اے اہلِ انصار! اے گروہِ صفا و وفا!
مجھے بتاؤ! کیا تمہاری نگاہوں میں بھی اب دنیا کے مال و متاع کی چمک دمک کوئی وقعت رکھتی ہے؟ کیا تم بھی اب زر و جواہر کے فریبِ رنگینی سے مسحور ہوچکے ہو؟ تم تو وہ زاہد صفت و قلندر مزاج تھے کہ جن کی آنکھوں میں یہ دنیوی زرق برق فقط سراب و فریب سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ تمہارے نزدیک یہ زر و خزائن دھوکے کا جال تھے، دنیا کے یہ آراستہ ساز و سامان فقط ایک پل کا سایہ تھے۔
کیا آج تم بھی ان ناپائیدار لذتوں کے اسیر ہوگئے ہو؟ تم بھی ان فانی متاع کے حریص بن گئے ہو؟
میری بات سنو! میں تم سے ہمکلام ہوں۔ بتاؤ! کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ دیگر قبائل اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں — کوئی اپنے ہاتھوں میں سونے چاندی کے انبار لئے، کوئی اپنے ریوڑوں کے جلو میں، کوئی اپنے بہادر گھوڑوں اور قیمتی اونٹوں کو ہانکتا ہوا — اور تم میرے ساتھ لوٹو؟
کیا تمہارے لئے میری رفاقت اور قربت سے بڑھ کر کوئی خزانہ ہوسکتا ہے؟ کیا میرا وجود تمہارے لئے کفایت نہیں کرتا؟ میرے ہوتے ہوئے تم اور کس نعمت کی ہوس رکھ سکتے ہو؟
جواب دو، اے معشر الانصار! خاموش نہ رہو! اپنی زبانیں کھولو اور کہو کہ تمہاری نگاہوں میں کس چیز کی وقعت ہے۔
اے گروہِ انصار!
یہ کیا سرگوشیاں ہیں جو تمہاری جانب سے میرے کانوں تک پہنچی ہیں؟ کیا تم وہی نہ تھے جو ضلالت و گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے اور ربّ قدیر نے میرے وسیلے سے تمہیں صراطِ مستقیم پر گامزن نہ کردیا؟ کیا تم فاقہ کش و نادار نہ تھے اور خدائے رزّاق نے میرے ہاتھ سے تمہیں بےنیازی و استغنا کی دولت سے ہمکنار نہ کیا؟ کیا تم باہم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہ تھے اور مالکِ دو جہاں نے میرے دم سے تمہارے دلوں میں الفت و محبت کے چشمے نہ بہا دیے؟
کیوں خاموش ہو؟ کیوں تمہارے لب گویا نہیں ہوتے؟ جواب دو، اے گروہِ انصار! میں تمہارے جواب کا منتظر ہوں۔ کیوں چپ ہو؟ بولو!
مجلس پر سناٹے کا عالم طاری تھا۔ خیمۂ عظمٰی میں ہر نگاہ مرکزِ کائنات ﷺ پر مرکوز تھی۔ ایک وجدانی ہیبت اور روحانی رقت کا سماں تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب رحمتِ دو عالم ﷺ نے اہلِ انصار کے دلوں کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہو کر ایسی سوز و گداز بھری کلمات ارشاد فرمائے کہ فضا آہ و زاری سے لبریز ہوگئی۔ اشک ہائے ندامت و محبت رخساروں کو تر کرتے، گرد آلود داڑھیوں میں جذب ہوتے جا رہے تھے۔یہ مختصر مگر پرکیف خطاب ختم ہوا تو انصار کی زبانیں کانپتی ہوئی کھلیں اور سب یک زبان ہو کر روتے روتے عرض گزار ہوئے:
"یارسول اللہ ﷺ! ہم کیا عرض کریں؟ کیا کہہ سکتے ہیں؟"
پیغمبرِ انقلاب ﷺ نے رقت آمیز لہجے اور محبت و شفقت میں ڈوبی ہوئی آواز میں ارشاد فرمایا:
تم کہہ سکتے ہو — اور کہہ بھی دو — کہ اے محمد ﷺ! آپﷺ ایسے حال میں ہماری بستی میں تشریف لائے جب لوگ آپﷺ کی تکذیب کر رہے تھے اور ہم نے تصدیق کا کلمہ پڑھا؛ جب آپﷺ تنہا و یکتا تھے ہم نے نصرت و معیت کا جھنڈا اٹھایا؛ جب آپﷺ بےگھر و بےآسرا تھے ہم نے آپﷺ کو پناہ دی، سایہ دیا، اپنے دلوں میں جگہ دی۔
اے معشرِ انصار! کیا تم نے اپنے قلوب کی نگاہیں دنیا کی چمک دمک پر مرکوز کرلی ہیں؟ کیا تم نے ان مال و متاع کو، جو میں نے ان نومسلموں اور مشرکین کے دلوں کو نرم کرنے کا وسیلہ بنایا ہے، اپنا مقصود بنا لیا ہے؟ اور تم پر اپنے دین کا سپردگی کا شرف نہ تھا؟کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ لوگ اپنے گھروں کو مال و اسباب، ریوڑوں اور قیمتی جنگی گھوڑوں سمیت واپس جائیں اور تم محمد ﷺ کو اپنے ساتھ لے جاؤ؟ کیا محمد ﷺ تمہارے لئے کافی نہیں؟
قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے! اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا، میرا شمار بھی تمہارے قبیلے میں ہوتا۔ اگر لوگ سب ایک وادی کا راستہ لیں اور انصار دوسری وادی کا راستہ اختیار کریں تو محمد ﷺ انصار کی وادی کو ترجیح دیں گے۔
اے گروہِ انصار! تم میرے دل کے قریب ہو، میرے جگر کے ٹکڑے ہو۔ تم وہ جماعت ہو کہ اگر آج بھی دنیا تقسیم ہو تو میں تمہارے جھنڈے تلے آ جاؤں گا، تمہارے قافلے کا ہم رکاب بنوں گا، اور تمہارے ہی ساتھ رہنا پسند کروں گا۔ تو بتاؤ! کیا محمد ﷺ تمہارے لیے کافی نہیں؟"
اہلِ ایمان نے تعاقبِ کفار میں تیزی دکھائی، یہاں تک کہ لشکرِ اسلام طائف کے قلعوں کے آہنی دروازوں تک جا پہنچا اور پیغمبرِ انقلاب ﷺ نے بنفسِ نفیس محاصرہ آرائی کا آغاز فرمایا۔ حصارِ طائف کے مکینوں کو بخوبی اندازہ تھا کہ ان کے ایامِ جاہلیت کے سورج کا زوال قریب ہے، اس لیے انہوں نے اپنی فصیلوں کو از سرِ نو مضبوط کرلیا تھا اور اندرونِ قلعہ ایک سال کی ضروریاتِ معاش اکٹھی کرلی تھیں۔
رسولِ اکرم ﷺ نے طائف کے نواحی مرتفع پر خیمہ زن ہو کر مورچہ بندی فرمائی، وہی مقام بعد ازاں مسجدِ طائف کی صورت میں تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہوا۔ پندرہ تا اٹھارہ روز تک یہ محاصرہ جاری رہا۔ اہلِ ایمان نے دو بکتروں (محاصرہ شکن ہتھیاروں) کے سایہ میں حصارِ قلعہ پر یلغار کی، یہ بکتر بیل کی سخت کھالوں سے تیار کیے گئے تھے، مگر کفار نے پگھلا ہوا لوہا ان پر انڈیل دیا جس سے زرہیں اور بکتر شعلہ زن ہو اٹھے اور مجاہدین کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
جب محاصرہ طول پکڑ گیا اور قلعہ تسخیرِ اسلام کے قابو میں آتا نظر نہ آیا، تیروں کی بوچھاڑ اور دہکتے لوہوں کی یورش نے مجاہدین کو سخت آزمایا، تو سرورِ کائنات ﷺ نے نوفل بن معاویہ سے رائے طلب فرمائی۔ نوفل نے نہایت حکیمانہ تمثیل پیش کی:
یہ گویا لومڑی ہے جو اپنے بل میں گھس گئی ہے؛ اگر آپ ثابت قدم رہے تو اس کے دامِ فنا کو قابو میں لے آئیں گے اور اگر اس سے صرفِ نظر فرما کر واپس پلٹ گئے تو یہ آپ کے کسی ضرر کا باعث نہ بن سکے گی۔
یارسول اللہﷺ ! کیا ہم بغیر فتحِ طائف واپس لوٹیں گے؟سرورِ کائنات ﷺ نے ازراہِ شفقت ارشاد فرمایا کہ:
اچھا، تو پھر کل صبح قتال کے لیے نکل کھڑے ہونا۔
ہم ان شاء اللہ کل مراجعت کریں گے۔
