مقابلہ کا معنیٰ و مفہوم تو واضح ہے کہ
کسی چیز کے خلاف ہونا، برسرِ پیکار ہونا۔
یعنی انسان کا نفس و شیطان کے خلاف برسرِ
پیکار ہونا۔انسانی زندگی ایک مسلسل جدوجہد کا نام
ہے جس میں خیر و شر کی کشمکش ہر لمحہ جاری رہتی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے انسان کو اس
جہادِ اکبر کی طرف متوجہ کیا ہے جس میں سب سے بڑا دشمن انسان کا اپنا نفس اور
شیطان ہے۔ قرآن کریم نے نفس کو کبھی "أمّارۃ بالسوء" قرار دیا
اور کبھی "لوّامہ" کے مقام پر ذکر کیا، جبکہ شیطان کو "عدوّ مبین" قرار دیا۔ گویا انسان کو نہ صرف ظاہری دشمنوں کا سامنا ہے بلکہ
اس کے باطن میں بھی ایسے دشمن موجود ہیں جو اسے راہِ ہدایت سے ہٹانے کے لیے ہمہ
وقت کوشاں ہیں۔تصوف اور سلوک کی راہ میں سالک کے لیے سب سے بڑی آزمائش یہی ہے کہ
وہ نفس اور شیطان کے ان وساوس اور خواہشات کا مقابلہ کرے جو اسے غفلت، معصیت اور
گناہ کی طرف کھینچتے ہیں۔ صوفیاء نے اس مقابلے کو سلوک کی اصل بنیاد قرار دیا ہے
کہ جو شخص اپنے نفس اور شیطان کو مغلوب نہ کر سکے وہ اللہ کے قرب کا مستحق نہیں ہو
سکتا۔
یہ ایک عملی جدوجہد ہے جس میں سالک
اپنے اعمال، نیتوں اور ارادوں کو قرآن و سنت کے پیمانے پر پرکھتا ہے۔ وہ اپنے باطن
میں پیدا ہونے والے ہر خیال اور ہر داعیہ کو دیکھتا ہے کہ یہ خیر کی طرف لے جا رہا
ہے یا شر کی طرف۔ اگر یہ داعیہ شریعت کے مطابق ہو تو اسے اختیار کرتا ہے اور اگر
یہ داعیہ معصیت یا غفلت کا سبب ہو تو اس کو رد کر دیتا ہے۔یوں "شیطان اور نفس
سے مقابلہ" دراصل تزکیۂ نفس، مراقبہ اور محاسبۂ قلب کا جامع تصور ہے جو
انسان کو روحانی بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے اور اسے اپنے خالق کے قریب کرتا ہے۔
یہی وہ جہاد ہے جسے صوفیاء نے "جہادِ اکبر"
کہا اور اس کی تکمیل کو کامیاب زندگی
کی علامت قرار دیا۔
امام غزالیؒ مقابلہ کے لئے محاربہ کی
اصطلاح بھی استعمال فرماتے ہیں اور نفس و شیطان کے گمراہ کن وسوسوں سے بچنے کی
تلقین کرتے ہوئے باقاعدہ طریقہ بھی بتلاتے ہیں کہ:
"دوسرا طریقہ یہ ہے
کہ اس کا مقابلہ کیا جائے اور اس کے مکروفریب کو دور رکھنے کے لیے ہر وقت تیار رہا
جائے۔ میں کہتا ہوں کہ میرے نزدیک زیادہ موزوں اور راجح یہی ہے کہ دونوں طریقوں کو
اختیار کیا جائے: اوّل یہ کہ اس کی شرارتوں سے اللہ ربّ العزّت کی پناہ طلب کی
جائے، جیسا کہ ہمیں اس کا حکم دیا گیا ہے، اور یقین رکھا جائے کہ وہ ذات ہمیں اس
کے مکر و فتن سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہے۔ پھر اگر تم یہ دیکھو کہ شیطان سے
پناہ مانگنے کے باوجود وہ تمہارے تعاقب میں ہے اور غلبہ پانے کی کوشش کرتا ہے تو
سمجھ لو کہ یہ دراصل تمہاری آزمائش ہے، اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم شیطان کے
خلاف جہاد اور مقابلے کا جذبہ رکھتے ہو یا اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہو۔ یہی
حال کفار اور دیگر باطل قوتوں کے حوالے سے بھی ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ ان کی
سازشوں کو بغیر ہمارے جہاد کے بھی ختم کرنے پر قادر ہے، مگر وہ ایسا نہیں کرتا،
بلکہ ہمیں جہاد کا حکم دیتا ہے تاکہ پرکھ لے کہ کون خالص نیت اور صبر و استقامت کے
ساتھ ان کا مقابلہ کرتا ہے اور کس کے دل میں راہِ خدا میں جان دینے کا جوش اور
ولولہ ہے۔"[1]
پھر آگے جاکر امام غزالیؒ مقابلہ کے ضمن
میں تین امور کو بیان فرماتے ہیں:
v شیطان کے مکر و فریب اور چالاکی کو
پہچاننا
v شیطان کے گمراہ کن دعوت کا انکار
v ذکر الہیٰ کی کثرت
اس کے علاؤہ مختلف طریقوں سے شیطان اور نفس
کا مقابلہ کیا جاتا ہے کہ جس کا ثبوت
سیرتِ طیبہﷺ میں واضح طور پر ملتا ہے۔ جیسا کہ ذکر الہیٰ نفس و شیطان کے ساتھ
مقابلہ کا قوی و مؤثر ہتھیار ہے جس سے متعلق
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:
"بے
شک جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں جب انہیں کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آتا ہے تو وہ یاد
میں لگ جاتے ہیں پھر اچانک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔"
یعنی
شیطان کے خطرہ کا فوری حل اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر ہے جس کو سن کر شیطان دم
دباکر بھاگتا ہے اور مزید انسان کے مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر سکتا۔ ترمذی
شریف میں حضرت عبداللہ ابن مسعود کے حوالے سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ:
"عبداللہ بن
مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا
کہ آدمی پر شیطان کا اثر (وسوسہ) ہوتا ہے اور فرشتے کا بھی اثر (الہام) ہوتا ہے۔
شیطان کا اثر یہ ہے کہ انسان سے برائی کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کو جھٹلاتا ہے۔ اور
فرشتے کا اثر یہ ہے کہ وہ خیر کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کی تصدیق کرتا ہے۔ تو جو
شخص یہ پائے، اس
پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جو دوسرا اثر پائے یعنی شیطان کا تو شیطان سے اللہ کی
پناہ حاصل کرے۔ پھر آپﷺ نے آیت"الشيطان يعدكم الفقر ويأمركم بالفحشاء" پڑھی۔"
اس
میں رسول اللہﷺ نےواضح طور پر شیطان کے اثر پانے کے وقت شیطان سے اللہ تعالیٰ کی
پناہ مانگنے کا ذکر ملتا ہے جس کے لئے احادیث میں تعوذ پڑھنے کا ذکر ملتا ہے۔
جیساکہ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین کے لئے تعوذ
پڑھتے تھے اور یہ دعا مانگتے تھے کہ:
"میں اللہ کے کلمات تامہ کے ذریعے ہر شیطان، زہریلے جانور
اور ہر ضرر رساں نظر کے شر سے تمہیں بچاتا ہوں۔"
حضرت ابوسعید خدری کی روایت ہے کہ:
"رسول اللہﷺ جب رات کو بیدار ہوتے اور اللہ اکبر کہہ کر
نماز شروع کرتے تو سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله
غيركکہہ کر تین مرتبہ لا إله إلا
الله کہتے، پھر یوں کہتے اعوذ بالله
السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه پھر تین مرتبہ اللہ اکبر
کہتے، پھر دوبارہ یوں کہتے اعوذ بالله السميع
العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه"
صرف یہی نہیں بلکہ رسول اللہﷺسے شیطان اور نفس کے وسوسوں کا
مقابلہ کرنے کے لئے مخصوص دعائیں منقول
ہیں اور اس کے ساتھ صدقہ، تسمیہ اور تلاوتِ قرآن کریم کے ذریعے بھی شیطان اور نفس
کی سرکشی سے چھٹکارا پانے کے خصوصی طرق ذکر کئے گئے ہیں۔
[1] غزالی، محمد بن محمد، منہاج العابدین، ص140( اردو ترجمہ ،
از محمد سعید احمد نقشبندی ، ص79)
[2] سورۃ
الاعراف:07:201
[3] ترمذی،
ابوعیسیٰ، ابو عیسیٰ محمد بن سورہ، جامع ترمذی،كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم،باب ومن سورة البقرة، رقم الحدیث:2988
[4] تبریزی ،ولی الدین، ابوعبداللہ، محمد بن عبد اللہ، مشکوٰۃ المصابیح،كتاب الجنائز،باب رقية رسول الله صلى الله عليه وسلم لحسين وكريميهما رضي
الله عنهما، رقم الحدیث:1535
[5] حنبل، امام احمد بن محمد ، مسند احمد، مسند المكثرين من الصحابة، مسند ابي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه،
رقم الحدیث:11473
