صوفیاء کا دوسرا اہم شغل محاسبہ ہے جو دراصل احتساب کا دوسرا نام ہے جس میں انسان اپنے نفس
کا احتساب کرتا ہے اور نیکیوں اور گناہوں کا موازنہ کرتا ہے۔ صوفیاء کے ہاں محاسبہ
اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب و مبغوض اشیاء کے مابین فرق و تمیز کرنا ہے جو ماضی اور
مستقبل دونوں سے متعلق ہوسکتا ہے۔[1]
محاسبہ میں انسان کو اپنے نفس کا اس طرح سختی سے حساب کرنا ہوتا ہے جس طرح غیر لوگ
اس کا احتساب کرتے ہیں۔ یعنی ہم جب کوئی ناگوار کام کر گزرتے ہیں تو غیر لوگ ہمارا
انتہائی سختی سے احتساب کرتے ہیں اور ہمارا کوئی عذر یا بہانہ بھی تسلیم نہیں کرتے
بلکہ فوری طور پر حکم ہی لگاتے ہیں۔ یہی معاملہ اپنے نفس کے ساتھ کرنا ہی محاسبہ
ہے کہ اگر نفس کسی جرم پر آمادہ کرے تو انسان کو اپنے نفس کو سخت سرزنش کرنی ہوتی
ہے اور اس حوالے سے نفس کا کوئی عذر یا بہانہ تسلیم نہیں کرنا چاہیے، تب جاکر نفس
آئندہ فعل کے ارتکاب سے قبل اس سزا اور سرزنش کو یاد کرتا ہے اور انسان گناہوں سے
بچنے کی کوشش میں کامیاب ہوتا ہے۔
محاسبہ صوفیاء نے اپنے فکری و عملی نظام کا حصہ بنایا کیونکہ یہی محاسبہ آگے جاکر مراقبہ بنتا ہے جس پر آگے ہم مفصل کلام کریں گے۔ اس طرح صوفیاء کا ماننا ہے کہ جو شخص جو دنیا میں محاسبہ کا عادی ہو اور ہر فعل پر اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کے لئے حساب و کتاب آسان ہوگا جس پر رسول اللہﷺ کی حدیث بھی دال ہے کہ:
محاسبہ صوفیاء نے اپنے فکری و عملی نظام کا حصہ بنایا کیونکہ یہی محاسبہ آگے جاکر مراقبہ بنتا ہے جس پر آگے ہم مفصل کلام کریں گے۔ اس طرح صوفیاء کا ماننا ہے کہ جو شخص جو دنیا میں محاسبہ کا عادی ہو اور ہر فعل پر اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کے لئے حساب و کتاب آسان ہوگا جس پر رسول اللہﷺ کی حدیث بھی دال ہے کہ:
إن المؤمن قوام على نفسه يحاسب نفسه لله، وإنما خف الحساب يوم القيامة على قوم حاسبوا أنفسهم في الدنيا ، وإنما شق الحساب يوم القيامة على قوم أخذوا هذا الأمر على غير محاسبة[2]
"بیشک مؤمن اپنے نفس پر نگہبان ہوتا ہے، وہ اللہ کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہتا ہے۔ قیامت کے دن جن لوگوں کا حساب ہلکا ہوگا وہ وہی ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اپنے نفس کا حساب کر لیا تھا۔ اور جن لوگوں نے اس معاملے کو بغیر محاسبے کے لے رکھا تھا، ان پر قیامت کے دن حساب سخت ہوگا۔"
"إنما الاعمال بالنية، وإنما لامرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله، فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها او امراة يتزوجها، فهجرته إلى ما هاجر إليه"[4]
"اعمال کا مدار نیت پر ہی ہے، اور آدمی کے لیے وہی (اجر) ہے جس کی اس نے نیت کی۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی۔"
إذا أراد اللَّه بعبد خيرا جعل له واعظا من نفسه يأمره و ينهاه[5]"جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے ساتھ بھلائی و خیر کا ارادہ فرماتا ہےتو اس کے نفس سے واعظ مقرر کرتا ہے تو اس کو بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔"
دوسری روایت میں آیا ہے کہ:
الكيس من دان نفسه , وعمل لما بعد الموت , والعاجز من اتبع نفسه هواها , ثم تمنى على الله[6]
"عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگا دے، پھر اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرے۔"
اس طرح دیگر احادیث اس امر پر واضح دال ہیں کہ انسان کو اپنی روحانی زندگی کی بہتری کے لئے اور گناہوں سے بچنے کے لئے مسلسل اپنے نفس کا احتساب کرنا چاہیے تاکہ نفس کو برابر محاسبہ کا خوف لاحق رہے۔ صوفیاء چونکہ روحانی ترقی میں نفس کی نگہداشت کو لازمی سمجھتے ہیں تو انہوں نے سیرتِ طیبہﷺ سے محاسبہ کے اصول اخذ کئے اور تصوف کے روحانی نظام میں اہم اصول و شغل کے طور پر لیا۔ آج کے دور میں بھی روحانی ترقی اور نفس کی تہذیب کے سلسلے میں محاسبہ انتہائی کارگر اور مفید نسخہ ہے جس کے دائمی اثرات انسان کی روحانی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔
[1] محاسبی، ابوعبداللہ حارث بن اسد، الرعایۃ لحقوق اللہ،ظ: دارالعلمیہ بیروت، ص 45
[2] ابن شیبہ،عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ، مصنف ابن ابی شیبہ كتاب الزهد، رقم الحدیث 5047(23)
[3] ندوی، محمد زید مظاہری، تربیت السالک،(افادات اشرف علی تھانویؒ)ص 11
[4] القشیری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، كتاب الإمارة، باب قوله صلى الله عليه وسلم: «إنما الاعمال بالنية». وانه يدخل فيه الغزو وغيره من الاعمال:، رقم الحدیث:1907
[5] المتقی، علاء الدین، علی بن حسام الدین،کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال، ج9، ص11
[6] قزوینی،محمد بن یزید بن ماجہ ،سنن ابن ماجہ، كتاب الزهد، باب: ذكر الموت والاستعداد له، رقم الحدیث:4260
