تحریر✍✍✍: شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید الرحمٰن صاحب
(استاد الحدیث جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک نوشہرہ)
محترم مفتی وسیم اکرم صاحب ہمارے شاگردِ عزیز ہیں اور الحمد للہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے فیض یافتہ ہیں جنہوں نے دورانِ طالب علمی ہی معاصر افکار اور ان کے ناقدانہ تجزیہ کو اپنی دلچسپی اور تحقیق کا موضوع بنایا۔ بالخصوص تانیثیت اور اسلامی تانیثیت پر آپ کا عللی و تحقیقی کام لائقِ تعریف ہے جس پر راقم وقتاً فوقتاً ان کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔
مفتی وسیم اکرم حقانی صاحب کی طرف سے اسلامی تانیثیت کے ماہرین کی آراء و رجحانات کا تذکرہ مختلف اوقات میں مختلف عنوانات کے تحت دیکھنے کو ملتا ہے اور میں مفتی وسیم اکرم حقانی صاحب کی دلجوئی اور اپنی معلومات میں اضافہ کی نیت سے اول تا اخیر کئی مرتبہ پڑھ لیتا ہوں۔ دل سے مفتی وسیم اکرم حقانی صاحب کے لیے کامیابی و ترقی کی دعائیں نکلتی ہیں۔
گزشتہ روز مفتی وسیم اکرم حقانی صاحب نے معروف فیمنسٹ ڈاکٹر سعدیہ شیخ کی کتاب سے ان کا ایک مؤقف نقل کیا کہ وہ کس طرح امام ابن عربی رحمہ اللہ کی فکر سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ خواتین میں کامل طور پر خدا کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ میں نے ڈاکٹر سعدیہ شیخ کے استدلال کو انتہائی غور و فکر سے پڑھنے کی کوشش کی اور انتہائی کمزور اور سطحی پایا جس میں انہوں نے سطحی انداز سے مدعیٰ پیش کرنے کی کوشش کی اور پھر اس کے ضمن میں دلائل دئیے۔ ان کا حدیث پاک سے استدلال انتہائی غیر متعلق محسوس ہوا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے تین چیزیں پسند ہے عورت، خوشبو اور نماز "۔ اب اس نحوی ترتیب کو باطنی علامت کے طور پر لینا کہاں سے ثابت ہوگا؟ یا اسی طرح امرء اور امراۃ میں ۃ کا اضافہ عورت کے درجہ فوق کی علامت ہے، کہاں سے معلوم کیا؟
ہمیں یہ سوچنے چاہیے کہ جو ماہرین عورت کی ذات کو ذاتِ الہی کے مشاہدہ کا کامل نمونہ مانتی ہے تو خواتین میں فطری طور پر موجود نقائص و غیوب پائے جاتے ہیں جن پر عقل و شرع دال ہے، ان سے چھٹکارے کی کیا صورت ہوگی؟ کیا ذاتِ باری تعالیٰ کا کامل مشاہدہ اس میں ہوگا جس میں فطری طور پر عجز ، شرمساری ، گھبراہٹ اور ان گنت کمیاں پائی جاتی ہیں؟
یقیناً مخبر صادقﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انھن ناقصات العقل.. عورت، اگر مادی علوم میں اگر ثریا تک بھی پہنچ جاتی ہے پھر بھی دین و معرفت میں ناقص ہوگی جب تک "جبال العالم" کی تحقیق اور قران کا وسنت کے ظاہری نصوص پر من و عن ، یقین راسخ نہ ہو ، علامہ محی الدین ابن عربی تصوف کے امام ہیں، اگرچہ ان کا نظریہ وحدۃ الوجود، اور دیگر اداء سے اہل علم و دانش کا شدید اختلاف رہا ہے اور ان پر شدید نقد بھی کیا گیا ہے لیکن پھر بھی ان کے کلام کو یوں توڑ مروڑ کر اپنے مدعیٰ کے لیے بطورِ دلیل استعمال کرنا درست علمی رویہ نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ محترمہ ڈاکٹر سعدیہ شیخ صاحبہ اگر عمیق نظر ڈالے تو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کامل مشاہدہ مذکر میں ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ:
اَوَمَنۡ يُّنَشَّؤُا فِى الۡحِلۡيَةِ وَهُوَ فِى الۡخِصَامِ غَيۡرُ مُبِيۡنٍ
یہ تو اس نظریہ کے تردید کے لیے کافی ہے کیونکہ مونث پر ہر وقت بناؤ سنگھار کے فکر غالب ہوتی ہے اور یہ شان اللہ کے مناسب نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دعویٰ کو بڑے شد ومد کے ساتھ واضح کر کے مقابل کو للکارتے ہیں تو تانیثی اوصاف کے حامل ذات کا وصف نہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
اَصۡطَفَى الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ مَا لَـكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ
اللہ تعالیٰ کفار و مشرکین کے اس رسم بد کا تذکرہ فرماتے ہوئے ان کے اس فیصلہ کو رد فرماتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا تصور کوئی اسلامی تصور نہیں۔
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:
وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمۡ بِالۡاُنۡثٰى ظَلَّ وَجۡهُهٗ مُسۡوَدًّا وَّهُوَ كَظِيۡمٌۚ
غور کیجئے کہ تخلیق میں دونوں برابر ہے، لیکن اوصاف کے اعتبار سے مذکر کو مونث پر برتری حاصل ہے، اب اس کو نظریہ بناکر پیش کرنا کہ خواتین میں خدا کا کامل مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، بظاہر سطحی اور کمزور نظریہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور اللہ جل جلالہ آپ کی ہر جانب سے حفاظت فرمائیں۔
