اہلِ وفا کی پکار (غزوہِ خندق)


 

یوں ہوا کہ سرورِ کائنات ﷺ جلوہ فرما ہوئے، دستِ مبارک میں کدال تھامی اور اسمِ جلیل کی تمہید باندھ کر پہلی ضرب لگائی، تو صخرِ خارا سے ایک ٹکڑا شکستہ ہوا۔ آپ ﷺ نے بشارت سنائی:
"اللہ اکبر! شام کی سلطنت کی کنجیاں مجھے عطا کی گئی ہیں، قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، میں اپنی نگاہِ نبوت سے اُس وقت شام کے سرخ ایوانوں کو جلوہ گر دیکھ رہا ہوں۔"
پھر دوسری ضرب سے سنگِ گراں کا ایک اور جزو شکستہ ہوا، زبانِ اقدس گویا ہوئی:
"اللہ اکبر! سلطنتِ فارس مجھے سپرد کی گئی ہے، واللہ! میں ابھی سے مدائن کے سفید محلات کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہا ہوں۔"
تیسری بار بسم اللہ کہہ کر ضرب لگائی تو باقی صخر بھی منکسر و منہدم ہوگیا۔ لبِ مبارک سے کلماتِ بشارت صادر ہوئے:
"اللہ اکبر! یمن کی کنجیاں مجھے عطا کی گئی ہیں۔ قسم بخدا! میں اسی لمحے اپنی جگہ سے صنعاء کے دروازے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں۔"

مہاجر و انصار کی صفیں یکساں صفِ واحد کی مانند خندق کی کُندن آرائی میں مشغول تھیں۔ صبح کی یخ بستگی نے جسم و جاں کو گھیرا ہوا تھا اور افلاس کی غبار تنگیِ داماں کی صورت ان کے گرداگرد چھائی ہوئی تھی۔ نہ کوئی غلام میسر، نہ مزدوروں کے لیے زرِ نقد کی گنجائش—سرمایہ کہاں! وہ تو نوالۂ شکم سے بھی محروم تھے۔ غربت و فاقہ کے بوجھ سے ان کے وجود نڈھال اور توانائیاں پژمردہ تھیں، مگر جب دفاعِ دین اور حفاظتِ حریمِ رسالت کی گھڑی آن پہنچی تو سب اپنی ہی قوتِ بازو پر بھروسا کرتے ہوئے صبر و ثبات کے ساتھ پتھریلی زمین کو چیرنے میں مصروف ہوگئے۔

اسی حالِ فاقہ و مشقت میں، جب جگر سوز بھوک نے جسم و دل دونوں کو نحیف کر ڈالا، تب آقائے نامدار ﷺ نے اپنے رفیقانِ صفِ اول کی حالت پر نگاہ فرمائی اور زبانِ حق ترجمان سے وہ دعا صادر ہوئی جس میں کائنات کا حاصل مضمر تھا:

"

اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ،
فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ

"اے پروردگار! حقیقی زندگی تو وہی ہے جو آخرت میں ہے، پس مہاجرین و انصار کو اپنی مغفرت سے نواز دے۔" 

انصار و مہاجرین کے لبوں پر عہد و وفا کے موتی پروئے گئے اور زبانوں سے وہ صدا برآمد ہوئی جو گویا حیاتِ جاوداں کا پیمان تھی:


"نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا،
عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا"

"ہم وہ جانثار ہیں جنہوں نے محمدِ مصطفیٰ ﷺ کے دستِ اقدس پر یہ عہدِ جاں فزا باندھا ہے کہ جہاد کے عَلم کو ہم دمِ واپسیں تک بلند رکھیں گے، اور جب تک سانسوں کی ڈور باقی ہے، اس پیمانِ ایثار سے رُوگرداں نہ ہوں گے۔" 

حضرت براء بن عازبؓ کی روایت سے منظر نامہ یوں منقش ہوتا ہے کہ سیّدِ عالم ﷺ بنفسِ نفیس خندق کی مٹی اپنے دستِ مبارک سے ڈھورہے تھے۔ غبار کی تہہ آپ ﷺ کے شکمِ انور پر اس طرح چھا گئی تھی کہ جسمِ اقدس کی جلد اس میں مستور ہوگئی تھی۔ بالوں کی کثرت کے باعث آپ ﷺ کا رُخِ زیبا گردآلود اور جمالِ جہاں آرائے بشریت مٹی کی دھند میں بھی تاباں تھا۔ میں نے اسی کیفیت میں آقائے نامدار ﷺ کو عبد اللہ بن رواحہؓ کے رجزیہ اشعار دہراتے ہوئے سنا۔ آپ ﷺ ہر مٹھی بھر مٹی کو اُٹھاتے جاتے اور لبوں پر یہ وجد آفریں کلمات رکھتے جاتے:

اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا،
وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا
فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، 
وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا

 

إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، 
وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا
"اے پروردگار! اگر تو نہ ہوتا تو ہم کبھی ہدایت سے بہرہ مند نہ ہوتے، نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز کے رکوع و سجود میں جھکتے۔ پس ہم پر اپنی سکینت و طمأنینت نازل فرما، اور اگر مقابلے کی گھڑی آن لگے تو ہمارے قدموں کو ثبات عطا کر۔ دیکھ! یہ ہمارے خلاف سرکش ہو چکے ہیں اور اگر انہوں نے کوئی فتنہ برپا کرنے کی ٹھانی ہے تو ہم ہرگز اس کے آگے سر تسلیم خم نہ کریں گے۔"

حضرت براءؓ روایت کرتے ہیں کہ سرورِ کائنات ﷺ جب یہ اشعار دہراتے تو بالخصوص آخری مصرعے کے الفاظ کو کھینچ کر، پرزور لہجے میں اور جلال آفرین آہنگ کے ساتھ ادا فرماتے، گویا ہر لفظ تلوار کی ضرب اور ہر مصرعہ عزمِ صادق کا اعلان تھا۔ ایک روایت میں آخری شعر یوں منقول ہے:


"إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا،

 وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا"

"یعنی بے شک یہ لوگ ہم پر ظلم و زیادتی کے درپے ہوئے ہیں، اور اگر وہ ہمیں کسی فتنہ و شر میں مبتلا کرنا چاہیں گے تو ہم ہرگز نہیں جھکیں گے، نہ ہار مانیں گے، نہ سرنگوں ہوں گے۔"


یہ مصرعہ جب آپ ﷺ کی زبانِ اقدس سے مستانہ لہجے میں نکلتا تو مجاہدینِ خندق کے دلوں میں ثبات و استقامت کی بجلیاں دوڑ جاتیں، اور گویا ہر ایک کا دل للکار کر پکار اٹھتا کہ فتنہ و باطل کی کوئی یلغار ہمیں سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ 

یہ وہ گھڑی تھی جب معرکۂ خندق برپا ہوا۔ غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کو جو عارضی اور دراصل تعمیری شکست پیش آئی تھی، اس نے کفارِ قریش اور مشرکینِ عرب کے دلوں میں اسلام کی بیخ کنی کے عزائم کو اور زیادہ تقویت بخشی۔ وہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب کی بار موقع غنیمت ہے، مسلمانوں کے حوصلے شکست کے بوجھ تلے دَب چکے ہیں، اور حکمِ نبویﷺ کی نافرمانی پر خود اُن کے پیغمبر بھی اُن سے خفا ہیں، پس اس سے بہتر وقت اسلام کے چراغ کو بجھانے کے لیے اور کوئی نہ ہوگا۔


چنانچہ قریش، یہود اور اطرافِ عرب کے دیگر قبائلِ مشرکہ نے ایک متفقہ عہد و پیمان باندھا کہ وہ باہم دست و بازو ہو کر اسلام کے قلعہ کو مسمار کر ڈالیں۔ اس عظیم اتحاد کا پہلا معاہدہ قریش کے سردار ابوسفیان اور جلاوطن قبیلۂ بنی نضیر کے درمیان طے پایا۔ پھر بنی نضیر کے نمائندے نجد کی سمت روانہ ہوئے اور وہاں کے جفاکار قبائل، غطفان اور بنی سُلیم کو ایک سال تک خیبر کی پیداوار دینے کا وعدہ کر کے مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہونے پر آمادہ کیا۔


اسلام کے خلاف یہ عظیم اتحاد وہی تھا جسے قرآن نے "احزاب" کے نام سے موسوم فرمایا۔ اس لشکرِ جرار کی ترتیب کچھ یوں تھی: ابوسفیان کی قیادت میں قریش کے چار ہزار پیادہ سپاہی، تین سو گھڑ سوار اور قریب پندرہ سو اونٹ سوار شامل تھے۔ ان کے علاوہ سب سے بڑی قوت غطفان کے ہزار سواروں پر مشتمل تھی۔ دیگر قبائل کی فوجی جمعیت نے بھی اپنی اپنی کثرت سے اس لشکر میں اضافہ کیا، یہاں تک کہ کُل تعداد دس ہزار سے متجاوز ہوگئی—یہ وہ لشکر تھا جو اُس زمانے کے عربی ماحول میں ایک غیر معمولی اور بے نظیر عسکری طاقت شمار ہوتا تھا۔

اطلاع ملتے ہی سرورِ دو جہاں ﷺ نے اصحابِ صفِ اول کی ایک مجلسِ شورائی منعقد فرمائی، جس میں دفاعی تدابیر پر گہرا غوروخوض ہوا۔ اربابِ رائے نے بیک زبان حضرت سلمان فارسیؓ کی ایک انوکھی تدبیر کو بہ طورِ اجماع قبول کیا۔ حضرت سلمانؓ نے نہایت حکیمانہ لہجے میں عرض کیا:


"یا رسول اللہ ﷺ! جب ہم سرزمینِ فارس میں محاصرہ کا شکار ہوتے، تو اپنی حفاظت کے لیے شہر کے گرد گہری خندق کھود لیا کرتے تھے۔"

یوں آہنی عزم کے ساتھ خندق کی کھدائی کا آغاز ہوا۔ اصحابِ رسولؓ اس کارِ دشوار میں اس جوش و خروش کے ساتھ مشغول ہوئے کہ پتھر بھی پگھلتے نظر آتے۔ ادھر اجسام کمزور، معدے خالی اور فاقوں نے ہڈیوں کا گودا تک نچوڑ لیا تھا، مگر جذبۂ ایمان کی حرارت نے بھوک کی شدت کو شعلۂ عزم میں بدل ڈالا۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ اہلِ خندق کو دو مٹھی جَو مہیا کیے جاتے، جنہیں ہلکی سی چکنائی کے ساتھ پکا کر سامنے رکھ دیا جاتا۔ وہ طعام نہ ذائقہ رکھتا نہ لذت، مگر اس کی بھاپ اور مہک تھکے ماندے وجودوں کو سہارا دیتی۔


ابوطلحہؓ کا بیان ہے کہ ہم نے جب نبی کریم ﷺ کے سامنے بھوک کی شدت کی شکایت کی اور اپنے پیٹ کھول کر دکھائے کہ ہر ایک نے پتھر باندھ رکھا ہے، تو آقائے نامدار ﷺ نے بھی اپنا شکمِ مبارک کھولا۔ دیکھا گیا کہ آپ ﷺ کے شکم پر ایک نہیں بلکہ دو پتھر بندھے ہوئے ہیں۔ 


اسی اثنا میں حضرت جابر بن عبداللہؓ نے حضور ﷺ کے چہرۂ اقدس پر بھوک کے آثار دیکھے تو خاموشی سے گھر گئے۔ ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور بیوی سے کہا کہ ایک صاع جَو پیس لے۔ پھر نہایت ادب سے آقا ﷺ سے عرض کی:

"یارسول اللہ ﷺ! چند اصحاب کے ہمراہ ہمارے ہاں تشریف لائیں۔"

مگر یہ شانِ رسالت تھی کہ حضور ﷺ نے رازدارانہ دعوت کو اپنی اُمت کی بھوک مٹانے کا وسیلہ بنا دیا۔ آپ ﷺ نے تمام اہلِ خندق کو، جن کی تعداد ہزار کے لگ بھگ تھی، ہمراہ لے کر چل پڑے۔ دسترخواں پر سب نے سیر ہوکر کھایا۔ گوشت کی ہانڈی یونہی جوش کھاتی رہی اور آٹا یونہی سلامت رہا، کہ گویا اس میں برکتِ ازلی سرایت کرگئی تھی۔


اسی طرح حضرت نعمان بن بشیرؓ کی ہمشیرہ دو کھجوریں لے کر خندق کے پاس آئیں کہ بھائی اور ماموں کے کھانے کا زاد ہوں، مگر نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرتے وقت آپ ﷺ نے وہ کھجوریں طلب کیں۔ ایک کپڑے پر بکھیر دیں اور تمام اہلِ خندق کو دعوت دی۔ ہر شخص کھاتا گیا، اور کھجوریں بڑھتی گئیں، یہاں تک کہ سب نے پیٹ بھر کر کھایا، مگر کپڑے کے کناروں سے پھل اب بھی گر رہے تھے۔


یہ وہ ساعتِ عظمیٰ تھی جس میں اسلام کی قدر و قیمت اور مؤمنین کے اخلاص و ایثار کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک طرف غربت و افلاس کی تلخیاں اور فاقہ کشی کا عذاب، دوسری طرف دین کی پاسبانی اور شریعت کی بقا کے لیے جان نثاروں کی یکساں کاوشیں۔ ایک جانب منافقین کی مکارانہ سازشیں، دوسری طرف مخلصین کی وہ استقامت جس کے آگے باطل کی ہر چال پاش پاش ہو کر رہ گئی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی