معرکہِ بدر: حق و باطل کی پہلی مسلح جنگ



یا رسول اللہﷺ! ہم دل کی گہرائیوں سے آپﷺ پر ایمان لاچکے ہیں، زبانِ صدق سے آپﷺ کی تصدیق کی ہے، اور اس آسمانی صحیفہ پر گواہی دی ہے جسے آپﷺ  لائے ہیں، اور وہ سراپا حق اور عین صداقت ہے۔ ہم نے اپنی روحوں اور جسموں کے ساتھ آپﷺ کی اطاعت و انقیاد کا عہد و میثاق باندھ لیا ہے۔ اے حبیبِ خداﷺ! آپﷺ جس سمت اشارہ فرمائیں، جس افق کی طرف رُخ کریں، ہم اس پر بلا تردد رواں دواں ہوں گے۔ قسم ہے اس ربِ ذوالجلال کی، جس نے آپﷺ کو حق کے جھنڈے تلے مبعوث فرمایا، اگر آپﷺ ہم کو قعرِ بحر میں کودنے کا حکم فرمائیں تو ہم بلا چوں و چرا اس کی موجوں میں غوطہ زن ہو جائیں گے، اور ہم میں سے کوئی ایک بھی اس فدائیانہ عہد سے روگرداں نہ ہوگا۔

ایک جلیل القدر مدبّر، نکتہ سنج سیاستدان اور "سید الخزرج" کے معزز لقب سے موسوم وہ عظیم المرتبت تاریخی و علمی شخصیت، جنہوں نے عہدِ رسالت مآب ﷺ میں فنِ کتابت و تحریر کو عام کیا اور قبیلۂ انصار کی نمائندگی کے منصب پر ہمیشہ سربلند رہے—یعنی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ—نے اس مشاورتی مجلس میں وہ کلماتِ تاریخ آفرین ادا کیے، جو صدیاں بیت جانے کے بعد بھی ہوا کے دوش پر گونجتے محسوس ہوتے ہیں۔


مدینہ منورہ میں قریشی لشکر کی پیش قدمی کی اطلاع ملتے ہی سپہ سالارِ کائنات، رسولِ اکرم ﷺ نے ایک عظیم الشان مشاورتی اجلاس منعقد فرمایا، جس میں مہاجرین و انصار، دونوں جماعتوں کے زعماء شریک تھے۔ مجلس کا باقاعدہ آغاز ہوتے ہی محسنِ انسانیت ﷺ نے نہایت بلیغ انداز میں حالاتِ حاضرہ، کفارِ مکہ کی تیاری اور ان کی یلغار کی تفصیلات حاضرین کے سامنے رکھیں اور پھر ان سے رائے طلب کی۔


مجلس کے ابتدائی مرحلے میں مہاجرینِ کرام نے اپنی جاں نثاری و وفا شعاری کے جذبات پیش کیے، اور ہر ممکنہ صورتحال میں آپ ﷺ کے حضور اپنے آپ کو پیش کیا۔ تاہم نبی رحمت ﷺ نے دوبارہ اظہارِ رائے کی درخواست فرمائی۔ اس میں ایک باریک حکمت مضمر تھی۔ آپ ﷺ چاہتے تھے کہ انصار کی طرف سے زبانِ حال و قال سے یہ اقرار صادر ہو کہ وہ معاہدۂ مدینہ کی حد بندیوں کے باہر بھی عہدِ وفا پر قائم رہیں گے کیونکہ ان کے ساتھ عہد و پیمان حدود مدینہ کے اندر جنگ و قتال میں مشارکت کا ہوا تھا جبکہ یہ معاملہ مدینہ منورہ کے حدود سے باہر تھا۔


حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ، جو دلوں کی دھڑکنوں کو پڑھنے والے عاشق صادق اور معشوقِ حقیقی ﷺ کے اداؤں کے راز شناس تھے، لمحہ بھر میں مقصود نبویﷺ کو پا گئے۔ آخر وہ عاشق ہی کیا جو محبوب کی سرگوشی نہ سن سکے! فوراً سراپا ادب ہو کر لب کشا ہوئے اور عرض پرداز ہوئے:

غالباً تاجدارِ رسالت ﷺ کا روئے سخن ہماری جانب ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے تبسمِ انوار کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ:

جی ہاں سعد! تم نے حقیقت کو پا لیا۔

تب حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے زبانِ صدق و صفا سے یہ جاویداں کلمات ادا فرمائے جنہوں نے تاریخ کے اوراق پر نقشِ دوام کی حیثیت اختیار کر لی۔ 

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اپنے پُرجلال خیالات اور غیر متزلزل عزم کے اظہار کے بعد خاموشی کے گوشے میں بیٹھ گئے تھے کہ ناگہاں ایک اور عاشقِ صادق و فدائیِ مصطفی ﷺ، جو اپنی ظاہری ہیئت و جلالت میں بھی نرالی شان رکھتے تھے، مجلس میں سراپا حرارت و ولولہ بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ عہدِ رسالت ﷺ کے عظیم سائنسدان، بلند قامت، عریض الجثہ، خوبصورت و جاذب النظر نوجوان، جن کی زلفیں گھنی و دراز، ابروئے پیوستہ اور داڑھی موزوں و متناسب جمال کی آئینہ دار تھی—یعنی حضرت مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ—جوش و خروش اور غیرتِ ایمانی سے معمور ہو کر گویا ہوئے۔

یا رسول اللہ ﷺ! ہم وہ امت نہیں ہیں جو اپنے پیغمبر سے یوں کہے کہ  اے موسیٰ! تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ نہیں، ہرگز نہیں! ہم تو آپ کے دائیں بائیں، آگے پیچھے، ہر سمت آپکے ساتھ ہیں، شمشیر بدست، قربان گاہِ وفا میں سینہ سپر اور خونِ دل سے تاریخ لکھنے کو تیار!

یعنی یہ اقرار تھا کہ:

یا رسول اللہ ﷺ! ہم آپ پر ایمان لا چکے ہیں، ہم نے آپ ﷺ کی تصدیق کر دی ہے اور گواہی دی ہے کہ آپ ﷺ جو کتاب لائے ہیں وہی حق ہے، اور ہم آپﷺ کی اطاعت و  فرمانبرداری کے عہد میں جکڑے جا چکے ہیں۔ یا رسول اللہ ﷺ! اب آپﷺ جس سمت چاہیں تشریف لے جائیے، ہمیں اس ذات کی قسم ہے جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اگر آپﷺ ہمیں حکم دیں کہ ہم سمندر کی متلاطم موجوں میں کود پڑیں تو ہم بلا تردد کود پڑیں گے، اور ہم میں سے کوئی ایک بھی پیچھے نہ ہٹے گا۔


ان الفاظ نے مجلسِ مشاورت میں ایک آسمانی بجلی کی مانند حرارت و توانائی دوڑائی، اور اہلِ ایمان کے قلوب میں وہ آگ دہکائی جس نے غزواتِ نبویہ کو نصرتِ الٰہی کا آئینہ بنا دیا۔


مشاورتی اجلاس اپنی افادیت و ثمر آوری میں نہایت ہی غیر معمولی اور نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ اس مجلسِ مشاورت کے بعد ہی سرورِ کائنات ﷺ نے مجاہدینِ اسلام کو تیاری کا حکم صادر فرمایا۔ حکمِ نبوی ﷺ ملتے ہی قلوبِ مومنہ میں ذوقِ شہادت کی حرارت بھڑک اٹھی اور ہر ایک جاں نثار اپنے آپ کو قربان گاہِ وفا کے لیے آراستہ کرنے لگا۔ یہ وہ گھڑیاں تھیں کہ جن میں مومن اپنے لئے راحت و آرام کو غنیمت نہ سمجھتے تھے بلکہ معرکہ آرائی اور خونِ دل بہانے کو سعادتِ عظمیٰ جانتے تھے۔


تمام اہلِ ایمان نے اس موقع کو سعادتِ ابدی تصور کرتے ہوئے جہاد میں شرکت کی بھرپور کوشش کی، لیکن کائناتی تقدیر اور اسباب کی حکمتوں کے باعث کل لشکر کی تعداد تین سو تیرہ (313) سے زیادہ نہ ہو سکی۔ یہ مختصر سا لشکر اگرچہ بظاہر قلتِ افراد اور فقرِ اسباب میں ڈوبا ہوا تھا، لیکن دراصل ایمان کے جوہر سے مزین، عزم و ایثار سے معمور اور قربانی و وفاداری کے سرمدی عہد سے بندھا ہوا تھا۔


میدانِ بدر کی سمت یہ مقدس لشکر ایسی شان و شوکت اور ایمانی جلال کے ساتھ روانہ ہوا کہ گویا فرشتگانِ سپاہ اس کے پہلو بہ پہلو ہیں۔ تاہم مادی وسائل کی قلت کا یہ عالم تھا کہ پورے لشکر کے پاس صرف ستر (70) اونٹ اور دو (2) گھوڑے تھے، جن پر باری باری سواری کی جاتی تھی۔ نہ ہر ایک کے پاس پورے ہتھیار تھے اور نہ ہی زرہیں و خود کا مکمل انتظام، لیکن ان کے دل شمشیر سے زیادہ تیز، نیزہ سے زیادہ بلند اور فولاد سے زیادہ سخت تھے۔

مقامِ بدر پر پہنچ کر یہ لشکرِ صغیر ایک چشمے کے قریب فروکش ہوا اور خیمہ زن ہو کر تقدیرِ الٰہی کے فیصلے کا منتظر ہوا۔ ادھر میدان کے دوسرے کونے میں قریشِ مکہ کا لشکر، جس کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز تھی، سر تا پا اسلحہ و زرہ بکتر سے مزین، اپنی بدمستی اور غرورِ کثرت میں سرشار، اس گھمنڈ میں تھا کہ صبح صادق کا سورج ان مٹھی بھر فاقہ کشوں اور تہی دست مجاہدین کے خاتمے کی نوید لے کر طلوع ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ زمین و آسمان کی تقدیریں کسی اور ہی راز کو آشکار کرنے والی تھیں۔ قدرتِ کاملہ کی مشیت نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ معرکۂ بدر میں کثرت و اسباب نہیں بلکہ ایمان و ایقان کا ترازو غالب آئے گا، اور وہی ذرا سے ذرّے جیسے افراد زمین پر اللہ کے دین کی نصرت کے ضامن قرار پائیں گے۔

رات کی سیاہ چادر مدینہ کے مجاہدین پر محیط تھی، اور مقامِ بدر کی وادی میں سکوت کی فضا قائم تھی۔ مگر اس سکوت کو حضورِ اقدس ﷺ کی گریہ و زاری اور مناجات کی دلخراش صدائیں چیر رہی تھیں۔ محسنِ کائنات ﷺ اپنی قیادت میں موجود اس مختصر مگر ایمان سے لبریز جماعت کی بے سروسامانی پر نگاہ ڈالتے، اور پھر بارگاہِ کبریائی میں ہاتھ اٹھا کر اس عاجزانہ تضرع میں مشغول ہو جاتے کہ:


اے اللہ! اے مالکِ ارض و سما! اے قادرِ مطلق اور غالب پروردگار! یہ قریش ہیں جو اپنے سامانِ غرور اور تکبر کی نمائش کے ساتھ میدان میں اترے ہیں تاکہ تیرے رسول کو جھٹلائیں اور تیرے دین کی روشنی کو بجھا سکیں۔ اے مولا! اب وہی نصرت نازل فرما جس کا تو نے اپنے محبوب سے وعدہ فرمایا ہے۔ اے اللہ! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت مٹا دی گئی تو پھر روئے زمین پر تیرا نام لینے والا، تیرا ذکر کرنے والا اور تیری بندگی کرنے والا کوئی نہ بچے گا۔

یہ سوز و گداز سے لبریز دعائیں عرشِ عظیم کے پردوں کو مرتعش کر گئیں۔ زمین و آسمان کی تقدیر کے دفتر میں فیصلے کے اوراق پلٹے جانے لگے۔ ربِ کریم نے اپنے محبوب کے مناجات کو شرفِ قبولیت بخشا اور غیبی بشارت کے دریچے وا کر دیے۔ کائنات کے قاصد نے پیغام پہنچایا کہ فتح و نصرت مسلمانوں کی میراث ہے اور شکست و نامرادی قریش کے نصیب میں لکھی جا چکی ہے۔


صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی قدرتِ کاملہ نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ کمزور و بے وسیلہ جماعت کی مشکلات آسان ہو گئیں۔ آسمان سے بارانِ رحمت کے موتی برسائے گئے۔ ان قطروں نے ایک طرف مجاہدینِ بدر کی تشنگی بجھائی اور پانی کے ذخیرے محفوظ کرائے، تو دوسری طرف ریگزارِ بدر کی نرم اور ڈھیلی ریت کو جما کر اسے مضبوط اور قابلِ گامزن بنا دیا۔ یوں مسلمانوں کے قدم جم گئے اور لشکر کی صفیں استوار ہو گئیں۔


جبکہ دوسری جانب وہ قریشی لشکر، جو غرور و نخوت کے خمار میں سرشار تھا، بارانِ رحمت ہی کی بدولت عتابِ الٰہی کا منظر بن گیا۔ ان کے پڑاؤ کی زمین، جو چکنی مٹی سے آمیختہ تھی، بارش کے قطروں سے کیچڑ میں ڈھل گئی۔ ان کے قدم لڑکھڑانے لگے، لشکر کے خیمے ڈھے گئے اور ان کا ساز و سامان بے ثباتی کی نذر ہوگیا۔ وہی بارش، جو اہلِ ایمان کے لیے نعمت و استحکام ثابت ہوئی، کافروں کے لیے مصیبت اور ابتری کا پیش خیمہ بن گئی۔


یوں بدر کی سرزمین پر رات بھر کی آہ و فغاں اور صبح کے بارانی انعامات نے واضح کر دیا کہ نصرت و ظفر صرف ایمان والوں کا مقدر ہے اور غرور و استکبار کی داستان ہمیشہ رسوائی و ناکامی پر ختم ہوتی ہے۔

۱۷ رمضان المبارک ۲ ہجری (۱۷ مارچ ۶۲۴ء) کی تاریخ ساز صبح تھی، جب بدر کی وادی پر نورِ فجر کی کرنیں بکھر رہی تھیں اور فضاؤں میں تقدیر کے فیصلہ کن معرکے کی آہٹ سنائی دے رہی تھی۔ اسی گھڑی محسنِ کائنات ﷺ نے اہلِ ایمان کو جہاد کی تلقین فرمائی۔ آپ ﷺ کے حکمِ مبارک پر اصحابِ باوفا نے صفیں درست کیں، نیزوں کو تھاما، تلواروں کو چمکایا اور آہن پوش کافرانہ لشکر کو شکست دینے کا آہنی عزم دلوں میں بسا کر ارضِ بدر کی طرف بڑھے۔


سامنے قریش کا لشکر تھا جو اپنی کثرتِ تعداد، عسکری سازوسامان اور نسلی تفاخر کے غرور میں بدمست تھا۔ ان کے نعرے وادی کی فضا کو دہلا رہے تھے، اور تکبر و رعونت کی تپش ان کے ہر ہر قدم سے ٹپک رہی تھی۔ مسلمانوں کے لیے یہ لمحہ  ایک  کڑا امتحان  تھا، اس لیے کہ تلوار کے اس پار وہی چہرے تھے جو کبھی خون و نسب کے رشتوں سے جڑے ہوئے تھے۔ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کا فرزند عبد الرحمن صف آراء تھا، اور ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد عتبہ بن ربیعہ سے مقابلہ درپیش تھا۔ گویا ایمان اور جاہلیت کا یہ پہلا مسلح تصادم اپنوں کو بیگانوں سے اور حق کو باطل سے الگ کر رہا تھا۔


عرب کے دستور کے مطابق پہلے فرداً فرداً مقابلے ہوئے۔ تلواریں جھلکیں، نیزے گڑے، خون کے قطرے بدر کی ریت کو رنگین کرنے لگے۔ پھر وہ گھڑی آئی جب اجتماعی معرکہ برپا ہوا—ایک عظیم جنگ، جس نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اہلِ ایمان اور اہلِ کفر کو ہتھیاروں کے زور پر آمنے سامنے لاکھڑا کیا۔


مسلمانوں کی صفوں میں شوقِ شہادت کا جوش تھا، ان کے دل صبر و استقامت کی لو سے روشن تھے۔ ان کا ہر وار ایمان کا اعلان اور ہر ضرب یقین کی گواہی تھی۔ اس جذبے کی ایک جھلک اس وقت نمایاں ہوئی جب ایک صحابی دستِ مبارک میں چند کھجوریں تھامے بیٹھے تھے۔ اسی دوران حضورِ اقدس ﷺ کی آواز ان کے کانوں میں گونجی:


آج کے دن جو صبر و استقامت سے لڑے گا اور پیٹھ پھیر کر نہ بھاگے گا، اس کے لیے جنت کی بشارت ہے۔

یہ سننا تھا کہ صحابی نے بے اختیاری میں کھجوریں زمین پر پھینک دیں اور وجد و سرور کے عالم میں پکار اٹھے:


واہ! میرے اور جنت کے درمیان بس اتنی ہی دوری رہ گئی ہے کہ یہ دشمن مجھے قتل کر ڈالے۔


یہ وہ لمحہ تھا جب کمزور اور بے سروسامان مسلمان لشکر کا مقابلہ قریش کے غرور و تکبر میں ڈوبے ہوئے آہن پوشوں سے ہوا۔ تلواروں کی جھنکار، نیزوں کی گونج اور قدموں کی چاپ میں زمین لرز رہی تھی۔ خون کی ندیوں میں بھی اہلِ ایمان کے دلوں میں خوف نہیں بلکہ ایک ولولۂ ایثار اور جذبۂ قربانی موجزن تھا۔


اسی ہنگامے میں دو کم سن انصاری بچے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے قریب آئے۔ ان کی آنکھوں میں بجلیاں کوند رہی تھیں اور ہونٹوں پر غیرت ایمانی کے الفاظ لرز رہے تھے:

چچا! ہمیں ابوجہل کا پتا بتا دیجیے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ ہمارے آقا ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ خدا کی قسم! جب تک اسے کاٹ نہ ڈالیں یا ہم شہید نہ ہو جائیں، اس کے تعاقب سے باز نہ آئیں گے۔


ابھی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ سامنے سے ابوجہل اپنے گھوڑے پر سوار دکھائی دیا۔ عبدالرحمنؓ نے انگلی سے اشارہ کیا اور یہ ننھے شیر اپنی کمزور سی تلواریں سنبھالے لپک پڑے۔ ایک نے گھوڑے کی ٹانگ پر وار کیا اور دوسرا اس بدبخت کی ران پر۔ گھوڑا لڑکھڑا کر گرا اور ابوجہل زمین پر تڑپنے لگا۔ عکرمہ نے جوابی وار سے معاذ بن عمرؓ کا بازو کاٹ ڈالا مگر وہ دلیر نوجوان بازو کو پاؤں تلے روند کر ایک ہاتھ سے لڑنے لگے۔ کچھ ہی دیر میں معوذ بن عفراؓ اور پھر عبداللہ بن مسعودؓ پہنچے اور اس نمرودِ وقت کے سر کو دھڑ سے جدا کر کے زمین پر ڈال دیا۔ وہ سر جو کعبہ میں اسلام کے چراغ بجھانے کے خواب دیکھتا تھا، آج خاک آلود ہو کر عبرت کا نشان بن گیا۔


ابوجہل کے ساتھ ہی امیہ بن خلف بھی جہنم واصل ہوا، وہی جس نے حضرت بلالؓ کو ریگستان کی تپتی زمین پر سولی کی طرح لٹایا تھا۔ ان کے ساتھ کئی اور نامور سردارانِ قریش خاک و خون میں لوٹ گئے۔ قریش کا وہ مغرور لشکر، جو مدینہ کی چھوٹی سی بستی کو مٹانے آیا تھا، ذلت و رسوائی کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے صرف 14 جاں نثار شہید ہوئے جبکہ قریش کے ستر سردار مارے گئے اور ستر سے زائد قیدی بنے۔ قیدیوں میں بڑے بڑے نامور اور معزز لوگ شامل تھے۔ اس معرکے نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ مادی طاقت کے مقابلے میں ایمان کی قوت اور روحانی طاقت زیادہ فیصلہ کن کردار رکھتی ہے۔

یہی وہ دن تھا جسے تاریخ اسلام کا نقطۂ عروج کہا جا سکتا ہے۔ ایک مغربی مؤرخ نے بجا لکھا:

بدر سے پہلے اسلام ایک مذہب تھا، بدر کے بعد وہ ایک ریاست بن گیا۔


ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی