
اشغالِ صوفیاء: تعارف
اشغال، شغل کی جمع ہے جس کا لغوی معنیٰ مشغول شدن ہے۔ شغلا و شغلا و اشغله بكذا سے ہے یعنی مشغول کرنا، غافل ہونا۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ:
اِنَّ
اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ
"بیشک
جنت والے آج دل بہلانے والے کاموں میں لطف اندوز (ہو رہے) ہوں گے۔"
اس آیتِ کریمہ کے تحت حضرت مفتی محمد
شفیعؒ معارف القرآن میں رقم طراز ہیں کہ:
" یہاں
اصحاب جنت کا حال ذکر فرمایا ہے کہ وہ اپنی تفریحات میں مشغول ہوں گے۔ ممکن ہے اس
جگہ في
شغل
(کسی مصروفیت میں ) کا لفظ اس خیال کو دفع کرنے کے لئے بڑھایا ہو کہ جنت میں جبکہ
نہ کوئی عبادت ہو گی نہ کوئی فرض و واجب اور نہ کسب معاش کا کوئی کام ، تو کیا اس
بیکاری میں آدمی کا جی نہ گھبرائے گا۔ اس لئے فرمایا کہ ان کو اپنی تفریحات کا ہی بڑا شغل ہو گا، جی گھبرانے کا کیا سوال ہے؟"
عموماً اشغالِ صوفیاء کے چار اقسام کو
بیان کیا جاتا ہے:
1. اشغالِ دستی: جن اشغال کو
کسبِ معاش کا ذریعہ بنایا جائے۔
2. اشغالِ لسانی:لسانی یعنی
زبان کے اشغال جیسے ذکر و تلاوت وغیرہ۔
3. اشغالِ سمعی:قوت سمعہ یعنی
کانوں کے ذریعے مشغول ہونا، آواز کی طرف متوجہ ہونا۔
4. اشغالِ بصری (نظری):قوتِ بصری یعنی نظر سے کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا۔صوفیاء کرامؒ ان کی مزید تفصیل بیان کرتے ہیں کہ اشغالِ سمعی کے تحت مزید تین
اشغال:
(1) شغلِ منصوری (2) شغلِ
صوت سرمدی (3) شغلِ قلبی
ذکر کرتے ہیں جبکہ اشغالِ نظری کے تحت درج ذیل پانچ اشغال
کا ذکر کیا ہے:
(1)شغلِ آفتابی (2) شغلِ ماہتاب (3) شغلِ مقام محموداً (4) شغلِ سلطانا نصیراً (5) شغلِ روحی اشغالِ صوفیاء اور سیرتِ طیبہﷺ:
تصوف کے مباحث میں سب سے زیادہ مرکزی اور بنیادی حیثیت نفس کو حاصل ہے۔ قرآنِ کریم نے جہاں ایمان، تقویٰ اور ذکرِ الٰہی کو فلاح کی کنجی قرار دیا، وہاں نفس کے مختلف پہلوؤں کو بھی کھول کر بیان کیا ہے۔ کبھی نفس کو "امّارہ بالسوء" کہا جو برائی پر ابھارتا ہے، کبھی "لوّامہ"کہا جو گناہ پر ملامت کرتا ہے، اور کبھی "مطمئنہ" کہا جو رب کی یاد اور رضا میں سکون پاتا ہے۔ گویا انسانی شخصیت کی اصل کشمکش نفس اور روح کے درمیان ہے۔ صوفیاء کرام نے اسی قرآنی تصور کو اپنی روحانی تربیت کا نقطہ آغاز بنایا۔ ان کے نزدیک سالک کی اصل جدوجہد نفس کی اصلاح اور تزکیہ ہے، کیونکہ نفس ہی تمام رذائل کی جڑ اور تمام فضائل کا رکاوٹ ہے۔ اگر نفس قابو میں آجائے تو دل پر انوارِ الٰہی کی تجلیات اترتی ہیں، اور اگر وہ آزاد چھوڑ دیا جائے تو سالک خواہشات کا اسیر بن کر روحانی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔اسی لیے صوفیانہ روایت میں جتنے بھی اشغال اختیار کیے گئے،ان سب کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ نفس کی سرکشی کو توڑا جائے، اسے ضبط میں لایا جائے، اور اس کے ذریعے انسان کو اخلاقِ نبوی ﷺ سے مزین کیا جائے۔ ان تمام اشغال کا اصل و ماخذ سیرتِ رسولﷺ ہے جس کو یہاں بیان کیا جائے گا۔ لیکن ہم آسانی کے لئے صوفیاء کے درج ذیل اشغال کو یہاں موضوعِ بحث بنائیں گے۔ (1)مجاہدہ (2)
محاسبہ (3) مشارطہ (4)مراقبہ (5) مقابلہ (6) مکاشفہ (7)
مشاہدہ (8)محاضرہ
اس بحث کا مقصد صوفیانہ اشغال کی فہرست یا تکنیکی توضیح پیش کرنا نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ صوفیانہ تربیت کا ہر قدم سیرتِ طیبہﷺ کے فیوض سے ماخوذ اور اسی کے نور سے منور ہے۔ صوفیاء کے یہ اشغال، مجاہدہ، محاسبہ، مراقبہ، مکاشفہ اور مشاہدہ وغیرہ سالک کو نفس کی اصلاح، باطنی پاکیزگی اور اخلاقی بلندی کی طرف لے جاتے ہیں اور یہ تمام مراحل سنتِ رسولﷺ کی عملی پیروی کے بغیر نامکمل اور ناقابلِ اعتبار ہیں۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔