خاندانی نظام: مشرق کی اساس اور مغرب کا زوال


 

✍✍تحریر: اعجاز میر

انسانی زندگی کی اصل بنیاد رشتے ہیں۔ یہ رشتے ہمیں محبت دیتے ہیں، تحفظ بخشتے ہیں اور ہماری شناخت کا بنیادی  سبب بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے خاندانی نظام کو ایک ناگزیر نعمت قرار دیا ہے۔ مگر جب ہم اپنی تہذیب کے مضبوط خاندانی ڈھانچے کا تقابل مغربی معاشرت سے کرتے ہیں تو زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔

مغربی معاشرہ اور خاندانی نظام کی شکست

مغربی تہذیب میں خاندانی نظام تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ وہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے تعلقات میں جیتے ہیں۔ شادی یا تو کئی سال ریلیشن کے بعد ہوتی ہے یا اکثر بالکل نہیں ہوتی۔ تعلقات وقتی لذتوں پر قائم ہوتے ہیں، اور جب دل بھر جائے تو بریک اَپ ہو جاتا ہے۔
اکثر یہ تعلقات حمل تک جا پہنچتے ہیں، اور لڑکی بریک اَپ کے بعد کسی اور کے ساتھ جُڑ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے کی اصل شناخت ہی مٹ جاتی ہے۔ ماں کو بھی یقین نہیں ہوتا کہ بچے کا باپ کون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشروں میں بچے اپنی ماں کے ساتھ منسلک تو رہتے ہیں، مگر باپ کا نام ان کی شناخت کا حصہ نہیں ہوتا۔

عینی مشاہدہ: اسامہ کا واقعہ

یہ کوئی کتابی بات نہیں، میں اپنا ذاتی مشاہدہ پیش کر رہا ہوں۔ ایک مشہور مغربی شہر میں میرا ایک قریبی دوست اسامہ رہتا ہے۔ وہ بھی میری طرح نوکری کرتا ہے۔ وہاں اس کی دوستی ایک مقامی لڑکے سے ہوئی۔ ایک دن وہ لڑکا اسامہ کو اپنی برتھ ڈے پارٹی میں بلانے لگا۔ اسامہ نے جب اپنا پورا نام بتایا: “اسامہ بن فلاں، تو وہ لڑکا حیران رہ گیا۔ اس نے پوچھا: “یہ بن کا کیا مطلب ہے؟اسامہ نے کہا: “ہم اپنے باپ کا نام اپنے ساتھ لکھتے ہیں۔تو وہ افسردہ لہجے میں بولا: “میں تو اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہوں، اپنے باپ کو جانتا ہی نہیں۔
یہ جملہ میرے دوست کے دل پر ایک بوجھ بن گیا۔ وہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ ہمارا اسلامی اور مشرقی نظام کتنا صاف، شفاف اور باعزت ہے جہاں رشتوں کی پہچان محفوظ ہے، اور وہاں کا کلچر کتنا خالی ہے کہ ایک بچہ اپنی سب سے بنیادی نسبت یعنی باپ کو ہی نہیں جانتا
۔

برازیل کا لرزہ خیز واقعہ

یہ المیہ صرف ذاتی مشاہدہ نہیں، بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ برازیل میں ایک واقعہ دنیا کو ہلا گیا۔ ایک جوڑا سات سال سے شادی شدہ تھا اور ان کی ایک بیٹی بھی تھی۔ لیکن ایک دن ایک ریڈیو شو میں انکشاف ہوا کہ وہ دونوں دراصل سگے بہن بھائی ہیں۔ انہیں بچپن میں الگ الگ گود لیا گیا تھا اور جب اپنی اصل ماں کو تلاش کیا تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی۔
اس حادثے کا قصور ان بہن بھائیوں کا نہیں، بلکہ اس تہذیب کا ہے جس نے شادی کو مشکل اور بدکاری کو آسان بنا دیا ہے۔ یہی نظام انسان کو اس مقام تک لے آیا ہے جہاں رشتوں کی تقدیس پامال اور انسانیت شرمندہ ہو کر رہ گئی ہے۔

اسلامی خاندانی نظام: عزت، پہچان اور تحفظ

اس کے برعکس اسلام نے خاندانی نظام کو بنیاد بنایا ہے۔ قرآن کریم میں نکاح کو نہ صرف حلال اور پاکیزہ رشتہ قرار دیا گیا، بلکہ اسے سکون اور رحمت کا ذریعہ کہا:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً(الروم:21)
اسلامی نظام میں:
شادی کو آسان اور زنا کو حرام قرار دیا گیا۔
نسبت محفوظ رکھی گئی تاکہ ہر بچہ اپنے والد کی طرف منسوب ہو۔
والدین کا احترام لازم قرار دیا گیا تاکہ بچے خاندان کی محبت اور تربیت میں پروان چڑھیں۔
اسی نظام کی وجہ سے ہمارے ہاں رشتوں کی پہچان واضح ہے، خاندان عزت کا مرکز ہے اور بچے اپنی شناخت کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں
۔

مختلف مطالعاتی حوالہ جات:

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ (UNICEF, 2020) کے مطابق مغربی ممالک میں پیدا ہونے والے 40% سے زائد بچےغیر شادی شدہ رشتوںمیں پیدا ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے والد کی شناخت یا تو مشکوک ہوتی ہے یا سرے سے غیر موجود۔
ایک تحقیقی جرنل (Journal of Marriage and Family, 2019) میں بتایا گیا کہ مغربی معاشروں میںfatherless homesیعنی باپ کے بغیر گھروں میں پلنے والے بچے جرائم، ذہنی دباؤ اور خودکشی کی شرح میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔
یہ حقائق واضح کرتے ہیں کہ خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی المیہ ہے۔

نتیجہ:

یہ واقعات کوئی سنی سنائی کہانیاں نہیں بلکہ آنکھوں دیکھی حقیقتیں ہیں۔ مغرب نے رشتوں کو وقتی لذت کا کھیل بنا کر انسانیت کو بے بسی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ وہاں بچے باپ کو ڈھونڈتے ہیں اور کئی بار اپنی شناخت تک کھو بیٹھتے ہیں۔
اس کے برعکس ہمارا اسلامی خاندانی نظام عزت و شرافت کا ستون ہے۔ یہ نظام ہمیں رشتوں کی پہچان دیتا ہے، نسلوں کی حفاظت کرتا ہے اور معاشرے کو اخلاقی بقا بخشتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اپنے کلچر اور دین کی اصل روح کو پہچانیں اور اس پر فخر کریں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسی عزت و حفاظت کے سائے میں پروان چڑھ سکیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی