تحریر:
شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید الرحمٰن صاحب حفظہ اللہ
استاد وہ الماس ہے جو کندن کو تیز ، بے کمال کو باکمال، بےہنر کو ہنرمند، بے ادب کو باادب، ان پڑھ کو پڑھا لکھا اور حقیر کو عزیز بنا دیتا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے: "من علمنی حرفاً فھو مولای ان شاء باعنی وان شاء اعتقنی" یعنی جس نے مجھے ایک حرف پڑھایا اس نے مجھے غلام بنا لیا، اب اس کی مرضی ہے چاہے تو مجھے فروخت کرے اور چاہے تو آزاد کرے۔ استاد ایک نعمت ہے جس سے اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہے۔ استاد ایک خوانچہ ہے جو دوسروں کو کھلاتا پلاتا ہے۔ استاد ایک عظیم سرمایہ ہے، اور جس نے بھی اپنے اخلاق کو کمال تک پہنچایا وہ اسی درِ استاد پر جھکنے کے بعد پہنچا۔ نمک حرام اور بے قدر ہیں وہ لوگ، جو استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرکے باکمال بننے کے بعد اسی استاد کی بے توقیری کرتے ہیں۔ افسوس ایسے لوگ بکثرت موجود ہیں جو استاد کی بے توقیری کرتے ہیں لیکن ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ باوجودیکہ وہ اپنے آپ کو باعزت سمجھتے ہیں، مگر اللہ اور قوم کے سامنے ذلیل و حقیر ہو جاتے ہیں۔
چارماہی امتحان کے بعد تعطیلات ہوئیں تو اساتذۂ کرام کی ملاقات کے لیے رختِ سفر باندھا اور الحمدللہ کامیاب رہا۔ کراچی اگرچہ مسافت کے اعتبار سے دور ہے لیکن جب مطلوب ہو تو قریب محسوس ہوتا ہے۔ روانہ ہونے سے پہلے جامعہ فاروقیہ کی بلند و بالا عمارت اور اس کی تابناکی کو دیکھا اور ان میں وقت گزارتے ہوئے اساتذۂ کرام اور رفقائے عظام دل کے مکین بنے تھے، بس یہی تصویر خیال میں تھی اور اساتذۂ کرام کی چلن اور ان کی ادائیں دل و دماغ پر سوار تھیں۔ الحمدللہ جمعرات کے دن روانہ ہوئے۔ سفر میں مولانا انوار اللہ حقانی مروت صاحب ساتھ تھے۔ اپنی موٹر کے ذریعے سفر کیا۔ جمعہ کی رات ملتان میں حاجی ارشاد صاحب کے ہاں، جامعہ عربیہ ملتان میں قیام کیا۔
چند سال پہلے اس مدرسے میں جانا ہوا تھا، اُس وقت ایک کمرہ اور معمولی سی عمارت تھی، اب الحمدللہ ایک عظیم جامعہ ہے جس میں بڑی خوبصورت مسجد، مختلف بلڈنگیں اور کھیل کے میدان شامل ہیں۔ طلبہ کی تعداد تقریباً سات سو تھی۔ مدرسے کی طرف سے اساتذۂ کرام کو جو مراعات حاصل ہیں وہ سننے کے قابل ہیں، (لکھنے سے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے)۔ صبح آرام اور ناشتہ کے بعد روانہ ہوئے اور رات تقریباً ایک بجے اپنے میزبان مولانا نعیم اللہ صاحب کے ہاں پہنچ گئے، جو میرے دیرینہ دوست اور جامعہ فاروقیہ کے فاضل ہیں۔
ہفتہ کی صبح اساتذۂ کرام سے ملاقات کا سلسلہ شروع کیا۔ سب سے پہلا حق مادرِ علمی جامعہ فاروقیہ کا تھا کیونکہ میں اسی گلستان کا ایک کمزور پودا تھا، اسی سے میں شجرِ سایہ دار اور بارآور بنا تھا۔ شومئی قسمت کہ تاخیر کی وجہ سے اساتذہ گھروں کو جا چکے تھے۔ اس دوران استادِ مکرم مولانا محمد زیب صاحب جو اپنے دور میں جامعہ فاروقیہ کے موقوف علیہ اور دورہ حدیث کے درسگاہوں کی زینت تھے اور اب جامعہ بنوری ٹاؤن کے دارالحدیث النبوی کی رونق ہیں، ان سے ملاقات کے لیے اپنے دوستوں کے ہمراہ روانہ ہوئے۔
جامعہ کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی نور جاگمگا اٹھا۔ حیران ہوا کہ یہ نور اور روشنی کس کی ہے؟ عمارت کی صفائی ہے یا مکینوں کی تازگی اور خوبصورتی؟ یا بنیاد رکھنے والوں کا اخلاص اور للہیت؟ فیصلہ کیا کہ اس میں سب کا دخل ہے، لیکن اس کی اساس اور بنیاد اخلاص ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بانیٔ جامعہ مولانا عنایت اللہ شہیدؒ فرمایا کرتے تھے کہ مدارسِ دینیہ کا آغاز ابتدائی درجات سے ہوتا ہے لیکن جامعہ بنوری ٹاؤن میں ابتداء دورۂ حدیث سے ہوئی تھی۔ لوگ اعلیٰ کی طرف ترقی کرتے ہیں اور استاد علامہ بنوریؒ اعلیٰ سے ادنیٰ کی طرف آئے، یہ اخلاص کی اعلیٰ ترین علامت ہے۔
مولانا محمد زیب صاحب اس وقت سنن ابی داؤد کے درس میں مشغول تھے اور علم کے موتی بکھیر رہے تھے۔ ہم بھی شریک درس ہوئے اور کچھ دیر بعد درس ختم ہوا تو ملاقات ہوئی۔ طلبہ کے جمِ غفیر میں دارالحدیث کے مرکزی ہال میں دست بوسی ہوئی۔ میں نے ہاتھ چومنے کا ارادہ کیا، اگرچہ علماء و اساتذہ احتراز فرماتے ہیں لیکن میں نے عرض کیا کہ طلبہ کو مصافحہ و تقبیلِ ید کا طریقہ بتانے کے لیے ان کے سامنے ہاتھ چومتا ہوں، اور پھر ہاتھ چوم لیا۔ پھر میں نے حضرت کا ہاتھ تھوڑا اوپر اٹھا کر چوم لیا۔ وہاں چونکہ اکثر طلباء جامعہ حقانیہ کے پڑھتے ہیں، جنہوں نے مجھے دیکھا تو وہاں ایک بڑا مجمع بن گیا
استاد مکرم ہمیں اپنے دفتر لے گئے اور مولانا احمد بنوری صاحب، جو جامعہ کے نائب مدیر ہیں، سے تعارف کرایا۔ کچھ دیر وہاں تشریف فرما رہے۔ پھر ہمیں رخصت کیا اور خود گھر ظہرانے کے لیے چلے گئے۔ استاد مکرم مسجدِ صخرہ میں طویل عرصے سے امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ظہر کی نماز کے بعد میں نے اپنی کتاب "الخیر الجاري شرح تفسیر البیضاوی" پیش کی تو فوراً فرمانے لگے کہ سال کے آغاز میں سری لنکا کئی مدارس کے افتتاح کے لیے گیا تھا، وہاں دینی کام دیکھ کر میرا دل خوش ہوا اور میں نے محسوس کیا کہ بت پرست ملک میں علماء کس طرح کام کر رہے ہیں۔
استادِ محترم نے فرمایا کہ سری لنکا سے ایک عالم دین نے بیضاوی شریف کی شرح مانگی تھی تو ایک ساتھی نے مجھے آپ کی اس شرح کا تذکرہ کیا تھا کہ یہ ایک علمی اور تحقیقی شرح ہے۔ آج اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کی سعادت نصیب فرمائی۔ یہ بات میرے لیے خوشی اور حوصلے کا سبب بنی۔
استاد مکرم کے ساتھ تقریباً چار گھنٹے گزارنے کے بعد رخصت ہوئے۔ اسی دن مغرب کے بعد مولانا عبید اللہ خالد صاحب، جو جامعہ فاروقیہ فیزا کے مدیر ہیں اور یہی میری مادرِ علمی ہے جس میں میں نے دو سال گزارے،انہوں نے ملاقات کا وقت دیا۔ عین مغرب کی نماز ہوتی ہی ہم پہنچے اور مسجد میں طلباء کرام کا مجمع دیکھ کر پرانی یادیں تازہ ہو گئیں، کیونکہ کوئی مسجد سے نکلتا تھا، تو کوئی داخل ہوتا تھا، کوئی نماز میں مشغول تھا اور کوئی دعاؤں میں منہمک تھا۔ یہ مناظر دیکھ کر بہت سرور حاصل ہوا۔ مسجد کے اندر اور باہر بہت سارے مجمع سے علیک سلیک ہوا۔ پھر دفتر میں حضرت مدیر صاحب کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ مولانا خالد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی صفات سے نوازا ہے، انہوں نے آنے پر مسرت کا اظہار فرمایا اور تفصیلی ملاقات میں وفاق المدارس کے حوالے سے کچھ تشویشات کا اظہار فرمایا اور مدارس میں اساتذہ کے ساتھ ناانصافی پر افسوس ظاہر کیا۔ پھر مولانا سلیم اللہ خان صاحب کا قول ذکر فرمایا کہ والد محترم فرمایا کرتے تھے کہ حالات جیسے بھی ہوں، مدارسِ دینیہ قائم تھے، قائم ہیں اور قائم رہیں گے۔ اس کو کوئی مائی کا لال ختم نہیں کر سکتا۔ پھر عرض کیا کہ والد گرامی قدر، وفاق کے نگران اعلیٰ ہونے کے بعد، وفاق کی ذمہ داریاں روحانی طور پر سنبھالتے تھے، گھنٹوں گھنٹوں دعائیں کرتے اور ہر مسئلے کو از خود معلومات حاصل کرنے کے بعد نبھاتے تھے۔ وفاق میں شکایات سننے اور ان کے حل کرنے کا کوئی موثر نظام نہیں تھا، اس لیے مولانا سلیم اللہ خان صاحب، شکایات کی صورت میں از خود اپنے ذرائع سے معلومات حاصل کر کے شکایت کا ازالہ فرماتے تھے۔
یہ مجلس گھنٹہ سے زیادہ طویل تھی۔ دعا کرنے کے بعد جب ہم باہر نکلے تو دارالحدیث اور برآمدے میں کھڑے طلبہ سے ملاقات ہوئی۔ اجازت لے کر پرانے درسگاہ کا معائنہ کیا۔ دورۂ حدیث کے طلبہ نے مائیک پر کچھ کہنے کی درخواست کی تو میں نے بتایا کہ میں یہاں صرف اپنے اساتذۂ کرام اور مادرِ علمی جامعہ فاروقیہ کی زیارت کے لیے آیا ہوں۔ دورانِ تعلیم میں نے جامعہ فاروقیہ کا انتخاب اس لیے کیا تھا کہ میں ایک سادہ طالب علم تھا اور مجھے سادہ ماحول اور سادہ اساتذہ درکار تھے، اور ان سب کا مجموعہ جامعہ فاروقیہ میں ملا، اسی لیے میں نے وہاں دو سال تعلیم حاصل کی۔
پھر وہاں سے استاد مکرم مولانا محمد یوسف خان کشمیری صاحب کے مدرسہ جامعہ امام ابی حنیفہ، مکہ مسجد گئے۔ استاد محترم عرصہ دراز سے بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بستر پر پڑے ہیں۔ جامعہ فاروقیہ کی عالی شان عمارت اور چار سو پھیلی شہرت میں ان کی خدمات کو کافی دخل ہے۔ شدت اور بیماری کے باوجود ان کی عقل، فہم، بصیرت و بصارت پوری طرح بحال ہے۔ ملاقات پر خوشی کا اظہار فرمایا اور جب اپنی کتاب الخیر الجاری دست مبارک میں دی تو فرط مسرت سے بہت دیر تک صفحات ٹٹولتے رہے۔
چند سال پہلے مکہ مسجد ملاقات کے لیے گیا تو وہ صرف مسجد اور چند کمروں پر مشتمل تھا، اب جب گیا تو حیران ہوا کہ ایک عظیم الشان بلڈنگ کسی نے اس جگہ پر بنا کر عطیہ کی، کروڑوں کی رقم لگا کر خوبصورت اور تمام ضروریات پر مشتمل عمارت وقف کر دی۔ تاہم واقف نے شرط رکھی کہ عشاء کی نماز کے بعد متصلاً طلباء کرام آرام کریں گے اور پھر تہجد کا اہتمام کریں گے۔ مدرسے والوں نے " کچھ لو اور کچھ دو" یعنی مفاہمت کی بنیاد پر طے کیا کہ عشاء میں ہماری رعایت ہوگی اور تہجد میں آپ کی شرط کے مطابق عمل ہوگا۔ ماشاءاللہ، تہجد کے وقت سارے طلباء حاضر ہوتے ہیں اور مسجد میں قیام اللیل کا ایک خوشنما سماں ہوتا ہے۔
دو راتیں وہاں گزاری گئیں۔ حضرت استاد مکرم کے صاحبزادے مولانا محمد عامر خان کشمیری اور مولانا شفیع اللہ سواتی نے اعزاز و اکرام کیا اور ہر قسم کی سہولیات فراہم کیں۔ اب جامعہ کے شایانِ شان مسجد بھی تعمیر کے مراحل میں ہے۔
اسی دوران، اپنے ایک ہم سبق دوست مولانا شفیق الرحمن کشمیری کے ادارہ میں گئے جو پشتون آبادی کے اندر واقع ہے، جامع صدقیہ ماتھا خان گوٹھ۔ ماشاءاللہ، بچوں اور بچیوں کی تربیت کے لیے انوکھا انتظام کیا گیا ہے اور پشتون علاقے میں سب کو دینی اور دنیاوی تعلیم سے آراستہ کیا گیا ہے۔
اپنے فاضل دوست مولانا ولی خان المظفر سے بھی طویل نشست ہوئی۔ ان کے ذہن میں مدارس دینیہ کے طلباء میں عربی ادب کا شوق پیدا کرنا سوار ہے اور الحمدللہ، اس محنت میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔
آخر میں پھر جامعہ فاروقیہ میں اپنے استاد مکرم مولانا محمد انور صاحب کی زیارت کے لیے گئے، جو دارالحدیث میں بخاری شریف کے درس میں مشغول تھے۔ ان کے درس میں بیٹھنے کے بعد سارے طلباء کرام کے سامنے شرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئے دست بوسی کی۔ پھر دارالافتاء میں حاضر ہو کر دیر تک پرانی یادیں تازہ کیں، چائے پئ، اور پھر رخصت ہوئے۔
اساتذہ کرام کی ملاقاتیں ختم ہونے کے بعد سیدھا واپس، رخت سفر باندھا اور الحمدللہ اپنے گھر اور جامعہ حقانیہ پہنچ گئے۔
Tags:
عمومی مضامین
