ڈاکٹر کیشا علی ایک ممتاز امریکی محققہ ہیں جو فقہ، اخلاقیات، خواتین و جنس، اور سیرت کے مطالعے میں مہارت رکھتی ہیں۔ کیشا علی بوسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر آف ریلیجن کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کے تحقیقی کام کا دائرہ اسلامی قانون، ازدواجی مسائل، عورتوں کی سماجی اور مذہبی حیثیت اور معاصر مسلم معاشروں میں جنس کے موضوعات پر مشتمل ہے۔
ڈاکٹر کیشا علی نے دورانِ تعلیم اسلام قبول کیا، اور آج تک مسلسل اسلامی تعلیمات کے مختلف شعبوں میں تحقیقی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ ان کے علمی کام میں شادی، عورتوں کے حقوق اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ ان کے تعلقات پر نمایاں تحقیقی مواد ہے ۔ وہ مغربی دنیا میں اسلام میں عورت کے کردار کے حوالے سے موجود تصورات کی حساسیت کو سمجھتی ہیں اور اس حوالے سے علمی مکالمہ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کا کام صرف اسلامی فقہ اور اخلاقیات تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے خواتین کی سماجی، ثقافتی اور مذہبی حیثیت کے معاصر مسائل پر بھی خوب گفتگو کی ہے۔
سن 2004 کی بات ہے کہ امریکہ میں ایک جوڑے نے شادی کا فیصلہ کیا جس میں انہوں نے کچھ نیا کرنے کا سوچا۔ یہ زن اور تانیہ کا جوڑا تھا جو عقدِ نکاح میں جڑنے والے تھے اور اس تقریب کو وہ کسی سطح پر حیرت انگیز اور ناقابلِ فراموش بننا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا نکاح کسی خاتون سے پڑھوائیں گے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے معروف فیمنسٹ خاتون اسکالر کیشا علی کا انتخاب کیا اور ان کو باضابطہ دعوت دی جس کو کیشا علی نے خوش اسلوبی سے قبول کیا۔
When Tania and Zan were making their wedding plans, they decided to do something different for themselves and hundreds of their guests; they decided to have a woman officiate their marriage. Thus, they made a statement about the spiritual equality of women and men and about marriage as a spiritual partnership. Knowing of no religious reason women cannot officiate marriages, they invited Dr. Kecia Ali, the Mellon Postdoctoral Fellow in Islamic Studies and Women’s Studies at Brandeis University, to officiate. She accepted, noting that in Islam 'since a wedding officiator is basically witnessing the contract agreement, there is no legal reason why females can't officiate.'
جب تانیہ اور زن اپنی شادی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، تو انہوں نے اپنے لیے اور اپنے سیکڑوں مہمانوں کے لیے کچھ مختلف کرنے کا فیصلہ کیا؛ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ شادی کی رسم ایک خاتون پڑھائے۔ اس طرح انہوں نے عورتوں اور مردوں کی روحانی برابری اور شادی کو ایک روحانی شراکت کے طور پر پیش کیا۔ چونکہ انہیں کوئی مذہبی وجہ معلوم نہیں تھی کہ عورتیں شادی پڑھانے سے قاصر ہوں، اس لیے انہوں نے ڈاکٹر کیشیا علی، جو برانڈیس یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز اور ویمن اسٹڈیز میں میلّون پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو ہیں، کو شادی پڑھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے یہ قبول کر لیا، اور کہا کہ اسلام میں چونکہ شادی پڑھانے والا بنیادی طور پر عقد کے معاہدے کا گواہ ہوتا ہے، اس لیے قانونی طور پر عورتیں شادی نہیں پڑھا سکتی اس کی کوئی وجہ نہیں۔
یعنی ان کا مقصد شاید یہ تھا جیسا مصنفہ نے لکھا ہے کہ وہ مرد و عورت کی روحانی مساوات کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں کہ مرد و عورت روحانی زندگی میں بالکل برابر ہے۔ اس حوالے سے کیشا علی کا انتخاب ایک درست فیصلہ تھا۔
مجموعی طور پر روایتی اسلامی فکر میں خاتون کے نکاح پڑھانے پر کوئی واضح ممنوعیت نہیں ہے، البتہ بعض فقہاء نے مخصوص حالات اور ممکنہ مفسدات کی وجہ سے اسے محدود قرار دیا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر خاص ماحول میں اس کی گنجائش موجود ہے۔
کیشا علی نے زن اور تانیہ کی خواہش پر نکاح کا خطبہ دیا جس میں انہوں نے تین مرکزی پہلوؤں کو اجاگر کیا:
- شوہر اور بیوی کے تعلقات اور خود سے تعلق
- خاندان اور کمیونٹی کی حمایت اور مداخلت
- انسانیت کا خدا کے نزدیک مقام اور ذمہ داریاں
شادی کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کیشا علی نے بتایا کہ ہر انسان اپنی زندگی میں خود مختار اور جوابدہ ہوتا ہے، اور شادی میں بھی دونوں شریک حیات ایک دوسرے کے لیے ذمہ داریوں کے پابند ہوتے ہیں۔ اسلام میں شادی صرف دو افراد کا رومانی تعلق ہے بلکہ ایک معاہدہ ہے جو روحانی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں پر مبنی ہے۔ اس تعلق میں دونوں کے درمیان محبت، رحمت، تعاون، اور احترام بنیادی اصول ہیں۔ اسی طرح شادی میں خاندان کی حمایت، رہنمائی اور مشورہ ضروری ہے، اور اگر کبھی اختلاف بھی ہو تو اسے احترام اور اللہ کی شعوری یاد کے ساتھ حل کرنا چاہیے۔ قرآن میں بھی خاندان کے افراد کے کردار اور تنازعات کے حل کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں، جیسے سورۃ النساء 4:35 میں ذکر کیا گیا ہے۔
اور اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ انسانیت اور زوجین کے تعلق کو قرآن کی آیات کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سورۃ النساء 4:1 کے مطابق انسان اور اس کا جوڑا ایک ہی نفس سے پیدا ہوئے، اور اسی سے تمام انسانیت کی نسل وجود میں آئی۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں، اور فرق صرف جاننے اور پہچاننے کے لیے ہے، نہ کہ برتری کے لیے۔ سورۃ الحجرات 49:13 میں بھی قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تقویٰ ہی اللہ کے نزدیک سب سے اہم معیار ہے، نہ کہ نسل، رنگ یا زبان۔
شادی کے عملی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کیشیا علی نے واضح کیا کہ خوشحال شادی کا راز صرف بڑے لمحات میں نہیں، بلکہ روزمرہ کے چھوٹے، مشترکہ کاموں، خاموش صحبت، اور ایک دوسرے کے لیے قدر و احترام میں بھی مضمر ہے۔ شادی میں دونوں شریک حیات اپنی ذاتی شناخت کے ساتھ رہتے ہیں، اور ہر ایک اپنے اعمال کا اللہ کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔ ہر شریک حیات دوسرے کے لیے ذمہ داریاں پوری کرتا ہے، اور زندگی کے معمولات اور مشکلات کے باوجود شادی کو ایک محفوظ، پرامن اور محبت بھرا رشتہ بنایا جا سکتا ہے۔
روحانی اور جذباتی پہلو پر زور دیتے ہوئے، کیشیا علی نے قرآن کی آیات (الروم 30:21) کے ذریعے شادی میں سکون، محبت اور رحمت کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے زوجین کے تعلق کو کپڑوں کے استعارے سے سمجھایا، جو ایک دوسرے کو تحفظ اور قربت فراہم کرتا ہے، اور یاد دہانی کرائی کہ اللہ انسان سے سب سے زیادہ قریب ہے (القیامة 50:16)، لہٰذا شادی میں بھی اللہ کی یاد اور رضا سب سے مقدم ہے۔
خطبے کا اختتام اس بات پر ہوا کہ شادی صرف دو افراد کا تعلق نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی اور روحانی ذمہ داری بھی ہے۔ زن اور تانیہ اپنی شادی کے ذریعے ایک دوسرے کے لیے معاون، مددگار اور احترام کرنے والے شریک حیات بنیں گے، اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے اپنی زندگی کے تمام لمحات، خوشی اور مشکلات، محبت اور تعاون کے ساتھ بانٹیں گے۔
اس خطبہ میں کیشا علی نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ شادی میں مکمل تنازع سے پاک زندگی کا تصور حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ ہر رشتہ، چاہے وہ سب سے مضبوط اور محبت بھرا کیوں نہ ہو، مختلف توقعات، مزاج، عادات، اور تجربات کے حامل افراد کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ فطری ہے کہ کبھی کبھار اختلاف یا جھگڑے پیدا ہوں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ اختلافات کیسے حل کیے جائیں۔
کیشیا علی نے اپنے خطبے میں اس نقطے پر زور دیا کہ تنازعہ ہونے پر احترام، مناسب طریقہ، اور اللہ کے شعور کے ساتھ حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ آج کے معاشرے میں جہاں زندگی کے دباؤ، پیشہ ورانہ ذمہ داریاں، سماجی توقعات، اور جدید ثقافتی اثرات جوڑوں پر اثر ڈال رہے ہیں، یہ اصول اور بھی اہم ہو جاتے ہیں کہ اختلاف کے دوران، ایک دوسرے کی رائے اور جذبات کی قدر کرنا ضروری ہے۔ بات چیت میں تنقید یا غصہ پیدا کرنے کے بجائے، ایک دوسرے کی سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کو ترجیح دینی چاہیے۔ تنازعے کو حل کرنے کے لیے تحمل، صبر، اور مناسب وقت کا انتخاب ضروری ہے۔ فوری ردعمل یا جذباتی فیصلے اکثر مسائل کو بڑھا دیتے ہیں۔ نیز ہر رشتہ دار کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے اور اعمال میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہے۔ اس شعور سے جوڑے میں صبر، برداشت، اور اخلاقی ذمہ داری پیدا ہوتی ہے۔
آج کل کے حالات میں یہ نکتہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ آج کے جوڑے عموماً ذاتی آزادی، کیریئر، اور جدید طرز زندگی کے اثرات میں رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں تنازعات کا ہونا فطری ہے، لیکن اس کا نتیجہ شادی کی تباہی نہیں بلکہ ایک مضبوط اور سمجھدار رشتہ بھی ہو سکتا ہے اگر اختلافات کو صحیح طور پر نمٹایا جائے۔
کیشیا علی کے مطابق، شادی میں یہ عمل زوجین کی ذاتی سکون اور تعلق کو مضبوط کرتا ہے اور خاندان اور کمیونٹی میں مثبت اثرات کا سبب بنتا ہے۔ جب تنازعہ احترام، حکمت، اور روحانی شعور کے ساتھ حل کیا جاتا ہے، تو شادی محبت و سکون کا ذریعہ بنتی ہے، جو بچوں اور معاشرے کے لیے بہترین مثال قائم کرتی ہے۔
Tags:
معاصر افکار
