مشارطہ: سیرتِ طیبہﷺ کی روشنی میں


 

انسانی زندگی میں خیر و شر کی کشمکش ہمیشہ سے جاری ہے۔ نفس اپنی کمزوری اور خواہشات کے زیرِ اثر برائی کی طرف مائل ہوتا ہے، جبکہ عقل اور ایمان انسان کو نیکی اور تقویٰ کی راہوں پر گامزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کشمکش میں کامیابی کے لیے عملی تدابیر ضروری ہیں۔ انہی تدابیر میں سے ایک "مشارطہ" ہے یعنی اپنے نفس کے ساتھ شرط لگانا ۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ انسان دن کے آغاز میں اپنے نفس کے شرط لگاتا ہے کہ میں آج فلاں چیز نہیں کھاؤں گا، فلاں کام کروں گا اور فلاں کام سے اجتناب  کروں گا وغیرہ وغیرہ۔ پھر دن کے اختتام پر انسان اپنے نفس کے ساتھ دن بھر کا حساب کتاب کرتا ہے۔ نفس چونکہ مسلسل شرارت پر ابھارتا ہے اور انسان کے حقیقی دشمن کا کردار ادا کرسکتا ہے جس کی وجہ سے رسول اللہﷺ نے  نفس کو انسان کا دشمن قرار دیتے ہوئے اتباع ھویٰ نفس سے منع فرمایا ہے۔ رسول اللہﷺ نے  صحابہ کرام کو نفس کے شرور سے بچنے کی خصوصی دعا سکھائی کہ:

اللهم الهمني رشدي واعذني من شر نفسي[1]

"اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے۔"

دوسری روایت میں ہے کہ:

اللهم آت نفسي تقواها، وزكها انت خير من زكاها، وانت وليها ومولاها[2]

"اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو اسے سب سے بہتر پاک وصاف کرنے والا ہے تو ہی اس کا کارساز اور مالک ہے۔"

مشارطہ کا مقصد تزکیہ نفس ہے کہ نفس کا پاک کیا جائے اور انسان کی روحانی زندگی کے لئے مضر و نقصان دہ کیفیات سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے صوفیاء نے یہ ترکیب نکالی کہ دن کے آغاز میں سالک و مرید کو اپنے نفس کے ساتھ کڑی اور مضبوط شرط لگانی چاہیے۔ روزانہ صبح اٹھ کر تھوڑی دیر تنہائی میں بیٹھ کر اپنے نفس کو خوب فہمائش کرے کہ دیکھو فلاں فلاں کام کرنا اور  فلاں فلاں  کام سے بچنا ہے۔ اس کے بعد پھر دن کے اختتام پر محاسبہ کیا جاتا ہے کہ نفس نے کہاں کہاں ٹھوکر کھائی اور کیوں کھائی؟

صوفیاء کے اس ترکیبِ اصلاح کا اصل ماخذ بھی سیرتِ طیبہﷺ ہے جس میں رسول اللہﷺ نے نفس کی سرکشی اور زور توڑنے کے لئے مختلف طرق تجویز فرمائے ہیں۔ رسول اللہﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ:

ليس الشديد بالصرعة، إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب[3]

پہلوان وہ نہیں ہے جو کشتی لڑنے میں غالب ہو جائے بلکہ اصلی پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے بے قابو نہ ہو جائے۔"

یعنی آپﷺ نفس کو مغلوب کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں کہ اصل قوت وہ ہے جو نفس کی سرکشی کو توڑ کر راہ راست پر لائے ۔ رسول اللہﷺ نے اس شخص کو عقل مند ہونے کی سند دی ہے جو نفس کی شرارتوں کو جان کر اپنی حفاظت کرنا جانتا ہو۔ آپﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ:

الكيس من دان نفسه , وعمل لما بعد الموت , والعاجز من اتبع نفسه هواها , ثم تمنى على الله[4]

"عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگا دے، پھر اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرے۔"

اور ہر اس شخص کو بے وقوف اور احمق قرار دیا ہے جو نفس کے خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور اپنے نفس کو خدا بنا کر نفس کی خواہش پر راہ کی تعین کرتا ہے۔ صوفیاء نے اس مقصد کے حصول کے لیے ایک منظم تربیتی طریقہ کار مرتب کیا جس میں مشارطہ انتہائی اہم جزء ہے کہ سالک دن کے آغاز میں اپنے نفس کے ساتھ ایک واضح عہد کرے کہ وہ اس دن تمام احکامِ الٰہی کی تعمیل اور معاصی سے اجتناب کرے گا۔ یہ عہد دل و دماغ کی پوری توجہ اور ارادے کے ساتھ کیا جاتا ہے تاکہ انسان اپنی عملی زندگی میں واضح سمت اختیار کر سکے۔

علمی زاویے سے دیکھا جائے تو مشارطہ تزکیۂ نفس کے لیے ایک شعوری اور ارادی منصوبہ بندی ہے۔ یہ محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک نفسیاتی و تربیتی میکانزم ہے جو انسان کی ارادتی قوت کو مضبوط کرتا ہے۔ جدید نفسیات کی اصطلاح میں یہ Self-Regulation اور Goal-Setting کا ابتدائی مرحلہ ہے، جس کے بغیر کسی بھی اخلاقی یا روحانی اصلاح کا عمل پائیدار نہیں ہو سکتا۔ صوفیاء نے اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے مشارطہ کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا اور اسے تربیتِ سالک کی بنیاد قرار دیا۔

مشارطہ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو محض جذبات اور عادات کے بہاؤ کے مطابق نہیں گزارتا بلکہ ہر دن شعوری طور پر اپنے آپ کو ایک واضح مقصد کے تابع کرتا ہے۔ یہی کیفیت اسے مراقبہ کی طرف لے جاتی ہے، جہاں وہ دن بھر اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے، پھر محاسبہ میں اپنے کیے پر غور کرتا ہے اور آخر میں معاتبت کے ذریعے اپنے نفس کو اصلاح پر مجبور کرتا ہے۔



[1] ترمذی، ابوعیسیٰ، ابو عیسیٰ محمد بن سورہ، جامع ترمذی،كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم،باب منه، رقم الحدیث:3483

[2] شہاب الدین، ابوعبداللہ محمد بن  سلامہ، مسند شھاب،  اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، رقم الحدیث:1481

[3] البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، كتاب الأدب، باب الحذر من الغضب:، رقم الحدیث:6114

[4] قزوینی،محمد بن یزید  بن ماجہ ،سنن ابن ماجہ، كتاب  الزهد، باب: ذكر الموت والاستعداد له، رقم الحدیث:4260

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی