جدید علمی مباحث میں جب "اسلامک فیمنزم" جیسی ترکیبوں کا ذکر آتا ہے تو بظاہر یہ سوال بڑا معصوم دکھائی دیتا ہے کہ کیا اسلام جدید فکری تحریکات کے ساتھ اپنا کوئی اشتراک رکھ سکتا ہے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال لسانی یا فکری تعارف یا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا معرفتی بحران کارفرما ہے۔ آج کا ذہن مذہبی روایت کو ایک ایسے تاریخی بیانیے کے طور پر دیکھنے لگا ہے جو مختلف ادوار میں مختلف نظریات سے ہم آہنگ کیا جاتا رہا ہے۔ اس تصور نے لوگوں کو یہ گماں بھی دلایا کہ شاید "اسلام" بھی، دیگر نظامِ فکر کی طرح، اپنی اصل میں کوئی مجرد سٹرکچر نہیں بلکہ ایک ایسا سانچہ ہے جس میں مختلف افکار کو سمو کر نئی تعبیرات گھڑی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ "اسلامک سوشلزم" سے لے کر "اسلامک جمہوریت"، "اسلامک لبرلزم" اور "اسلامک فیمنزم" تک بے شمار تعبیریں سامنے آئیں جنہوں نے دین کی اصل منہج کو عصری فکر کی تراکیب کے ساتھ گوندھ دینے کی کوشش کی۔
ڈاکٹر فرح دیبا صاحبہ نے گزشتہ روز جاوید احمد غامدی صاحب کا انٹرویو کیا جس میں انہوں نے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ لوگ آج اسلامی فیمنزم کی اصطلاح میں دو متضاد چیزوں کو دیکھتے ہیں کہ اسلام اور فیمنزم دو متضاد چیزیں ہیں جن کو جمع اور ہم آہنگ نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟
اس سوال کے جواب میں جاوید احمد غامدی صاحب نے اسی پس منظر سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے یہ نکتہ واضح کیا کہ اسلام اپنی اصل میں ناقابلِ تغیر اور کامل ہے۔ اس کی اساس محفوظ نصوص، یعنی قرآن و سنت، ہیں اور اس کی تعبیر کے اصول متعین ہیں۔ اسلام کی یہ خالصیت اس بات کی متحمل نہیں کہ اسے کسی نئے "ازم"کے ساتھ پیوند کر کے ایک نیا مجموعہ تشکیل دیا جائے۔ گویا "اسلامک فیمنزم"، "اسلامک سوشلزم" یا "اسلامک ڈیموکریسی" جیسی ترکیبیں، علمی سطح پر، اسلام کے بنیادی تصور کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتیں۔ اسلام کا حقیقی فریضہ یہ ہے کہ وہ ہر نظریے کے سامنے اپنی کسوٹی رکھے: جو چیز درست ہے اسے "اسلام کا اضافہ" نہیں بلکہ "اسلام کے مطابق"سمجھا جائے، اور جو نا مناسب ہے اسے رد کر دیا جائے۔
یعنی غامدی صاحب، اپنی مخصوص علمی روش کے مطابق، اس کا جواب ایک ایسے اصولی مقدمے سے دیتے ہیں جس کا لب لباب یہ ہے کہ اسلام بذاتِ خود ایک مکمل ہدایت ہے، اور تکمیلی یا تعریفاتی اضافات اس کے منصوص ڈھانچے میں علمی حیثیت نہیں رکھتے۔
یہ مقدمہ چند بنیادی دعووں پر قائم ہے:
- اسلام اپنی اصل میں خالص، کامل اور قطعی ہے۔
- اسے سمجھنے کے بنیادی ذرائع—قرآن و سنت—ناقابلِ تغیر اور واضح ہیں۔
- لہٰذا ایسے مرکبات جنہیں "اسلامک سوشلزم"، "اسلامک فیمنزم"، "اسلامک جمہوریت" یا "اسلامک تصوف" کہا جاتا ہے، "اسلام"کے ساتھ فکری آمیزش یا پیوند کاری کے مترادف ہیں، جو علمی طور پر نا قابلِ قبول ہے۔
یہ مقدمہ اپنی جگہ مضبوط ہے، لیکن اسی استدلال کو اگر عموم کے ساتھ ہر تاریخی اور روحانی روایت، خصوصاً "تصوف"، پر منطبق کر دیا جائے تو بحث کا زاویہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ غامدی صاحب کی تعبیر یہ ہے کہ تصوف، اپنی تاریخی صورت میں، اسلام کے بنیادی ڈھانچے سے باہر ایک الحاقی نظام ہے، جسے یونانی فلسفے، ہندومت، ایرانی حکمت اور ترکمانی زہد کے اثرات نے پروان چڑھایا۔ ان کے نزدیک اگر تزکیۂ نفس کی کوئی چیز قرآن و سنت میں ہے تو وہ "تصوف" نہیں بلکہ دین کا اصل حصہ ہے؛ اور اگر کوئی چیز ان نصوص سے باہر ہے تو وہ قابلِ قبول نہیں۔ یوں تصوف اسلام کا لازمی رکن نہیں بلکہ محض ایک تاریخی مظہر قرار پاتا ہے جس میں صحیح اور غلط کا آمیزہ ہے۔
لیکن یہ تصویر پوری نہیں۔ تاریخی و فکری حقائق اس سے کہیں زیادہ تہہ دار اور پیچیدہ ہیں۔ تصوف کی بنیاد وہی قرآنی مضامین ہیں جنہیں کتاب نے "تزکیہ"، "تطہیر"، "تقویٰ"، "خشیت"، "انابت"اور "ذکر" کے ناموں سے پیش کیا ہے۔ قرآن کی روحانیات صرف اخلاقی اقدار نہیں بلکہ باطنی تربیت کا ایک منظم خاکہ ہے۔
اگر تصوف تاریخی اعتبار سے مکمل طور پر "نیا"ہوتا تو پھر احادیث میں وہ شہابی چمک کہاں سے آتی جو صحابہ کے گریہ، بکاء، زہد اور انقطاع کے واقعات میں جھلکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ تصوف کی نظام بندی بعد میں ہوئی، لیکن اس کا مغز وہی تھا جو پہلی صدی ہجری کے روحانی تجربات میں موجود تھا۔ اصطلاحات نئی ہو سکتی ہیں، مگر معانی قرآن و سنت سے مستفاد ہیں۔
غامدی صاحب کا اعتراض اس وقت معتبر ٹھہرتا ہے جب صوفیہ اپنے طریق کو شریعت کا ’’لازم‘‘ قرار دے دیں۔ مگر صوفیہ نے اپنے مجاہدات اور اذکار کو کبھی احکامِ شرعیہ کی طرح قطعی نہیں کہا۔ یہ سب تربیتی اجتہادات تھے—جیسے فقہاء نے عبادات میں فروع بنائے۔ جس چیز نے امت میں "بدعت" کا گمان پیدا کیا، وہ طریقوں کی بعض غلط تعمیمات تھیں، نہ کہ اصل روحانی منہج۔ اس لئے پورے تصوف کو ہی غیر اسلامی کہہ دینا ایک تاریخی تعمیم ہے جو نہ صوفیہ کی کتابوں سے ثابت ہے نہ ان کے اخلاق و کردار سے۔
پھر یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اسلامی تہذیب کا پورا جمالیاتی ورثہ—مساجد کی فنی تعمیر سے لے کر نعتیہ شاعری تک، اور اخلاقی و سماجی نظام سے لے کر سیاسی حکمت تک—تصوف کی تاثیر سے خالی نہیں۔ جنید بغدادی، غزالی، ابن قیم، عبدالقادر جیلانی، شاہ ولی اللہ، مجدد الف ثانی—یہ سب نہ صرف اہلِ علم تھے بلکہ تزکیہ کی ایک مسلسل روایت کے امین بھی تھے۔ اگر تصوف میں بنیادی طور پر کوئی فکری انحراف ہوتا تو اسلامی تہذیب کے قرن ہا قرن کے بڑے مفکرین اس سے متأثر کیوں ہوتے؟
اسی مقام پر یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ "اسلامک فیمنزم" اور "تصوف"کی نوعیتیں یکساں نہیں۔ فیمینزم ایک جدید سماجی تحریک ہے جس کی بنیادی ساخت لبرل فکر پر قائم ہے، اور جس میں مرد و زن کی مساوات کو ایک خود مختار انسانی قدر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ تصور اسلامی انسان شناسی (Anthropology) سے براہِ راست متصادم ہے جہاں انسان عبد ہے، خود مختار شخص نہیں۔ اس لئے "اسلامک فیمنزم" کو رد کرنا منہجاً درست ہے۔ مگر تصوف کو اسی کسوٹی پر رکھنا ایک مختلف قضیہ ہے، کیونکہ تصوف اسلام کے باہر سے آیا ہوا فلسفہ نہیں بلکہ اس کے اندر کے معانی کا جمالیاتی، روحانی اور تربیتی اظہار ہے۔
اسلام کی اصل خالص ہے، اس کی حدود متعین ہیں، اس کے نصوص قطعی ہیں۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اسلام نے تاریخِ انسانی کے تجربات پر کبھی پہرے نہیں بٹھائے۔ اگر کوئی تجربہ—خواہ وہ فکری ہو یا روحانی—قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھا جائے اور شریعت کے سانچے سے نہ ٹکراتا ہو تو وہ "اضافہ" نہیں بلکہ "اجتہادی تعبیر"کہلاتا ہے۔ تصوف اگر اسی دائرے میں ہو تو وہ دین کا پیوند نہیں بلکہ اس کا داخلی جوہر ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں تاریخی روایت کو "حکمِ دین"کہا جائے—اور یہی اصل نقد ہے، نہ کہ تصوف کی کلی نفی۔
یوں اسلام کی خالصیت اپنی جگہ مسلم، مگر اس کا تہذیبی و روحانی تنوع بھی اپنی جگہ حقیقت ہے۔ جدید فکری رجحانات کا جائزہ اسی حکیمانہ امتیاز کے ساتھ لیا جائے تو نہ صرف اسلام اپنی اصل پر قائم رہتا ہے بلکہ انسان اپنے داخلی اور خارجی دونوں پہلوؤں میں توازن پا لیتا ہے۔ یہی اس بحث کا بنیادی حاصل ہے۔
Tags:
معاصر افکار
