اے فرزند! حقیقتِ حال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو نو برس تک حج سے توقف فرمایا، یہاں تک کہ دسویں ہجری میں عام منادی کرا دی کہ اس سال آپ ﷺ حج کے لیے روانہ ہوں گے۔
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ
لبیک! اے پروردگارِ مطلق، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں! بے شک حمد و ثنا بس تیری جناب کے شایانِ شان ہے، نعمت و احسانات سب تیرے ہی فیضان ہیں، اور بادشاہی سراسر تیرے ہی تصرّف میں ہے، تیرا کوئی شریک و سہیم نہیں۔
حضرت جابرؓ اس منظر کو بیان کرتے ہوئے گویا ہیں کہ حقیقتاً اس مبارک سفر میں ہماری نیت محض ادائے فریضۂ حج تھی، نہ کسی اور غرض کی آمیزش، نہ کسی دنیوی لالچ کا شائبہ۔ جب قافلۂ قدس نبی اکرم ﷺ کی قیادت میں وادیٔ مکّہ میں داخل ہوا اور حریمِ کعبہ کی رفعتوں نے اپنے جلو میں لیا تو سب سے پہلا عمل یہ تھا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے حجرِ اسود کو اپنے دستِ مبارک سے استلام فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے طوافِ بیت اللہ کا آغاز فرمایا۔
اس روحانی طواف کے ابتدائی تین چکروں میں آپ ﷺ نے رَمَل فرمایا—یعنی مردانگی و جلالت کے جوش سے، مومن کی ہیبت اور دین کے رعب کے ساتھ تیز قدم اٹھائے، پھر باقی چار چکروں میں وقار و سکینت کے ساتھ معمولی رفتار میں گامزن ہوئے۔ اس کے بعد آپ ﷺ مقامِ ابراہیمؑ پر تشریف لائے، وہ مقام جو یادگارِ خلیل ہے، اور جہاں نداے ازلی تلاوت کی صورت میں آپ ﷺ کی زبانِ اقدس سے یوں جاری ہوئی:
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلّٰی
اور مقامِ ابراہیم کو اپنے لئے جائے عبادت ٹھہرا لو۔
پس آفتابِ نبوت ﷺ یوں صفِ قیام میں جلوہ افروز ہوئے کہ مقامِ خلیل علیہ السلام آپ کے اور بیت اللہ کے عین مابین تھا، اور اسی موضعِ مبارک پر آپ ﷺ نے دو رکعتیں معبودِ برحق کے حضور پیش کیں۔ ان دو رکعتوں میں آپ ﷺ نے ایک طرف سورۃ الکافرون کی صداے برہان سے شرک کی جڑوں کو کاٹ ڈالا، اور دوسری طرف سورۃ الاخلاص کی نغمۂ توحید سے وحدانیتِ ایزدی کا پرچم بلند فرمایا۔
اس کے بعد آپ ﷺ دوبارہ حجرِ اسود کی سمت مراجعت فرما کر استلام سے اپنی عقیدت و عبادت کے باب کو پھر تازگی عطا کی۔ پھر آپ ﷺ بیت اللہ کے ایک دروازے سے نکل کر صفا کی سمت متوجہ ہوئے۔ جب صفا کے قریب آ پہنچے اور اس کی رفعتیں آپ کے قدموں کو بوسہ دینے لگیں، تو آپ ﷺ کی زبانِ قدس سے یہ آیۂ کریمہ ترنم کی صورت میں پھوٹ نکلی:
اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِ
بے شک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔
پھر پیغمبرِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
أَبْدَأُ بِمَا بَدَاءَ اللّٰهُ بِهِ
یعنی، میں اپنی سعیٔ صفا کا آغاز اسی طرح کرتا ہوں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے ذکر سے شروع فرمایا۔
پس آفتابِ نبوت ﷺ صفا کی بلندیوں پر جلوہ افروز ہوئے، اور اس چڑھائی کی رفعت سے بیت اللہ کی قدوسیت آپ کے قدموں میں آشکار ہوئی۔ آپ ﷺ نے قبلے کی طرف رخ کیا، اور آنکھِ تقدس سے اس کی سمت اختیار کی۔ پھر آپ ﷺ اپنی روحانی و معنوی حالت میں غرقِ توحید و تکبیر ہو گئے اور زبانِ اقدس سے تلبیہ و تسلیم کی صدا بلند فرمائی:
لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئً قَدِیْرٌ، لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ اَنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ
بے شک اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے اور اس کا کوئی ہمسر و شریک نہیں، تمام اقتدار اسی کی ملکیت ہے، تمام حمد و ثنا اور شکرگزاری کا حق بھی اسی کو ہے، اور وہ ہر شے پر بلا نقص قادر و توانا ہے۔ بے شک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے جس نے اپنے وعدے کو پورا کیا، اپنے بندے کی مدد فرمائی، اور اکیلا تمام کافر گروہوں پر فتح و غلبہ پایا۔
آخر کار، جب آپ ﷺ نے اپنے آخری چکر کو مکمل کیا اور مروہ کی چوٹی پر قدم رکھا، تو نگاہِ رحمت سے اپنے رفقاءِ سفر کی طرف دیکھا جو نشیب میں جمع تھے، اور ان پر خطاب فرمایا:
لَوِ اسْتَقْبَلْتُ من أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ؛ ما أَهْدَيْتُ، ولولا أن معي الهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ
یوم الترویہ، یعنی ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ کو، سب لوگ منیٰ کی جانب روانہ ہوئے۔ وہ حضرات جنہوں نے پہلے ہی عمرہ کے طواف و سعی مکمل کر لیے تھے، احرام کھول چکے تھے، لیکن نبی اکرم ﷺ اپنے فرشتے نما قصویٰ اونٹنی پر سوار ہو کر منیٰ کی جانب روانہ ہوئے، تاکہ حج کے رکن عظیم کی ادائیگی اور احرام کی روحانی عظمت کا مظاہرہ ہو۔
