ایک شکستہ بال و پر کا مالک، عمر کے خزانوں میں الجھا ہوا وہ نوجوان جو جوانی کی دہلیز پر سہما سہما، نادم و مجرم سا کھڑا ہے—ایک ایسا عاشق جس کی رگوں میں خلوص تو موجزن ہے مگر گناہوں کی گرد نے اسے مضمحل کر رکھا ہے۔ وہ چہرے سے خوش رو مگر سیرت کی آلودگی میں غرق، باطن سے بدرو اور ظاہر میں کریہہ المنظر سا وجود ہے؛ ایک بےڈول پیکرِ خاکی جو نہ حسنِ کردار کا امین ہے نہ سکونِ دل کا وارث۔
یہی نحیف و ناتواں پیکر چودہ صدیوں کے فاصلہ پر اُس محبوبِ کامل و اکمل ﷺ کی جستجو میں سرگرداں ہے جس کا جمال دیدنی نہیں، مگر کمال سننے والوں کے دلوں کو مسخر کر لیتا ہے۔ وہ ایک پس ماندہ خطے میں آنکھ کھولتا ہے، جہاں صبح و شام، کوچہ و بازار، لب و دہن سے صرف ایک ہی نام مکرر سنائی دیتا ہے—اُس کامل ترین ہستی کا نام، جو ہر گفتگو کا حاصل، ہر ذکر کا مرکز، ہر نصیحت کا ماحصل ہے۔
وہ بچپن سے جوانی تک چلتے ہوئے اُس راہروِ ابدی ﷺ کا تذکرہ سنتا ہے، کھاتے پیتے اُس اسوۂ کاملہ کی طرزِ زیست کا بیان سن سن کر دل میں ایک اضطراب جاگزیں ہو جاتا ہے۔ اور جب اُس کے شعور کے افق پر یہ احساس طلوع ہوتا ہے کہ جس کی پیروی کا حکم ہے، جس کی اطاعت ہی نجات کا وسیلہ ہے، اُس کی زیارت نصیب نہیں، اُس کا عکس میسر نہیں، اُس کا مجسمہ کہیں موجود نہیں—تو وہ دل گرفتہ ہو کر اس نامرئی محبوب کی جستجو میں نکل کھڑا ہوتا ہے؛ تاکہ کم از کم اُس کی سیرت کے نقوش سے شناسائی حاصل کرے، اُس کے کردار کے آئینے میں اپنے بگڑے ہوئے وجود کو پہچانے، اور شاید اسی میں اپنی نجات کا کوئی در کھل جائے۔
جب اُس کے شعور کی کونپلیں پھوٹنے لگیں اور آگاہی کی کرنوں نے جہالت کے پردوں کو چاک کرنا شروع کیا تو تجسس کا دریا موجزن ہو گیا۔ اس کے باطن میں سوالات کا طوفان برپا تھا—یہ ہستی کون ہے؟ نسب کیسا ہے؟ کس سرزمین نے اس نورِ مجسم کو جنم دیا؟ طفولیت کے ایّام کن لطافتوں میں بسر ہوئے؟ گرد و پیش کا ماحول کیسا تھا؟ کون سے اصحاب قربت و رفاقت میں شریک ہوئے؟ کون سا شہر اس کا مسکن ٹھہرا؟
یہ سب سوالات اُس کے ذہن کی چادر پر شب و روز ابھرتے مٹتے رہے، یہاں تک کہ ہر گوشہِ فکر اُس جلیل القدر ہستی کے انوار سے روشن ہونے لگا۔ مگر اس کے دل میں اس سے بھی بڑھ کر ایک آرزو مچلنے لگی—کہ اس نے جس خطۂ ارضی پر جنم لیا، وہاں کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنایا جائے؛ اُن پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اُس سرزمین کو بنظرِ تعمق دیکھا جائے جہاں سے آفتابِ ہدایت نے طلوع کیا؛ اور اُس مقام کی گرد و غبار کو متبرک جان کر چوم لیا جائے، اُس بستی کے پانی کو آبِ حیات سمجھ کر نوش کیا جائے—کہ شاید انہی ذرات میں اُس کی روح کے زنگ مٹانے کا کوئی راز پنہاں ہو۔
یہ آرزو محض ایک خواہش نہ تھی، بلکہ ایک ازلی تڑپ تھی جو اس کے وجود کے ریشے ریشے میں بچپن سے پیوست تھی۔ وہ تمنا جو ہر دھڑکن کے ساتھ سانس لیتی اور ہر آہ کے ساتھ مچلتی تھی۔ مگر افسوس! تقدیر کی سنگلاخ راہوں نے کبھی اس آرزو کو مجسم ہونے کی اجازت نہ دی۔
کوئی امید بر نہیں آتی،
کوئی صورت نظر نہیں آتی۔وہ اپنی حسرتوں کے بوجھ تلے گویا شکستہ پر پروانہ بن چکا تھا، جو شعلۂ شوق کے گرد گھوم گھوم کر خود کو خاک کرتا جاتا ہے۔ مگر پھر، ایک تخیلاتی سفر نے اس کے پژمردہ وجود میں نئی رمقِ حیات پھونک دی—ایسا سفر جس میں دیدار کا ایک لمحہ بھی ابد کی تمنا بن گیا۔
اور وہ آج بھی اسی تشنگی میں جل رہا ہے، اسی امید کے سہارے جی رہا ہے۔ ہر اہلِ دل سے، ہر درویش سے، ہر خاک نشین سے یہی فریاد کرتا ہے کہ؏:
کوئی درگاہ یا دربار بتا دو لوگوں،
مجھ کو بھی آن ملے یار، بتا دو لوگوں۔
؏:
جانے کیوں آنکھ بھی پتھرا سی گئی ہے میری،
کوئی تو صورتِ دیدار بتا دو لوگوں۔
یہ جو صدیوں کی مسافت میں گھری بیٹھی ہوں،
ایک ساعت کی طلب گار بتا دو لوگوں۔
میری وحشت کو بھی محدود کرے وہ آ کر،
کھینچ دے مجھ پہ بھی پرکار بتا دو لوگوں۔
نہ مرکب میسر، نہ ہمراہ کوئی توشہ، فقط ایک خستہ قمیص، ایک عریاں پاؤں، ایک برہنہ سر، اور ایک جلا ہوا دل—یہی اس کا سرمایۂ سفر تھا۔
راستہ دراز اور ریگِ رواں گرم، مگر شوقِ حضور کے نشے میں وہ پیادہ پا، ناتواں، نحیف و نزار، صحرائے فراق میں قدم پر قدم رکھتا گیا۔ ایڑیاں چھلنی ہوئیں، رگیں پھول گئیں، مگر وہ آبلہپایِ آرزو رُکنا گوارا نہ کرتا۔
جب گام اٹھانے کی تاب نہ رہی تو زانوؤں کے بل چلنے لگا، کہ رُکنا اُس کے نزدیک فنا سے بدتر مصیبت تھی۔
؏
مجھے گھٹنوں کے بل چلنا پڑے گا
میں رُکنے کی مصیبت جانتا ہوں۔
آہ! یہ کیا مسافت تھی جو بدن کے بل طے ہونے سے پوری ہو؟ وہ جانتا تھا کہ محبوب کی راہ میں فاصلے پیمائش کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ قلب کی صفائی اور باطن کی تطہیر مطلوب ہوتی ہے۔
اسے اپنے اندر کی تیرگیوں کا ادراک تھا، اسے معلوم تھا کہ محض زانو سائی سے یہ گردِ باطن نہیں چھٹنے والی۔
تب اُس نے آنسوؤں کے بجائے لہو بہانا شروع کیا، اور گھٹنوں کے بجائے سینے کے بل رینگنے لگا۔
؏
سینے کے بل رینگ کر سیمائیں کیں پار۔
زمین پر اس کا سینہ رگڑ کھاتا، اور دل کی غلاظت پیپ کی مانند بہتی جاتی۔ جوں جوں وہ خاکِ راہ میں تحلیل ہوتا گیا، یوں محسوس ہوا کہ وہ خود مٹی نہیں، بلکہ مٹی اُس میں تحلیل ہو رہی ہے۔
اس کا دل، جو کبھی دنیوی حسیناؤں کی محبت سے لبریز تھا، اب خون کی طرح بہہ کر صاف ہونے لگا۔ ہر رگ سے گناہ، ہر سانس سے غفلت نکلتی گئی۔
وا حسرتاہ! وہ نحیف و نزار، خستہ و شکستہ عاشق — اب خاک کا پیکر بن چکا تھا؛ مگر اُسی خاک سے عشقِ حقیقی کا گلِ صد برگ پھوٹنے والا تھا۔
چلتے چلتے اس کے نحیف و نزار تن پر محض ستر چھپانے کو کپڑا بچا تھا، اور بدن پر زخموں کے بےشمار نقش و نگار یہ بتا رہے تھے کہ یہ سفر نہ صرف طویل بلکہ پرخطر و پرکٹھن تھا۔
؏
نہیں ہوتی راہِ عشق میں آسان منزل
سفر میں بھی درکار ہے صدیوں کی مسافت
گو پاؤں آبلہ ہیں، مگر اے رہرو!
منزل کی جستجو ہے تو سفر جاری رکھ
وقت و ایام کی قدغنوں سے آزاد ہو کر، وہ آغازِ سفر میں ہی روحاً آزاد تھا؛ تبھی تو جب منزل کے قریب پہنچا، نہ یاد رہا کہ کتنے دن طے کیے اور کب پہنچے گا۔ لیکن جوں جوں وہ منزل کی طرف بڑھتا گیا، دل میں بےچینی و اضطراب بڑھتی گئی، دل کی دھڑکن تیز ہوئی اور آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں ہو گیا۔ ہاتھ کپکپانے لگے، پیروں میں بیڑیاں محسوس ہوئیں، کندھوں پر بھاری بوجھ کا بوجھ محسوس ہوا، اور آنکھیں اس بوجھ کے آگے ساتھ چھوڑنے کی غرض سے لڑی گئیں۔
خالقِ ارض و سما اس منظر پر نگاہ جمائے بیٹھا تھا، مگر امتحان کی تکمیل کے لیے اسے یوں ہی بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ نہ جانے کتنے فرشتے مدد کو آئے ہوں، لیکن ان کو مداخلت کی اجازت نہ دی گئی۔ غالباً وہی لمحہ تھا کہ عشاق سبزگنبد کی تابانی سے مست، نظارے میں غرق تھے، مگر یہ بدنصیب مجرم کی طرح کھڑا تھا، آنکھوں کے سامنے شدتِ شوق اور بےتابی کا دھواں، اور منزل کی روشنی محوِ حیرت تھی۔
ایڑیاں اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی، مگر پیروں کے دائمی عذاب اور عمر رسیدگی نے جیتے جی اسے لاچار بنا دیا۔ اس تکلیف میں بس وہ زمین پر اوندھے منہ گر پڑا، اور سسکیوں کی ہلکی سرسراہٹ اس کی زندہ ہونے کی عکاسی کر رہی تھی۔ سانس لینے میں شدت محسوس ہوئی، اور اسی لمحے اسے ادراک ہوا کہ دیگر ہزاروں خواہشوں کی طرح یہ آرزو بھی ادھوری رہ جائے گی۔ وہ نہ محسنِ اعظم، پیغمبرِ انقلاب ﷺ کے روضہ پر سلام پیش کر سکے گا، نہ سبزگنبد کی تابانی دیکھ سکے گا۔
؏
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ادھوری خواہش، نامکمل آرزو، صدیوں کی تھکن، اور لامحدود مصیبتوں کا بوجھ اٹھائے، وہ بیچارہ یوں ہی زمین پر پڑا رہا۔ تب عزرائیل علیہ السلام آئے اور نہ صرف اس کی روح کو قفس عنصری سے آزاد کیا بلکہ اس تخیلاتی سفر کا آخری باب بھی مکمل کر دیا، جسے سوچتے اور لکھتے ہوئے ایک لکھاری و قاری کی آنکھوں میں آنسوؤں کا طوفان اُمڈ آیا۔
یہ پہلا عاشق تھا، شاید، جو سمندر کے کنارے پیاسا مرنے والا محسوس ہوا۔
؏
مترنم ہے مری روح میں یوں تیری صدا
آبشاروں کی سکوں ریز روانی جیسے
نور و نکہت میں نہایا ہوا وہ تیرا کلام
رود کوثر کا چمکتا ہوا پانی جیسے
میری پلکوں پہ ہیں یوں گوہرِ شبنم غلطاں
میرے ہونٹوں پہ ہو پھولوں کی کہانی جیسے
میرے سانسوں میں مچلتی ہے حنا کی خوشبو
تیری نوخیز محبت کی نشانی جیسے

عمدہ تحریر
جواب دیںحذف کریںماشاءاللہ
ماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریں