شرک و مشرک کی قرآنی تمثیل


 

توحید انسانی وجود کی وہ ابدی حقیقت ہے جو روح کی فطرت میں رچی بسی ہے، اور عقلِ ناطقہ کی روشنی میں ہر مخلوق کی اصل حیثیت کو واضح کرتا ہے۔ یہ وہ بلند مقام ہے جہاں انسان کی ہستی اپنی خلقت کے مرجع کے ساتھ یکجہتی اختیار کرتی ہے، اور ہر تعلق، ہر تعلقی خواہش اور ہر عبث تعلق کو ترک کر کے صرف اور صرف خالقِ کائنات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتی ہے۔ توحید کا یہ افق نہ صرف معرفتِ الٰہی کی بلند و بالا منازل کی کنجی ہے بلکہ اخلاقی و روحانی اصلاح کی بھی بنیاد ہے، جس میں دل و دماغ اور قلب و عقل کا کامل توازن قائم رہتا ہے۔
اس کے برعکس، شرک وہ تاریک و عمیق کھڈ ہے جس میں انسان کی فطرت اپنی آسمانی بلندی سے یکسر محروم ہو جاتی ہے۔ شرک، خواہ وہ ظاہر میں کسی معبود کو شریک ٹھہرانا ہو یا باطنی طور پر دل و دماغ کو خواہشات و جذبات کے غلام بنا دینا، روح کی پرواز کو روک دیتا ہے، اور انسانی ہستی کو ایسے طوفانی حالات میں دھکیل دیتا ہے جہاں عقل کی روشنی مدھم اور دل کی بصیرت گم ہو جاتی ہے۔ قرآنِ مجید میں ایسے انسان کی تمثیل کو آسمان سے گرنے، پرندوں کے ہاتھوں شکار ہونے، یا تیز ہوا کی گرفت میں اڑانے کے مترادف بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہر پڑنے والا غور کرے کہ فطرت کی بلندی سے انحراف کس حد تک خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

یوں توحید و شرک کی یہ دو راہیں انسانی ہستی کے لئے مانند دو متقابل قطبین ہیں: ایک سمتِ روشنی، علم اور معرفت کی ہے، اور دوسری سمتِ ظلمت، گمراہی اور بربادی کی۔ اور قرآنِ کریم کی یہ تمثیلات اس حقیقت کو اسلوبِ فصاحت و بلاغت کی تمام تر نزاکتوں کے ساتھ پیش کرتی ہیں، تاکہ ہر صاحبِ نظر قلب و عقل سے اس کا ادراک کر سکے اور اپنی ہستی کی سمت کا تعین درست کرے۔قرآن کریم  میں اللہ تعالیٰ نے اس کو انتہائی عمدہ مثال کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ:
حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (31)
اللہ کے لیے خالص عمل کرنے والے، اس کی عبادت میں یکسو اور اسی کے اطاعت گزار ہیں، اس کے سوا ہر ایک سے منہ موڑنے والے ہیں کہ شرک کو بالکل ترک کر دیتے ہیں۔ بے شک جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے، تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آسمان سے گر جائے، پھر یا تو پرندے اسے اچک لے جائیں اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، یا کوئی تیز آندھی اسے اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دے۔ 

مولانا مودودیؒ اس حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ:

 "آسمان" سے مراد انسان کی وہ فطری پاکیزہ حالت ہے، جس میں وہ صرف ایک اللہ کا بندہ ہوتا ہے، اور توحید ہی اس کی فطرت کی صدا ہوتی ہے۔ انسان کی سرشت میں شرک، الحاد یا دہریت کی کوئی جگہ نہیں۔ اگر وہ انبیاء علیہم السلام کی رہنمائی کو قبول کرلے تو وہ اپنے خالق کی دی ہوئی اسی فطرت پر بصیرت اور معرفت کے ساتھ قائم رہتا ہے۔ پھر اس کی پرواز معرفت و ایمان کے اعلیٰ مدارج تک جا پہنچتی ہے، پستیوں کی طرف نہیں گرتی۔
لیکن جب وہ شرک یا الحاد کی راہ اختیار کرتا ہے تو گویا اپنی فطرت کے بلند آسمان سے یکایک گر پڑتا ہے۔ اب اس کی حالت دو میں سے ایک صورت اختیار کر لیتی ہے: یا تو گمراہ کن شیاطین اور باطل نظریات کے پرستار، جنہیں اس تمثیل میں شکاری پرندوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اس پر جھپٹ پڑتے ہیں اور اسے اپنی سمت کھینچ لے جاتے ہیں؛ یا پھر اس کی اپنی نفس پرستی، خواہشات اور بے لگام جذبات، جو تیز و طوفانی ہوا کی مانند ہیں، اسے بہا لے جاتے ہیں اور بالآخر کسی گہرے کھڈ میں جا پٹختے ہیں۔
"سحیق" کا لفظ "سحق" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی پیسنے اور ریزہ ریزہ کرنے کے ہیں۔ یہاں اس گہرے کھڈ سے مراد وہ پستی ہے جس میں گر کر انسان کی فکری و اخلاقی بنیادیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں، اور اس کا وجود بکھر کر رہ جاتا ہے۔یہ آیت دراصل انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ توحید ہی اس کی اصل بلندی ہے، اور اس سے ہٹتے ہی وہ ایسی تاریکیوں میں جا گرتا ہے جہاں نہ روشنی رہتی ہے، نہ راہ۔ 

مسلم شریف کی روایت ہے کہ: 

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں سواری پر رسول اکرم ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ میرے اور رسول اکرم ﷺ کے درمیان سوائے پالان کی پچھلی لکڑی کے کچھ نہ تھا۔ آپؐ نے فرمایا اے معاذ بن جبلؓ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں حاضر ہوں آپؐ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جاننے والے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ جب بندے یہ احکام بجا لائیں (یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں) تو ان کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ بندوں کا اللہ تعالیٰ پر حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں عذاب سے محفوظ رکھے۔

یعنی توحید و شرک کی یہ دو متقابل قطبین انسان کی فطرت، عقل و شعور اور روحانی ارتقاء کے بنیادی معیارات ہیں۔ توحید کی راہ انسان کو اپنے خالق کے قرب و معرفت کی طرف لے جاتی ہے، دل و دماغ میں نورِ ایمان کی چمک پیدا کرتی ہے، اور ہر عمل و فکر کو اس اعلیٰ مقصد کے تابع کرتی ہے کہ وہ ہر لحظہ خالص اور مستند عبادت میں مصروف رہے۔ یہی فطرت کی اصل بلندی ہے، جس میں انسان اپنی سرشت کی قدرتی سمت پر قائم رہتا ہے اور اخلاقی و روحانی کمال کی منازل طے کرتا ہے۔

اس کے برعکس، شرک اور باطل کی راہیں وہ گہری کھڈیں ہیں جو انسان کی فطرت کو تاریکی، گمراہی اور پستی کی جانب دھکیلتی ہیں۔ خواہ یہ شرک ظاہر میں کسی معبود کو شریک ٹھہرانے کی صورت میں ہو یا باطنی طور پر نفس کی خواہشات و جذبات کا غلام بننے کی شکل اختیار کرے، نتیجہ ایک ہی ہے: انسان اپنی اصل فطرت سے انحراف کر کے آسمانِ معرفت سے گر جاتا ہے، شیاطین اور باطل کے جھٹکوں میں پھنس جاتا ہے، اور اپنی روحانی و اخلاقی بنیادوں کو کھو دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اس زوال کی تمثیل کو آسمان سے گرنے، شکاری پرندوں کے ہاتھوں پکڑے جانے، یا ہوا کے طوفانی جھونکوں میں بہا دیے جانے سے بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہر صاحبِ بصیرت انسان کو یہ حقیقت معلوم ہو کہ شرک کی ہر صورت، چاہے وہ آشکار ہو یا پنهان، ہلاکت اور بربادی کا ذریعہ ہے۔
یقیناً، توحید کی راہ اختیار کرنے والا انسان نہ صرف اپنی فطرت کے اعلیٰ اصول پر قائم رہتا ہے بلکہ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں بصیرت، استقلال اور اخلاقی قوت کا حامل بنتا ہے۔ شرک کا محتاج انسان، اپنی فطرت کی بلندی سے محروم ہو کر، اندھیرے اور پستی کی گہرائیوں میں دھنس جاتا ہے، جہاں نہ معرفت کی روشنی رہتی ہے، نہ روح کی آزادی۔ اس تناظر میں قرآن کی یہ تمثیلات انسان کو شعوری بیداری اور عملی راہنمائی فراہم کرتی ہیں، تاکہ وہ اپنے نفس کو علم و بصیرت، عقل و فطرت کے مطابق سنوارے اور اپنی ہستی کی سمت کو حق کی جانب درست کرے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی