مجاہدہ: سیرتِ طیبہﷺ کی روشنی میں


 

مجاہدہ، جہاد و جہد کوشش کرنے کو کہتے ہیں جیسا کہ امام راغب اصفہانیؒ نے "مفردات القرآن" میں لکھا ہے کہ:

"الجهاد و المجاهده استفراغ الوسع في مدافعه العدو"[1]

"جہاد اور مجاہدہ دشمن کے مقابلے میں اپنی پوری قوت صرف کرنے کا ہے۔"

یعنی ظاہری دشمن، نفس یا شیطان سے نمٹنے کا نام جہاد و مجاہدہ  ہے جس میں درحقیقت  خواہشات کی مخالفت ہوتی ہے اور یہی سلوک و طریقت میں مطلوب ہے کہ انسان کا نفس مکمل طور پر روح کا تابع ہو اور روحانی زندگی بلند ہو۔ نفس رذائل و اوصاف خبیثہ سے یکسر پاک ہوکر روح کو عالم بالا سے جڑنے کا موقع میسر آئے۔ نفس و روح کی ماہیت پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسانی نفس چونکہ خواہشات و مادیات کا متلاشی ہوتا ہے تو وہ ہر لمحہ انسان کو مادی گندگیوں میں ملوث دیکھنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے انسان نفس کے دھوکے میں آکر اپنی پوری کوشش و استعداد نفسانی خواہشات کی تکمیل میں صرف کرتا ہے جبکہ انسانی روح چونکہ عالم بالا سے آئی ہے تو روح کی شدید خواہش عالم بالا سے وصل کی ہوتی ہے۔ بایں طرز ان کے مابین ہمہ وقت شدید جھگڑا اور مخاصمت جاری رہتی ہے۔ کبھی روح غالب آتا ہے تو انسان میں نیک اعمال کا جذبہ اور خواہش جاگتی ہے تو کبھی نفس کو غلبہ و تسلط حاصل  ہے تو انسان کے مزاج میں بغاوت و سرکشی پیدا ہوتی ہے جس کو قابو کرنے کے لئے  صوفیاء کرام مجاہدات کرتے ہیں۔

مجاہدہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ نفس سے حساب لیا جائے اور  گناہ کے ارتکاب کی صورت میں اس کو سزا دے۔ لیکن مجاہدے میں نفس پر غیر ضروری بوجھ ڈالنا ضروری نہیں ، جیساکہ بعض صوفیاء کرتے ہیں۔ مجاہدہ کے حوالے سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ:

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖؕاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ[2]

"اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے بےشک اللہ بے پرواہ ہے سارے جہان سے۔"

وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕوَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ[3]

"اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بےشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے۔"

صوفیاء کرام کے کلام سے مجاہدات کے درج ذیل طریقے معلوم ہوتے ہیں:

(1)کم کھانا(قلتِ طعام)                       (2)      کم سونا (قلتِ منام)           (3)      کم بولنا (قلتِ کلام)                         (4(      کم میل جول رکھنا(قلت خلط مع الانام)[4]

کم کھانا:

مجاہدہ کے ان طرق کا ثبوت براہِ راست قرآن کریم و سیرتِ طیبہﷺ سے ملتا ہے۔ رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام نے انتہائی  فقر و فاقہ  کی زندگی گزاری۔ حضرت قتادۃ رسول اللہﷺ کے خادم حضرت انس بن مالک کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کبھی نرم روٹی نہیں دیکھی اور نہ آپﷺ نے اپنی آنکھوں سے بھنی ہوئی بکری دیکھی۔

حدثنا قتادة، قال: كنا ناتي انس بن مالك وخبازه قائم، وقال:" كلوا فما اعلم النبي صلى الله عليه وسلم راى رغيفا مرققا حتى لحق بالله، ولا راى شاة سميطا بعينه قط"[5]
"قتادہ نے بیان کیا کہا کہ ہم انس بن مالککی خدمت میں حاضر ہوتے، ان کا نان بائی وہیں موجود ہوتا (جو روٹیاں پکا پکا کر دیتا جاتا) انسلوگوں سے کہتے کہ کھاؤ، میں نے کبھی نبی کریمﷺ کو پتلی روٹی کھاتے نہیں دیکھا اور نہ نبی کریمﷺ نے کبھی اپنی آنکھ سے سموچی بھنی ہوئی بکری دیکھی۔ یہاں تک کہ آپﷺ کا انتقال ہو گیا۔"

یہی حال رسول اللہﷺ کے اہل و عیال کا بھی تھا۔ حضرت امی عائشہ روایت نقل فرماتی ہیں کہ:

إن كنا آل محمد صلى الله عليه وسلم لنمكث شهرا ما نستوقد بنار، إن هو إلا التمر والماء[6]
 "ہم آل محمدﷺ ایک ماہ تک اس حالت میں رہتے تھے کہ آگ نہیں جلاتے تھے، بس کھجور اور پانی پر گزر ہوتی تھی۔ "

عہدِ رسالتﷺ میں اور بالخصوص ابتداء اسلام میں تقریباً ہر فرد کی یہی حالت تھی کہ کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا۔ ایسا نہ تھا کہ صحابہ کرام یا رسول اللہﷺ میں کمانے کی صلاحیت نہ تھی، کیونکہ بعثتِ  سے قبل رسول اللہﷺ کی کامیاب تجارتی سرگرمیاں اور اکثر صحابہ کرام کی مالی وسعت و فروانی کسی سے مخفی نہیں لیکن جب اسلام کا دور شروع ہوا تو آپﷺ اور صحابہ کرام نے مادیات کے بجائے روحانیات  پر پوری توجہ مرکوز کی اور ہر اس راہ کو بند کرنے کی کوشش کی جو ان کے روحانی ترقی اور ملاء اعلیٰ سے وصل میں رکاوٹ ہو۔ انہوں نے روحانی ضروریات کا ادراک کرتے ہوئے ان کے حصول پر توجہ دی جیسا اولین صوفیاء اصحابِ صفہ کا حال ہمارے سامنے ہیں کہ انہوں نے دینی تعلیم کے حصول میں کس طرح نفسانی خواہشات کی قربانی دی۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت نقل کی گئی ہے جس میں حضرت ابوہریرہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ:

الله الذي لا إله إلا هو، إن كنت لاعتمد بكبدي على الارض من الجوع، وإن كنت لاشد الحجر على بطني من الجوع[7]
 "اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں (زمانہ نبوی میں) بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔"

یہ تفصیلی روایت ہے لیکن ہمارا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ  اصحابِ صفہ یا دیگر صحابہ کرام اپنے نفس کو مادی آلائشوں سے حتیٰ الوسع دور رکھنا چاہتے تھے اور ممکنہ حد تک نفسانی تقاضوں میں نہیں پڑتے تھے۔ ان کی نظر روح اور روحانی منازل پر ہوتی تھی جس میں اگر کوئی رکاوٹ پیش آتی تو اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کرتے۔ مرغن و لذیذ کھانے اور آرام و سکون کے دیگر آسائشیں چونکہ نفس کی چاہت اور خواہش ہوتی ہے جس کی مسلسل تکمیل سے نفس میں سرکشی کے جذبات ابھرتے ہیں۔

 یہی وجہ ہے کہ صوفیاء کرام نے سیرتِ طیبہﷺ سے مذکورہ مجاہدات کو مستعار لیکر اپنی روحانی و عملی نظام کی بنیاد استوار کی اور  اکثر صوفیاء نے متعدد مواقع پر نفس کی خواہش پر اپنی محبوب غذا کو ترک کیا جس کا مقصد اپنی نفس کو سدھارنا اور قابو کرنا تھا۔ جیسے جنید بغدادیؒ نے دس سال تک نفس کو ایک انار کے پیچھے ذلیل و خوار کیا اور ہر بار ایک میٹھے انار کی خواہش کو ٹالتا رہا اور آخری دم تک نفس کو مارنے کا عزم دہراتے تھے کہ میں نفس کی خواہش کبھی پوری نہیں کروں گا۔[8] اب ایک انار کیا چیز ہے؟ کیا جنید بغدادی کے پاس ایک انار خریدنے کے وسائل نہ تھے؟ کوئی مرید ایسا نہ تھا جو ایک انار ہدیہ کرتا؟ لیکن چونکہ یہ نفس کی خواہش تھی جس کو کچلنا انہوں نے ضروری سمجھا اور یوں نفس کو اپنے قابو میں رکھا۔

کم سونا:

            اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سونا انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے لیکن اتنا سونا کہ انسان میں سستی اور کاہلی پیدا ہو، یہ نفس کی خواہش ہے کہ کوئی کام کاج نہ ہو بس انسان سوتا ہی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت میں دیگر جسمانی ضروریات کی طرح سونے میں بھی اعتدال کا حکم دیا گیا ہے کہ نہ تو سونا اتنا زیادہ ہو کہ انسان سست اور بے ہمت ہوکر رہ جائے اور نہ اتنا کم ہو کہ جسم کی بنیادی ضرورت بھی پوری نہ ہو۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ:

قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا[9]
 "رات کے تھوڑے سے حصے کے سوا قیام کرو۔"

          یعنی رسول اللہﷺ کو قیام الیل کا حکم دیا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی جسم کی بنیادی ضرورت نیند کا خیال رکھا گیا ہے کہ پوری رات قیام نہیں کرنا بلکہ کچھ حصہ آرام کے لئے مختص کرنا ہے کہ  یہ قیام کسی جسمانی بیماری کا باعث نہ بنے۔ صوفیاء کرام نے نفس کی اس خواہش کو دبانے کے لئے مجاہدہ نوم کا طریقہ اختیار کیا کہ وہ اپنی ایک خاص ترتیب سے نوم یعنی نیند کو ترک کرتے تھے۔ کئی کئی روز نیند ترک کر دیتے اور یہی ابدال کی صفت ہے جس کو امام غزالیؒ نے احیاء العلوم میں نقل کیا ہے کہ ابدال کی نیند صرف غلبہ کی صورت میں ہوتی ہے۔[10]  مجاہدہ نوم صوفیاء کی کوئی ذاتی اختراع نہیں بلکہ اس کی اصل بنیاد بھی سیرتِ طیبہﷺ میں جابجا ملتی ہے جیسا کہ حضرت مغیرہ نے نقل کیا ہےکہ:

قام النبي صلى الله عليه وسلم حتى تورمت قدماه، فقيل له: غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر، قال:" افلا اكون عبدا شكورا[11]
"رسول اللہﷺ نماز میں رات بھر کھڑے رہے یہاں تک کہ آپﷺ کے دونوں پاؤں سوج گئے۔ آپﷺ سے عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپﷺ کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف کر دی ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

            رسول اللہﷺ کا مستقل  معمول رات کو جاگ کر نماز پڑھنے کا تھا۔ کبھی کبھار آپﷺ اتنی لمبی نماز پڑھتے کہ اگر کوئی اور شریک ہوتا تو ا س پر انتہائی شاق گزرتا۔ جیسا کہ حضرت وائل بن حجرنے حضرت عبداللہ ابن مسعودکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ:

صليت ذات ليلة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يزل قائما، حتى هممت بامر سوء، قلت: وما ذاك الامر؟،قال: هممت ان اجلس واتركه[12]
 "ایک رات میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپﷺ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا، (راوی ابووائل کہتے ہیں:) میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں بیٹھ جاؤں، اور آپ ﷺکو (کھڑا) چھوڑ دوں۔

            اس سے واضح طور پر طول قیام معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ ابن مسعودجیسے صحابی بھی برداشت نہ کرسکے اور بیٹھنے کا ارادہ فرمایا۔ ظاہری بات ہے کہ رات کو اتنی طویل نماز پڑھنے تب ہی ممکن ہے جب انسان اپنی نیند کی قربانی پیش کرے۔ اس کے علاؤہ بھی نبی کریمﷺ سے بے شمار روایات منقول ہیں جس میں آپﷺ کے قیام الیل کا ذکر ملتا ہے۔ یہی وہ مجاہدہ ہے جس کو بعد میں صوفیاء کرام نے مجاہدہ نوم کا نام دے کر روحانی نظام میں اپنے معمولات کا حصہ بنایا۔

کم بولنا:

انسان کے اعمال و افعال کی طرح اقوال بھی نامہ اعما ل میں لکھے جاتے ہیں جس پر مؤاخذہ کیا جائے گا اور اس پر اخروی سزا و جزا کا ترتب ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں بولنے سے متعلق واضح ارشادات موجود ہے کہ انسان کو حق سچ بولنا چاہیے اور فضول و لایعنی گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے۔ صوفیاء کرام نے اپنے عملی نظا م میں کم گوئی کو بطورِ اصل قبول کیا جیسا کہ امام قشیریؒ نے رسالہ قشریہ میں نقل کیا کہ ضرورت کے بغیر کلام نہیں کرنا چاہیے۔[13] ضرورت کی حد تک کلام نہیں کرنا چاہیے، فضول و لایعنی گفتگو یا فحش گوئی سے اجتناب و پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے انسانی وقار بری طرح مجروح ہوتا ہے۔

صوفیاء کرام نے کم گوئی کا یہ مسئلہ بھی سیرتِ طیبہﷺ سے اخذ کیا ہے۔ رسول اللہﷺ کے ارشادات میں واضح طور پر کم بولنے اور برمحل بولنے کا تذکرہ اور ترغیب ملتی ہے جیسا کہ سہل بن سعدنے نقل کیاہے کہ رسول اللہﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

من يضمن لي ما بين لحييه، وما بين رجليه اضمن له الجنة[14]
" میرے لیے جو شخص دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرمگاہ) کی ذمہ داری دیدے میں اس کے لیے جنت کی ذمہ داری دیتا ہوں۔"

دوسری روایت میں آیا ہے کہ:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فليقل خيرا او ليصمت[15]
"رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔"

اس کی طرح کی بے شمار روایات سے حفظ اللسان کی اہمیت و افادیت سے معلوم ہوتی ہے جس سے واضح طور پر کم گوئی اور حق گوئی کا حکم مفہوم ہوتا ہے کہ انسان کو کم بولنا چاہیے جیسا کہ صوفیاء صرف بوقتِ ضرورت بولنے کو درست کہتے ہیں جبکہ غیر ضروری گفتگو کو سلوک و طریقت کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

کم میل جول رکھنا:

انسان مدنی الطبع حیوان ہے اور کوئی بھی مکمل طور پر خود کفیل نہیں ہوسکتا جو کسی سطح پر بھی دوسرے پر انحصار نہ کرتا ہو۔ لیکن لوگوں سے زیادہ میل جول رکھنا انسان کی روحانی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام غزالیؒ نے ابدال کے مطلوبہ خصلتوں میں کم اختلاط بھی ذکر کیا ہے۔[16] اس کی وجہ یہ ہے کہ جتنے لوگوں سے تعلقات ہوں گے، اتنے ہی مصروفیات میں اضافہ ہوگا جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پھر ہر فرد کی خوشی غمی میں شرکت کرنی پڑتی ہے اور اپنے تمام دوست احباب کو وقت دینا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا وقت نہیں ملتا اور مکمل یکسوئی تو کبھی میسر نہیں آتی۔

اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے صوفیاء کرام نے رسول اللہﷺ کی زندگی پر غور کیا اور ان کی نظر  قبل از نبوت رسول اللہﷺ کی خلوت نشینی پر پڑی کہ آپﷺ عبادت کے لئے غارِ حراء تشریف لے جاتے تھے جہاں انتہائی یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ حضرت عائشہ نقل فرماتی ہیں کہ:

اول ما بدئ به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الوحي الرؤيا الصالحة في النوم، فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح، ثم حبب إليه الخلاء وكان يخلو بغار حراء، فيتحنث فيه وهو التعبد الليالي ذوات العدد قبل ان ينزع إلى اهله ويتزود لذلك[17]
"نبی کریمﷺ پر وحی کا ابتدائی دور اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا۔ آپﷺ خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر من جانب قدرت آپﷺ تنہائی پسند ہو گئے اور آپﷺ نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔"

یعنی آپﷺ تخنث فرماتے تھے جو عیسائیت کی رہبانیت سے یکسر مختلف چیز ہے۔ اس  پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے صوفیاء نے زیادہ اختلاط سے منع فرمایا۔

واضح رہے کہ بعض صوفیاء ان مجاہدات کے ضمن میں صحبت و اطاعتِ شیخ کو بھی ذکر کرتے ہیں کہ یہ بھی ایک مجاہدہ ہے جس میں مرید ہر قسم کے حالات میں اپنے شیخ کی صحبت  و اطاعت کو لازم پکڑتا ہے کیونکہ بدونِ صحبت اور بغیر اطاعتِ شیخ کے  مرید کی کامل اصلاح نہیں ہوتی۔ اس کی طرف سیرتِ طیبہﷺ میں واضح طور پر اشارہ ملتا ہے کہ:

الشيخ في اهله كالنبي في امته[18]
"شیخ اپنی قوم میں ایسے ہوتا ہے جیسے نبی اپنی امت میں۔"

یعنی جس طرح نبی کریمﷺ کی اطاعت لازم تھی ، اسی طرح جائز امور میں پیر کی اطاعت بھی لازم ہے کیونکہ بیعت کا مقصد ہی یہی ہے۔ نیز صحابہ کرامکی روحانی ترقی میں ادب و اطاعت کے ساتھ صحبت کا بھی مرکزی کردار تھا اور یہی ان کی فضلیت کی بنیادی وجہ ہے کہ آج کا مسلمان ایک صحابی سے عمل کے مقدار میں بہت آگے بڑھ سکتا ہے لیکن عمل کی کیفیت میں صحابی کے ایک سجدے تک نہیں پہنچ سکتا، یہی اس صحبت کا اثر ہے۔

سو، صوفیاء نے ان پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے صحبت و اطاعتِ شیخ کو لازم قرار دیا جس کی فکری بنیاد ان کو سیرتِ طیبہﷺ سے ملتی ہے۔



[1] اصفہانی،حسین بن محمد، امام راغب، المفردات فی غرائب القرآن، ط: دارالقلم 1412ھ، ص 208

[2] سورۃالعنکبوت:29:06

[3]  سورۃالعنکبوت:29:69

[4] مجذوب، خواجہ عزیز الحسن، اشرف السوانح حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، ج2، ص 118

[5] البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، كتاب الرقاق، باب كيف كان عيش النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه، وتخليهم من الدنيا:، رقم الحدیث:6457

[6]  القشیری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، كتاب الزهد والرقائق، باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر، رقم الحدیث:2972

[7] البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، كتاب الرقاق، باب كيف كان عيش النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه، وتخليهم من الدنيا:، رقم الحدیث:6452

[8] گنج شکر، حضرت بابا فرید الدین، راحت القلوب ملفوظات، ص67

[9] سورۃ المزمل:73:02

[10] غزالی، محمد بن محمد، احیاء العلوم الدین، ص940( اردو ترجمہ ، مصباح السالکین از محمد صدیق ہزاروی، ج3، ص133)

[11] البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، كتاب تفسير القرآن، باب:{ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر ويتم نعمته عليك ويهديك صراطا مستقيما{، رقم الحدیث:4836

[12] قزوینی،محمد بن یزید  بن ماجہ ،سنن ابن ماجہ، كتاب  إقامة الصلاة والسنة، باب: ما جاء في طول القيام في الصلاة، رقم الحدیث:1418

[13] قشیری، ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوزان، رسالہ قشریہ فی علم التصوف، ص101

[14] البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، كتاب الرقاق، باب:حفظ اللسان، رقم الحدیث:6474

[15] البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، كتاب الرقاق، باب:حفظ اللسان، رقم الحدیث:6475

[16] غزالی، محمد بن محمد، احیاء العلوم الدین، ص989( اردو ترجمہ ، مصباح السالکین از محمد صدیق ہزاروی، ج3، ص174)

[17] البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، كتاب بَدْءِ الْوَحْيِ، باب: ، رقم الحدیث:03

[18] ابن عساکر، ابوالقاسم، علی بن حسن، معجم الشیوخ، ط:دارالشائر 2000ء، ج2 ص703


ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی