صلح حدیبیہ (شکست میں پنہاں فتح کی بشارت)


 

"قرار پایا کہ اس سال اہلِ ایمان، طوافِ بیت اللہ سے محروم رہتے ہوئے مراجعت کریں اور آئندہ سال حاضر ہو کر عمرہ بجا لائیں، مگر مدتِ قیام سہ روزہ سے متجاوز نہ ہو گی، اور اسلحہ لانے کی اجازت نہ ہو گی، بجز اس کے کہ تلواریں نیام در نیام ہوں۔ عشرۂ کاملہ تک سیف و سنان نیام میں رہیں گے اور طرفین میں کوئی شمشیر نہ سونتے گا۔ جو کوئی از اہلِ مدینہ مکہ کو رختِ سفر باندھے، اسے واپس نہ بھیجا جائے گا، لیکن اگر اہلِ قریش میں سے کوئی اسلام قبول کر کے مدینہ کا قصد کرے تو اہلِ ایمان پر لازم ہو گا کہ اسے لوٹا دیں۔ اور تمام قبائلِ عرب کو اختیار ہو گا کہ جس معاہدہ یا صلح میں چاہیں شامل ہوں اور جس جانب چاہیں اپنا الحاق کریں۔"

جابر  دشمنوں کےان  مشکل وتلخ شرائط، جنہیں بادی النظر میں ناقابلِ قبول اور عزیمت شکن سمجھا جاتا تھا، پر فیصلہ ہوا۔ محسنِ انسانیت، پیغمبرِ انقلاب ﷺ کی مطلق اطاعت اور غیر متزلزل اتباع میں آپﷺکے تربیت یافتہ رفقائے صادق نے دل و جان سے تسلیم کر لیا۔ یہی وہ ساعتِ عظمیٰ تھی جس میں سرورِ کونین ﷺ کی قائدانہ بصیرت، مدبرانہ حکمت، شعوری سیاست اور امورِ سلطنت میں بالغ نظری تمام جہانِ انسانیت کے سامنے مثلِ آفتاب جلوہ گر ہوئی اور سلاطینِ عالم کو حیرت و استعجاب کے بحرِ بیکراں میں غوطہ زن کر دیا۔ اس معاہدۂ صلح کے نتائج ایسے برق رفتار ثابت ہوئے کہ دینِ اسلام عرب و عجم اور قرب و جوار میں بے مثال تیزی کے ساتھ فروغ پذیر ہوا۔ اگرچہ تمام صحابۂ کرام خصوصاً فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اس جانبدارانہ معاہدے پر سخت شاکی اور زبانِ حال و قال سے اظہارِ ناراضگی فرما چکے تھے، تاہم یہ امرِ ربانی تھا جس کے پسِ پشت تاریخِ اسلام کی ازلی حکمتیں اور تسلسلِ تقدیر کا بارِ عظیم تھا۔ چنانچہ آقائے دو جہاں ﷺ نے اپنے رفقائے وفادار کو تسلی و تشفی عطا فرمائی اور ان شرائط کے پسِ منظر میں پوشیدہ ربانی حکمتوں اور غیر مترقبہ مصلحتوں کا پردہ چاک فرمایا۔


یہ واقعہ سنہ شش ہجری کا ہے، جب ترکِ وطن کے زخموں کو بھرے چھ برس بیت چکے تھے۔ فراقِ حرم کا ہر لمحہ، صدیوں کے عذاب سے زیادہ طویل اور کرب انگیز محسوس ہوتا تھا، اور وصالِ بیت اللہ کی آرزو ایک پل میں صدیوں کی تشنگی کو بجھا دینے والی معلوم ہوتی تھی۔ مکہ مکرمہ کی وادیاں، اس کی گرد و غبار آلود گلیاں اور بیت اللہ کی پرنور فضا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے قلوب و اذہان میں نقشِ دوام بن چکی تھیں۔ مدینہ منورہ میں قیام کے باوجود ان کے دل ہمیشہ حرم کی پر کیف نسیموں کے اسیر اور نگاہیں کعبہ کی تجلیات کی متلاشی رہتیں۔ ہر محفل میں بیت اللہ کی یاد چھڑتی تو حسرت و تاسف کی آہیں نکل جاتیں اور اشتیاق کی لَو اور بھی تیز ہو جاتی۔
یہ اشتیاق اب شعلۂ جوّالہ بن چکا تھا، لیکن قریش کی کینہ توزی اور اسلام کی روز افزوں شوکت پر ان کا غیظ و غضب اس راہِ شوق میں سدِ راہ تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے تقدیر نے ایک عظیم امتحان کے لیے فضا تیار کر دی ہو۔ اس وقت ربِّ کائنات کو اپنے محبوب ﷺ اور ان کے فدائیوں کی یہ تڑپ اور یہ اضطراب اتنا محبوب ہوا کہ اس نے بارگاہِ قدس میں اس اشتیاق کے سامان مہیا کر دیے۔ خود سیدِ عالم ﷺ نے ایک مبارک خواب میں مشاہدہ فرمایا کہ آپ ﷺ اپنے رفقاء کے ساتھ امن و سکون سے بیت اللہ میں داخل ہو رہے ہیں، عمرہ کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، پھر بعض حلق کر رہے ہیں اور بعض قصر۔ چونکہ انبیاءِ کرام کے خواب وحی کے مرتبہ میں ہوتے ہیں، اس لیے یہ خواب گویا حکمِ الٰہی تھا کہ آپ ﷺ اپنے اصحاب کو ساتھ لے کر مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوں اور عمرہ کی ادائیگی کریں۔
یہ مژدۂ وصال سن کر صحابۂ کرامؓ کے دلوں میں عشقِ حرم کی آگ اور بھڑک اٹھی اور وہ زیارتِ خانۂ خدا کے شوق میں ہمہ تن تیار ہو گئے۔ چنانچہ پیغمبرِ رحمت ﷺ نے چودہ سو جاں نثاروں کے قافلے کے ہمراہ رختِ سفر باندھا۔ اس مہم میں غزوہ و پیکار کا کوئی ارادہ نہ تھا، اس لیے اسلحۂ جنگ کے بجائے صرف ضروری دفاعی سامان لیا گیا اور سفر کا سارا اہتمام خالصۃً عمرہ کی غرض سے تھا۔ قربانی کے جانور بھی ساتھ لے لیے گئے اور ذوالحلیفہ پہنچ کر احرام باندھا گیا اور جانوروں کے گلے میں قلادہ ڈال کر انہیں نذرِ بیت اللہ ہونے کا نشان دیا گیا۔

مکہ کے سرکش کو جب یہ اطلاع  ملی کہ مسلمان قافلہ بیت اللہ کے اشتیاق میں رواں دواں ہیں اور عمرہ کی سعادت کے آرزومند ہیں، تو ان کے لیے یہ خبر گویا آتش فشاں ثابت ہوئی۔ ان کے غرورِ جاہلیت کو یہ بات کسی طور گوارا نہ تھی کہ وہ مسلمان جنہیں کل ہی شہر بدر کیا گیا تھا، آج حرمت کعبہ کے سائے میں سربسجود ہوں۔ فوراً ہی خالد بن ولید—جو اس وقت دائرہ اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے—کو دو سو گھڑ سواروں کے مختصر دستے کے ساتھ روانہ کیا گیا تاکہ ہر قیمت پر اہلِ ایمان کے قافلے کو روکیں اور انہیں مکہ معظمہ میں داخل ہونے نہ دیں۔

ادھر اہلِ ایمان، جن کے دل بیت اللہ کی زیارت کے شوق سے دھڑک رہے تھے، حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ ڈال چکے تھے۔ یہ وہی مقام ہے جو مکہ معظمہ سے محض نو میل کے فاصلے پر ایک چشمہ و کنویں کے نام سے موسوم تھا۔ مسلمانوں کو قریش کے عزائم کا ذرہ برابر اندازہ نہ تھا، اس لیے کہ ان کا قافلہ محض عمرہ کی نیت سے آیا تھا، جنگ و جدال کی تیاری نہ کی گئی تھی۔ لیکن اچانک دشمن کی مزاحمتی طاقت سامنے آ گئی اور حدیبیہ ہی میں انہیں روک دیا گیا۔

نبیِ رحمت ﷺ نے حکمتِ عملی سے کام لیتے ہوئے حضرت خراش بن امیہ خزاعیؓ کو سفارتی قاصد بنا کر اہلِ مکہ کے پاس روانہ کیا تاکہ یہ پیغام پہنچا دیں کہ مسلمانوں کا مقصد صرف بیت اللہ کی زیارت اور شعائرِ عمرہ کی ادائیگی ہے، وہ نہ تو لڑائی کے متمنی ہیں اور نہ کسی قسم کے ہتھیار لائے ہیں۔ لیکن قریشِ مکہ کے کفر و عناد کا جوش دیکھنے کے لائق تھا۔ سفارت کے جملہ آداب بالائے طاق رکھے گئے، یہاں تک کہ قاصد کے اونٹ کو ذبح کر دیا اور خراشؓ کو بھی قتل کرنے کا ارادہ کیا گیا۔ مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا، وہ کسی طرح جان بچا کر واپس پہنچے اور نبی کریم ﷺ کو ساری روداد سنائی۔

یہ منظر دیکھ کر پیغمبرِ انقلاب ﷺ نے مزید پیش رفت کا فیصلہ کیا اور حضرت عمرؓ کو بطور سفیر روانہ کرنا چاہا۔ لیکن عمرِ فاروقؓ—جن کا مزاج حمیّتِ ایمانی سے لبریز تھا—نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! یہ مقام حلم و بردباری کا ہے، اور میں اپنے مزاج کا پورا شعور رکھتا ہوں کہ ذرا سی اشتعال انگیزی پر میں تلوار کے ساتھ جواب دوں گا، اور ممکن ہے کہ میرے کسی جملے سے معاملہ بگڑ جائے اور آپ ﷺ کو رنج پہنچے۔ پس میں مناسب نہیں سمجھتا کہ اس وقت جاؤں۔ سبحان اللہ! اطاعت و ادب کا یہ منظر تاریخ کے ہر صفحے کو جگمگاتا ہے اور یہ ان لوگوں کے لیے فیصلہ کن حجت ہے جو عمرِ فاروقؓ کی فرمانبرداری پر اعتراض کرتے ہیں۔

اس کے بعد حضور ﷺ نے حضرت عثمان غنیؓ کو سفارت پر مامور فرمایا۔ وہ ابان بن سعیدؓ کی پناہ میں مکہ میں داخل ہوئے اور قریش کے سرداروں سے مذاکرات کیے۔ اہلِ مکہ نے عمرہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا لیکن عثمانؓ کو انفرادی طور پر طواف کی اجازت دے دی۔ یہاں وہ لمحہ آیا جسے تاریخ نے عشق و وفا کے سب سے درخشاں باب میں ثبت کیا۔ حضرت عثمانؓ—جو کئی برسوں سے زیارتِ بیت اللہ کو ترس رہے تھے—نے یہ پیش کش ٹھکرا دی اور فرمایا کہ:

 "میرے محبوب ﷺ حرم کے دیدار کو ترستے رہیں اور میں اطمینان سے طواف کروں؟ یہ ہرگز ممکن نہیں۔"دوسری طرف حدیبیہ کے مقام پر بعض صحابہؓ نے گمان ظاہر کیا کہ شاید حضرت عثمانؓ طواف سے مشغول ہوں گے۔ لیکن محبوبِ ربّ العالمین ﷺ نے اپنے رفیقِ خاص پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"عثمانؓ کبھی میرے بغیر طواف نہیں کریں گے۔"

یوں سمجھیے کہ یہ قصۂ حدیبیہ عشق و وفا کی ایسی سرمدی غزل بن گئی، جس میں دونوں جانب سے نگاہوں کے اشارے، دلوں کے پیغام اور خاموش لبوں کی گفتگو نے تاریخ کو نئی معنویت دے دی۔  شاعر کے لہجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ:

دونوں جانب سے اشارے ہو گئے

 تم  ہمارے،  ہم تمہارے  ہو گئے

 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی