تحریر:✍️اعجاز میر
ارضِ انبیاء کی تقدیر کا فیصلہ نہ واشنگٹن کے ایوانوں میں ہوگا، نہ نیویارک کی سفارتی میزوں پر اور نہ ہی یروشلم کے سوداگر طے کریں گے۔ یہ فیصلہ صرف ان لوگوں کا ہے جو اس مقدس سرزمین کے مکین ہیں، جن کے آبا نے وہاں اذانیں دیں اور جن کے بچے آج بھی گولیوں اور بارود کے سائے میں آزادی کے خواب دیکھتے ہیں۔ تاریخ کا ہر ورق گواہ ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو عالمی طاقتوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کے توازن پر تولنے کی کوشش کی، مگر اصل حقیقت یہی ہے کہ کوئی بھی فارمولا اس وقت تک معتبر نہیں ہو سکتا جب تک وہ فلسطینی عوام کی امنگوں اور قربانیوں کی ترجمانی نہ کرے۔
روز مولانا فضل الرحمن نے اپنی پریس کانفرنس میں اسی حقیقت کو دوٹوک الفاظ میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ ان کے بقول "دو ریاستی حل" دراصل اسرائیل کو جائز ماننے کی چال ہے اور فلسطینی عوام خصوصاً حماس کو شامل کیے بغیر کوئی فیصلہ بھی ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دیا اور اعلان کیا کہ پاکستان سمیت امتِ مسلمہ کے باشعور طبقات اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ یہ وہی موقف ہے جو پاکستان کے نظریے اور عوامی جذبات کی اصل ترجمانی ہے۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور عسکری قیادت کے رویے اس موقف کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ شہباز شریف ہوں یا جنرل عاصم منیر، ان کے بیانات اور سفارتی طرزِ عمل میں اسرائیل کو بالواسطہ تسلیم کرنے کی جھلک ملتی ہے۔ کبھی بین الاقوامی اجلاسوں میں اسرائیلی یا امریکی وفود کے ساتھ بیٹھکیں، کبھی "دو ریاستی حل" کی گردان اور کبھی دباؤ کے سامنے خاموشی – یہ سب رویے پاکستان کے نظریاتی تشخص کو مجروح کرتے ہیں۔ عوام کے جذبات ان سے بالکل مختلف ہیں، کیونکہ پاکستان کے گلی کوچوں میں آج بھی ایک ہی صدا بلند ہے: اسرائیل نامنظور۔
یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کا قیام کسی جغرافیائی سہولت پر نہیں بلکہ ایک نظریے پر ہوا تھا۔ قراردادِ لاہور سے قراردادِ مقاصد تک ہم نے ہمیشہ یہ عہد کیا کہ مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے صاف کہا تھا کہ فلسطین پر یہودی قبضہ امنِ عالم کے خلاف ایک سازش ہے۔ یہی جملہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اصل بنیاد ہے۔ اگر آج کوئی حکمران یا ادارہ "دو ریاستی فارمولے" کی آڑ میں اسرائیل کو قبول کرنے کی راہ نکالتا ہے تو یہ فلسطین سے ہی نہیں بلکہ خود پاکستان کے نظریے سے بھی غداری ہوگی۔
مولانا فضل الرحمن نے اس حقیقت کو یاد دلایا کہ فلسطین کا فیصلہ صرف اور صرف فلسطینی عوام کریں گے، امریکہ یا یورپ نہیں۔ یہ وہ پیغام ہے جو کروڑوں پاکستانیوں کے دل کی آواز ہے اور جو ہماری نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران اپنی پالیسیوں کو امریکی دباؤ سے آزاد کریں اور وہی راستہ اپنائیں جو ہمارے اکابر نے دکھایا تھا۔ اگر آج ہم نے اسرائیل کو کسی بھی شکل میں تسلیم کرنے کا قدم اٹھایا تو یہ تاریخ کے سب سے بڑے دھوکے کے مترادف ہوگا۔
انبیاء کی تقدیر کا فیصلہ فلسطین کے عوام کریں گے اور دنیا کی کوئی طاقت اس فیصلے کو ان سے چھین نہیں سکتی۔ یہی سچائی ہے اور یہی پاکستان کا اٹل مؤقف ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(آلِ عمران: 139)
کمزور نہ پڑو اور غم نہ کھاؤ، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہو۔
اس طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا
(الحج: 38)
بے شک اللہ ایمان والوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے۔
یہی آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ارضِ انبیاء کی آزادی کا وعدہ اللہ کے نصرت کے ساتھ جڑا ہے، اور وہ دن دور نہیں جب فلسطین کے بچے آزاد فضا میں اذانیں دیں گے اور ظالم کا نام و نشان مٹ جائے گا۔
Tags:
عمومی مضامین
