شیخ الحدیث حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب کا خطاب


 

شیخ الحدیث حضرت مولانا وزیر زدہ حقانی صاحب کا شمار ضلع دیر بالا کی ان درخشاں، باوقار اور ہمہ جہت مذہبی و سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے جن کی ذات علم و عمل، دعوت و سیاست اور درس و  تدریس کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ آپ کی پوری زندگی دینِ متین کی خدمت، اس کی ترویج و تشہیر اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے وقف رہی ہے۔حضرت وزیر زادہ حقانی صاحب کی عملی زندگی کا آغاز  درس و تدریس کے مقدس منصب سے وابستہ ہو کر ہوا، اور آج تک آپ اسی فکری و تعلیمی محاذ پر ثابت قدمی کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں۔ آپ نے اپنے تعلیمی سفر کے اختتام پر تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور دو سے تین دہائیوں پر محیط عرصے تک مسلسل منطق، فلسفہ، فقہ، اصولِ فقہ اور دیگر علومِ آلیہ و عالیہ کی تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں آپ نے علومِ نبویہ بالخصوص احادیثِ مبارکہ کی تدریس کو اپنا میدانِ اختصاص بنایا، اور اس باب میں آپ کی علمی گرفت، متانتِ فکر اور فہمِ نصوص نے آپ کو اہلِ علم میں ممتاز مقام عطا کیا۔
درس و تدریس کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا وزیر زدہ حقانی صاحب کی دعوتی بصیرت اور اجتماعی شعور نے انہیں  مدرسے کی چار دیواری تک محدود نہ رہنے دیا، بلکہ آپ ایک ایسے دینی قائد کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے دین کو فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تشکیلِ نو کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ 
اسی ہمہ جہت شخصیت کا ایک نمایاں اور قابلِ ذکر پہلو آپ کی سیاسی بصیرت اور مستحکم سیاسی حیثیت ہے۔ حضرت وزیر زادہ حقانی صاحب نے سیاست کو  دین کے اجتماعی نفاذ، معاشرتی عدل اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کا ایک مؤثر وسیلہ سمجھ کر حصہ لیا اور اسی فکری اساس پر آپ نے ایک مضبوط، سنجیدہ اور مستحکم سیاسی مقام حاصل کیا۔عوام الناس میں آپ کی قبولیت  سیاسی وابستگی کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط علمی، دعوتی اور اخلاقی خدمات کا ثمر ہے۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا وزیر زادہ حقانی صاحب کا جامعہ محمودیہ ڈوگرام کے ساتھ ایک خاص محبت کا تعلق ہے اور آپ وقتاً فوقتاً ہماری سرپرستی کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ جامعہ کی سالانہ جلسہ دستاربندی میں تسلسل کے ساتھ بحیثیتِ مہمانِ خصوصی شرکت کرتے آ رہے ہیں اور آج بھی ان کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا اور انہوں نے اجتماع عام سے انتہائی مفصل خطاب فرمایا۔ آپ نے اپنے پُراثر خطاب کا آغاز ایسی تمہیدی گفتگو سے فرمایا جس میں مجھ جیسے طالب علم پر فکر و نظر کے دریچے یکے بعد دیگرے وا ہوتے چلے گئے۔ آپ نے نہایت بلیغ انداز میں اس حقیقت کو آشکار کیا کہ دینِ مبین محض چند عبادات یا رسومِ ظاہرہ کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے، جس کے بے شمار شعبہ جات ہیں، اور ہر شعبے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کو منتخب فرما رکھا ہے۔ یہ انتخاب نہ اتفاقی ہے اور نہ ہی  ظاہری صلاحیتوں کا نتیجہ، بلکہ یہ انتخابِ ربانی ہے، جس کے ساتھ خدمتِ دین کی وہ حلاوت، لذت اور سرشاری وابستہ ہے جو صرف وہی ذوق شناس دل محسوس کر سکتے ہیں جنہیں اس راہ میں قبولیت کی سند عطا ہو چکی ہو۔

آپ نے نہایت درد مندانہ اور شکر گزار لہجے میں اُن سعادت مند والدین کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنی اولاد کو دنیاوی جاہ و منصب، زر و زمین اور ظاہری کامیابیوں کی دوڑ سے نکال کر دینِ خداوندی کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ ایسے والدین درحقیقت اپنے بچوں ہی کے نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے محسن ہوتے ہیں، کیونکہ وہ نسلوں کی فکری و اخلاقی بقا کا سامان مہیا کرتے ہیں۔
شیخ صاحب نے معاشرتی تناظر میں علماء کے کردار کو نہایت گہرے فکری استدلال کے ساتھ واضح کیا اور فرمایا کہ وہ معاشرے جہاں علماء کی رہنمائی، دینی بصیرت اور اخلاقی قیادت ناپید ہو جائے، وہاں بدعنوانی، فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور روحانی ویرانی لازمی طور پر جنم لیتی ہے۔ اگرچہ عصرِ حاضر میں ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز ترقی کی ہے، لیکن اگر اس برق رفتار تمدنی سیلاب کے ساتھ دین کی رہنمائی اور علماء کی بصیرت آمیز نگرانی شامل نہ ہوتی تو یہی ترقی انسانیت کے لیے خیر کے بجائے قہر اور ہلاکت کا پیش خیمہ بن جاتی۔
اسی تسلسل میں آپ نے والدین کو نہایت مؤثر انداز میں متنبہ کیا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ بڑھاپے، ضعف اور بے بسی کے عالم میں ان کی اولاد  جسمانی سہارا ہی نہیں بلکہ قلبی راحت اور روحانی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے، تو انہیں چاہیے کہ اپنی اولاد کو دینی مدارس، علمی مراکز اور خدمتِ دین کے میدانوں کے لیے مخصوص کریں، کیونکہ یہی تربیت اولاد کے دلوں میں وفاداری، ایثار، خدمت اور قربانی کے وہ اوصاف پیدا کرتی ہے جو دنیاوی تعلیم سے شاذ ہی پیدا ہوتے ہیں۔
شیخ وزیر زادہ حقانی صاحب نے انسانی وجود کی غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ انسان صرف حیوانِ ناطق نہیں بلکہ ایک ذمہ دار مخلوق ہے، جس کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو بطور گائیڈ بک نازل فرمایا۔ انبیائے کرام علیہم السلام اس گائیڈ بک کی عملی تفسیر اور جیتی جاگتی تصویر ہیں، جبکہ علماء انبیاء کے وارث ہونے کے ناتے اسی سلسلۂ ہدایت کی توسیع اور تسلسل کا مظہر ہیں۔
آپ نے والدین کے فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے نہایت واضح الفاظ میں فرمایا کہ  اولاد کو مدرسے کے سپرد کر دینا ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کے مترادف نہیں۔ اصل ذمہ داری تو اس کے بعد شروع ہوتی ہے، جب والدین کو دعا، نگرانی، خیر خواہی اور مسلسل اصلاح کے ذریعے اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی نشوونما میں شریک رہنا ہوتا ہے۔
اولاد کے باب میں دعا کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے شیخ صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عجز، فروتنی، محتاجی اور انکسار کا اظہار ناگزیر ہے، کیونکہ جو والدین دعا کو معمولی سمجھتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو محض ظاہری تدابیر تک محدود کر لیتے ہیں، وہ اکثر محرومی کے انجام سے دوچار ہو جاتے ہیں۔
اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے آپ نے امراۃُ فرعون کا واقعہ نہایت بلیغ پیرائے میں بیان فرمایا ۔ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے متعلق ایک عمدہ  سعادت کی نسبت اپنی اہلیہ کی طرف کی لیکن خود کو شریک نہ کیا، چنانچہ فرعون آنکھوں کی ٹھنڈک جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ گیا۔ 
خطاب کے آخری اور نہایت وجد آفریں حصے میں غزوۂ موتہ کا ایمان افروز تذکرہ کیا گیا۔ حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اور بالخصوص حضرت جعفرؓ کی قربانیوں کو اس انداز میں بیان کیا کہ سامعین پر رقّت طاری ہو گئی۔ حضرت جعفرؓ کا ذکر کرتے ہوئے شیخ صاحب نے فرمایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے سے ایسی والہانہ محبت کا ثبوت دیا کہ دونوں ہاتھ کٹ جانے کے باوجود علم کو سینے سے لگائے رکھا۔ یہ قربانی اس بات کی گواہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے سنتِ رسول ﷺ سے محبت کو بلکہ عملی جانثاری کے ساتھ ثابت کیا۔

شیخ وزیر زادہ حقانی صاحب نے اس واقعے سے یہ دردناک استدلال قائم کیا کہ آج ہماری کمزوری، بے وزنی اور زوال کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے سنت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، جبکہ صحابہ کرامؓ نے اسی سنت کی پاسداری میں جان، مال اور اعضاء تک قربان کر دیے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی