غزوہِ تبوک


 

اور نہ ہی اُن مردانِ بے مایہ و فقر زدہ پر کوئی ملامت ہے، جو اس وقت بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے کہ  اے حبیبِ کبریاﷺ! ہمیں سواری عطا فرمائیے کہ ہم بھی لشکرِ ایمان کے ہمراہ جہاد کے میدان میں قدم رکھیں،مگر تاجدارِ کائناتﷺ نے بصد رقت و حزن ارشاد فرمایا کہ میرے پاس کوئی سامانِ سفر نہیں کہ جس پر تمہیں سوار کر سکوں۔یہ جواب سنتے ہی وہ دل شکستہ و حسرت کدہ قلوب لیے واپس پلٹے، اور ان کی دیدگاہوں سے آبِ مژگاں اس شدتِ غم سے بہہ نکلا کہ گویا فرطِ اندوہ میں صحرائے عرب کی ریت کو بھی تر کر جائے۔ وہ روتے جاتے تھے اور دل ہی دل میں اپنے مقدور و وسائل کی کمی پر نوحہ کناں تھے کہ ہائے! کاش ہمارے پاس اتنا زادِ راہ اور سرمایہ ہوتا کہ ہم بھی صفِ مجاہدین میں شامل ہو پاتے۔
حضراتِ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بارگاہِ مصطفوی میں دل و جان کی وسعتوں کے ساتھ اپنے اموال پیش کیے، ایثار و انفاق کا وہ نظارہ پیش کیا کہ گویا خزائنِ سخاوت کو درِ رسالت پر نچھاور کردیا۔ مگر اس کے باوجود پورے لشکرِ ایمان کے لیے سامانِ سفر اور سواریوں کی کفایت نہ ہوسکی۔چنانچہ متعدد جان نثارانِ نبوت، محض اس سبب سے جہاد کی صفوں میں شمولیت کا شرف حاصل نہ کرسکے کہ ان کے پاس نہ زادِ راہ تھا نہ مرکبِ سفر۔ یہ بے سروسامان عشاق، اضطرابِ دل اور تڑپتے ہوئے جذبات کے ساتھ دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ
یارسول اللہﷺ! ہمیں کوئی سواری عنایت فرما دیجیے تاکہ ہم بھی غازیانِ اسلام کے ہمراہ نکل سکیں۔

 مگر جب رحمتِ دو عالمﷺ نے بصد ملال ارشاد فرمایا:

میرے پاس کوئی سواری نہیں کہ تمہیں مہیا کرسکوں۔

 تو یہ پروانۂ شمعِ رسالت اپنی عسرت و بےکسی پر اس طرح بلبلا اُٹھے اور زار و قطار رونے لگے کہ آسمان بھی اس رقت آمیز منظر کا گواہ بنا۔ یہاں تک کہ ربِ کائنات نے ان کے اشکبار آنکھوں اور تڑپتے دلوں کا ذکر قرآنِ مجید میں ثبت فرما کر رہتی دنیا تک اُن کے حال کو امر کر دیا کہ:

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ۪ - تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ

اور اُن بے بس و بے نوا پروانوں پر کوئی مواخذہ نہیں، جن کے دل جہاد کی آرزو سے لبریز اور سینے جذبۂ قربانی سے معمور تھے۔ جب یہ اشتیاق و تڑپ کے عالم میں بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض گذار ہوئے کہ: یارسول اللہﷺ! ہمیں بھی کوئی سواری عطا فرما دیجیے کہ ہم بھی لشکرِ ایمان میں شامل ہوں اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے نکل کھڑے ہوں۔مگر جب شہنشاہِ کونینﷺ نے بصد ملال فرمایا:میرے پاس کوئی سواری نہیں جس پر تمہیں سوار کرسکوں۔تو یہ عشاقِ رسالت اشکبار نگاہوں اور شکستہ دلوں کے ساتھ پلٹ گئے۔ ان کے دیدۂ تر سے اشک اس شدت سے رواں ہوئے کہ ان کی ریشِ مبارک اور چہروں کی گرد آلود لکیریں بھیگ گئیں۔ یہ آنسو ان کے دلوں کی وہ سوزش اور اضطراب تھے جو اس غم سے بھڑکا کہ ہم اللہ کی راہ میں نکلنے کے خواہش مند ہیں مگر ہمارے پاس زادِ راہ اور خرچ نہیں۔ 

یہ وہ عظیم لمحۂ آزمائش ہے جو تاریخِ اسلام میں غزوۂ تبوک کے نام سے موسوم ہے۔تبوک — وہ سرزمین جو مدینہ طیبہ اور ملکِ شام کے مابین واقع ہے، اور مدینہ منورہ سے چودہ منازل کی مسافت پر ہے — جہاں کی خاک نے مجاہدینِ اسلام کے قدموں کے بوسے لیے۔

اس مہم کا پس منظر یہ تھا کہ شہنشاہِ رسالت مآبﷺ کو اطلاع ملی کہ غسانی حکمران، جو قیصرِ روم کے زیرِ اثر شام کی حکمرانی سنبھالے ہوئے تھا، عیسائی ہونے کے ناطے اپنے سرپرست قیصر کی ترغیب پر مدینہ منورہ پر فوج کشی کا عزم کر چکا ہے۔ قیصرِ روم نے شام کی سرحدوں پر ایک عظیم الشان لشکر آراستہ کیا اور فتنۂ عظیم کی آگ بھڑکانے کا منصوبہ تیار کر لیا۔

پیغمبرِ انقلابﷺ نے جب اس ناپاک سازش کی خبر سنی تو آپؐ کے عزمِ صادق اور بصیرتِ نبوی نے فوری طور پر ایک عظیم مہمِ جہاد کی تیاری کا حکم صادر فرمایا، تا کہ یہ فتنہ اپنی جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

یہ وقت آزمائشوں کا طوفان تھا — حجاز کی سرزمین قحطِ سالی کی بھٹی میں جھلستی تھی، سورج کی تپش گویا آسمان سے آگ برسا رہی تھی، کھجوروں کے خوشے سوکھ چکے تھے، پانی کی مشکیں خالی تھیں، لوگ فقر و فاقہ میں مبتلا اور گھروں میں نانِ جو کے دانے کو ترستے تھے۔ ایسے عالم میں گھر کی راحت اور سایۂ دیوار کو چھوڑ کر تپتے صحرا کی بے رحم ریت پر نکلنا نفوس پر گراں اور جان پر شاق گزرتا تھا۔

دوسری طرف مدینہ کے وہ نفاق آلود دل، جن کا پردہ پہلے ہی چاک ہو چکا تھا، نہ خود نکلنے پر آمادہ تھے اور نہ دوسروں کو نکلنے دیتے، بلکہ اہلِ ایمان کے حوصلے پست کرنے اور جہاد سے روکنے کے لیے عذر تراشتے تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود جب شہنشاہِ رسالت نے علمِ جہاد بلند کیا تو تیس ہزار نفوسِ قدسیہ پر مشتمل ایک جری اور جانثار لشکرِ اسلام تیار ہوگیا — ایسا لشکر جس کے لیے سواریاں اور آلاتِ حرب کا مہیا کرنا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔

چونکہ اہلِ حجاز قحط و عسرت کے مارے تھے، لہٰذا تاجدارِ مدینہﷺ نے ایک عام منادی کروائی، تمام قبائلِ عرب کو فوجی مدد اور مالی معاونت کی دعوت دی، اور صحابۂ کرامؓ سے ایثار و قربانی کے ساتھ کھلے دل سے چندہ پیش کرنے کی اپیل فرمائی۔ 

یہ وہ منظر ہے جس کی بارہا بازگشت آپ نے سنی ہوگی، وہ عظیم لمحہ جب ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی ساری دولت، گھر کے تمام اثاثے اور حتیٰ کہ اپنی بدن پوشاک بھی بارگاہِ نبوت میں پیش فرما دی۔ اور وہی لمحہ جب حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے آدھے مال کو اسی مقدس چندہ میں نذر کر دیا۔

منقول ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اپنے دل میں یہ خیال لیے ہوئے آئے کہ آج میں حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ سے سبقت لے جاؤں گا، کیونکہ آج کا دن اور کائنات کا یہ موقع، اور کیشانۂ فاروق میں اتفاقاً مال کی کثرت، سب کچھ ایک غیرمعمولی امتحان کی صفت رکھتا تھا۔

جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ سے دریافت فرمایا کہ:

 اے عمر! کتنا مال لائے اور کس قدر گھر پر چھوڑا؟

 تو حضرت عمرؓ نے عاجزی سے عرض کیا کہ:

یا رسول اللہﷺ! آدھا مال حاضر خدمت ہے اور آدھا اہل و عیال کے لیے گھر میں محفوظ رکھا ہے۔

پھر وہ لمحہ آیا جب یہی سوال صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ سے کیا گیا، تو انھوں نے دل و جان کی کامل نذر کے ساتھ عرض کیا کہ: 

اِدَّخَرْتُ اللّٰه وَرَسُوْلَہٗ
 میں نے اپنے گھر کا ہر ذرّہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے وقف کر دیا ہے۔

 یہ کلام سن کر رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی بارگاہِ اقدس میں ارشاد فرمایا کہ:

مَابَیْنَکُمَا مَا بَیْنَ کَلِمَتَیْکُمَا

 تم دونوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا تم دونوں کے کلاموں میں فرق ہے۔

حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس ایثار و سخاوت کی اعلیٰ مثال قائم کی کہ ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے، جو کہ مجاہدین کی سواری کے لیے ضروری تھے، اور ایک ہزار اشرفی، جو فوج کے اخراجات کے لیے مخصوص کی گئی تھیں، اپنی آستین میں بھر کر بارگاہِ نبوت میں پیش فرما دی۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ عظیم پیش کش کی گئی، تو رسولِ رحمت ﷺ کی نگاہیں ان کی سخاوت اور ایمان کی شدت پر متوجہ ہوئیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کے اس بلند پایہ ایثار کو قبول فرما کر اپنی مبارک زبان سے یہ دعا فرمائی:
اَللّٰھُمَّ ارْضِ عَنْ عُثْمَانَ فَاِنِّیْ عَنْہُ رَاضٍ
یعنی: "اے اللہ! تو عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راضی ہو جا، کیونکہ میں اس سے خوش ہو گیا ہوں۔"
یہ لمحہ گویا اس بات کا شاہکار ہے کہ ایثار اور قربانی کی اصل قیمت صرف مال کی مقدار میں نہیں، بلکہ دل کی نیک نیتی اور خلوص میں ماپی جاتی ہے۔ تاریخ اسلام میں حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی یہ مثال، سخاوت و نیکی کی روشن مناروں کی مانند ہمیشہ درخشاں رہے گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی