کل میں یہ علم اس مردِ مجاہد کے سپرد کروں گا جو عشقِ الٰہی اور محبتِ رسولﷺ کے جام سے سرشار ہے، اور جس کے لیے ربّ کائنات اور سرورِ دو عالمﷺ کے قلبِ مقدّس میں بے پناہ محبت موجزن ہے۔ وہ نہ تو فرار کی راہوں کا مسافر ہوگا، نہ شکست کے ذلّت بار داغ سے آلودہ۔ ربّ قدیر اسی کے دُو ہاتھوں کو اپنی نصرتِ قاہرانہ کا وسیلہ بنائے گا اور اسی کی انگلیوں سے فتح و ظفر کے پرچم لہرا دے گا۔
پیغمبرِ انقلاب ﷺ کے زبانِ مبارک سے جب یہ بشارت آمیز اعلان ہوا تو قافلۂ صحابہ کرام کے قلوب و اذہان میں مسرّت و انبساط کی ایک لہر دوڑ گئی، کہ فتحِ مبین کی نویدِ سحر یقینی ہے، کیونکہ آفتابِ رسالت ﷺ کی زبانِ صدق ترجمان سے صادر ہونے والی پیشین گوئی کبھی کذب سے آلودہ نہیں ہو سکتی۔ اسی کے ساتھ رفیقانِ نبوتؓ کے دلوں میں یہ تمنا بھی انگڑائیاں لینے لگی کہ یہ عسکری قلعۂ استحکام انہی کے ہاتھوں زیر ہو اور وہ اس شرفِ اعزاز سے بہرہ ور ہوں۔
اگلی صبح پیامبرِ حق ﷺ نے اپنے عم زاد اور داماد، شیرِ خدا، چوتھے خلیفۂ راشد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنی بارگاہِ اقدس میں طلب فرمایا۔ اس وقت حضرتِ حیدر کرارؓ آشوبِ چشم کی اذیت میں مبتلا تھے اور یہ کیفیت حضور ﷺ کے گوش گزار کی گئی۔ لیکن آستانۂ رسالت پر حاضری کا شرف پانے میں یہ عارضی تکلیف مانع نہ ہوئی۔ حضور ﷺ نے اپنے لعابِ دہن کو ان کی چشمِ مبارک پر لگایا تو چشمِ زخم فوراً شفایاب ہو گئی اور پھر تاعمر اس مرض نے پلٹ کر سر نہ اٹھایا۔ اس کے بعد حضورِ اکرم ﷺ نے حضرتِ علیؓ کو علمِ نصرت عطا فرمایا اور حکمِ قتال دے کر اس مستحکم قلعے کی تسخیر کے لیے روانہ کیا۔
یہ واقعہ سنہ سات ہجری کا ہے، اور صلحِ حدیبیہ کو پورا ایک سال گزر چکا تھا۔ مسلمانوں کو مکہ معظمہ میں اپنے جانی دشمنوں کی شرارتوں سے وقتی امان نصیب ہو چکا تھا اور اب وقت آن پہنچا تھا کہ فتنہ و فساد کے گڑھ، سازشوں کے مرکز، خیبر کی خبر لی جائے۔ یہودیوں کا یہ مستحکم گڑھ، جو مدینہ طیبہ سے شمالِ مغرب میں تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا، ایک محفوظ عسکری اساس گاہ کی حیثیت رکھتا تھا جہاں سے یہود مسلسل مکائد و حیل کا سہارا لیکر مسلمانوں کے خلاف کاروائی کر تے تھے اور دیگر یہودی قبائل کے ساتھ مل کر اہلِ اسلام کے خلاف فتنہ انگیزی کرتے رہتے تھے۔ غزوۂ خندق کے موقع پر بھی اہلِ خیبر نے سازشوں میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، اور قبیلۂ بنو نضیر — جنہوں نے عہد شکنی کر کے مدینہ میں مسلمانوں کو مصائب سے دوچار کیا — کو پناہ دے کر اہلِ ایمان کو سخت ذہنی و نفسیاتی دھچکا پہنچایا تھا۔
اہلِ ایمان ان تمام مکائد سے بخوبی آگاہ تھے۔ پس پیغمبرِ انقلاب ﷺ اور اصحابِ صدق و صفا نے یہ طے فرمایا کہ اب اس فتنہ کے قلع قمع کا وقت آن پہنچا ہے۔ اس عزمِ جمیل کے ساتھ سپہ سالارِ اعظم ﷺ نے شانِ جلال میں سولہ سو جاں نثاروں پر مشتمل عساکرِ اسلام کو ساتھ لیا اور ساز و سامانِ حرب کے ساتھ خیبر کی سمت قصدِ جہاد فرمایا۔
خیبر حجاز کا وہ خطہ تھا جو زرخیزی و شادابی میں ممتاز، اور تجارتی و اقتصادی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ یہاں کے یہود معاشی قوت میں اپنی مثال آپ تھے۔ اہلِ اسلام نے ابتداءً چھوٹے چھوٹے قلعوں پر یلغار کی اور ایک ایک کر کے ان کو زیر کیا، یہاں تک کہ سب سے بڑے اور مستحکم قلعے — قلعۂ خیبر — کا محاصرہ کر لیا گیا۔ یہ قلعہ ایک بلند و بالا پہاڑی پر قائم تھا اور اپنی مضبوط فصیلوں اور دفاعی حصار کی بدولت قریباً ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ اہلِ علم کے مطابق اہلِ اسلام نے پہلے پانچ قلعے پے در پے فتح کیے جن میں پچاس جانباز زخمی اور ایک خوش نصیب شہید ہوا۔ اس دوران یہود رات کی تاریکی میں اپنا اثاثہ اور افراد ایک قلعے سے دوسرے قلعے میں منتقل کرتے رہے۔ باقی رہ جانے والے دو قلعوں میں قلعۂ قموص سب سے زیادہ اہم اور بنیادی حیثیت رکھتا تھا اور ایک بلند پہاڑی پر واقع تھا۔
حضورِ رحمت ﷺ نے یکے بعد دیگرے حضرت صدیق اکبرؓ، حضرت فاروق اعظمؓ اور حضرت سعد بن عبادہؓ کی قیادت میں لشکر روانہ فرمائے، مگر یہ قلعہ اپنے استحکام اور دفاعی تدابیر کے باعث ان حملوں کے باوجود فتح نہ ہو سکا۔
پھر تاجدارِ رسالت ﷺ نے اپنی نورانی زبانِ اقدس سے اعلان فرمایا کہ:
کل میں یہ رایتِ نصرت ایسے مردِ میدان کے سپرد کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے والہانہ محبت رکھتا ہے اور اللہ و رسول ﷺ بھی اس سے محبت فرماتے ہیں۔ وہ مردِ میدان نہ کبھی شکست کھانے والا ہوگا نہ پیٹھ دکھانے والا۔ اور حق تعالیٰ اس کے دونوں ہاتھوں سے فتح و نصرت کے در کھول دے گا۔
اگلے روز یہ رایتِ جلال شیرِ خدا، اسد اللہ الغالب، مولائے رسول حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد کی گئی۔ حیدرِ کرار نے غیر معمولی شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن پر یلغار فرمائی۔ دورانِ معرکہ، مرحب نامی یہودی جو اپنی قوت و شجاعت میں ضرب المثل تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تیغِ حیدری کے کاری وار سے واصلِ جہنم ہوا، اور یہ منظر دیکھ کر یہود کے دلوں میں دہشت کی لہر دوڑ گئی۔ وہ سب قلعے کے اندر دبک گئے۔
پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی قوتِ بازو کا وہ مظاہرہ کیا جس نے تاریخِ انسانی کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ آپؓ نے قلعہ کا وہ دروازہ جسے بیس ہٹے کٹے آدمی مل کر کھولتے تھے، تنِ تنہا اپنی قوتِ بازو سے اکھاڑ ڈالا اور اسے قلعے کے خندق نما دہانے پر پل کی صورت رکھ دیا تاکہ عساکرِ اسلام اپنے گھوڑوں سمیت اندر داخل ہو سکیں۔ یوں قلعہ زیر و زبر ہوا، دشمن کے حوصلے پست ہو گئے، اور میدانِ کارزار مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔
اس معرکہ میں ترانوے یہودی واصلِ جہنم ہوئے اور یوں قلعہ خیبر مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ یہ شاندار فتح اہلِ ایمان کے لیے تقویتِ قلب اور ان کے ایمان و حوصلے کی تجدیدِ نو ثابت ہوئی۔ پیغمبرِ انقلاب ﷺ نے یہودیوں کو ان کی التجا پر ان ہی کی سرزمین خیبر میں باقی رہنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور ان سے معاہدہ کیا کہ وہ اپنی پیداوار کا نصف بطورِ جزیہ مسلمانوں کو ادا کریں گے اور جب اہلِ اسلام چاہیں گے، انھیں خیبر سے خارج کر دیں گے۔
اسی جنگ میں بنی نضیر کے سردار حیی بن اخطب کی دخترِ نیک اختر، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی قید ہوئیں۔ آقائے دو جہاں ﷺ نے انھیں آزاد فرما کر اپنی زوجیت میں قبول فرمایا، یوں یہ اسیری نکاحِ مسنون کی صورت اختیار کر گئی۔مسلمانوں کو اس فتحِ مبین سے بے شمار جنگی سازوسامان و اسلحہ ہاتھ آیا جس نے عسکری اعتبار سے مسلمانوں کو غیر معمولی تقویت بخشی۔
اسی معرکے کے بعد حضرت جعفر طیارؓ حبشہ سے واپس تشریف لائے۔ تاجدارِ مدینہ ﷺ نے اس موقع پر ارشاد فرمایا:
مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کس خوشی پر زیادہ مسرور ہوں؛ فتحِ خیبر پر یا جعفرؓ کی واپسی پر۔
