پیغمبرِ اسلامﷺ کا سفرِ حج




 فریضۂ نبوت کی تکمیل اور ابلاغِ ما أُنزل اللہ کے فرائضِ جلیلہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہوئے تاجدارِ کائنات، ختم الرسل، سیّد المرسلین ﷺ نے اپنے سفرِ حیات کی آخری منزل یعنی "سفرِ حج"  کا عزم فرمایا۔ آپﷺ کے ساتھ اصحابِ صفا و وفا کا ایک جمِّ غفیر اس بابرکت مہمِ عبادت میں شریک ہوا، تا آنکہ بیت اللہ کی زیارت و طواف کے منازل طے ہوں اور اسوۂ نبوی کی عملی تصویر اہلِ ایمان کے قلوب میں نقش ہو جائے۔

حضرتِ جابرؓ، جو مشاہدۂ مستقیم کے امین اور واقعاتِ حج کے ناقلِ صادق ہیں، فرماتے ہیں کہ جب ان سے رسول اکرم ﷺ کے حج کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے ہاتھ کی انگلیوں پر شمار کرتے ہوئے نو تک گنتی کی اور فرمایا:

اے فرزند! حقیقتِ حال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو نو برس تک حج سے توقف فرمایا، یہاں تک کہ دسویں ہجری میں عام منادی کرا دی کہ اس سال آپ ﷺ حج کے لیے روانہ ہوں گے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی ہر سمت سے قافلے مدینہ کی طرف امڈ آئے۔ عاشقانِ رسالت کا دل ایک ہی آرزو سے معمور تھا کہ وہ اس سفرِ سعادت میں حضور ﷺ کے ہم رکاب ہو جائیں، اور ہر وہ عمل بجا لائیں جو آنحضرت ﷺ کو بجا لاتے دیکھیں۔

بالآخر وہ ساعتِ مسعود بھی آن پہنچی کہ قافلۂ نبوی ﷺ مدینہ منورہ سے کوچ کر کے ذوالحلیفہ کے مقام پر جا ٹھہرا۔ اسی مقام پر ایک دن قیام کیا گیا، اور دوسرے روز جب نبی مکرم ﷺ نے نمازِ ادا فرما لی تو اپنی نازنین اونٹنی "قصواء"  پر سوار ہوئے۔ یہ مطیع و وفادار اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر بیداء کے بلند و بالا میدان تک پہنچی۔

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ بیداء کی رفعت سے میں نے جب چاروں اطراف نظر دوڑائی تو منظر ایسا تھا کہ نگاہ کی رسائی جہاں تک پہنچ سکتی تھی وہاں تک انسانوں کا سیلاب ہی سیلاب موجزن تھا۔ آگے پیچھے، دائیں بائیں—کہیں سوار، کہیں پیادہ—بس ہجومِ مومن تھا۔ اور اس ہجوم کے عین وسط میں رسولِ خدا ﷺ جلوہ بار تھے، وہ ہستی جس پر کلامِ الٰہی کا نزول ہوتا تھا اور جو اس کے اسرار و معانی سے سب سے زیادہ باخبر تھے۔ پس، آپ ﷺ جو بھی فعل بجا لاتے، ہم بلا چون و چرا اس کی اتباع کرتے۔

یہاں پہنچ کر رسول اکرم ﷺ نے صدائے توحید و تلبیہ کو بلند فرمایا کہ:

لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ

لبیک! اے پروردگارِ مطلق، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں! بے شک حمد و ثنا بس تیری جناب کے شایانِ شان ہے، نعمت و احسانات سب تیرے ہی فیضان ہیں، اور بادشاہی سراسر تیرے ہی تصرّف میں ہے، تیرا کوئی شریک و سہیم نہیں۔


حضرت جابرؓ اس منظر کو بیان کرتے ہوئے گویا ہیں کہ حقیقتاً اس مبارک سفر میں ہماری نیت محض ادائے فریضۂ حج تھی، نہ کسی اور غرض کی آمیزش، نہ کسی دنیوی لالچ کا شائبہ۔ جب قافلۂ قدس نبی اکرم ﷺ کی قیادت میں وادیٔ مکّہ میں داخل ہوا اور حریمِ کعبہ کی رفعتوں نے اپنے جلو میں لیا تو سب سے پہلا عمل یہ تھا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے حجرِ اسود کو اپنے دستِ مبارک سے استلام فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے طوافِ بیت اللہ کا آغاز فرمایا۔


اس روحانی طواف کے ابتدائی تین چکروں میں آپ ﷺ نے رَمَل فرمایا—یعنی مردانگی و جلالت کے جوش سے، مومن کی ہیبت اور دین کے رعب کے ساتھ تیز قدم اٹھائے، پھر باقی چار چکروں میں وقار و سکینت کے ساتھ معمولی رفتار میں گامزن ہوئے۔ اس کے بعد آپ ﷺ مقامِ ابراہیمؑ پر تشریف لائے، وہ مقام جو یادگارِ خلیل ہے، اور جہاں نداے ازلی تلاوت کی صورت میں آپ ﷺ کی زبانِ اقدس سے یوں جاری ہوئی: 

وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلّٰی

اور مقامِ ابراہیم کو اپنے لئے جائے عبادت ٹھہرا لو۔


پس آفتابِ نبوت ﷺ یوں صفِ قیام میں جلوہ افروز ہوئے کہ مقامِ خلیل علیہ السلام آپ کے اور بیت اللہ کے عین مابین تھا، اور اسی موضعِ مبارک پر آپ ﷺ نے دو رکعتیں معبودِ برحق کے حضور پیش کیں۔ ان دو رکعتوں میں آپ ﷺ نے ایک طرف سورۃ الکافرون کی صداے برہان سے شرک کی جڑوں کو کاٹ ڈالا، اور دوسری طرف سورۃ الاخلاص کی نغمۂ توحید سے وحدانیتِ ایزدی کا پرچم بلند فرمایا۔


اس کے بعد آپ ﷺ دوبارہ حجرِ اسود کی سمت مراجعت فرما کر استلام سے اپنی عقیدت و عبادت کے باب کو پھر تازگی عطا کی۔ پھر آپ ﷺ بیت اللہ کے ایک دروازے سے نکل کر صفا کی سمت متوجہ ہوئے۔ جب صفا کے قریب آ پہنچے اور اس کی رفعتیں آپ کے قدموں کو بوسہ دینے لگیں، تو آپ ﷺ کی زبانِ قدس سے یہ آیۂ کریمہ ترنم کی صورت میں پھوٹ نکلی: 

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِ
بے شک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔

پھر پیغمبرِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا:


أَبْدَأُ بِمَا بَدَاءَ اللّٰهُ بِهِ

یعنی، میں اپنی سعیٔ صفا کا آغاز اسی طرح کرتا ہوں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے ذکر سے شروع فرمایا۔


پس آفتابِ نبوت ﷺ صفا کی بلندیوں پر جلوہ افروز ہوئے، اور اس چڑھائی کی رفعت سے بیت اللہ کی قدوسیت آپ کے قدموں میں آشکار ہوئی۔ آپ ﷺ نے قبلے کی طرف رخ کیا، اور آنکھِ تقدس سے اس کی سمت اختیار کی۔ پھر آپ ﷺ اپنی روحانی و معنوی حالت میں غرقِ توحید و تکبیر ہو گئے اور زبانِ اقدس سے تلبیہ و تسلیم کی صدا بلند فرمائی:

لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئً قَدِیْرٌ، لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ اَنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ

بے شک اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے اور اس کا کوئی ہمسر و شریک نہیں، تمام اقتدار اسی کی ملکیت ہے، تمام حمد و ثنا اور شکرگزاری کا حق بھی اسی کو ہے، اور وہ ہر شے پر بلا نقص قادر و توانا ہے۔ بے شک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے جس نے اپنے وعدے کو پورا کیا، اپنے بندے کی مدد فرمائی، اور اکیلا تمام کافر گروہوں پر فتح و غلبہ پایا۔

پھر سرورِ کائنات ﷺ صفا کی رفعت سے نازل ہوئے اور مروہ کی جانب روانہ ہوئے۔ مروہ کی بلندیوں پر پہنچ کر آپ ﷺ نے وہی مراعات روحانی، رموز توحید و تکبیر اور تسبیح و تقدیس انجام دی جو صفا کی پہاڑیوں پر انجام دی تھیں۔
آخر کار، جب آپ ﷺ نے اپنے آخری چکر کو مکمل کیا اور مروہ کی چوٹی پر قدم رکھا، تو نگاہِ رحمت سے اپنے رفقاءِ سفر کی طرف دیکھا جو نشیب میں جمع تھے، اور ان پر خطاب فرمایا: 
لَوِ اسْتَقْبَلْتُ من أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ؛ ما أَهْدَيْتُ، ولولا أن معي الهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ


"اگرچہ میرے دل میں ابتدائی تصور یہ تھا کہ ہدی کے جانور کو میرے ساتھ لیا جائے، لیکن جب حقیقتِ اعمال اور سعیٔ صفا و مروہ کا شعور مجھ پر منکشف ہوا تو دل میں ارادہ یہ پیدا ہوا کہ اگر یہ آگاہی پیشتر ہوتی تو میں ہدی کو ساتھ نہ لاتا اور اس فریضۂ طواف و سعی کو عمرہ کے سلسلے میں محدود کر دیتا، احرام کھول دیتا اور اسے حج کے عمرے سے علیحدہ قرار دے دیتا۔"
یوم الترویہ، یعنی ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ کو، سب لوگ منیٰ کی جانب روانہ ہوئے۔ وہ حضرات جنہوں نے پہلے ہی عمرہ کے طواف و سعی مکمل کر لیے تھے، احرام کھول چکے تھے، لیکن نبی اکرم ﷺ اپنے فرشتے نما قصویٰ اونٹنی پر سوار ہو کر منیٰ کی جانب روانہ ہوئے، تاکہ حج کے رکن عظیم کی ادائیگی اور احرام کی روحانی عظمت کا مظاہرہ ہو۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی