مراقبہ: سیرتِ طیبہﷺ کی روشنی میں


                                                                    انسانی روح کی بالیدگی اور باطنی طہارت کے لیے جو بنیادی اصول و طرق اسلام نے پیش کیے  اور بعد میں صوفیاء نے باضابطہ منظم اخلاقی و روحانی نظام میں پیش کئے، ان میں سے ایک نہایت اہم اصول مراقبہ ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے دل و دماغ کو اس شعور سے معمور کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ اس پر نگاہ رکھے ہوئے ہے، اس کے ارادے، خیالات اور اعمال سب اس کے علم میں ہیں۔ جب یہ احساس دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو انسان کی پوری زندگی میں ایک عجیب سنجیدگی، پاکیزگی اور ذمہ داری پیدا ہو جاتی ہے۔
                سیرتِ طیبہ ﷺ میں مراقبہ کا عملی مظہر نہایت واضح ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری حیاتِ مبارکہ اسی شعور کا زندہ پیکر تھی کہ ہر عمل صرف اور صرف اللہ کے لیے ہو اور ہر لمحہ اس کی رضا کے مطابق بسر ہو۔ آپ ﷺ کی شب بیداریاں، طویل قیام، گریہ و زاری، امت کے لیے دعائیں اور اپنے نفس پر مسلسل نظر رکھنا — یہ سب مراقبہ کی اعلیٰ ترین صورتیں ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان کہ "اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم یہ یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔دراصل مراقبہ کا خلاصہ اور اس کی روح ہے۔


                        یہی کیفیت صحابہ کرامؓ میں بھی راسخ تھی۔ انہوں نے اپنے ظاہر و باطن دونوں کو اس احساس کے تابع کر لیا تھا کہ وہ ہر وقت اللہ کی نگاہ میں ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے اعمال میں خلوص، ان کی عبادات میں خشوع اور ان کی زندگی میں تقویٰ غالب نظر آتا ہے۔ مراقبہ کا یہی اثر تھا کہ وہ دنیاوی معاملات میں بھی دیانت اور انصاف کو مقدم رکھتے اور چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بچنے کی کوشش کرتے۔

مراقبہ کا لغویٰ معنیٰ" نگہبانی" اور  "پاسبانی" ہے۔[1] بعض صوفیاء کرام لفظ مراقبہ کو "رقیب بمعنیٰ نگہبان" سے ماخوذ مانتے ہیں[2] جبکہ بعض کے ہاں مراقبہ "رقوبت اور رقابت بمعنیٰ حفاظت و انتظار کرنا" سے ماخوذ مانتے ہیں[3] جس کا مطلب آنکھیں بند کرکے مبداء فیاض یعنی ذات باری تعالیٰ کی طرف سے خیر و بھلائی کے نزول کا انتظار کرنا ہے۔مراقبہ کی تعریف صوفیاء کرام اس طرح کرتے ہیں کہ:

المراقبة لعبد قد علم ويتقن ان الله تعاليٰ مطلع عليٰ ما في قلبه وضميره[4]

"(کسی) بندے کا مراقبہ یہ ہے کہ اس کو (ہر حال میں) یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل اور ضمیر سے واقف ہے۔"

پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب مراقبہ کی تعریف فرماتے ہیں کہ:

"تصوف کی اصطلاح میں مراقبہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے لو لگاکر بیٹھنے کو۔"[5]

یعنی حواس خمسہ اور مکمل باطنی توجہ و انہماک سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے انوارات و برکات کی طرف متوجہ ہونا ہی مراقبہ ہے جس میں حواس خمسہ و باطنہ[6] کے ساتھ محبوبِ حقیقی کے انتظار میں بیٹھا جاتا ہے۔ محاسبہ سے مراقبہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان جب اپنے نفس کے ساتھ شرط لگاتا ہے اور دن کے اختتام کے بعد محاسبہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں مراقبہ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور انسان دوام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ساتھ مشغول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے جو انسان کا حقیقی مقصد اور نصب العین ہے۔

سیرتِ طیبہﷺ میں مراقبہ کو مختلف انداز میں اجاگر کیا گیا ہے جیساکہ رسول اللہﷺ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:

ان تعبد الله، كانك تراه، فإنك إن لا تراه، فإنه يراك[7]

"اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔"

یہی مراقبہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت اس انہماک و توجہ سے کرے کہ گویا وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایات اس پر برس رہی ہیں اور یہ بندہ اپنے دامن میں ان انعامات و عنایات کو سمیٹ رہا ہے۔ اس کا دماغ بالکل اللہ تعالیٰ کی طرف حاضر ہے اور نفس فارغ ہے اور دل یکسر جمع ہے۔ امام نوویؒ نے رسول اللہﷺ کے اس کلام پر بحث کی ہے کہ اس کلام کا مقصد  اعمال میں اخلاص پیدا کرنا ہے اور بندے کو اللہ تعالیٰ کے سامنے مراقب ہونے کی ترغیب دی گئی ہے ۔[8] ایک دوسری حدیث میں اس کیفیت کو خشیتِ الہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

ان تخشى الله، كانك تراه، فإنك إن لا تكن تراه، فإنه يراك[9]

"تم اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، پھر اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔"

یعنی احسان کو احادیث میں خشیت کے ساتھ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشغول ہو کہ دورانِ عبادت یہ یقین ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ نبی کریمﷺ نے خود اپنے ابتدائی عمل سے بھی مراقبہ کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپﷺ قبل از بعثت غارِ حراء میں تحنث فرمایا کرتے تھے جو مراقبہ ہی کی صورت بنتی ہے۔

اول ما بدئ به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الوحي الرؤيا الصالحة في النوم، فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح، ثم حبب إليه الخلاء وكان يخلو بغار حراء، فيتحنث فيه وهو التعبد الليالي ذوات العدد قبل ان ينزع إلى اهله ويتزود لذلك[10]
"نبی کریمﷺ پر وحی کا ابتدائی دور اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا۔ آپﷺ خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر من جانب قدرت آپﷺ تنہائی پسند ہو گئے اور آپﷺ نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔"
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل یکسوئی اور انہماک سے توجہ کرنا احادیث اور سیرتِ طیبہﷺ سے ثابت شدہ امر ہے اور صوفیاء کے مروجہ طرق ہائے مراقبہ کا تذکرہ بھی روایات میں جگہ بہ جگہ ملتا ہے۔ آج کل صوفیاء مراقبہ کےلئے کوئی خاص طریقہ ذکر نہیں کرتے لیکن  مراقبہ کے اقسام کے پیشِ نظر مختلف طریقے نقل کئے ہیں۔ عموماً دو زانوں یا چار زانوں کیفیت میں بیٹھ کر مراقبہ کیا جاتا ہے کہ ذہن و دل میں  غیر اللہ سے مکمل خالی کرکے اس معنیٰ کا تصور کرنا کہ اللہ تعالیٰ حاضر و ناظر  اور ہمیشہ میرے ساتھ ہے۔
امام ترمذیؒ نے شمائل ترمذی میں رسول اللہﷺ کے طرزِ جلوس کو بیان کرنے کے لئے مستقلاً باب قائم کیا ہے جس میں مراقبہ کے لئے ایک خاص کیفیت میں بیٹھنے کی روایت نقل کی گئی ہے۔
عن قيلة بنت مخرمة، انها رات رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد وهو قاعد القرفصاء[11]
"سیدہ قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہﷺ کو مسجد میں گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔"
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا جلس في المسجد احتبى بيديه[12]
(ابوسعید خدریسے مروی ہے کہ) رسول اللہﷺجب مسجد میں بیٹھتے تو گوٹ مار کر تشریف فرما ہوتے۔"

یہی طرزِ جلوس صوفیاء کرام نے مراقبہ کے لئے مستعار لیا اور آج کل ہم صوفیاء کو مراقبہ کرتے ہوئے اس خاص کیفیت میں پاتے ہیں۔ مقام مشاہدہ کا حصول، احساسِ قرب، مرتبہ وزارت   اور اطمینان قلبی و  یکسوئی کا حصول مراقبہ کے اہم مقاصد میں شمار ہوتے ہیں جو کسی بھی سالک کی انتہائی ضرورت اور مقصد ہے جس کے لئے وہ کسی متبع سنت مرشد کا ہاتھ تھامتا ہے۔



[1] غزالی، محمد بن محمد، کیمیائے سعادت،ط: انتشارات علمی و فرہنگی، تہران 1380ھ، ج 2،  ص493

[2] ڈاکٹر ولی الدین میر، خواجہ بندہ نواز کا تصوف و سلوک، ص88

[3] ابوالحسن، زید فاروقی، مدارج الخیر و مناہج السیر،ط: دوم 2013ء، ص 156

[4] العجم، ڈاکٹر رفیق ، موسوعۃ مصطلحات تصوف اسلامی، مکتبہ لبنان، 1999، ص868

[5] نقشبندی، پیر ذوالفقار احمد، تصوف و سلوک، ط: مکتبۃ الفقیر فیصل آباد، ص19

حواس باطنہ:   (1) قوتِ متخیلہ     (2) قوت ِمتصورہ     (3) قوتِ متفکرہ     (4) قوتِ واہمہ    (5) قوتِ توجہ[6]

[7] القشیری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإيمان ما هو وبيان خصاله:، رقم الحدیث:09

[8] نووی، یحیی بن اشرف،ابوزکریا محی الدین، المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج، ط: دارالاحیاء التراث العربی، بیروت 1392، ج1، ص158

[9] القشیری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإيمان ما هو وبيان خصاله:، ، رقم الحدیث:10

[10] البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، كتاب بَدْءِ الْوَحْيِ، باب: ، رقم الحدیث:03

[11] ترمذی، ابوعیسیٰ، ابو عیسیٰ محمد بن سورہ، شمائل  ترمذی، بَابُ مَا جَاءَ فِي جِلْسَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رقم الحدیث:126

[12] ترمذی، ابوعیسیٰ، ابو عیسیٰ محمد بن سورہ، شمائل  ترمذی، بَابُ مَا جَاءَ فِي جِلْسَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رقم الحدیث:128


ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی