انسانی
زندگی
کی
اصل
بنیاد
رشتے
ہیں۔
یہ
رشتے
ہمیں
محبت
دیتے
ہیں،
تحفظ
بخشتے
ہیں
اور
ہماری
شناخت
کا بنیادی
سبب
بنتے
ہیں۔
یہی
وجہ
ہے
کہ
اسلام
نے
خاندانی
نظام
کو
ایک
ناگزیر
نعمت
قرار
دیا
ہے۔
مگر
جب
ہم
اپنی
تہذیب
کے
مضبوط
خاندانی
ڈھانچے
کا
تقابل
مغربی
معاشرت
سے
کرتے
ہیں
تو
زمین
آسمان
کا
فرق
دکھائی
دیتا
ہے۔
مغربی معاشرہ اور خاندانی نظام کی شکست
اکثر یہ تعلقات حمل تک جا پہنچتے ہیں، اور لڑکی بریک اَپ کے بعد کسی اور کے ساتھ جُڑ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے کی اصل شناخت ہی مٹ جاتی ہے۔ ماں کو بھی یقین نہیں ہوتا کہ بچے کا باپ کون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشروں میں بچے اپنی ماں کے ساتھ منسلک تو رہتے ہیں، مگر باپ کا نام ان کی شناخت کا حصہ نہیں ہوتا۔
عینی مشاہدہ: اسامہ کا واقعہ
یہ جملہ میرے دوست کے دل پر ایک بوجھ بن گیا۔ وہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ ہمارا اسلامی اور مشرقی نظام کتنا صاف، شفاف اور باعزت ہے جہاں رشتوں کی پہچان محفوظ ہے، اور وہاں کا کلچر کتنا خالی ہے کہ ایک بچہ اپنی سب سے بنیادی نسبت یعنی باپ کو ہی نہیں جانتا۔
برازیل کا لرزہ خیز واقعہ
اس حادثے کا قصور ان بہن بھائیوں کا نہیں، بلکہ اس تہذیب کا ہے جس نے شادی کو مشکل اور بدکاری کو آسان بنا دیا ہے۔ یہی نظام انسان کو اس مقام تک لے آیا ہے جہاں رشتوں کی تقدیس پامال اور انسانیت شرمندہ ہو کر رہ گئی ہے۔
اسلامی خاندانی نظام: عزت، پہچان اور تحفظ
“وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً”(الروم:21)
• شادی کو آسان اور زنا کو حرام قرار دیا گیا۔
• نسبت محفوظ رکھی گئی تاکہ ہر بچہ اپنے والد کی طرف منسوب ہو۔
• والدین کا احترام لازم قرار دیا گیا تاکہ بچے خاندان کی محبت اور تربیت میں پروان چڑھیں۔
اسی نظام کی وجہ سے ہمارے ہاں رشتوں کی پہچان واضح ہے، خاندان عزت کا مرکز ہے اور بچے اپنی شناخت کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔
مختلف مطالعاتی حوالہ جات:
• اقوامِ
متحدہ
کی
ایک
رپورٹ
(UNICEF, 2020) کے
مطابق
مغربی
ممالک
میں
پیدا
ہونے
والے 40% سے زائد
بچے “غیر شادی
شدہ
رشتوں” میں پیدا
ہوتے
ہیں،
جس
کی
وجہ
سے
والد
کی
شناخت
یا
تو
مشکوک
ہوتی
ہے
یا
سرے
سے
غیر
موجود۔
• ایک
تحقیقی
جرنل
(Journal of Marriage and Family, 2019) میں بتایا
گیا
کہ
مغربی
معاشروں
میں
“fatherless homes” یعنی
باپ
کے
بغیر
گھروں
میں
پلنے
والے
بچے
جرائم،
ذہنی
دباؤ
اور
خودکشی
کی
شرح
میں
نمایاں
اضافہ
کرتے
ہیں۔
یہ
حقائق
واضح
کرتے
ہیں
کہ
خاندانی
نظام
کی
ٹوٹ
پھوٹ
صرف
انفرادی
نہیں
بلکہ
اجتماعی
المیہ
ہے۔
نتیجہ:
اس کے برعکس ہمارا اسلامی خاندانی نظام عزت و شرافت کا ستون ہے۔ یہ نظام ہمیں رشتوں کی پہچان دیتا ہے، نسلوں کی حفاظت کرتا ہے اور معاشرے کو اخلاقی بقا بخشتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اپنے کلچر اور دین کی اصل روح کو پہچانیں اور اس پر فخر کریں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسی عزت و حفاظت کے سائے میں پروان چڑھ سکیں۔
