وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُؕ اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡــئًا ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ۞
اور دیکھو! محمدﷺ محض یک رسول ہیں — اور اُن سے پہلے بھی بہت سے رسول آئے اور گزرے۔ پس اگر وہ تمہارے درمیان وفات پا جائیں یا انہیں قتل کر دیا جائے، تو کیا تم اسی غم و ملال میں پیٹھ پھیر کر بیٹھ جاؤ گے؟ کیا تم اپنے قدموں کو پلٹ کر ہٹ جاؤ گے؟ جو شخص ایسی حالت میں پیٹھ پھیرے گا، وہ بالکل بھی اللہ کے مرتسمِ رضا میں خلل نہیں ڈالے گا؛ بلکہ اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو بے حساب جزا دے گا۔
خبردار! میں تم میں سے کسی کی زبان پر یہ نازیبا الفاظ دوبارہ سننا برداشت نہ کروں گا—ورنہ اس کی گردن کو میں اپنی تلوار کے تیغ سے جدا کر دوں گا۔
اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا ؕ
بے شک! آج میں نے تمہارے لیے وہ دین مکمل کر دیا ہے جو ہدایت کا سرچشمہ اور فلاح کی رہبر منزل ہے؛ اور اپنے فضل و کرم کی نعمتوں کو تم پر پوری پوری نازل کر دیا؛ اور اسلام کو تمہارے لیے بطورِ شریعتِ نافع و مقبول پسند فرمایا — ہدایت بھی ملی، رحمت بھی ملی اور ضلالت کے شب و روز کٹ گئے۔
اے مسلمانو! اے میرے جانثار و دلیر ساتھیو! جو ہر سختی و آسانی میں میرا ساتھ دیتے رہے ہو! میری بات غور و فکر کے ساتھ سنو! تم سے پہلے ایک قوم گزر چکی ہے، جس نے اپنے انبیاء و صلحاء کی قبروں کو عبادت گاہیں بنا ڈالی تھیں، تم ایسا نہ کرنا۔
ان یہود و نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا۔ میری قبر کو میرے بعد وہ قبر نہ بنا دینا کہ اس کی پرستش شروع ہو جائے۔ مسلمانو! وہ قوم اللہ کے غضب میں آجاتی ہے جو قبورِ انبیاء کو مساجد بنادے۔
یارسول اللہ ﷺ! ہمارے ماں باپ، ہماری جانیں اور تمام زر و مال آپ پر قربان ہو جائیں۔
میں سب سے زیادہ جس شخص کی دولت اور رفاقت کا مشکور ہوں، وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی ایک شخص کو اپنی دوستی کےلیے منتخب کر سکتا، تو وہ ابوبکر ہی ہوتے، لیکن اب رشتہ اسلام میری دوستی کی بنا ہے اور وہی کافی ہے۔ مسجد کے رخ پر کوئی دریچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دریچہ کے سوا باقی نہ رکھا جائے۔
جس روز حضور نبی کریم ﷺ مرض کی شدت میں مبتلا ہوئے، اسی دن سے آپ ﷺ نے ہر لمحے اور ہر موقع پر امت کے لیے ارشادات فرمائے، نصائح کا ایک نہایت قیمتی خزانہ ترک فرمایا، تاکہ آخری وقت میں بھی امت کے لیے رہنمائی کا چراغ روشن رہے۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ:
اب آپ ﷺ نے اپنے اہلِ بیت کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا، تاکہ رشتۂ نبوت کی عظمت اور غرور کسی طرح انہیں عمل و سعی سے بیگانہ نہ کر دے، ارشاد فرمایا:
اے رسولِ خدا ﷺ کی عزیز بیٹی فاطمہ! اور اے پیغمبرِ اسلام ﷺ کی مکرَّمہ پھوپھی صفیہ! پروردگارِ عالیٰ کے حضور اپنے کچھ اعمال پیش کرو، کیونکہ میں اس کی گرفت سے بالکل بھی نجات نہیں پا سکتا۔
اس شدتِ مرض کے باوجود، محسنِ انسانیت ﷺ گیارہ روز تک متواتر مسجدِ نبوی میں تشریف فرما رہے اور جمعرات کے روز مغرب کی نماز بھی بذاتِ خود ادا فرمائی۔
رحمۃ اللعالمین ﷺ کی وفات سے دو روز قبل، جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز پڑھارہے تھے، تو پیغمبرِ انقلاب ﷺ نے مسجد کی جانب قدم بڑھانے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے کندھوں کو سہارا بنا کر جماعت میں تشریف لائے۔ حضور ﷺ کی آمد کا شعور ہوتے ہی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مصلے سے پیچھے ہٹے، لیکن محسنِ عالم ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھ سے ارشاد فرمایا:
پیچھے مت ہٹو۔
انہیں محتاجوں میں تقسیم کر دو، مجھے یہ تاثر ہی گوارا نہیں کہ رسولِ خدا ﷺ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوں اور اس کے گھر میں دنیاوی دولت پڑی ہو۔
09 ربیع الاوّل (دوشنبہ) کو مزاج اقدس میں قدرے سکون تھا، نماز صبح ادا کی جا رہی تھی کہ حضورﷺ نے مسجد اور حجرہ کا درمیانی پردہ سرکا دیا۔ اب چشم اقدس کے روبرو نمازیوں کی صفیں مصروف رکوع و سجود تھیں۔ سرکار دو عالمﷺ نے اس پاک نظارے کو جو حضورﷺ کی پاک تعلیم کا نتیجہ تھا، بڑے اشتیاق سے ملاحظہ فرمایا اور جوش مسرت میں ہنس پڑے۔ لوگوں کو خیال ہوا کہ مسجد میں تشریف لارہے ہیں، نمازی بے اختیار سے ہوگئے، نمازیں ٹوٹنے لگیں اور صدیق رضی اللہ عنہ جو امامت کرا رہے تھے، نے پیچھے ہٹنا چاہا مگر حضورﷺ نے اشارہ مبارک سے سب کو تسکین دی اور چہرہ انور کی ایک جھلک دکھا کر پھر حجرے کا پردہ ڈال دیا۔
یہ منظر دیکھ کر محسنِ انسانیت ﷺ نے لبوں پر تبسمِ رضا سجا کر فرمایا:
اے میری بیٹی فاطمہ! اشکوں کو تھام لو، دل کو صبر سے آشنا کرو۔ جب میں اس دنیائے فانی سے کوچ کر جاؤں تو ‘إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ’ کہنا، کہ اسی فقرے میں ہر دل کے لیے تسکینِ جاوداں کا مرہم مضم ر ہے۔
آپ کےلیے بھی؟
محسنِ اعظمﷺ نے ارشاد فرمایا:
ہاں، اس میں میری بھی تسکین ہے۔
فاطمہ رضی اللہ عنہا، جو حضور نبی کریمﷺ کی لاڈلی بیٹی تھیں جس کے ساتھ رسول اللہﷺ بہت محبت فرماتے تھے، کےلیے محسنِ اعظمﷺ کی تکلیف ناقابلِ برداشت تھی سو وہ بے اختیار رو رہی تھیں، جس پر رحمۃ اللعالمینﷺ نے ان کی اذیت کو محسوس کر کے کچھ کہنا چاہا، تو پیاری بیٹی نے سرور کائناتﷺ کے لبوں سے اپنے کان لگا دئیے۔ آپﷺ نے فرمایا:
بیٹی! میں اس فانی دنیا کو ترک کر کے جا رہا ہوں۔
یہ ارشادِ مبارک سنتے ہی دخترِ بتول، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی آنکھوں سے بےاختیار اشکوں کا طوفان پھوٹ پڑا۔ سینۂ مقدس ہجر کی آگ میں جل رہا تھا اور لبوں سے صدأ غم بلند ہو رہی تھی۔
مگر محسنِ انسانیت ﷺ نے اپنی عنایتی نگاہوں سے اسے تسلی دی اور لبوں پر مرحمِ سکون کا مسکراہٹ سجاتے ہوئے فرمایا:
فاطمہ! اہلِ بیتم میں تم سب سے پہلے میرے دیدار کی سعادت پاؤ گی۔
یہ ارشاد سن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر غم و ہجر کے بادلوں کے بیچ سے روشنی کی کرن نمودار ہوئی اور وہ بے اختیار ہنس پڑیں، کہ جدائی قلیل ہے اور دیدارِ آخرت قریب۔
امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ اس دردناک منظر کو اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ:
پیغمبرِ انسانیتﷺ کی حالت نازک ترین ہوتی جارہی تھی، یہ حال دیکھ کر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہنا شروع کیا: وا کرب اباہ! ہائے میرے باپ کی تکلیف! ہائے میرے باپ کی تکلیف!فرمایا: فاطمہ! آج کے بعد تمہارا باپ کبھی بے چین نہیں ہوگا۔
پھر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو طلب فرمایا، اور انہی کی خدمت میں اپنی عنایتی نصائح و رہنمائی کی دولت نازل فرمائی۔ اسی دوران، محسنِ انسانیت ﷺ کی زبان مبارک سے جملے جملے میں فیض و حکمت کی بارش جاری رہی، اور ارشاد فرماتے:
فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ
ان لوگوں کے ساتھ جن پر خدا نے انعام فرمایا۔
اللَّهُم بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى
اے خداوندا بہترین رفیق!
الصَّلوةُ الصَّلَوةُ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
نماز! نماز! لونڈی غلام اور پسماندگان!
اب اجلِ محتوم کا لمحہ فرا رسیدہ تھا۔ رحمۃ اللعالمین ﷺ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سینے سے لگائے ہوئے تھے، اور پیالۂ آبِ زندگی ہمیشہ ان کے قریب رکھا ہوا تھا۔ کبھی ہاتھ مبارک اس میں ڈالتے، کبھی رخِ منور اپنے نورانی چہرے کو پھیر لیتے۔ رخسار اقدس کبھی گلگون ہو جاتے، کبھی زردی کی چھاؤ میں ڈھل جاتے۔ زبانِ مبارکہ رفتہ رفتہ حرکت میں آ رہی تھی، گویا روحِ رحمت آخرین وصیت کی ببانگ دہل تیاری کر رہی ہو۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٌ
خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور موت تکلیف کے ساتھ ہے۔
بَلِ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى، بَلِ الرَّقِيقُ الأعلى
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ😭😭
وہ دن تھا اور آج کا دن ہے کہ پھر عالم انسانیت نے دوبارہ کسی کامل و کامل الفرد کی مثال نہیں دیکھی۔ کمال و فضیلت کا سب کچھ، جو اس وجودِ مبارک سے منسلک تھا، اسی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگیا۔
