امت مسلمہ کے لیے نئی صبح — پاکستان کے سائے میں متحد عالمِ اسلام


 

تحریر: ✍✍اعجاز میر
دنیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ایک تاریخی اور عظیم پیش رفت نے مسلم دنیا کے نقشے کو بدلنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب نے ایک ایسا دفاعی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ محض دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ امت مسلمہ کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے۔ یہ معاہدہ یہ واضح کر رہا ہے کہ اب مسلم دنیا اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے امریکہ یا مغربی طاقتوں پر بھروسہ نہیں کرے گی بلکہ اپنے ایٹمی ملک پاکستان پر اعتماد کرے گی۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ  ارشاد فرماتے ہیں
:
﴿وَاعْتَصِمُوابِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا

سورہ آل عمران، آیت(103)

 

اللہ کی رسی کو مضبوطی سے سب مل کر تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔
مسلم دنیا نے حالیہ عرصے میں دیکھا کہ جو ممالک اپنے دفاع کے لیے امریکہ یا مغرب پر بھروسہ کرتے ہیں، انہیں اکثر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ قطر کی مثال واضح ہے، جس نے اپنی سلامتی کے لیے امریکی دفاع پر بھروسہ کیا، لیکن حالات نے دکھایا کہ امریکہ کی ضمانت ہمیشہ قابل اعتماد نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب امت مسلمہ کو اپنے ایٹمی ملک پاکستان پر بھروسہ کرنا ہوگا، جس کی فوج، اسلحہ، اور قربانی ہر محاذ پر سب سے آگے ہے۔
اس وقت اسرائیل اپنے منصوبے "گریٹر اسرائیل" کو عملی شکل دینے میں مصروف ہے۔ فلسطین پر ظلم و بربادی جاری ہے، لیکن اب اگر پاکستان اور سعودی عرب کے اس دفاعی معاہدے میں دیگر اسلامی ممالک بھی شامل ہوں، حتیٰ کہ یمن جیسا ملک بھی اختلافات ختم کر کے اس اتحاد کا حصہ بن جائے، تو یہ بلاک اسرائیل اور اس کے حامیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا: مسلمان اب کمزور نہیں، ایک ایٹمی طاقت اس کے ساتھ ہے اور امت کو کسی مغربی سرپرستی کی ضرورت نہیں۔
رسول اللہ نے فرمایا:
المسلم  أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه 
صحیح بخاری، حدیث:( 2442) 
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے دشمن کے حوالے کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاہدہ ایک طاقتور اعلان ہے۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی میں پاکستان اب صرف فوجی طاقت ہی نہیں رکھتا، بلکہ معاشی استحکام اور توانائی کے بیک اپ کے ساتھ طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ یہ معاہدہ پاکستان کو یقین دہانی دیتا ہے کہ جنگ کے دوران تیل وافر مقدار میں دستیاب ہوگا، زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ رہیں گے اور دفاع کے ہر محاذ پر پاکستان سب سے پہلے کھڑا ہوگا۔
رسول اللہ نے فرمایا:

المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضا
 صحیح بخاری، حدیث (481) - 
مومن، مومن کے لیے ایک عمارت کی مانند ہے، جس کا ہر حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔

یہ معاہدہ سعودی عرب کے لیے بھی ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ ماضی میں سعودی عرب اپنی فضائی حدود پر اسرائیلی رسائی روکنے کی طاقت تو رکھتا تھا مگر جرات نہیں دکھا سکا۔ اب پاکستان کی شراکت اور اتحاد اسے وہ اعتماد دے گا کہ وہ اپنی پالیسی آزادانہ طور پر طے کرے، دفاع مضبوط کرے اور یمن کے ساتھ کشیدگی کم کرے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُم
(سورہ الحجرات، آیت (10) - 
مومن تو سب بھائی بھائی ہیں، پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو۔
اگر قطر، ترکی، یمن اور دیگر گلف ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہو گئے تو یہ بلاک OIC کی محض رسمی حیثیت سے بڑھ کر ایک عملی دفاعی اتحاد بن جائے گا۔ اسلامی اسکالرز برسوں سے کہتے آ رہے ہیں کہ امت کو صرف بیانات نہیں بلکہ عملی قوت کی ضرورت ہے۔ یہ معاہدہ اسی سمت ایک عملی قدم ہے اور ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرے گا جہاں مسلمان ممالک اپنی مشترکہ دفاعی پالیسی تشکیل دے سکیں۔
پاکستان کو اس معاہدے کے ذریعے ایک عظیم عزاز بھی حاصل ہوگا: حرَمَین شریفین کی دفاع کے لیے سب سے پہلے پاکستان کا نام آئے گا۔ یعنی جب اسلام کے سب سے مقدس مقامات پر خطرہ آئے گا، تو امت مسلمہ سب سے پہلے پاکستان کی قیادت اور قربانی پر بھروسہ کرے گی۔ یہ پاکستان کے وقار کو بلند کرے گا اور مسلم دنیا میں اس کے مقام کو مضبوط کرے گا۔
یہ معاہدہ محض دو ملکوں کے درمیان تعاون نہیں بلکہ امت کے لیے ایک تاریخی موڑ ہے۔ اب مسلم دنیا کا سبق یہ ہے: اب مزید ایک ہونا ہوگا، ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا ہوگا، اور اپنے ایٹمی ملک پاکستان کی قیادت پر اعتماد کرنا ہوگا۔ امریکہ یا مغرب کے وعدے پر نہیں بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں کی قربانی اور طاقت پر اعتماد کرنا ہوگا۔
رسول اللہ کا فرمان ہے:
المسلمون تتكافأ دماؤهم ويسعى بذمتهم أدناهم وهم يد على من سواهم

 

(ابو داؤد، حدیث(2751) - 
مسلمانوں  کا خون برابر ہے، ان کا سب سے کمزور بھی ان کی ذمہ داری لے سکتا ہے اور وہ سب ایک ہاتھ کی طرح ہیں۔
اب مسلم دنیا کا رجحان تبدیل ہو چکا ہے۔ اب امریکہ اور مغرب پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں، امت اپنے ایٹمی ملک پاکستان کی قیادت، دفاعی طاقت اور قربانی پر اعتماد کرے گی۔ اگر یہ خواب حقیقت میں بدل گیا تو امت مسلمہ کے لیے ایک نیا باب کھلے گا، جس میں مسلمان ایک بار پھر سر اٹھا کر دنیا سے بات کریں گے اور واضح پیغام دیں گے: اب کوئی طاقت مسلمانوں کو کمزور یا تقسیم نہیں کر سکتی۔


ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی