شیخ الحدیث حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب ان نابغۂ روزگار، راسخُ العلم اور صاحبِ وقار شخصیات میں سے ہیں جن کی ذاتِ گرامی ضلع دیر بالا کی علمی، دینی اور فکری تاریخ میں ایک درخشندہ باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی شخصیت علم و عمل کے حسین امتزاج، دعوت و سیاست کے متوازن شعور اور درس و تدریس کی مستحکم روایت کا جامع نمونہ ہے۔
آپ کی پوری حیاتِ مستعار دینِ متین کی بے لوث خدمت، اس کی فکری ترویج، روحانی اشاعت اور اسلامی اقدار کی پاسبانی کے لیے وقف رہی ہے۔ حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب کئی دہائیوں سے درس و تدریس کر رہے ہیں اور آج تک پورے انہماک، استقلال اور وقار کے ساتھ شعبہ تدریس سے وابستہ چلے آ رہے ہیں۔
آپ کی پوری حیاتِ مستعار دینِ متین کی بے لوث خدمت، اس کی فکری ترویج، روحانی اشاعت اور اسلامی اقدار کی پاسبانی کے لیے وقف رہی ہے۔ حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب کئی دہائیوں سے درس و تدریس کر رہے ہیں اور آج تک پورے انہماک، استقلال اور وقار کے ساتھ شعبہ تدریس سے وابستہ چلے آ رہے ہیں۔
آپ بیس سال سے زائد منطق، فلسفہ، فقہ، اصولِ فقہ اور دیگر علومِ آلیہ و عالیہ کی تدریس میں اپنی فکری مہارت اور علمی ژرف نگاہی کے جوہر دکھاتے رہے۔ بعد ازاں جامعہ دارالعلوم محمودیہ کی بنیاد رکھی اور اہتمام کے ساتھ ساتھ علومِ نبویہ، بالخصوص احادیثِ مبارکہ کی تدریس کو اپنا میدانِ اختصاص بنایا۔
جامعہ دارالعلوم محمودیہ کمبڑ میدان کا قیام اخلاص، عزمِ صمیم اور توکل علیٰ اللہ کی داستان ہے جو شیخ الحدیث حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب کی بصیرتِ دینی، حوصلۂ ایمانی اور استقامتِ فکری کا ثبوت ہے۔ یہ ادارہ نہ کسی شاہانہ سرپرستی کا مرہونِ منت تھا، نہ وسائل کی فراوانی اس کے ساتھ ہم رکاب تھی، بلکہ اس کی بنیاد ایسے ایام میں رکھی گئی جب کمپرسی، بے سروسامانی اور مادی تنگ دستی نے ہر سمت سے گھیرا ڈال رکھا تھا، اور بظاہر اس عظیم تعلیمی خواب کے لیے کوئی مضبوط سہارا دکھائی نہیں دیتا تھا۔
ایسے نازک اور کٹھن حالات میں حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب نے اسبابِ ظاہری پر نہیں بلکہ ربِ کریم کی نصرت پر کامل یقین کے ساتھ جامعہ دارالعلوم محمودیہ کمبڑ میدان کی بنیاد رکھی۔ ابتدا میں جامعہ کے لیے کوئی مستقل عمارت میسر نہ تھی، چنانچہ کرایے کی ایک سادہ اور محدود گنجائش رکھنے والی عمارت ہی اس عظیم علمی کارواں کی پہلی منزل بنی۔ مگر یہ تنگ و تاریک دیواریں، وسائل کی قلت اور سامان کی کمی اُس ولولۂ ایمانی اور عزمِ مسلسل کے سامنے کوئی حیثیت نہ رکھتی تھیں جو بانیٔ جامعہ کے سینے میں موجزن تھا۔
قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ جامعہ کا آغاز ابتدائی درجات یا محدود نصاب سے نہیں ہوا، بلکہ حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب نے ابتدا ہی سے دورۂ حدیث جیسے اعلیٰ اور وقار آمیز تعلیمی مرحلے کا اجرا فرمایا۔
یہ تو واضح ہے کہ دورۂ حدیث کا قیام صرف عمارتوں، وسائل یا کثرتِ طلبہ کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے راسخ العلم اساتذہ، مضبوط علمی روایت اور فہمِ حدیث کی گہری بنیاد درکار ہوتی ہے—اور یہ سب کچھ حضرت شیخ الحدیث کی ذاتِ گرامی میں بدرجۂ اتم موجود تھا۔
ابتدائی ایام میں جامعہ کا نظم و نسق، تدریس، تربیت اور دعوتی رہنمائی کا بارِ گراں تقریباً تنِ تنہا حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب کے شانوں پر تھا۔ آپ نے درس گاہ کی علمی فضا کو وقار بخشا اور قلتِ وسائل کے باوجود طلبہ کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کو بھی اپنی اولین ترجیح بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ دارالعلوم محمودیہ کا ابتدائی دور اگرچہ ظاہری اعتبار سے سادہ اور محدود تھا، مگر باطنی اعتبار سے بھرپور تاثیر سے معمور تھا جس نے اس ادارے کو رفتہ رفتہ ایک مستحکم تعلیمی شناخت عطا کی۔
جامعہ دارالعلوم محمودیہ کمبڑ میدان کی تاریخ میں پہلی سالانہ جلسۂ دستاربندی کا انعقاد آج سے تقریباً دو سال قبل ہوا، جس میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب مدعو تھے اورمجھے اس تقریب میں شرکت کا شرف حاصل ہوا، اور اس موقع پر جو منظرنامہ نگاہوں کے سامنے آیا وہ ایک منظم، پُراثر اور ہمہ جہت دینی اجتماع کا منظر تھا۔ جلسے کے نظم و نسق، مہمانانِ گرامی کی ترتیبِ استقبال، پروگرام کی روانی اور مجموعی فضا میں جو سنجیدگی، وقار اور ترتیب کارفرما تھی، وہ اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ اس ادارے کے منتظمین، بالخصوص شیخ الحدیث حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب اعلیٰ درجے کی انتظامی مہارت اور قیادی شعور رکھتے ہیں۔خصوصاً قابلِ ذکر پہلو وہ عوامی پذیرائی اور والہانہ وابستگی تھی جو اس اجتماع میں ہر سمت نمایاں نظر آتی تھی۔ اہلِ علاقہ کی کثیر تعداد، علماء کرام، طلبہ اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھرپور شرکت اس حقیقت کی شاہد تھی کہ حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب کی مقبولیت برسوں کی علمی خدمات، دعوتی اخلاص اور اخلاقی وقار کے نتیجے میں دلوں میں راسخ ہو چکی ہے۔
جامعہ دارالعلوم محمودیہ کمبڑ میدان کی سالانہ جلسۂ دستاربندی کی روشن روایت گزشتہ سال بھی اسی حرارتِ ایمانی، جذبۂ صادق اور تنظیمی وقار کے ساتھ برقرار رہی، جو اس ادارے کی پہچان بن چکی ہے۔ گزشتہ سال کی اجتماع ادارے کی بڑھتی ہوئی فکری بالیدگی اور عوامی اعتماد کا ایک اور بھرپور اظہار تھا۔ اس بابرکت تقریب میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد قاسم صاحب بحیثیتِ مہمانِ خصوصی مدعو تھے۔
تاہم امسال منعقد ہونے والی جلسۂ دستاربندی کی تقریب نے تو حسنِ انتظام، عوامی شرکت اور مجموعی اثر پذیری کے اعتبار سے سابقہ تمام سالوں کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اجتماع کی وسعت، پروگرام کی ترتیب، اسٹیج کی وقار آمیز تزئین اور حاضرین کی غیر معمولی تعداد اس امر کی بین شہادت تھی کہ جامعہ دارالعلوم محمودیہ کمبڑ میدان اب ایک مؤثر دینی، سماجی اور فکری مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جس کی آواز دور تک سنی اور مانی جاتی ہے۔
اس عظیم الشان اور دلکش اجتماع میں فخرِ بونیر، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے ممتاز رہنما اور سابق رکنِ صوبائی اسمبلی حضرت مولانا مفتی فضل غفور صاحب کی شرکت نے تقریب کو ایک منفرد سماجی اور ملی وقار بخشا۔ حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے دوران آپ جس بے مثال ایثار، عملی خدمت اور انسانی ہمدردی کے ساتھ متاثرین کے لیے ڈھال بن کر کھڑے ہوئے، اس نے آپ کو حقیقی معنوں میں ایک مسیحا کے طور پر متعارف کرا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی مقبولیت کسی خاص حلقے یا مکتبِ فکر تک محدود نہیں رہی، بلکہ ہر فکر، ہر طبقے اور ہر مزاج کے لوگوں نے آپ کی اخلاص پر مبنی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور آپ کی وقعت و عظمت کو دلوں میں جگہ دی۔
یہ اجتماع و تقریب اس امر کا واضح اعلان تھا کہ یہ جامعہ اپنے قیام کے قلیل عرصے میں ایک مستحکم، باوقار اور مؤثر دینی مرکز کے طور پر معاشرتی افق پر نمایاں ہو چکا ہے۔جلسۂ دستاربندی کے انعقاد کے لیے جس نظم، ترتیب اور حسنِ اہتمام کا مظاہرہ کیا گیا، وہ منتظمین کی بالغ نظری، ادارتی بصیرت اور قیادی شعور کی روشن دلیل تھا۔ پروگرام کی ابتدا سے اختتام تک تسلسل، وقار اور سنجیدگی کی وہ فضا قائم رہی جس نے حاضرین کے اذہان و قلوب کو اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ اسٹیج کی ترتیب، مہمانانِ گرامی کے استقبال کا قرینہ، نظامت کی متانت اور مجموعی ماحول کی روحانی کشش نے اس اجتماع کو بارونق بنایا۔
اجتماع میں شریک علماء کرام، مشائخِ عظام، دینی و عصری تعلیمی اداروں کے نمائندگان، طلبہ اور عوام الناس کی کثیر تعداد اس حقیقت کی شاہد تھی کہ جامعہ دارالعلوم محمودیہ کمبڑ میدان نے قلیل مدت میں بہت کچھ حاصل کیا جو عموماً ممکن نظر نہیں آتا۔
تقریب کا ایک نہایت مؤثر اور دل نشیں پہلو وہ عوامی وابستگی اور والہانہ کیفیت تھی جو ہر سمت نمایاں نظر آتی تھی۔ نظم و ضبط کے ساتھ بیٹھے ہوئے سامعین، خاموشی سے خطابات سننے کا اہتمام اور اجتماعی دعا کے لمحوں میں چھائی ہوئی رقت آمیز فضا نے سب کو متاثر کیا۔
بلا شبہ اس عظیم الشان اجتماع، اس پرشکوہ جلسۂ دستاربندی اور اس کی ہمہ گیر کامیابی کا سہرا شیخ الحدیث حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب کے سرِ اخلاص و استقامت بندھتا ہے۔ اس تقریب کی فکری روح، تنظیمی جان اور عملی محرک آپ ہی کی بصیرتِ بالغہ، حسنِ تدبیر اور فراست کا مرہونِ منت تھی۔
یہی وجہ ہے کہ اس تقریب کی کامیابی کو کسی ایک مرحلے یا کسی محدود کوشش سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ اس طویل فکری سفر کا حاصل ہے جو حضرت شیخ الحدیث صاحب نے جامعہ دارالعلوم محمودیہ کمبڑ میدان کے قیام سے لے کر اس کے ارتقاء تک مسلسل طے کیا ہے۔ ان کی بصیرت نے خواب کو حقیقت میں ڈھالا، ان کی استقامت نے مشکلات کو راستہ دیا اور ان کے اخلاص نے دلوں میں اعتماد کی وہ شمع روشن کی جس کی روشنی میں یہ اجتماع اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ممکن ہو سکا۔
Tags:
عمومی مضامین
