عمرۃ القضاء


 

دربارِ رسالت کے عندلیبِ سخن، لسانِ نبوت کے خوش نوا شاعر، حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹ کی مہار تھامے، آستانۂ اقدس کے قافلۂ جاں نثاراں کے پیش رو بنے ہوئے ہیں۔ سرِ راہ ان کے لبوں سے وجد آفرین اشعار کی بارش ہو رہی ہے اور جوشِ ولولہ انگیز سے معمور یہ صدائیں فضا میں بازگشت پیدا کر رہی ہیں۔ ہر مصرعہ ایمان افروز حمیّت کا نغمہ اور ہر بیت روح پرور کیف و سرور کا جام بن کر اہلِ قافلہ کے دلوں کو گرما رہا ہے۔؂


خَلُّوْا بَنِی الْکُفَّارِ عَنْ سَبِیْلِہٖ

اَلْیَوْمَ نَضْرِبُکُمْ عَلٰی تَنْزِیْلِہٖ

اے فرزندانِ کفر! راہِ حق کے امینوں کے سامنے سے کنارے ہو جاؤ، کہ اگر آج تم نے نزولِ کارواںِ ایمان میں رکاوٹ ڈالی تو ہم اپنی صمصامِ آہنیں کو برقِ قاہر بنا کر تم پر گرا دیں گے۔

ضَرْبًا یُّزِیْلُ الْھَامَ عَنْ مَقِیْلِہٖ

وَیُذْھِلُ الْخَلِیْلَ عَنْ خَلِیْلِہٖ

ہم اپنی تیغِ آبدار سے ایسا صاعقہ آسا وار کریں گے جو سَر کو اس کی خوابگاہِ وجود سے الگ کر دے گا اور دلوں میں پیوست محبتوں کے تمام نقوش یوں مٹا دے گا کہ دوست اپنے دوست کی یاد سے بھی بیگانہ ہو جائے گا۔

اس اثناء میں فاروقِ اعظم، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دل میں غیرتِ ایمانی کی ایک لہر اٹھی، اور انہوں نے شاعرِ دربارِ رسالت، نقیبِ حمد و ثنا، حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:


"اے عبداللہ بن رواحہ! کیا تم اس سرزمینِ مقدس کے تقدس میں اور آقائے نامدار ﷺ کی رفعتِ بارگاہ کے پیش رو ہو کر اشعار کی گونج بلند کرتے ہو؟"

یہ جملہ ابھی فضا میں معلق تھا کہ بحرِ رحمت جوش میں آیا، جمالِ رسالت سے تبسمِ شفقت پھوٹ نکلا اور تاجدارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:


"اے عمر! انہیں ان کے حال پر رہنے دو، کہ ان کے یہ نغماتِ ایماں اور اشعارِ حق گوئی اہلِ کفر کے لیے اس تلوار سے کہیں زیادہ کاری ہیں جو تمہاری نیام میں ہے؛ بلکہ یہ تو دلوں کو چھیدنے والے تیر اور روحوں کو لرزا دینے والے نشتر ہیں۔" 

یہ سنۂ ہجرت کا ساتواں سال تھا کہ آفتابِ رسالت ﷺ نے اپنی معیتِ قدسی میں اُن رفیقانِ صدق و صفا کو شامل کیا جن کے ساتھ گزشتہ برس صلحِ حدیبیہ کے مقام پر قافلۂ ایمان کو روک لیا گیا تھا، اور عمرة القضاء کی ادائیگی کے لیے کوچ کا اعلان فرمایا۔ صلحِ حدیبیہ کی متعدد شقوں میں ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن شرط یہ بھی تھی کہ مسلمان اسی سال عمرہ ادا نہ کریں گے بلکہ آئندہ برس اس مقدس سفر پر آئیں گے اور وہاں تین دن سے زیادہ قیام نہ کریں گے۔ اسی کے ساتھ یہ شرط بھی شامل تھی کہ اہلِ ایمان مکہ معظمہ میں بغیر اسلحہ کے داخل ہوں گے، تاکہ بیت اللہ کے حریمِ مقدس میں امن قائم رہے۔


جب وہ وقت موعود آن پہنچا تو سرورِ کونین ﷺ نے اعلان فرمایا:

"جو اصحابِ صدق گزشتہ برس حدیبیہ میں میرے ہم رکاب تھے وہ سب آج میرے ساتھ اس سعادتِ عظمیٰ میں شریک ہوں اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے چلیں۔"

یہ اعلان ہوتے ہی رفاقتِ نبوت پر نازاں جانثارانِ مصطفیٰ ﷺ اپنی روحانی تیاری کے ساتھ رختِ سفر باندھنے لگے۔ وہ نفوسِ قدسیہ جو گزشتہ برس کے بعد غزوۂ خیبر میں شہادت یا وفات کے منصب جلیلہ سے سرفراز ہوچکے تھے، اس کارواں میں شریک نہ ہو سکے۔ مدینۂ منورہ کی نظامت حضور نبی کریم ﷺ نے امینِ امت حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمائی اور خود لشکرِ محبت کے دو ہزار جانبازوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ کی سمت روانہ ہوئے۔ اس قافلۂ شوق میں بعض اصحاب سواریوں پر تھے اور اکثر عاشقانِ رسالت پاپیادہ سفر کر رہے تھے۔


آقائے دو جہاں ﷺ کو اہلِ کفر کی ممکنہ عہد شکنی کا گہرا اندیشہ تھا، چنانچہ آپ نے حکمتِ عملی کے پیشِ نظر نہایت محدود جنگی تیاری بھی ساتھ لی۔ دوسری جانب اہلِ مکہ کو جب اطلاع ملی کہ نبیِ رحمت ﷺ جنگی ساز و سامان کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں تو ان کے دلوں پر خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے چند افراد کو صورتِ حال کی تحقیق و جستجو کے لیے روانہ کیا۔ 

مسلمانوں نے نہایت وقار اور اعتماد کے ساتھ قریش کو یقین دہانی کرائی کہ ہم معاہدہ شکن نہیں، نہ ہی جنگ کے ارادے سے آئے ہیں۔ ہم طے شدہ شرط کے مطابق بے سلاح مکہ میں داخل ہوں گے۔ یہ یقین دہانی سن کر قریش کے دل مطمئن ہوئے۔ حضورِ اقدس ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک تلوار کے سوا کوئی ہتھیار ساتھ نہ رکھا اور سب کے سب لبیک کی پرکیف صدائیں بلند کرتے حرم کی طرف بڑھے۔ جب قافلہ حدودِ مکہ میں داخل ہونے لگا تو دربارِ نبوت کے عَلم بردارِ سخن حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹ کی مہار تھامے آگے آگے چل رہے تھے اور جوشِ ایمان اور سرورِ عقیدت سے سرشار یہ رجزیہ اشعار بلند آواز میں پڑھ رہے تھے:


خَلُّوْا بَنِی الْکُفَّارِ عَنْ سَبِیْلِہٖ

اَلْیَوْمَ نَضْرِبُکُمْ عَلٰی تَنْزِیْلِہٖ

ضَرْبًا یُّزِیْلُ الْھَامَ عَنْ مَقِیْلِہٖ

وَیُذْھِلُ الْخَلِیْلَ عَنْ خَلِیْلِہٖ


یعنی ہٹ جاؤ کافروں کے بیٹو! آج ہم تمہیں ایسی ضرب لگائیں گے جو تمہارے سروں کو ان کے آرام گاہوں سے جدا کردے گی اور دوست کو دوست سے بھلا دے گی۔


پھر حضور نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حرمِ کعبہ میں داخل ہوئے تو یہ منظر اہلِ مکہ کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔ کچھ کفار غیظ و غضب سے پہاڑوں کی طرف نکل گئے اور کچھ دارالندوہ کے قریب کھڑے ہو کر حسرت و حیرت کے ساتھ ان عاشقانِ توحید و رسالت کو دیکھنے لگے جو کیفِ ایمان میں سرشار طواف کر رہے تھے۔ وہ آپس میں کہنے لگے کہ:

 یہ مدینہ والے بھلا کیا طواف کریں گے؟ انہیں تو بھوک اور مدینہ کے بخار نے نڈھال کر رکھا ہے۔

اسی لمحے حضور ﷺ نے مسجدِ حرام میں پہنچ کر ’’اضطباع‘‘ فرمایا، یعنی اپنی چادر کو اس انداز میں اوڑھ لیا کہ آپ کا دایاں شانہ اور بازو کھل گیا۔ پھر آپ نے نہایت جلال اور وقار سے فرمایا:

خدا کی رحمت ہو اس پر جو ان کفار کے سامنے اپنی قوت و توانائی کا اظہار کرے۔


یہ منظر ایسا تھا کہ گویا ایمان کا سمندر طلاطم خیز ہو اٹھا ہو اور کفار پر رعب و ہیبت چھا گئی ہو۔

اس روح پرور سفر کے دوران حضورِ اقدس ﷺ نے اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ المومنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیامِ سعادت ارسال فرمایا۔ اُمّ المؤمنین نے نہایت مسرت کے ساتھ اس پیغام کو شرفِ قبولیت بخشا اور عقدِ نکاح کا اختیار حضور ﷺ کے چچا، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔ یوں مقامِ سَرِف کی مقدس فضا میں یہ بابرکت عقد منعقد ہوا اور ایک نیا رشتۂ ازواجی تشکیل پایا۔


رسولِ اکرم ﷺ کا ارادہ تھا کہ اس پرمسرت موقع کی مناسبت سے مہمانوں کو مدعو کریں اور قریشِ مکہ کو بھی شریکِ مسرت کریں، مگر اہلِ قریش نے اس دعوتِ خیر میں شمولیت گوارا نہ کی۔ چنانچہ جب ایامِ قیام کی مدت پوری ہوئی اور قافلۂ نبوت واپسی کے لیے روانہ ہوا تو اسی مقامِ سَرِف میں اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا کی رخصتی بھی نہایت سادگی اور محبت کے ساتھ انجام پائی۔ تقدیرِ الٰہی کا عجیب اتفاق کہ بعد ازاں اُمّ المؤمنین کا وصال بھی اسی مقام پر ہوا اور وہیں مدفون ہوئیں۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی