کرتا ہے، کیونکہ عورت خدا کی جامع صفات — تخلیق، جمال اور قبولیت — کا مظہر ہے۔
مرد عورت کے ذریعے اپنی ذات کو پہچانتا ہے، اور عورت کے ذریعے ہی وہ خدا کی معرفت تک رسائی پاتا ہے۔ اسی لیے ابن عربیؒ کے نزدیک خواتین میں خدا کا مشاہدہ سب سے مکمل اور کامل صورت میں ممکن ہے۔
یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ابن عربیؒ کے نظامِ فکر میں عورت محض صنفی وجود نہیں بلکہ الٰہی حقیقت کا جلوہ ہے۔ تخلیق کا ماخذ مؤنث ہے، ذاتِ الٰہی مؤنثِ معنوی ہے، اور عورت اس الوہی نسوانیت کا مظہر ہے۔یوں عورت ابن عربیؒ کے ہاں محبت، تخلیق اور معرفتِ خدا — تینوں کا سرچشمہ ہے۔
یہی وہ الٰہی نسوانیت ہے جو کائنات کے حسن اور توازن کی بنیاد ہے، اور جس کے مشاہدے میں انسان اپنے خالق کو پہچان سکتا ہے۔
آپ کے اس تعبیر کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ ہمیں ضرور آگاہ کیجئے۔
Tags:
معاصر افکار

میں تو زیادہ علم والا بندہ نہیں ہو پر یہ لوگ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اسی طرح کی باتیں کرتی ہے حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے حقوق اور ان کے حسن و جمال اور کام بلکہ یہ تمام نظام کو بہترین انداز میں بیان کیا ہے جو کسی دوسرے مذاھب میں نہیں ہے
جواب دیںحذف کریںمجھے تو یہ لوگ مذھب بے زار لگتے ہیں
جی بالکل۔۔۔۔۔
حذف کریںمذہب بیزاری کا بنیادی محرک یہی ہے کہ پہلے سے طے شدہ انسانی عقل کے پیمانے میں دینی احکامات کو تولا جائے۔۔۔۔۔۔عقل بس چراغ راہ ہے۔۔۔۔۔۔جبکہ دین اصل منزل اور مراد ہے۔۔۔۔۔مذہب بیزار لوگ اسی عقل کے گھوڑوں کی دوڑ کو منزل سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔تعبیر نو کی صورت میں۔۔۔۔۔۔یہی عصر حاضر کاسنگین المیہ ہے۔۔۔۔۔