دو معصوم کلیوں کی داستان


 زندگی کبھی کبھی ایسے سوال اٹھاتی ہے جن کے جواب آنسوؤں کی لغت میں تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ کچھ چہرے مسکراہٹ اوڑھے ہوئے بھی تقدیر کے نوحے پڑھ رہے ہوتے ہیں، اور کچھ آنکھیں ایسی ہوتی ہیں جو بچپن میں ہی وقت سے پہلے بالغ ہو جاتی ہیں۔ یتیمی ایک سماجی شناخت ہے، لیکن اس سے زیادہ یہ ایک خاموش زلزلہ ہے جو انسان کے باطن میں عمر بھر ارتعاش پیدا کیے رکھتا ہے۔ باپ کے سائے سے محرومی اور ماں کی آغوش کی عدم موجودگی، وہ خلا ہے جسے نہ کوئی لفظ بھر سکتا ہے اور نہ کوئی تسلی۔
 
میں اگر اس داستان کی تمہید کو دراز کر دوں تو اندیشہ ہے کہ اصل مدعا لفظوں کے ہجوم میں کہیں دب کر رہ جائے، اس لیے جو کچھ میں یہاں رقم کر رہا ہوں، وہ نہ کسی بیان کا حاصل ہے اور نہ کسی باز پرس کا نتیجہ۔ یہ وہ حقیقت ہے جو  خاموش قرائن، ٹوٹی ہوئی مسکراہٹوں اور وقت سے پہلے بوجھل ہو جانے والی آنکھوں سے مجھ پر منکشف ہوئی ہے۔ اسے بیان کرنے کی نہ کسی میں ہمت تھی، نہ سکت—اور شاید نہ جواز۔
بس میں اتنا جان سکا ہوں کہ ابھی کھیل کے دن تھے، ابھی کھلونوں میں زندگی کی تعبیر تلاش کی جاتی تھی، ابھی لفظ ابّو پوری طرح زبان پر بھی نہ آیا تھا کہ تقدیر نے بے رحمی سے قلم اٹھایا، چار اور دو برس کی عمر میں دو معصوم وجود محمد ارسلان اور حمزہ خان باپ کے سائے سے یوں محروم ہوئے کہ ان کے ننھے کندھوں پر اچانک زمانے کی پوری دھوپ آن پڑی۔ وہ سایہ جو لمس بن کر حوصلہ دیتا ہے، وہ آواز جو خوف کے وقت ڈھارس بندھاتی ہے، یکایک عدم کی وسعتوں میں گم ہو گئی—اور یہ بچے، بچے نہ رہے۔

یہ دائمی خلا تھا جو رفتہ رفتہ اس کی سانسوں، اس کے خوابوں اور اس کی خاموشیوں میں سرایت کر گیا۔ ان کے والدِ بزرگوار کا سانحہ انتقال ایک ایسی تقدیر بن گئی جس نے ان معصوم بچوں کی عمر اس کے برسوں سے پہلے ہی کھینچ لی۔

چار اور دو برس—آخر یہ بھی کوئی عمر ہوتی ہے کہ تقدیر باز پرس پر اتر آئے؟ یہ تو وہ مرحلہ ہے جہاں ہمارے گھروں میں بچوں کو نہ ڈانٹا جاتا ہے، نہ ذمہ داری کے لفظ سے آشنا کیا جاتا ہے، جہاں لغزش پر مسکراہٹ ملتی ہے اور ضد پر آغوش۔ یہ وہ زمانہ ہے جب نادانی بھی معصومیت کہلاتی ہے۔مگر ارسلان اور حمزہ کے حصے میں یہ آسودہ لمحے نہ آئے۔ ان کے لیے وقت نے ابتدا ہی میں چہرہ بدل لیا۔ ابھی کھلونوں سے رشتہ پوری طرح جڑا بھی نہ تھا کہ حیات نے ان کے سامنے سوالوں کی ایک ایسی قطار رکھ دی جس کے جوابات نہ کسی کتاب میں تھے، نہ کسی زبان پر۔ ان کے کم سن وجود، جن پر نیند اور کھیل کا قرض تھا، اچانک صبر اور تحمل کے بوجھ تلے آ گئے۔

یوں چار اور دو سال کی عمر میں وہ معصوم بچے نہ رہے، بلکہ وقت سے پہلے عمر رسیدہ افراد بن گئے—ایسے خاموش بزرگ جن کی آنکھوں میں سوالات کے سائے تھے اور ہونٹوں پر بے آواز استفسار۔ وہ پوچھتے تھے، مگر زبان سے نہیں، ان کی خاموشی سوال بن جاتی تھی، اور ان کی نظر دعا۔ اور ان سوالات کا جواب—اگر کہیں تھا بھی—تو صرف اس ذاتِ واحد کے پاس، جس کے فیصلوں پر نہ اعتراض ہوتا ہے نہ باز پرس۔

یہ داستان اس صبر کی حکایت ہے جو بچپن کے دامن میں رکھ دیا گیا، اور اس یقین کی جس نے ان ننھے دلوں کو ٹوٹنے سے بچا لیا۔ اس  پوری داستانِ الم میں اگر کوئی کردار خاموشی کے ساتھ امید کی صورت میں ابھرا، تو وہ حضرت مولانا راحت اللہ مدنی صاحب—مہتمم جامعہ دارالعلوم محمودیہ ڈوگرام واڑی—ہیں جوتقدیر کے سخت امتحان میں ان معصوم کلیوں کے لیے رحمت کا وہ ہاتھ ثابت ہوئے جو اندھیری راہوں میں سہارا بن جاتا ہے۔ انہوں نے ان ننھے بچوں کو  اپنی آغوشِ شفقت میں سمیٹا، بلکہ اپنے گھر اور اپنی درسگاہ کے دروازے بھی ان پر یوں کھول دیے جیسے یہ ہمیشہ سے اسی آنگن کے چراغ ہوں۔

مولانا راحت اللہ مدنی صاحب نے ان بچوں کی تعلیم، تربیت اور جملہ ضروریاتِ حیات کی ذمہ داری کو  نسبتِ قلبی سمجھ کر قبول کیا۔  یہی سبب ہے کہ ان معصوم کلیوں کی زبان سے ان کے لیے جو پہلا لفظ ادا ہوا، وہ مولانا راحت اللہ صاحب نہیں، بلکہ "پاپا" تھا—اور یہ لفظ آج تک اسی سادگی، اسی وابستگی اور اسی اپنائیت کے ساتھ ان کی پہچان بنا ہوا ہے۔

انہی شفقت آمیز سائے تلے ان بچوں نے جامعہ دارالعلوم محمودیہ ڈوگرام واڑی میں تعلیم کا آغاز کیا۔ دن بیتے، موسم بدلے، اور محرومی رفتہ رفتہ حوصلے میں ڈھلتی چلی گئی۔ گزشتہ روز اسی تربیت، اسی دعا اور اسی مسلسل محنت کا ثمر یوں سامنے آیا کہ محمد ارسلان نے حفظِ قرآن کی سعادت کے ساتھ دستارِ فضیلت حاصل کی، اور محمد حمزہ نے ناظرۂ قرآن مکمل کر کے کلامِ الٰہی کو ختم کرنے کا شرف پایا۔

گزشتہ رمضان المبارک سے قبل جب میں جامعہ دارالعلوم محمودیہ آیا تو ان دونوں کو اپنی خدمت میں پایا۔  جن پر بچپن کی معصومیت کے ساتھ ساتھ زمانے کی سنجیدگی بھی ثبت تھی۔ دونوں کی طبیعتیں جداگانہ تھیں، مگر محرومی کی ایک ہی لکیر ان کے مزاج میں مشترک دکھائی دیتی تھی۔
حمزہ اپنی عمر کے تقاضوں کے مطابق قدرے بولڈ، بے تکلف اور گفتگو میں رواں دکھائی دیتے ہیں، بات کرتے ہیں تو آنکھیں ساتھ بولتی ہیں اور لفظوں میں جھجک کم، اعتماد زیادہ جھلکتا ہے۔ اس کے برعکس ارسلان کی شخصیت خاموشی کا ایک وقار لیے ہوئے ہے۔ وہ ایسا سنجیدہ اور ہوشیار طالب علم ہے جو ایک لفظ زبان پر لانے سے پہلے گویا ہزار بار اس کے وزن، اس کے محل اور اس کے اثر کو تول لیتا ہے۔ 
سبق کے باب میں ارسلان کی محنت اور دلجمعی قابلِ رشک ہے۔ گزشتہ برس آل دیر کی سطح پر منعقد ہونے والے مسابقۂ قرأت میں پوزیشن حاصل کر کے ارسلان نے  اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا اور جامعہ دارالعلوم محمودیہ کا نام بھی روشن کیا۔
آج بھی جب وہ تلاوت کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ نہیں، معنی بہہ رہے ہیں۔ اس کی آواز میں ایسی روانی، ایسی صحتِ مخارج اور ایسا حسنِ ادائیگی ہے کہ بسا اوقات مستند قرّاء بھی اس معیار تک پہنچنے میں تامل محسوس کریں۔ یہی سبب ہے کہ جامعہ میں جب بھی کسی معزز مہمان کی آمد ہوتی ہے، اور طلبہ میں سے کسی کو تلاوتِ کلامِ پاک کے لیے منتخب کیا جاتا ہے، تو ان میں سرِفہرست ارسلان کا نام لیا جاتا ہے۔ 
نیچے ویڈیو کلپ میں آپ ارسلان کی تلاوت سن سکتے ہیں۔



آج یہ دونوں معصوم زندگیاں اپنی مسافت کے ایک اہم سنگِ میل کو عبور کر چکی ہیں، اور اب ان کے سامنے مستقبل کی وہ کشادہ شاہراہ ہے جس پر عزم، محنت اور دعا ہم قدم ہوں گے۔ ان کے لیے یہ کامیابی  اس قربانی کی پہلی روشن جھلک ہے جو ان کی عظیم اور صابرہ والدۂ ماجدہ نے دی—جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کو دین کی امانت سمجھ کر علمِ شریعت کے لیے وقف کر دیا۔ بلاشبہ یہ سعادت اور یہ اعزاز سب سے پہلے اسی ماں کے حصے میں آتا ہے، اور آج ان کی اس کامیابی کا حقیقی سہرا بھی انہی کے صبر، یقین اور توکل کے سر سجتا ہے۔

تاہم اس حقیقت سے صرفِ نظر کرنا بھی انصاف کے منافی ہوگا کہ اس کامیابی کی بنیادیں اجتماعی اخلاص اور مسلسل تربیت سے استوار ہوئیں۔ حضرت مولانا راحت اللہ مدنی صاحب، جامعہ دارالعلوم محمودیہ ڈوگرام واڑی، اور بالخصوص محمد ارسلان کے تمام اساتذہ—خصوصاً قاری مولانا نذیر احمد نعمانی، طارق عزیز قاسمی صاحب—اور محمد حمزہ کے مربی و استاد مولانا نذیر احمد نعمانی صاحب—ان سب کی شفقت، محنت اور دعاؤں کے بغیر یہ منزل ممکن نہ تھی۔ ان نفوسِ قدسیہ کی خاموش کاوشیں ہی وہ غیر مرئی ہاتھ ہیں جنہوں نے ان معصوم کلیوں کو اس مقامِ وقار تک پہنچایا۔
ان حضرات کو خراجِ تحسین پیش کرنا  زمینی حقائق کا اعتراف اور احسان کی ادائیگی ہے—کیونکہ جنہوں نے چراغ جلائے ہوں، ان کا ذکر نہ کرنا بے انصافی کے مترادف ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی