اے بنی نوعِ انسان! کانِ دل کھول کر سنو، ممکن ہے کہ اس سال کے بعد مجھے تمہارے درمیان اس مقامِ شوق و عرفان پر بارِ دیگر جلوہ گر ہونے کا موقع نہ ملے۔
افقِ عرفات پر آفتابِ رسالت اپنی ضیاپاشیوں کے ساتھ جلوہ گر ہیں، اور پیغمبرِ انقلاب ﷺ انسانی مساوات، عدل و اخلاق کے ازلی و ابدی منشور کا اعلان فرما رہے ہیں۔ایک بحرِ انسانیت موج زن ہے—ایک لاکھ سے متجاوز عشاقِ نبوی ﷺ میدانِ عرفات کی وسعتوں میں سرِ نیاز خم کیے، دل و جان سے گوش بر آواز ہیں، کہ محبوبِ دو عالم ﷺ کا اگلا کلمۂ جاوداں کیا ہوگا؟
روایت میں آتا ہے کہ:
اِذَا کَانَ یَوْمُ الْحَجِّ اَتٰی رَسُولُ ﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَرَفَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتّٰی اِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ، اَمَرَ بِالْقَصْوَآءِ فَرُحِلَتْ لَهٗ، فَاَتٰی بَطْنَ الْوَادِیْ، فَخَطَبَ النَّاسَ خُطْبَتُهُ الَّتِیْ بَیَّنَ فِیْهَا مَا بَیَّنَ"
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ
اَیُّهَا النَّاسُ! اِسْمَعُوْا قَوْلِیْ، فَاِنِّیْ لَا اَرَانِیْ وَ اِیَّاکُمْ اَنْ نَجْتَمِعَ فِیْ ھٰذَا الْمَجْلِسِ اَبَدًا بَعْدَ عَامِیْ ھٰذَا
اے لوگو! میرے کلمات کو پوری سنجیدگی اور غور و فکر سے سنو، کیونکہ میرا یقین ہے کہ شاید آئندہ کبھی ہماری نگاہیں اور وجود اس مجلس میں اس طرح یکجا نہ ہوں، اور یہ ممکن ہے کہ اس سال کے بعد میں تمہارے درمیان حج کے اس مبارک اجتماع میں دوبارہ حاضر نہ ہو سکوں۔
اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّ ﷲَ یَقُوْلُ: یٰـٓاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ ﷲِاَتْقٰـکُمْ. فَلَیْسَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ فَضْلٌ، وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَبْیَضَ، وَلَا لِاَبْیَضَ عَلٰی اَسْوَدَ فَضْلٌ اِلَّا بِالتَّقْوٰی
اے لوگو! سنو اور دل میں اتار لو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قوموں، جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو اور ایک دوسرے کے ساتھ تعامل اور آشنائی رکھو۔ اور بیشک تم میں سب سے زیادہ عزت و وقار والا خدا کی نظر میں وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار اور اللہ سے ڈرنے والا ہے۔پس نہ کسی عرب کو کسی عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے، نہ کسی عجمی کو کسی عرب پر، نہ کالا کسی گورے پر، نہ گورا کسی کالے پر، اور نہ ہی کسی انسان کی عظمت اور برتری کسی رنگ یا نسل سے وابستہ ہے۔ہاں! جس کے پاس تقویٰ ہو، وہی سب سے بلند مقام پر ہے، وہی حقیقی کرامت و عظمت کا مالک ہے۔
اَلنَّاسُ مِنْ اٰدَمَ وَ اٰدَمُ مِنْ تُرَابٍ، اَلاَ کُلُّ مِأْثَرَۃٍ اَوْ دَمٍ اَوْ مَالٍ یُدَّعٰی بِہٖ فَهُوَ تَحْتَ قَدَمَیَّ هَاتَیْنِ اِلَّا سَدَانَۃُ الْبَیْتِ وَ سَقَایَۃُ الْحَاجِّ
لوگو! جان لو کہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم خود مٹی کا پیدا کیا گیا۔ پس اب ہر وہ دعویٰ جس میں کسی فضیلت، کسی خون کی حرمت یا کسی مال کی طلب شامل ہو، سب میرے دونوں پاؤں کے نیچے روند دیا گیا ہے۔ ہاں، صرف بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کا شرف باقی رہ گیا ہے، جو ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! لَا تَجِیْؤُا بِالدُّنْیَا تَحْمِلُوْنَهَا عَلٰی رِقَابِکُمْ، وَ یَجِئُ النَّاسُ بِالْاٰخِرَۃِ، فَلَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ ﷲِشَیْئًا
اے قریش کے لوگو! خیال رکھو کہ اس مقام پر تم اس طرح حاضر نہ ہو جاؤ کہ تمہاری گردنوں پر دنیا کا بوجھ سوار ہو اور لوگ آخرت کا سامان لے کر پہنچیں۔ اگر ایسا ہوا تو میں، تمہارے لیے، اللہ کے حضور کسی کام کا نہیں رہوں گا۔
یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ! اِنَّ ﷲَ قَدْ اَذْهَبَ عَنْکُمْ نَخْوَةَ الْجَاهِلِیَّۃِ، وَ تَعَظُّمَهَا بِالْاٰبَاءِ
اے قریش کے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان موجود اس جھوٹی نخوت اور جاہلیت کی غرور آمیز بڑائی کو یکسر مٹا دیا ہے، اور باپ دادا کے کارناموں پر تمہارے فخر و مباہات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی۔
اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّ دِمَائَکُمْ وَ اَمْوَالَکُمْ وَ اَعْراضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ، اِلٰی اَنْ تَلْقَوْا رَبَّکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ هٰذَا، وَ کَحُرْمَۃِ شَهْرِکُمْ هٰذَا، فِیْ بَلَدِکُمْ هٰذَا، وَ اِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ، فَیَسْئَلُکُمْ عَنْ اَعْمَالِکُمْ
لوگو! تمہارے خون، مال اور عزتیں ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر حرام قرار دی گئی ہیں۔ ان چیزوں کی حرمت اور وقار وہی ہے جو اس دن کی حرمت، اس ماہِ مبارک (ذی الحجہ) کی تقدیس اور اس شہر کی عظمت میں چھپی ہے۔ یقیناً تم سب اپنے رب کے حضور پیش ہو جاؤ گے، اور وہ تم سے تمہارے اعمال کا حساب لے گا۔
اَلاَ! فَـلَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ ضُلَّا لًا یَّضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
دیکھو کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں ہی کشت و خون کرنے لگو۔
پیغمبرِ انقلابﷺ نے اَفرادِ معاشرہ کے حقوق کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے فرمایا:
اَیُّهَا النَّاسُ! کُلُّ مُّسْلِمٍ اَخُوا الْمُسْلِمِ، وَ اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ اِخْوَۃٌ
لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
اَرِقَّآئَکُمْ اَرِقَّائَکُمْ، اَطْعِمُوْهُمْ مِمَّا تَاْکُلُوْنَ، وَاکْسُوْهُمْ مِمَّا تَلْبَسُوْنَ
اپنے غلاموں کا خیال رکھو، ہاں غلاموں کا خیال رکھو، انھیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، ایسا ہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔
حضور نبی کریمﷺ نے لاقانونیت کی بیخ کنی ان الفاظ میں کی:
اَلاَ! کُلُّ شَیْئٍ مِنْ اَمْرِ الْجَاهِلِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمَیَّ مَوْضُوْعٌ، وَ دِمَاءَ الْجَاهِلِیَّۃِ مَوْضُوْعَۃٌ، وَ اِنَّ اَوَّلَ دَمٍ اَضَعُ مِنْ دِمَآئِنَا دَمُ ابْنِ الرَّبِیْعَۃِ بْنِ الْحَارِثِ، وَ کَانَ مُسْتَرْضَعًا فِیْ بَنِیْ سَعْدٍ، فَقَتَلَهٗ هُذَیْلٌ
دورِ جاہلیت کا سب کچھ میں نے اپنے پیروں تلے روند دیا، زمانہ جاہلیت کے خون کے تمام انتقام کالعدم ہیں۔ سب سے پہلا جو میں ختم کرتا ہوں، وہ میرے ہی خاندان کا ہے: ربیعہ بن حارث کے دودھ پیتے بیٹے کا خون، جسے بنو ہذیل نے مار ڈالا تھا۔ اب میں اس کو معاف کرتا ہوں۔
وَ رِبَا الْجَاهِلِیَّۃِ مَوْضُوْعٌ، وَ اَوَّلُ رِبًا اَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطْلِبِ، فَاِنَّهٗ مَوْضُوْعٌ کُلَّهٗ
اب دورِ جاہلیت کا سود یکسر کالعدم قرار دیا گیا ہے، اور سب سے پہلا جو میں ختم کرتا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کے خاندان کا ہے۔
زوجین کے باہمی حقوق کے متعلق راہنمائی فراہم کرتے ہوئے فرمایا کہ:
اَلاَ! لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ اَنْ تُعْطِیَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِہٖ. اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّ لَکُمْ عَلٰی نِسَآئِکُمْ حَقًّا، وَ لَهُنَّ عَلَیْکُمْ حَقًّا، لَکُمْ عَلَیْهِنَّ اَلَّا یُوْطِئْنَ فَرْشَکُمْ اَحَدًا تَکْرَهُوْنَهٗ، وَ عَلَیْهِنَّ اَنْ لَّا یَاتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ، فَاِنْ فَعَلْنَ فَاِنَّ ﷲَ قَدْ اَذِنَ لَکُمْ اَنْ تَهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اَنْ تَضْرِبُوْا ضَرْبًا غَیْرَ مُبْرَحٍ، فَاِنِ انْتَهَیْنَ فَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَکِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْروْفِ
عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کا مال اس کی اجازت کے بغیر دے۔ لوگو! تمہارے عورتوں پر حقوق ہیں اور ان کے اوپر تمہارے حقوق ہیں۔ تمہارے حق میں یہ ہے کہ وہ کسی کو اپنے بستر پر نہ بلائیں اور ان پر یہ ہے کہ وہ فاحشہ نہ کریں۔ اگر فاحشہ کریں تو خدا کی اجازت کے ساتھ تم انہیں معمولی جسمانی سزا دے سکتے ہو، اور اگر باز آئیں تو تم انہیں رزق و لباس نیک نیتی کے ساتھ دو۔
’’
حقوقِ نسواں کے حوالے سے واشگاف الفاظ میں اعلان فرمایا کہ:
وَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآءِ خَیْرًا، فَاِنَّهُنَّ عَوَانٍ لَکُمْ لَا یَمْلِکْنَ لِاَنْفُسِهِنَّ شَیْئًا، فَاتَّقُوا ﷲَ فِی النِّسَآءِ، فَاِنَّکُمْ اَخذْ تُمُوْهُنَّ بِاَمَانِ ﷲِ، وَاسْتَخْلَلْتُمْ فُرُوْجَهُنَّ بِکَلِمَاتِ ﷲِ
عورتوں سے بھلائی کا سلوک کرو، کیونکہ وہ تمہارے تابع ہیں اور اپنے لیے خود کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ پس تم خدا کی پروا کرو، کیونکہ تم نے انہیں خدا کے نام پر حاصل کیا اور اسی کے نام پر وہ تمہارے لیے حلال ہیں۔
اَلاَ! فَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ، وَ صَلُّوْا خَمْسَکُمْ، وَ صُوْمُوْا شَهْرَکُمْ، وَ اَدُّوْا زَکوٰةَ اَمْوَالِکُمْ طَیِّبَۃً بِهَا اَنْفُسُکُمْ، وَ تَحُجُّوْا بَیْتَ رَبِّکُمْ، وَ اَطِیْعُوْا وَلَاةَ اَمْرِکُمْ، تَدْخُلُوْا جَنَّةَ رَبِّکُمْ
لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز ادا کرو، مہینے بھر روزے رکھو، زکوٰۃ خوش دلی سے دو، خدا کے گھر کا حج ادا کرو اور اہلِ امر کی اطاعت کرو، تاکہ تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو ۔
وَ اَنْتُمْ تُسْأَلُوْنَ عَنِّیْ، فَمَا ذَا اَنْتُمْ قَائِلُوْنَ؟ قَالُوْا: نَشْهَدُ اِنَّکَ قَدْ اَدَّیْتَ الْاَمَانَةَ، وَ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ، وَ نَصَحْتَ
اور لوگو! تم سے میرے بارے میں (خدا کے ہاں) سوال کیا جائے گا، بتاؤ تم کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے امانتِ (دین) پہنچا دی اور آپ نے حقِ رِسالت ادا فرما دیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔
فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِاَصْبُعِهِ السَّبَّابَۃِ یَرْفَعُهَا اِلَی السَّمَآءِ وَ یَنْکُتُهَا اِلَی النَّاسِ: اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ
یہ سن کر حضورﷺ نے اپنی انگشتِ شہادت آسمان کی جانب اٹھائی اور لوگوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ دعا فرمائی: ’’خدایا گواہ رہنا! خدایا گواہ رہنا! خدایا گواہ رہنا۔

سبحان اللہ
جواب دیںحذف کریں