اشغالِ صوفیاء(Sufi Practices) میں سیرتِ طیبہﷺ سے استفادہ


 

سیرتِ نبوی ﷺ وہ جامع سرچشمہ ہے جس سے فقہ، کلام اور تصوف سمیت تمام دینی علوم نے اپنی فکری و عملی اساس اخذ کی ہے۔ خصوصاً صوفیانہ روایت میں سیرتِ طیبہﷺ کا اثر صرف اعتقادی و اخلاقی پہلوؤں میں نہیں بلکہ عملی اشغال اور روحانی مجاہدات میں بھی نمایاں طور پر جلوہ گر ہے۔ صوفیاء کے اذکار، مراقبات اور مجاہدات سمیت مشارطہ، مقابلہ، مکاشفہ اور محاضرہ وغیرہ صرف  رسمی یا روایتی مشقیں نہیں بلکہ سیرتِ رسول ﷺ سے اخذ شدہ وہ طریقے ہیں جن کا مقصد انسان کی روحانی تربیت، اخلاقی تزکیہ اور قربِ الٰہی کی جستجو ہے۔

یہ تحقیق اس پہلو کو واضح کرنے کی کوشش ہے کہ صوفیاء نے کس طرح سیرتِ نبوی ﷺ کو اپنی عملی و فکری روایت میں شامل کیا اور اشغالِ تصوف کو سیرت کے سانچے میں ڈھال کر ایک ایسا نظامِ تربیت تشکیل دیا جو فرد اور معاشرہ دونوں کے لیے نافع ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی قابلِ غور ہے کہ معاصر دنیا میں جہاں روحانی بحران، اخلاقی انحطاط اور مادیت پسندی نے انسانیت کو گھیر رکھا ہے، وہاں اشغالِ صوفیاء کی وہ جہت جو سیرت سے ماخوذ ہے، کس طرح عصری انسان کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتی ہے؟چنانچہ یہ مطالعہ  ایک طرف روایتی سطح پر صوفیاء کے سیرت سے استفادے کو اجاگر کرتا ہے  تو دوسری طرف عصرِ حاضر کے تناظر میں اس کی معنویت اور افادیت کو بھی تحقیقاً سامنے لاتا ہے۔ اس طرح یہ تحقیق سیرتِ نبوی ﷺ اور تصوف کے باہمی تعلق کو ایک نئے فکری زاویے سے منکشف کرنے کی سعی ہے۔

تصوف کا تعارف:

اسلامی علوم میں تصوف کو ایک نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہے جو انسان کی باطنی اصلاح، روحانی بالیدگی اور قربِ الٰہی کے حصول پر مرکوز ہے۔ تصوف کی تعریفات مختلف زاویوں سے کی گئی ہیں، تاہم ان سب کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ تصوف انسان کے ظاہر و باطن دونوں کی تطہیر کر کے اسے اخلاقِ نبوی ﷺ سے آراستہ کرتا ہے۔

 تصوف کے ماخذِ اشتقاق میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے، بعض اہلِ علم تصوف کو الصفاء اور الصفو سے مشتق مانتے ہیں جبکہ بعض دیگر اہل علم کے ہاں تصوف "صوف" سے ماخوذ ہے۔اس کے علاؤہ الصوف، الصفوۃ، الصفہ اور الصف وغیرہ کے اقوال بھی نقل کئے گئے ہیں۔[1]

فمنهم من قال : (من الصوفة، لأن الصوفي مع الله تعالى كالصوفة المطروحة، لاستسلامه الله تعالى)[2]

"بعض نے کہا کہ یہ "صوفہ" سے ماخوذ ہے، کیونکہ صوفی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسے ہوتا ہے جیسے ایک ڈالا ہوا صوف (اون کا ٹکڑا) جو اللہ تعالیٰ کے سامنے مکمل استسلام (سپردگی) کی علامت ہے۔"

بعض دیگر کے ہاں تصوف "الصفة" سے ماخوذ ہے، کیونکہ اس کی حقیقت حسن صفات کو اپنانا اور مذموم اوصاف کو ترک کرنا ہے لیکن ڈاکٹر رفیق العجم تصوف کو صفاء سے مشتق مانتے ہیں اور یہی مؤقف انہوں نے اپنی  موسوعہ میں اختیار ذکر کیا ہے کہ :

"التصوف مشتق من الصفاء"[3]

بعض دیگر صوفیاء حضرات تصوف کو  صفہ سے ماخوذ مانتے ہیں اور وجہ و دلیل یہ بیان کرتے ہیں کہ صوفیاء اصحابِ صفہ کے طریقوں پر عمل کرتے ہیں جبکہ زیادہ مشہور اور متعارف بین الناس قول یہ ہے کہ تصوف اور صوفی کا لفظ صوف بمعنیٰ اون سے لیا گیا ہے کیونکہ صوفیاء اونی لباس پہنتے تھے جس کی وجہ سے ان کو صوفی کہا جاتا ہے۔[4]  اس کے علاؤہ بھی کئی اقوال نقل کئے گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تصوف کے ماخذ اشتقاق سے متعلق شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور ہر قول کے قائلین اپنے مؤقف پر دلائل رکھتے ہیں جس کی وجہ سے قطعی طور پر کسی ایک ماخذ اشتقاق کی تعین مشکل ہے۔

اصطلاحی تعریف:

جس طرح تصوف کے اصل اور اشتقاق میں اختلاف ہے، بعینہٖ تصوف کی اصطلاحی مفہوم میں بھی  اختلاف ہے اور پچاس سے زائد تعریفیں نقل کی گئی ہیں۔معروف مستشرق نکلسن سے متعلق نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے 78 تعریفات نقل کیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ بعض نے سو تک تعریفات  بھی نقل کی ہیں جبکہ بعض دیگر مشائخ و صوفیاء کے حوالے سے ہزار دو ہزار تک منقول ہیں[5]  جس سے آپ تصوف کی اصطلاحی تعریف میں اختلاف کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔

امام غزالیؒ سے تصوف کے متعلق نقل کیا گیا ہے کہ تصوف دو چیزوں کا نام ہے۔

v   اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچ بولنا

v   لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھائی کا معاملہ کرنا[6]


یعنی ان کے ہاں جو شخص صدق مع اللہ اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی راہ پر گامزن ہو، وہ صوفی ہے اور یہی تصوف کہلاتا ہے۔
المعجم الوسیط میں تصوف کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ:
"التصوف طريقة سلوكية قوامها التقشف والتجلي بالفضائل لتزكوا النفس وتسموا الروح"[7]
"تصوف وہ سلوکی طریق ہے جس میں بندہ فضائل سے مزین ہوتا ہے، نفس رذائل سے پاک ہوتا ہے اور روح بلند ہوتی ہے۔"
            تصوف کی منقول تعریفات میں صرف لفظی و ظاہری اختلاف نہیں بلکہ معنوی اور ماہیت کے اعتبار سے بھی اختلاف موجود ہے جس کی وجہ سے ان تعریفات میں تطبیق ممکن نہیں۔ علامہ قشیریؒ کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ  حضرت جنید بغدادیؒ سے کسی نے تصوف سے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ تصوف ایک ایسی گرہ ہے جو آج تک کسی سے کھل نہ سکی  اور ایسا معمہ ہے جو آج تک کسی سے حل نہ ہوسکا۔[8] جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تصوف ایک ایسا پیچدہ مسئلہ بن گیا ہے جس کو ہر صاحبِ علم نے اپنی ایک الگ نظر سے دیکھا جو دوسرے فرد کی نظر اور علم سے یکسر مختلف ہے۔


سیرتِ نبوی ﷺ اور تصوف کا فکری و عملی رشتہ:

اسلامی علوم میں سیرتِ نبوی ﷺ کی حیثیت ایک ایسے سرچشمۂ ہدایت کی ہے جس نے فقہ میں قانون سازی کے اصول فراہم کیے، کلام میں عقائد کی وضاحت کی اور تصوف کو روحانی و اخلاقی تربیت کا عملی سانچہ عطا کیا۔ اگر ہم تصوف کے تاریخی ارتقاء کو دیکھیں تو  ہمیں واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ  تصوف منظم علمی و روحانی ڈسپلن ہے جس نے اپنی اساس براہِ راست  قرآن کریم اور سیرتِ نبوی ﷺ سے اخذ کی۔ کیونکہ تصوف کے بنیادی مضامین جیسے محبت الہی، ذکر و فکر، تقویٰ، صبر و توکل وغیرہ قرآن کریم اور احادیثِ رسولﷺ کی براہ راست تعلیمات ہیں جن کا عملی مظہر رسول اللہﷺ کی ذات گرامی کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ابتدائی صوفیاء کی زندگیوں میں ہمیں واضح طور پر یہ حقیقت نظر آتی ہے کہ ان کی باطنی مشقوں کا مرکز و محور سنتِ نبوی ﷺ تھا۔ حضرت حسن بصریؒ، حضرت رابعہ بصریہؒ اور دیگر اوائل صوفیاء کے اقوال و احوال اس بات پر شاہد ہیں کہ انہوں نے عبادات، ریاضات اور اخلاقی اصلاح میں نبی کریم ﷺ کے اسوہ کو معیار بنایا۔ مثلاً ابو طالب المکی (م 996ء) کی کتاب قُوت القلوب تصوف کے ابتدائی ماخذ میں شمار ہوتی ہے جہاں ذکر، توکل، محبتِ الٰہی اور خوف و رجاء کے مضامین کو براہِ راست سیرت و احادیث سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

صوفیاء کے عملی اشغال جیسے ذکر، مراقبہ، خلوت، محاسبہ اور مجاہدہ دراصل وہی طریقے ہیں جن کی جڑیں نبی کریم ﷺ کی عملی زندگی میں پیوست ہیں۔

(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




[1] عیسیٰ، عبدالقادر، حقائق عن التصوف، ط: دارالعرفان، ص 20

[2] ایضاً

[3] العجم، ڈاکٹر رفیق ، موسوعۃ مصطلحات تصوف اسلامی، مکتبہ لبنان، 1999، ص180

[4]  علامہ احسان الہی ظہیر، تصوف :تاریخ و حقائق، ط: ادارہ ترجمان السنۃ لاہور 2010، ص 38

[5] علامہ احسان الہی ظہیر، تصوف :تاریخ و حقائق، ط: ادارہ ترجمان السنۃ لاہور 2010، ص 51

[6] محمد عمیم الاحسان المجددی، التعریفات الفقہیۃ، ط: دار الکتب العلمیہ 2003، ص57

[7] المعجم الوسیط، ج1 ص 529

[8] علامہ احسان الہی ظہیر، تصوف :تاریخ و حقائق، ط: ادارہ ترجمان السنۃ لاہور 2010، ص 52



ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی