تعمیری ہزیمت


 

جب تم گھبراہٹ اور ابتری کے عالم میں پیچھے ہٹتے جا رہے تھے اور کوئی پلٹ کر دیکھنے کا یارا نہ رکھتا تھا، اس وقت رسولِ مکرم ﷺ اپنے پیچھے ڈٹے رہنے والے ایک گروہ کے ہمراہ تمہیں پکار رہے تھے۔ پھر اس نے تمہیں ایک غم کے ساتھ دوسرا غم عطا کیا، تاکہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے نکل گیا اور جو آزمائش تم پر آن پڑی اس پر دل شکستہ نہ ہو۔ اور یاد رکھو کہ اللہ تمہارے تمام اعمال سے بخوبی باخبر ہے۔

غزوۂ بدر کی ہولناک شکست نے قریش و یہود اور تمام معاندینِ اسلام کے قلوب میں ایسی تپش بھردی کہ وہ انتقام کی بھٹی میں جھلسنے لگے۔ وہ جو کل تک اپنے غرورِ قوت اور تسلطِ عرب پر نازاں تھے، آج مسلمانوں کے ہاتھوں عبرتناک ہزیمت پا کر اس تلخ حقیقت کے معترف ہوئے کہ یہ جماعتِ مومنین اب محض ایک مذہبی حلقہ نہیں رہی، بلکہ ایک ابھرتی ہوئی ریاستی قوت ہے جو اپنی تدبیر و شجاعت سے باطل کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر سکتی ہے۔ قریشِ مکہ ہوں یا یہودِ مدینہ، سب پر یہ واضح ہو گیا کہ مسلمانوں کے سیاسی و عسکری اقدامات ان کے مستقبل پر سیاہ پردہ ڈال رہے ہیں۔


مکہ کی سرزمین پر انتقام کی فضا چھا گئی۔ مشرکین اپنی بے عزتی کے داغ دھونے اور اپنے تجارتی راستوں کی بندش ختم کرنے کے لیے تلملا اُٹھے۔ دارالندوہ کے ایوانوں میں شورش برپا ہوئی، جہاں ابوسفیان—جو بدر میں ابو جہل کے قتل کے بعد قریش کی سرداری کا وارث بنا—نے بدلے کی آگ کو بھڑکایا۔ اس کی شریکِ حیات ہندہ نے بھی اپنی محفلوں میں جنگی ترانوں اور آتشیں اشعار کے ذریعے قریش کے حوصلوں کو تیزاب میں تپایا۔


ابوسفیان نے مدینہ کے گرد و نواح میں ایک یہودی سردار کے ہاں قیام کیا تاکہ حالات سے مکمل باخبر ہو سکے۔ دوسری جانب مکہ میں مال و زر کا انبار اکٹھا کیا گیا اور جنگی تیاریوں کے نقارے بجنے لگے۔ تین ہزار سے متجاوز لشکر تیار ہوا، جس میں سات سو زرہ پوش مجاہدینِ باطل، دو سو اصیل گھوڑے اور تین سو اونٹوں کی قطاریں شامل تھیں۔ اس قافلۂ جنگ میں کچھ عورتیں بھی ہمراہ تھیں جو حماسی اشعار اور جذباتی نغمات کے ذریعے مردانِ قریش کو انتقام کی آگ میں جھونکنے کا کام سرانجام دیتی تھیں۔


ہندہ بنتِ عتبہ کا انتقام تو اور بھی ہولناک تھا۔ اس نے بدر میں اپنے باپ، بھائی اور عزیزوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے قسم کھائی کہ محمدِ عربی ﷺ کے شیرِ بیشہ چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا جگر چبا کر اپنے قلبِ مجروح کو تسکین دے گی۔ اس غرض سے اس نے اپنے غلام وحشی کو تیروں کی تیزی اور نیزوں کی کاری ضرب پر تربیت دے کر اسی خون آشام مقصد کے لیے آمادہ کیا۔ 

پیغمبرِ انقلاب ﷺ کے عمِ مکرم حضرت عباسؓ—جو اُس وقت مکہ معظمہ میں مقیم تھے—نے مشرکین کی جنگی سازشوں سے آپ ﷺ کو بروقت آگاہ کیا۔ نبیِ اکرم ﷺ نے اہلِ مدینہ کے دو طبقات—انصار و مہاجرین—کو مشورے کے لیے جمع فرمایا کہ آیا شہر کے حصار میں رہ کر دفاع کیا جائے یا کھلے میدان میں نکل کر دشمن کا سامنا کیا جائے۔


مجلسِ مشاورت میں آراء مختلف تھیں۔ اہلِ تدبیر میں سے بعض صحابہؓ کا تجربہ یہ کہتا تھا کہ مدینہ کے اندر رہ کر دفاع کیا جائے، کہ ہم نے جب بھی گلی کوچوں اور بلند چھتوں سے پتھروں اور تیروں کی بارش کے ساتھ مزاحمت کی، دشمن کو دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ مگر دوسری جانب کچھ ایسے جانباز بھی تھے جو بدر کی شرکت سے محروم رہ گئے تھے، ان کے دلوں میں شوقِ شہادت کی تپش دہک رہی تھی۔ وہ کھلے میدان میں صف آرائی کے خواہاں تھے تاکہ اپنے خون سے وفا کی گواہی دے سکیں۔


بالآخر، فیصلہ اسی رائے پر ہوا کہ مدینہ کے دامن سے نکل کر میدان میں جنگ لڑی جائے۔ اگرچہ کچھ صحابہؓ نے بعد میں اپنے اصرار پر ندامت کا اظہار کیا، لیکن اس وقت تک رسولِ عربی ﷺ زرہ و اسلحہ سے آراستہ ہو چکے تھے۔ پھر نمازِ جمعہ کے بعد آپ ﷺ نے اپنے جان نثاروں کو استقامت و صبر کی وصیت فرمائی اور ایک ہزار نفوس پر مشتمل اسلامی لشکر کو مدینہ سے روانہ فرمایا۔

راہ میں منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبی اپنی تین سو جماعت کے ساتھ یہ کہہ کر الگ ہوگئے کہ چونکہ اُس کی رائے—شہر میں رہ کر لڑنے کی—نہیں مانی گئی، لہٰذا وہ اس جنگ میں شریک نہ ہوگا۔ یوں اسلامی لشکر کی تعداد گھٹ کر سات سو رہ گئی۔


دونوں فوجیں اُحد کے دامن میں صف آرا ہوئیں۔ مسلمانوں کی پشت پر عظیم الشان پہاڑ کھڑا تھا جو ایک قدرتی حصار کی مانند تھا۔ اسی پہاڑ کے ایک درّے پر حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جُبَیرؓ کی قیادت میں پچاس ماہر تیر اندازوں کو مامور فرمایا تاکہ دشمن اس راستے سے نقب نہ لگا سکے۔

میدانِ اُحد میں سبقت مشرکین نے لی۔ آغاز میں فرداً فرداً معرکے ہوتے رہے، پھر دفعتاً قریش نے اجتماعی یلغار کی اور اپنی عورتوں کو صفوں کے پیچھے کھڑا کر دیا۔ وہ دف و نغمہ اور تیز و تند اشعار سے سپاہ کو بھڑکاتی رہیں کہ بدر کی ذلت کا داغ مٹا دو۔ جنگ کی ابتدائی گھڑیاں مسلمانوں کے حق میں تھیں۔ کفار کے نامور جوان یکے بعد دیگرے خاک و خون میں لوٹ گئے، اور مکہ کی صفوں میں بھگدڑ مچ گئی۔


مسلمان، جن کے دل بدر کی یادوں سے سرشار تھے، سمجھے کہ فتح یقینی ہے۔ اسی سرشاری میں وہ اُس درے کو، جس کی پاسبانی کا حکم رسولِ اکرم ﷺ نے دیا تھا، ترک کر بیٹھے اور مالِ غنیمت سمیٹنے میں لگ گئے۔ صرف دس جاں نثار وہاں ڈٹے رہے۔


یہی وہ لمحہ تھا جسے خالد بن ولید—جو اُس وقت ایمان سے محروم تھے—نے غنیمت جانا۔ وہ اپنی سوار دستے کے ساتھ احد کے عقبی راستے سے گھوم کر آئے اور درے پر قابض ہو گئے۔ پھر اچانک مسلمانوں پر پیچھے سے کاری ضرب لگائی گئی۔


افراتفری کا عالم یہ تھا کہ خبر اُڑ گئی کہ "محمد ﷺ شہید کر دیے گئے۔" یہ افواہ جب فضا میں گونجی تو سپاہ کی ہمت ٹوٹ گئی۔ کئی اصحاب گھبرا کر میدان چھوڑ گئے، کچھ اطراف کی پہاڑیوں میں جا چھپے، اور کچھ ایسے بھی تھے جن کے دلوں نے کہا کہ اگر آفتابِ رسالت بجھ گیا تو زندگی بے معنی ہے۔


لیکن دوسری جانب وہ پروانے تھے جو حضور ﷺ کے گرد حصارِ جاں بن کر کھڑے رہے۔ وہ اپنی تلواروں سے برق و آہن کی بارش کرتے اور آپ ﷺ کی ڈھال بنتے رہے۔ انہی لمحوں میں نبی کریم ﷺ زخمی ہوئے، آپ ﷺ کے مبارک دندان شہید ہوئے، اور آپ کے محبوب چچا سید الشہداء حضرت حمزہؓ نے اپنی جان قربان کر دی۔اسی کیفیت کو قرآن نے یوں بیان کیا کہ:

"جب تم بھاگے جا رہے تھے اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول ﷺ تمہیں پکار رہے تھے… پھر اللہ نے تمہیں غم پر غم دیا تاکہ تمہاری تربیت ہو اور آئندہ صبر و استقامت سیکھو۔"

ابتدائی افراتفری کے نتیجے میں مسلمانوں کو نقصان ہوا۔ مشرکین اپنے بھاری جنگی سامان کی وجہ سے احد کے پہاڑ پر نہ چڑھ سکے، جس سے کئی جانیں بچ گئیں۔ لیکن اس دوران کفار کی عورتیں، بالخصوص ابو سفیان کی بیوی ہندہ، انتہائی سفاکی پر اتر آئیں۔ شہداء کے ناک کان کاٹے گئے، اور ہندہ نے سید الشہداء حضرت حمزہؓ کا جگر چبا کر اپنی وحشت کا ثبوت دیا۔

میں ذاتی طور پر غزوۂ احد کی اس تعمیری شکست سے یہ نکتہ اخذ کرتا ہوں کہ کسی بھی معرکہ آرائی میں حقیقی فتح و کامرانی دو بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے:

اولاً، ایک ایسا مضبوط و راسخ عقیدہ و نظریہ جس پر اہلِ ایمان اپنی جانیں نچھاور کرنے کو سعادت سمجھیں، اور جس کی اساس پر ہر قطرۂ خون کو قربان کرنے کا جذبہ دلوں میں موجزن ہو۔

ثانیاً، ایک منظم حکمتِ عملی اور دقیق جنگی منصوبہ بندی، جو لشکر کی ہر حرکت و سکون کو مربوط کر کے اسے یکجان اور ہم آہنگ کر دے۔ یہ وہ عنصر ہے کہ اگرچہ ایمان و عقیدہ اپنی جگہ مستحکم و غیر متزلزل ہو، لیکن منصوبہ بندی میں معمولی لغزش اور حکمتِ عملی میں ادنیٰ خلل بھی بڑے سانحے کو جنم دے سکتا ہے۔

غزوۂ احد کے دامن میں یہی سبق پوشیدہ ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں ایمان کا ذرہ برابر تزلزل نہ آیا، ان کے سینوں میں نظریے کا چراغ پوری آب و تاب کے ساتھ روشن رہا؛ لیکن درۂ اُحد پر تعینات جماعت کی تھوڑی سی خلاف ورزی اور منصوبہ بندی میں اس ہلکی سی دراڑ نے دشمن کو موقع فراہم کر دیا۔ نتیجتاً وہ معرکہ جس میں مسلمانوں کے قدم ابتدائی طور پر غالب آچکے تھے، ایک تعمیری شکست کے تجربے میں ڈھل گیا۔


اس کے برعکس مشرکینِ مکہ اپنے باطل نظریے پر بھی پوری شدتِ جذبات کے ساتھ جان دینے کو تیار تھے اور ساتھ ہی جنگی حکمتِ عملی میں بھی مربوط و منظم تھے۔ یہی وہ دو عناصر تھے جنہوں نے انہیں وقتی کامیابی سے ہمکنار کیا۔

1 تبصرے

  1. السلام علیکم ۔ مفتی صاحب کیا مستشرقین غزوہ احد کے بارے میں بھی اشکالات کرتے ہیں ؟

    جواب دیںحذف کریں
جدید تر اس سے پرانی