محسنِ اعظمﷺ کا سانحہِ ارتحال


 

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ  ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡــئًا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ۞
اور دیکھو! محمدﷺ  محض یک رسول ہیں — اور اُن سے پہلے بھی بہت سے رسول آئے اور گزرے۔ پس اگر وہ تمہارے درمیان وفات پا جائیں یا انہیں قتل کر دیا جائے، تو کیا تم اسی غم و ملال میں پیٹھ پھیر کر بیٹھ جاؤ گے؟ کیا تم اپنے قدموں کو پلٹ کر ہٹ جاؤ گے؟ جو شخص ایسی حالت میں پیٹھ پھیرے گا، وہ بالکل بھی اللہ کے مرتسمِ رضا میں خلل نہیں ڈالے گا؛ بلکہ اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو بے حساب جزا دے گا۔
 
منافقین کی زبانوں سے یہ بات نکلی کہ رسولِ اکرم ﷺ نے وفات پائی — مگر خدا کی قسم! نہیں، ہرگز نہیں! آپ ﷺ نے وفات نہیں پائی؛ بلکہ آپ ﷺ کو اسی طرح ربِّ جلیل کی بارگاہِ قُدس میں بلایا گیا ہے جیسے کبھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طورِ سینا پر طلب فرمایا گیا تھا۔ موسیٰؑ چالیس شب و روز پردۂ غیب میں رہے اور پھر حیات و جلال کے ساتھ لوٹ آئے، حالانکہ اُس وقت بھی نادانوں نے یہی کہا تھا کہ وہ گزر گئے۔ قسم اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے! حضور ﷺ بھی اسی طرح مراجعت فرمائیں گے اور اُن لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے جنھوں نے زبانِ گستاخی سے آپ ﷺ پر وفات کا الزام تراشا۔
ہائے۔۔۔۔۔۔  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ — وہ بلند پایہ، جلیل القدر صحابیِ رسول ﷺ — گویا اس غمِ عظیم کے جلو میں بے بس و لاچار ٹھہرے ہیں؛ آنکھوں کی نِدِیاں بہہ کر گیسوٴِ صورتِ رخسار پر جم گئی ہیں اور ہونٹ خاموشی کے پتھر بن چکے ہیں۔ پھر آپؓ نے وہی کلمۂ حزم و صارم ادا فرمایا، جس میں حیاتِ قلبی کا اثبات اور انصافِ الٰہی کا عہدِ بلا جھجک گھلا ہوا تھا:

خبردار! میں تم میں سے کسی کی زبان پر یہ نازیبا الفاظ دوبارہ سننا برداشت نہ کروں گا—ورنہ اس کی گردن کو میں اپنی تلوار کے تیغ سے جدا کر دوں گا۔

یہ آواز محکم، گرم، اور پھونکِ عزم سے بھری؛ ایسا کہتے ہوئے اُن کے ہونٹوں پر بھی ایک آہستہ سا کپکپی محسوس ہوتی تھی، مگر ارادہ اتنا پختہ کہ سُننے والوں کے کانوں میں گھٹنے تک اتر جاتا تھا۔
رحمۃ للعالمین ﷺ جن کی بعثت درِ ہدایت کے چراغ روشن کرنے اور انسانیت کو جہالت و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر صراطِ مستقیم پر گامزن کرنے کے لیے ہوئی تھی، جب اس عظیم مشن کی تکمیل فرما چکے، تو حجۃ الوداع کے بابرکت موقع پر ربِ کائنات کی طرف سے یہ اعلانِ تکمیلِ دین نازل ہوا کہ:

اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ ؕ
 
بے شک! آج میں نے تمہارے لیے وہ دین مکمل کر دیا ہے جو ہدایت کا سرچشمہ اور فلاح کی رہبر منزل ہے؛ اور اپنے فضل و کرم کی نعمتوں کو تم پر پوری پوری نازل کر دیا؛ اور اسلام کو تمہارے لیے بطورِ شریعتِ نافع و مقبول پسند فرمایا — ہدایت بھی ملی، رحمت بھی ملی اور ضلالت کے شب و روز کٹ گئے۔
 اب پیغمبرِ انقلابﷺ کے انتقال کا مقررہ لمحہ آن پہنچا اور ایک عظیم الشان انقلاب برپا کرکے پیغمبرِ انقلابﷺ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ وفات کا درد ناک منظر حضرات صحابہ کرام نے یوں بیان فرمایا کہ اس کو پڑھ کر انسان کا دل موم کی طرح نرم ہو جاتا ہے اور آیتِ کریمہ "كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ‌ؕ" پر ایمان مزید بڑھ جاتا ہے کہ اگر بالفرض ذائقہِ موت چھکنے سے کوئی مستثنیٰ ہوتا تو وہ استثناء پیغمبرِ انقلابﷺ کو حاصل ہوتا اور آپﷺ اس درد سے نہ گذرتے جس کے متعلق سن کر ہم جیسے سنگ دل بھی کانپ اُٹھتے ہیں۔ لیکن یہ اللہ تعالی کا اٹل فیصلہ ہے کہ ہر ذی روح پر موت کا وقت آئے گا اور اس کی روح قبض کی جائے گی۔ سو یہی الٰہی قانون پیغمبرِ انقلابﷺ کے معاملے میں بھی بروقت حرکت میں آیا۔
وفات کے قریب، پیغمبرِ انقلاب ﷺ مسجد میں وارد ہوئے اور اپنی پاکیزہ ذات کی تابان ہدایت سے حضرات صحابہ کرام کو متوجہ فرمایا۔
 ارشاد فرمایا:

اے مسلمانو! اے میرے جانثار و دلیر ساتھیو! جو ہر سختی و آسانی میں میرا ساتھ دیتے رہے ہو! میری بات غور و فکر کے ساتھ سنو! تم سے پہلے ایک قوم گزر چکی ہے، جس نے اپنے انبیاء و صلحاء کی قبروں کو عبادت گاہیں بنا ڈالی تھیں، تم ایسا نہ کرنا۔
پھر فرمایا:

ان یہود و نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا۔ میری قبر کو میرے بعد وہ قبر نہ بنا دینا کہ اس کی پرستش شروع ہو جائے۔ مسلمانو! وہ قوم اللہ کے غضب میں آجاتی ہے جو قبورِ انبیاء کو مساجد بنادے۔


اب لمحۂ وصال قریب آپہنچا ہے، اور پیغمبرِ انقلاب ﷺ کوچِ ابدی کی تیاریوں میں مصروفِ حال ہیں۔ مگر دلِ نازکِ مصطفوی ﷺ پر امت کی فکری و عملی سلامتی کا اندیشہ سایہ فگن ہے۔ یہ اندیشہ کہ کہیں میرے بعد میری امت بھی اقوامِ ماضی کی طرح ضلالت و گمراہی کے بھنور میں نہ جا گرے، اور انحراف و ابتذال کی راہوں پر قدم نہ رکھ دے۔

چنانچہ رحمتِ مجسم ﷺ نے از راہِ شفقت و تدارکِ امت، اپنے ارشاداتِ جاوداں سے پیشگی رہنمائی فرمائی کہ میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا، اور میرے بعد دین میں وہ تغیر نہ لانا جو امتوں کی ہلاکت کا باعث بنا۔

سب صحابہ کرام باوجدان و منقاد، حضورِ نبی کریم ﷺ کے ارشادات و افاضات کو گوش بدیدہ سن رہے تھے اور ان کی تابعداری و عملِ جویائی کا عزمِ راسخ ظاہر فرما رہے تھے۔ اسی اثناء میں صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی نازک آنکھوں میں اشکِ شوق و حزن جمع ہو گئے اور وہ بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ میں حیرت میں ہوں کہ یہ عظیم نکتہ ور عاشق اور اسرار شناس کیسے تھے کہ سینکڑوں گوش بسپار افراد میں صرف صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ہی وہ لطیفہ جان گئے کہ رحمۃ اللعالمین ﷺ کا رجوعِ آخرت قریب ہے۔ آنسوؤں کے درمیان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنا دل کی گہرائیوں سے یہ الفاظ ادا فرمائے:
یارسول اللہ ﷺ! ہمارے ماں باپ، ہماری جانیں اور تمام زر و مال آپ پر قربان ہو جائیں۔
یہ دعائے جان و دل و مال، صدقِ اخلاص کی انتہاء تھی جسے صدیقِ اکبرؓ نے صدقِ دل سے ادا کیا۔ سب حاضرین حیرت زدہ تھے کہ اس میں رونے کی کیا بات ہے، کیوں صدیق اکبرؓ کی آنکھیں اشکِ شوق سے بھیگ گئی ہیں۔ لیکن یہ لطیف راز صرف صدیق اکبرؓ کے قلب میں روشن تھا، اسی لیے وہ بے اختیار روتے تھے۔ پیغمبرِ انقلاب ﷺ نے اس منظر کو پڑھ لیا اور ارشاد فرمایا:

میں سب سے زیادہ جس شخص کی دولت اور رفاقت کا مشکور ہوں، وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی ایک شخص کو اپنی دوستی کےلیے منتخب کر سکتا، تو وہ ابوبکر ہی ہوتے، لیکن اب رشتہ اسلام میری دوستی کی بنا ہے اور وہی کافی ہے۔ مسجد کے رخ پر کوئی دریچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دریچہ کے سوا باقی نہ رکھا جائے۔


جس روز حضور نبی کریم ﷺ مرض کی شدت میں مبتلا ہوئے، اسی دن سے آپ ﷺ نے ہر لمحے اور ہر موقع پر امت کے لیے ارشادات فرمائے، نصائح کا ایک نہایت قیمتی خزانہ ترک فرمایا، تاکہ آخری وقت میں بھی امت کے لیے رہنمائی کا چراغ روشن رہے۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ:


اب آپ ﷺ نے اپنے اہلِ بیت کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا، تاکہ رشتۂ نبوت کی عظمت اور غرور کسی طرح انہیں عمل و سعی سے بیگانہ نہ کر دے، ارشاد فرمایا:
اے رسولِ خدا ﷺ کی عزیز بیٹی فاطمہ! اور اے پیغمبرِ اسلام ﷺ کی مکرَّمہ پھوپھی صفیہ! پروردگارِ عالیٰ کے حضور اپنے کچھ اعمال پیش کرو، کیونکہ میں اس کی گرفت سے بالکل بھی نجات نہیں پا سکتا۔
 وقت کی گردش کے ساتھ ساتھ رحمۃ اللعالمین ﷺ کی بیماری کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا اور بیماری کی کشیدگی میں محسنِ عالم ﷺ کبھی ایک قدم آگے بڑھاتے، کبھی قدم واپس سمیٹ لیتے۔ کبھی تکلیف کی شدت سے چہرہ اپنی چادر میں چھپالیتے، اور کبھی اسے پلٹ کر رکھ دیتے۔
اس شدتِ مرض کے باوجود، محسنِ انسانیت ﷺ گیارہ روز تک متواتر مسجدِ نبوی میں تشریف فرما رہے اور جمعرات کے روز مغرب کی نماز بھی بذاتِ خود ادا فرمائی۔
رحمۃ اللعالمین ﷺ کی وفات سے دو روز قبل، جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز پڑھارہے تھے، تو پیغمبرِ انقلاب ﷺ نے مسجد کی جانب قدم بڑھانے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے کندھوں کو سہارا بنا کر جماعت میں تشریف لائے۔ حضور ﷺ کی آمد کا شعور ہوتے ہی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مصلے سے پیچھے ہٹے، لیکن محسنِ عالم ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھ سے ارشاد فرمایا:


پیچھے مت ہٹو۔

 پھر رحمتِ عالم ﷺ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے برابر اتر آئے اور دلِ مطمئن امت کے لیے نماز کی ادائیگی میں مشغول ہو گئے۔ اگلے دن صبح جب محسنِ انسانیت ﷺ کی نگاہ کھلی تو سب سے پہلے انہوں نے چالیس غلاموں کی آزادی کا فیصلہ فرمایا، اور پھر اپنے نقد و مال کی باقیات، یعنی سات دینار، کے سلسلے میں حضرت امی عائشہ رضی اللہ عنہا کو ارشاد فرمایا:


انہیں محتاجوں میں تقسیم کر دو، مجھے یہ تاثر ہی گوارا نہیں کہ رسولِ خدا ﷺ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوں اور اس کے گھر میں دنیاوی دولت پڑی ہو۔


امام الہند، مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ، محسنِ اعظم ﷺ کے یومِ وفات کی حالت بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں  کہ:

09 ربیع الاوّل (دوشنبہ) کو مزاج اقدس میں قدرے سکون تھا، نماز صبح ادا کی جا رہی تھی کہ حضورﷺ نے مسجد اور حجرہ کا درمیانی پردہ سرکا دیا۔ اب چشم اقدس کے روبرو نمازیوں کی صفیں مصروف رکوع و سجود تھیں۔ سرکار دو عالمﷺ نے اس پاک نظارے کو جو حضورﷺ کی پاک تعلیم کا نتیجہ تھا، بڑے اشتیاق سے ملاحظہ فرمایا اور جوش مسرت میں ہنس پڑے۔ لوگوں کو خیال ہوا کہ مسجد میں تشریف لارہے ہیں، نمازی بے اختیار سے ہوگئے، نمازیں ٹوٹنے لگیں اور صدیق رضی اللہ عنہ جو امامت کرا رہے تھے، نے پیچھے ہٹنا چاہا مگر حضورﷺ نے اشارہ مبارک سے سب کو تسکین دی اور چہرہ انور کی ایک جھلک دکھا کر پھر حجرے کا پردہ ڈال دیا۔


پیغمبرِ انقلاب ﷺ کی ذات اقدس اس وقت شدید تکالیف کے ہجوم میں محصور تھی۔ جسمِ اطہر بیماری کے بوجھ سے نڈھال، مگر روحِ اطہر اب بھی تسلیم و رضا کے آفتاب کی طرح منور تھی۔ ایسے نازک لمحے میں آپ ﷺ نے اپنی جگر گوشہ، سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو یاد فرمایا۔


جب دخترِ بتول، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے اپنے والدِ ماجد ﷺ کو ضعف و الم میں دیکھا تو دل صبر کے دامن سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ وہ تڑپ کر سینۂ اطہر سے لپٹ گئیں، اشکِ غم آنکھوں سے موسلا دھار برسنے لگے، اور لبوں سے بےاختیار کراہِ دل کے نالے پھوٹنے لگے۔


یہ منظر دیکھ کر محسنِ انسانیت ﷺ نے لبوں پر تبسمِ رضا سجا کر فرمایا:


اے میری بیٹی فاطمہ! اشکوں کو تھام لو، دل کو صبر سے آشنا کرو۔ جب میں اس دنیائے فانی سے کوچ کر جاؤں تو ‘إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ’ کہنا، کہ اسی فقرے میں ہر دل کے لیے تسکینِ جاوداں کا مرہم مضم ر ہے۔
آپ کےلیے بھی؟
 حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے استفسار کیا۔
 محسنِ اعظمﷺ نے ارشاد فرمایا:
ہاں، اس میں میری بھی تسکین ہے۔

 فاطمہ رضی اللہ عنہا، جو حضور نبی کریمﷺ کی لاڈلی بیٹی تھیں جس کے ساتھ رسول اللہﷺ بہت محبت فرماتے تھے، کےلیے محسنِ اعظمﷺ کی تکلیف ناقابلِ برداشت تھی سو وہ بے اختیار رو رہی تھیں، جس پر رحمۃ اللعالمینﷺ نے ان کی اذیت کو محسوس کر کے کچھ کہنا چاہا، تو پیاری بیٹی نے سرور کائناتﷺ کے لبوں سے اپنے کان لگا دئیے۔ آپﷺ نے فرمایا:  

بیٹی! میں اس فانی دنیا کو ترک کر کے جا رہا ہوں۔


یہ ارشادِ مبارک سنتے ہی دخترِ بتول، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی آنکھوں سے بےاختیار اشکوں کا طوفان پھوٹ پڑا۔ سینۂ مقدس ہجر کی آگ میں جل رہا تھا اور لبوں سے صدأ غم بلند ہو رہی تھی۔


مگر محسنِ انسانیت ﷺ نے اپنی عنایتی نگاہوں سے اسے تسلی دی اور لبوں پر مرحمِ سکون کا مسکراہٹ سجاتے ہوئے فرمایا:


فاطمہ! اہلِ بیتم میں تم سب سے پہلے میرے دیدار کی سعادت پاؤ گی۔


یہ ارشاد سن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر غم و ہجر کے بادلوں کے بیچ سے روشنی کی کرن نمودار ہوئی اور وہ بے اختیار ہنس پڑیں، کہ جدائی قلیل ہے اور دیدارِ آخرت قریب۔


امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ اس دردناک منظر کو اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ:

پیغمبرِ انسانیتﷺ کی حالت نازک ترین ہوتی جارہی تھی، یہ حال دیکھ کر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہنا شروع کیا: وا کرب اباہ! ہائے میرے باپ کی تکلیف! ہائے میرے باپ کی تکلیف!فرمایا: فاطمہ! آج کے بعد تمہارا باپ کبھی بے چین نہیں ہوگا۔


حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے چہرے پر غم و ماتم کے سائے گہرے تھے، اور ان کی چھوٹی چھوٹی ہونٹوں پر اشکوں کی روانی جاری تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ان دونوں کو اپنے آغوش میں بلا کر سینے سے لگایا، محبت کے بوسے دیے، اور ان کے ادب و احترام کی وصیت فرمائی کہ تم ہر حال میں اپنی کرامت و شرافت کو مقدم رکھو۔
پھر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو طلب فرمایا، اور انہی کی خدمت میں اپنی عنایتی نصائح و رہنمائی کی دولت نازل فرمائی۔ اسی دوران، محسنِ انسانیت ﷺ کی زبان مبارک سے جملے جملے میں فیض و حکمت کی بارش جاری رہی، اور ارشاد فرماتے:

فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ
ان لوگوں کے ساتھ جن پر خدا نے انعام فرمایا۔
کبھی ارشاد فرماتے:

اللَّهُم بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى
اے خداوندا بہترین رفیق!


پھر حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا، اور اپنے مبارک بازوؤں میں لے کر سینے سے لگایا۔ ان کی تربیت و رہنمائی کے لیے اپنی  نصائح جاری فرمائیں، کہ ہر لمحہ تقویٰ اور عدالت کو مقدم رکھیں۔ پھر ایک دم چشمِ نورانی اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھائی اور دل و روح کو کامل خشوع و توقیر کے ساتھ اُس ذاتِ مقدس کے حضور متوجہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
الصَّلوةُ الصَّلَوةُ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
نماز! نماز! لونڈی غلام اور پسماندگان! 

 اب اجلِ محتوم کا لمحہ فرا رسیدہ تھا۔ رحمۃ اللعالمین ﷺ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سینے سے لگائے ہوئے تھے، اور پیالۂ آبِ زندگی ہمیشہ ان کے قریب رکھا ہوا تھا۔ کبھی ہاتھ مبارک اس میں ڈالتے، کبھی رخِ منور اپنے نورانی چہرے کو پھیر لیتے۔ رخسار اقدس کبھی گلگون ہو جاتے، کبھی زردی کی چھاؤ میں ڈھل جاتے۔ زبانِ مبارکہ رفتہ رفتہ حرکت میں آ رہی تھی، گویا روحِ رحمت آخرین وصیت کی ببانگ دہل تیاری کر رہی ہو۔

 لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٌ
خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور موت تکلیف کے ساتھ ہے۔


عبد الرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ تازہ مسواک لیے حاضر ہوئے، تو حضور نبی اکرم ﷺ کی مبارک نظر فوراً مسواک پر جم گئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فوراً سمجھ گئیں کہ مسواک کی اجازت ملنے والی ہے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے مسواک کو نرم و لطیف انداز میں دانتوں کے قریب پیش کیا، اور حضور نبی ﷺ نے اسے بالکل وہی احتشام و وقار کے ساتھ استعمال فرمایا جیسے تندرست افراد کرتے ہیں۔ دہانِ مبارک جو پہلے ہی پاکیزگی و طہارت کا مجسمہ تھا، مسواک کے بعد اور بھی نکھر کر جلوہ گر ہوا۔ پھر یک لخت حضور ﷺ نے مبارک ہاتھ بلند فرمایا، گویا عالمِ ملکوت کی طرف اشارہ کر رہے ہوں، اور زبانِ قدس سے ارشاد ہوا:

بَلِ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى، بَلِ الرَّقِيقُ الأعلى
 تیسری آواز کے ساتھ مبارک ہاتھ لٹک گئے، پتلی مبارکہ اوپر اٹھ گئی اور روحِ طیّبہ و مقدسہ عالم قدس کی پرواز کر گئی، کہ اب وہ ابدی سکون کی جانب روانہ ہو چکی۔

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ😭😭

وہ دن تھا اور آج کا دن ہے کہ پھر عالم انسانیت نے دوبارہ کسی کامل و کامل الفرد کی مثال نہیں دیکھی۔ کمال و فضیلت کا سب کچھ، جو اس وجودِ مبارک سے منسلک تھا، اسی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی