غزوہِ احد سے متعلق منٹگمری واٹ (Montgomery watt) کے خیالات کا تجزیہ


 غزوۂ اُحد اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم واقعہ ہے، جو مسلمانوں کی فوجی حکمت عملی اور ان کے نظریاتی شعور کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہوا۔ ابتدائی طور پر مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل ہوئی اور کفار کی صفیں درہم برہم ہو کر بھاگنے لگیں، مگر اس دوران ایک اجتہادئی لغزش نے جنگ کے رخ کو یکسر بدل دیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ، جو اس وقت کافروں کی جانب سے لڑ رہے تھے، نے مسلمانوں کی اس معمولی لغزش کا بھرپور فائدہ اُٹھایا اور پیچھے سے شدید حملہ کر کے مسلمانوں کی صفوں میں افراتفری مچا دی۔ نتیجتاً، مسلمانوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور یہ واقعہ اُن کے لیے عبرت کا سبب اور مستقبل کی حکمت عملیوں کی رہنمائی بن گیا۔

دیگر اسلامی موضوعات کی طرح، رسول اللہ ﷺ کی غزوات بھی مستشرقین کے لیے دلچسپی و توجہ سے خالی نہیں رہیں۔ انہوں نے ان پر اپنی خودساختہ تفصیلات پیش کی ہیں، جن میں تاریخی حقائق کے بجائے اکثر ذاتی مفروضات اور تشریحات شامل ہیں، اور ان کے ذریعے اسلام کے بنیادی اصولوں پر اعتراض کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مستشرقین کی یہ نگاہ، جو زیادہ تر مغربی تناظر اور اپنے فلسفیانہ مفروضات سے متاثر ہے، غزوات کی اصل حکمت، اخلاقی اور سماجی پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتی ہے، اور اس کے بجائے اسے محض ایک فوجی و سیاسی تحریک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

منٹگمری واٹ ایک معروف مورخ اور مستشرق ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مکی اور مدنی زندگی کو علیحدہ علیحدہ موضوع بحث بنایا۔ انہوں نے اس سلسلے میں دو اہم کتابیں تصنیف کیں: Muhammad at Mecca اور Muhammad at Madina، جن میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور ابتدائی مسلمانوں پر گہرے تنقیدی تبصرے کیے۔ خاص طور پر مدنی زندگی کے ضمن میں، واٹ نے رسول اللہ ﷺ کی قیادت، سیاسی حکمت عملی اور غزوات پر مفصل کلام کیا، اور اس تجزیے میں غزوۂ اُحد بھی ایک مرکزی موضوع کے طور پر سامنے آیا۔ ان کی تحقیقات میں یہ کوشش نظر آتی ہے کہ مسلمانوں کی فوجی اور نظریاتی کارکردگی کو مغربی نقطۂ نظر سے پرکھا جائے، اور اس کے ذریعے اسلام کے تاریخی اور اخلاقی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے جائیں۔ 
واٹ نے ابتداء ہی میں یہ تصور عام کرنے کی کوشش کی کہ اگرچہ ابتدائی اسلامی مصادر میں غزوۂ اُحد کے بارے میں کثیر مواد موجود ہے، مگر اکثر تفصیلات جزوی نوعیت کی ہیں اور چھوٹی چھوٹی روایات کے گرد گھومتی ہیں، جو کسی فرد کی شجاعت، بہادری یا غلطیوں کو نمایاں کرتی ہیں۔ بعض اوقات یہ تفصیلات ذرائع یا متعلقہ خاندانوں کی جانب سے بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ایک مکمل اور شفاف تصویر حاصل کرنا مشکل ہو جاتی ہے۔ واٹ نے اسی بنیاد پر غزوۂ اُحد کی تفصیلات کی صداقت پر سوال اٹھانے کی کوشش بھی کی، تاہم آگے چل کر انہوں نے جنگ کی مجموعی صورتحال بھی بیان کی۔ ان کے مطابق، مکہ کی فوج نے وادی العقیق کے راستے سے پیش قدمی کی اور احد کے پہاڑ کے شمال میں مدینہ کے قریب کیمپ لگایا۔ اس خبر کی اطلاع مسلمانوں تک فوراً پہنچی، اور مدینہ کے کئی بزرگ و انصار رات بھر رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر پہرہ دیتے رہے، تاکہ دشمن کی ممکنہ پیش قدمی کے خلاف شہر محفوظ رہے۔ 

مدینہ میں جنگ کی تیاری کے سلسلے میں ایک اہم مشاورتی کونسل منعقد ہوئی، جس میں مختلف رائے اور موقف سامنے آئے۔ بعض بزرگ رسول اللہ ﷺ کو  یہ مشورہ دے رہے تھے کہ شہر کے مرکز میں رہ کر دشمن کو گھیرنا زیادہ محفوظ اور مؤثر ہوگا، تاکہ مدینہ کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے برعکس، نوجوانوں اور دیگر معتبر افراد کا موقف تھا کہ اگر مسلمان دشمن کے سامنے پیچھے ہٹ جائیں تو قبائل میں ان کی بدنامی ہوگی اور جنگی حوصلہ متاثر ہوگا۔ آخرکار، رسول اللہ ﷺ نے باہر نکلنے کا فیصلہ فرمایا اور اس پر ثابت قدم رہے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ایک نبی نے جب ہتھیار اٹھائے ہیں تو انہیں اللہ کی مرضی کے تحت ہی اتارنا چاہیے، اور انہیں اپنے فوجیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے عملی قیادت بھی فراہم کرنی ہے۔

مسلمانوں نے اپنی دفاعی پوزیشن کے لیے میدان میں اہم نقاط پر کنٹرول قائم کیا، اور بائیں جانب کچھ تیر انداز، حضرت عبداللہ بن جبیّر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں موجود تھے۔ جنگ کے آغاز میں مسلمانوں نے دشمن کے فوجیوں کو پسپا کر دیا اور ابتدائی کامیابی حاصل کی، جس سے مسلمان دلیرانہ جوش و ولولے میں مبتلا ہو گئے۔ مگر حالات جلد ہی تبدیل ہو گئے۔ خالد بن ولید کی قیادت میں مکہ کی دائیں جانب کی فوج نے گھڑ سوار حملہ کیا، تیر اندازوں کی صفوں کو عبور کیا اور مسلمانوں کے عقب پر شدید حملہ کر دیا۔ اس اچانک وار کے نتیجے میں افرا تفری پھیل گئی، اور کئی مسلمان شہید ہوئے، جن میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت سب سے زیادہ صدمہ انگیز تھی۔

رسول اللہ ﷺ بھی زخمی ہوئے، مگر اللہ کے فضل و کرم سے انہیں موت نہ آئی، اور اپنی قیادت اور حکمت عملی کے تحت مسلمانوں نے بالآخر اپنی پوزیشن دوبارہ مضبوط کر لی۔ 

منٹگمری واٹ جنگ کے جغرافیائی نقشہ اور عملی منظرنامے کی تفصیل کے بعد مسلمانوں کی ظاہری مشکلات اور شکست کے اسباب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ واٹ کے مطابق، اس شکست کی بنیادی وجوہات چند اہم نکات پر مرکوز ہیں۔ سب سے پہلے، تیر اندازوں کی نافرمانی اور عسکری انضباط کی کمی تھی، جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے اور جو ابتدائی فتح کے باوجود مسلمانوں کی پوزیشن کمزور کرنے کا سبب بنی۔ دوسرا سبب شخصی لالچ اور لوٹ مار کی رغبت تھی، جو میدانِ جنگ میں ابتدائی کامیابی حاصل کرنے کے بعد بعض افراد میں نمودار ہوئی اور جنگی حکمت عملی کو متاثر کیا۔ تیسرا اور نہایت اہم عنصر داخلی اختلافات تھے، جن میں عبداللہ بن ابی کا پیچھے ہٹنا اور بعض افراد کی عدم یکجہتی شامل تھی، جس نے مسلمانوں کے فوجی اتحاد اور نفسیاتی قوت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

واٹ اس تجزیے کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ظاہری شکست کے اسباب محض دشمن کی طاقت یا مسلم فوجی کوتاہی تک محدود نہیں تھے، بلکہ انفرادی غفلت، داخلی کشمکش اور نظم و ضبط کی کمی بھی مؤثر عوامل تھے۔ 

تاریخی حقائق پر غور کرنے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو پیش آنے والی تکلیف دراصل رسول اللہ ﷺ کی بنائی گئی جنگی منصوبہ بندی کی جزوی خلاف ورزی سے پیدا ہوئی تھی، جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھرپور تنبیہ فرمائی۔ تاہم اس واقعے کو محض نافرمانی قرار دینا درست نہیں، بلکہ اسے ایک اجتہادی خطاء کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ بعض مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کو محدود اور مقید سمجھ کر اپنی مقررہ پوزیشن چھوڑ دی، حالانکہ نبی کریم ﷺ کا حکم عمومی اور مطلق تھا کہ چاہے فتح ہو یا شکست، تم اپنی جگہ سے نہیں ہٹنا۔

مسلمانوں نے ابتدائی کامیابی کے دوران دشمن کی پسپائی کو دیکھ کر یہ سوچا کہ جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے، اس لیے میدان میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے بجائے انہوں نے پیچھے جا کر دوسروں کی مدد کرنا بہتر سمجھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں احتیاطی تدابیر ترک ہو گئیں اور ایک اجتہادی خطاء کی وجہ سے شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس واقعے کو مسلمانوں کی مجموعی نظم و ضبط کی کمزوری کے طور پر پیش کرنا بھی غیر منصفانہ اور مبالغہ آمیز ہے، کیونکہ یہ اجتہادی خطاء محض چند صحابہ کرام کی طرف سے ہوئی تھی جو لشکر کے ایک چھوٹے حصے پر مشتمل تھے۔ مجموعی طور پر مسلمانوں کا نظم و ضبط نہایت مضبوط اور فعال تھا، جس کا ثبوت ابتدائی فتح، نبی کریم ﷺ کی حفاظت، اور جنگ کے دوران دوبارہ میدان میں واپسی میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک ہی آواز پر سب دوبارہ جمع ہو گئے اور اپنی پوزیشن برقرار رکھی، جو ان کے فوجی اتحاد اور حکمت عملی کی پختگی کا روشن مظہر ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ اس واقعے کو ذاتی لالچ یا مالِ غنیمت کی رغبت کے تحت پیش کرنا انتہائی متعصبانہ اور غیر معقول موقف ہے، کیونکہ صحابہ کرام وہ لوگ تھے جو دنیاوی مال و متاع سے زیادہ اپنی آخرت کی فکر کرتے تھے اور دنیاوی دولت ان کی نظر میں حقیر تھی۔ انہیں یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ چاہے وہ اپنی پوزیشن پر کھڑے رہیں یا دشمن کے عقب میں جائیں، مالِ غنیمت کا حصہ ان کے مقررہ حق کے مطابق ہی ملے گا، اور اس لیے میدان میں کودنے یا اپنی پوزیشن چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ حتیٰ کہ اگر وہ وہاں جا کر سارا مالِ غنیمت جمع بھی کر لیتے، تو بھی اس کا حقیقی فائدہ نہیں تھا کیونکہ شریعت کے تحت ہر شخص کو اس کا حصہ مقرر تھا۔ اس لحاظ سے عقلی، شرعی اور اخلاقی طور پر یہ الزام بالکل غیر مناسب اور ناقابلِ قبول ہے۔

جہاں تک داخلی اختلافات کا تعلق ہے، تو عبداللہ بن ابی کی پیچھے ہٹنا مسلمانوں کے مجموعی حوصلے کو کسی نقصان کا سبب نہیں بنا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کے دلوں کو مزید مضبوط کیا۔ قرآن کریم میں اس ضمن میں دو جماعتوں کا ذکر ہے جو پھسلنے والے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں تھام لیا اور ان پر سکینہ نازل فرمایا، تاکہ ایمان اور استقامت کی قوت برقرار رہے۔

منٹگمری واٹ نے بھی واضح کیا ہے کہ غزوۂ اُحد کا نتیجہ نہ مکمل شکست تھا اور نہ مکمل فتح۔ مسلمانوں کے لیے یہ ایک شدید جھٹکا اور آزمائش تھی، کیونکہ تقریباً ستر صحابہ کرام اس میدانِ جنگ میں شہید ہوئے، جن میں مدینہ کے معزز اور قابل اعتماد افراد شامل تھے۔ مگر مکہ کی فوج اپنے اصل مقصد، یعنی مسلمانوں کی تباہی، میں ناکام رہی۔ یعنی ان کا اصل مقصد مسلمانوں کی بیخ کنی اور استحصال تھا جس میں وہ ناکام رہے۔

اس پس منظر سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں سے متعلق کفار و مشرکین کی پالیسی ہجرت سے پہلے اور بعد میں مختلف تھی۔ مکہ مکرمہ میں وہ مسلمانوں کو جسمانی تکلیف دینے پر اکتفاء کرتے تھے، جس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو صبر و تحمل کی تلقین فرمائی۔ لیکن ہجرت کے بعد مکہ کے کفار مسلمانوں کی بیخ کنی کے لیے تیار ہوئے، اور اسی تناظر میں رسول اللہ ﷺ کی پالیسی میں بھی تبدیلی آئی۔ اس سے وہ اعتراض خود بخود غیر معقول ہو جاتا ہے جو بعض مغربی مصنفین کرتے ہیں کہ ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو پہلے کی طرح پرامن نہیں رکھا، بلکہ اقتدار اور حکومت کے حصول کے لیے قتل و قتال کرنے لگے۔ حقیقت میں یہ تبدیلی صرف ایک حکمت عملی اور دفاعی ضرورت تھی، جو سیاسی اور عسکری صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

1 تبصرے

جدید تر اس سے پرانی