عورت کی محکومی اور اس کی آزادی کا مسئلہ انسانی تاریخ کے سب سے پیچیدہ مباحث میں سے ہے۔ کارل مارکس کے رفیقِ فکر اینگلز (Engels) نے عورت کے استحصال کو طبقاتی نظام سے جوڑنے کی کوشش کی تھی، مگر سیمون کے نزدیک یہ نظریہ نامکمل ہے۔ اینگلز نے مرد و عورت کے باہمی تضاد کو محض طبقاتی جدوجہد کی ایک شکل سمجھنے کی کوشش کی، مگر عورت کی حیثیت صرف ایک معاشی اکائی تک محدود نہیں کی جا سکتی۔
طبقاتی تفریق اور صنفی تفریق بظاہر ایک جیسی نظر آتی ہیں، لیکن درحقیقت ان میں بنیادی فرق ہے۔ غلام اپنے مالک کے خلاف بغاوت کرتا ہے، مزدور اپنے طبقاتی استحصال کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، لیکن عورت کی زندگی مرد سے اس قدر جڑی ہوئی ہے کہ وہ اپنی حیثیت کو اسی کے ساتھ وابستہ سمجھتی ہے۔ اس میں بغاوت کا جذبہ موجود نہیں، وہ صرف چاہتی ہے کہ جنس کی بنیاد پر ہونے والی ناہمواریوں کو ختم کیا جائے — نہ کہ عورت بطور صنف مٹ جائے۔
سیمون کہتی ہیں کہ عورت کو محض "کارکن" یا "محنت کش" سمجھنا غلط ہے، کیونکہ اس کا کردار صرف معاشی پیداوار تک محدود نہیں۔ وہ زندگی کو آگے بڑھانے والی قوت ہے — اس کا تولیدی کردار سماجی نظام میں اتنا ہی اہم ہے جتنا اس کا محنتی کردار۔ بعض اوقات ایک بچہ پیدا کرنا کھیت جوتنے سے زیادہ ضروری ثابت ہوتا ہے۔
اینگلز نے سادہ سا حل تجویز کیا کہ سوشلسٹ نظام خاندان کے ادارے کو ختم کر دے گا، مگر یہ محض ایک نظریاتی مفروضہ تھا۔ حقیقت میں خاندان کو ختم کر دینا عورت کی آزادی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ سپارٹا یا نازی جرمنی جیسے نظاموں میں عورت براہِ راست ریاست کے تابع تھی، لیکن پھر بھی مردانہ غلبے سے آزاد نہیں ہو سکی۔
سوشلسٹ اخلاقیات کے لیے عورت کی حیثیت ایک چیلنج ہے۔ عورت کی زندگی مرد کے مقابلے میں زیادہ گہرائی سے متاثر ہوتی ہے — خاص طور پر زچگی کے مرحلے میں۔ کوئی ریاست عورت کو زبردستی ماں نہیں بنا سکتی؛ وہ صرف ایسے سماجی حالات پیدا کر سکتی ہے جن میں ماں بننا عورت کے لیے واحد راستہ بن جائے۔ شادی، طلاق، مانع حمل ذرائع اور اسقاطِ حمل پر پابندیاں دراصل اسی جبر کی علامت ہیں۔
سیمون بتاتی ہیں کہ سوویت روس نے بھی آخرکار انہی پدرانہ قدروں کو واپس اپنایا۔ وہاں عورتوں کو کہا گیا کہ وہ اپنی نسوانیت کو نکھاریں، شوہروں کو خوش رکھیں اور اپنی کشش برقرار رکھیں۔ یعنی عورت ایک بار پھر مرد کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بن گئی — ایک "جنسی شے" (erotic object)۔
سیمون کے نزدیک عورت کو سمجھنے کے لیے محض حیاتیات، نفسیات یا معیشت کافی نہیں۔ عورت کا وجود ان سب سے بڑھ کر ایک وجودی (Existential) حقیقت ہے۔ وہ نہ صرف جسم رکھتی ہے بلکہ شعور بھی رکھتی ہے، جو اپنی آزادی، شناخت اور تکمیل کا خواہاں ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ فریڈ اور اینگلز دونوں کی فکری یکطرفگی عورت کے مسئلے کو حل نہیں کر سکتی۔ فریڈ نے ہر عورت کی جدوجہد کو "مردانہ احتجاج" قرار دیا، جبکہ اینگلز نے عورت کی جنسیت کو اس کی معاشی حالت سے منسلک کر دیا۔ لیکن عورت ان میں سے کسی ایک خانے میں قید نہیں کی جا سکتی۔
عورت ایک جیتی جاگتی ہستی ہے، جو اپنے جسم، تجربے، اور شعور کے ساتھ اپنی راہ متعین کرتی ہے۔ اس کی زندگی محض جنسی یا معاشی قوتوں کے تابع نہیں بلکہ ایک مکمل انسانی جدوجہد ہے — اپنی شناخت، آزادی اور وجود کے اثبات کی جدوجہد۔ یعنی سیمون کے مطابق عورت کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے جسمانی، نفسیاتی اور معاشی پہلوؤں سے آگے بڑھ کر اس کے وجودی شعور کو سمجھنا ہوگا، کیونکہ یہی شعور اسے ایک مکمل انسان بناتا ہے۔
Tags:
معاصر افکار

بہت خوب
جواب دیںحذف کریں