غزوہِ خندق سے متعلق استشراقی بیانیہ

 



اسلامی تاریخ  میں غزوۂ خندق کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے، جب قریش مکہ، یہودی قبائل اور دیگر بدوی قبائل نے ایک عظیم اتحاد قائم کر کے مدینہ منورہ کا محاصرہ کیا۔ اسلامی ریاست اپنی نوزائیدہ شکل میں تھی اور ہر پہلو سے شدید خطرات میں گھری ہوئی تھی۔ ایسے حالات میں اہل ایمان نے جس عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا، وہ اسلام کی تاریخ میں ایک لازوال مثال ہے۔

تاہم مغربی استشراقی فکر نے جب اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا تو اس کے زاویۂ نظر میں غیر جانب داری کے بجائے تعصب اور شکوک کا رنگ غالب نظر آیا۔ مستشرقین نے غزوۂ خندق جیسے اہم واقعے کو محض ایک قبائلی جھڑپ، سیاسی تدبیر یا خارجی اثرات کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک پیغمبر اسلام ﷺ کی قیادت الہام و وحی پر مبنی نہ تھی، بلکہ ایک سیاسی رہنما کی ذہانت اور چالاکی کے طور پر دیکھی گئی۔ اسی طرح مسلمانوں کی قربانی و صبر کو نظر انداز کر کے دشمن کی نااتفاقی اور بد انتظامی کو کامیابی کا سبب ٹھہرایا گیا۔یہی استشراقی بیانیہ دراصل اسلامی تاریخ کی اصل روح سے انحراف ہے۔ اس میں معرکۂ خندق کی ایمانی اور روحانی جہت کو دانستہ نظر انداز کیا گیا ہے، اور محض مادی و عسکری اسباب کو بنیاد بنا کر ایک یک رُخا تعبیر پیش کی گئی ہے۔

ولیم میور (William Muir) مستشرقین کی اُس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے اسلام کو محض ایک سیاسی اور عسکری تحریک کے طور پر دیکھا اور رسول اکرم ﷺ کو نعوذباللہ ایک طاقت کے حصول کے خواہشمند لیڈر کی حیثیت سے پیش کیا۔ ان کی مشہور کتاب The Life of Mahomet میں جابجا اس تعصب اور منفی رویے کی جھلک ملتی ہے۔ ولیم میور لکھتا ہے کہ:

The sword of Mahomet, and the Coran, are the most stubborn enemies of Civilisation, Liberty, and Truth which the world has yet known.

"محمد ﷺ کی تلوار اور قرآن، تہذیب، آزادی اور سچائی کے سب سے بڑے ضدی دشمن ہیں جنہیں دنیا نے اب تک جانا ہے۔"

اس سے واضح ہوتا ہے کہ میور کے نزدیک اسلام کی تلوار اور قرآن تہذیب، آزادی اور سچائی کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ اس عمومی نظریے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی کسی بھی عسکری یا دفاعی حکمتِ عملی کو مثبت انداز میں دیکھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

اگرچہ میور نے غزوۂ خندق پر براہِ راست زیادہ تبصرہ نہیں کیا، لیکن ان کے عمومی بیانیے سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ وہ اس جنگ کو بھی محض ایک سیاسی چال اور رسول اکرم ﷺ کی "اقتدار پسندی" کے اظہار کے طور پر دیکھتے۔  

میور کے اس رویے پر ہم یہ اعتراض کرسکتے ہیں کہ اسلام کی تمام جنگیں—بشمول غزوۂ خندق—بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کی تھیں۔ مشرکینِ مکہ اور ان کے اتحادیوں نے مدینہ پر حملہ کیا، جبکہ مسلمان محض اپنے شہر اور دین کے تحفظ کے لیے سرگرم ہوئے۔ اس سیاق کو نظر انداز کرنا تاریخی انصاف کے منافی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ میور انیسویں صدی کے برطانوی سامراجی پس منظر سے وابستہ تھے۔ ان کے نزدیک اسلام ایک سیاسی خطرہ تھا، کیونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی مزاحمت برطانوی اقتدار کے لیے چیلنج بن رہی تھی۔ اسی لیے انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی شخصیت اور اسلامی فتوحات کو منفی اور تہذیب دشمن انداز میں پیش کیا۔ سو، ولیم میور کا یہ کہنا کہ "اسلام اور قرآن تہذیب و آزادی کے دشمن ہیں" دراصل ایک استشراقی پروپیگنڈا تھا، جس کا مقصد اسلام کو بدنام کرنا اور مغربی استعمار کو نظریاتی جواز فراہم کرنا تھا۔  

منٹگمری واٹ نے غزوہِ خندق سے متعلق لکھا ہے کہ غزوۂ خندق مکہ والوں کی سب سے بڑی اور فیصلہ کن کوشش تھی تاکہ اسلام کو اس کے مرکز، مدینہ منورہ، سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ وہ لکھتے ہیں:
It was the supreme effort of the Meccans to break Muhammad's power. For it they had gathered a vast confederacy…
یہ مکہ والوں کی آخری کوشش تھی کہ محمد ﷺ کی طاقت کو توڑ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک بڑا اتحاد جمع کیا۔ واٹ کے نزدیک اس اتحاد کے قیام میں جلاوطن یہودی قبیلہ بنی نضیر کا کردار بنیادی تھا جنہوں نے مختلف قبائل کو ابھارا اور غطفان کو آدھی کھجور کی پیداوار کی پیشکش کر کے اپنی طرف مائل کیا۔

واٹ اعتراف کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد قریش کے مقابلے میں بہت کم تھی (تقریباً 3,000 بمقابلہ 10,000)، مگر ان کے پاس ایک نئی دفاعی تدبیر تھی جس نے جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ وہ کہتے ہیں:

Muhammad had adopted another form of defence, indeed, one hitherto unknown in Arabia. Wherever Medina lay open to cavalry attack he had dug a trench.
محمد ﷺ نے ایک نئی قسم کا دفاعی طریقہ اختیار کیا جو عرب میں پہلے کبھی استعمال نہیں ہوا تھا۔ جہاں کہیں بھی مدینہ گھڑ سواروں کے حملے کے لیے کھلا تھا وہاں خندق کھودی گئی۔خندق نے قریش کی اصل قوت یعنی گھڑ سوار دستوں کو غیر مؤثر بنا دیا:
The trench effectively countered the menace from the cavalry and forced the Meccans to fight in conditions where they derived little advantage from their 600 horses.
خندق نے دشمن کے گھڑ سواروں کے خطرے کو ختم کر دیا اور انہیں ایسی حالت میں لڑنے پر مجبور کر دیا جس میں ان کے چھ سو گھوڑے کسی فائدے کے نہ رہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ دشمن کے چھوٹے حملے ناکام ہوئے، رات کی چھاپہ مار کوششیں بھی بارآور نہ ہوئیں، اور بالآخر دو ہفتے کی کوشش کے بعد سردی اور طوفانی ہوا نے ان کا حوصلہ توڑ دیا۔

مسلمانوں کی کامیابی صرف خندق تک محدود نہ رہی بلکہ ان کی سیاسی حکمت عملی اور سفارت کاری بھی فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ واٹ کے مطابق مسلمان نسبتاً متحد اور منظم تھے، جبکہ کفار کے صفوں میں اتحاد اور اعتماد کی کمی تھی۔

واٹ بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ ابتدا میں غیر جانب دار تھے اور خندق کی کھدائی کے دوران مسلمانوں کو آلات بھی فراہم کیے تھے۔ مگر بنی نضیر کے سردار حیی بن اخطب نے انہیں قریش کے ساتھ ملنے پر آمادہ کیا۔ تاہم:
A secret agent of Muhammad’s, acting in accordance with hints from him, so increased the suspicion with which the different parties viewed one another that the negotiations came to nothing, and the threatened ‘second front’ was never opened.
محمد ﷺ کے ایک خفیہ کارندے نے آپ کی ہدایت پر مختلف فریقین کے درمیان شکوک بڑھا دیے، جس کے نتیجے میں مذاکرات ناکام ہو گئے اور دوسرا محاذ کبھی نہ کھل سکا۔

واٹ اسے ایک بڑی "diplomatic success" قرار دیتے ہیں کیونکہ اگر قریظہ نے جنوبی جانب سے حملہ کیا ہوتا تو مسلمانوں کی پوزیشن خطرے میں پڑ سکتی تھی۔
واٹ کے نزدیک اس جنگ کے اثرات قریش کے لیے تباہ کن تھے:

· قریش کی سب سے بڑی فوجی کوشش ناکام ہو گئی۔
· ان کی شام کی تجارت متاثر ہوئی۔
· ان کا سیاسی وقار مجروح ہوا۔
وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں:
The break-up of the confederacy marked the utter failure of the Meccans to deal with Muhammad. He remained there, more influential than ever as a result of the fiasco of the confederacy.
اتحاد کا ٹوٹ جانا مکہ والوں کی مکمل ناکامی تھی۔ محمد ﷺ مدینہ میں پہلے سے زیادہ بااثر بن کر موجود رہے۔واٹ یہاں تک کہتے ہیں کہ مکہ والے عملی ذہن رکھنے کے باعث اس نتیجے پر پہنچ سکتے تھے کہ اب اسلام کو قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مستشرقین اس فتح  کو رسول اللہﷺ کی سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جس کے ضمن میں دراصل وہ فتح میں روحانی اسباب اور نصرت الہیٰ کو نظر انداز کرتے ہیں جو سراسر غیر منطقی رویہ ہے۔ غزوہ خندق میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی جس سے کفار کے دلوں میں خوف و مایوسی بیٹھ گئی اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی