حضورِ سیّدِ عالَم، سیّدِ وُجود و شرفِ نوعِ انسان، حضرتِ محمّد مصطفیٰ ﷺ نہ صرف ایک کامل و اکمل دینی قائد اور مربّیِ ارواح تھے، بلکہ ایک ایسے عبقری اور حکیمانہ بصیرت رکھنے والے ریاستی منتظم بھی تھے جنہوں نے انسانی اجتماعیت کو وحیِ الٰہی کے نور سے منظم و مرتب کر کے دنیا کے سامنے حکومت و سیاست کا ایک بے نظیر اور لاثانی نمونہ پیش فرمایا۔ آپ ﷺ نے مکۂ مکرمہ کی سنگلاخ فضاؤں میں، قریش کے مظالم اور جہالت کی گھٹاؤں کے بوجھ تلے، کئی برسوں پر محیط وہ ہمہ گیر تربیتی نظام قائم کیا جو صحابہ کرامؓ کے اذہان و قلوب کو تزکیہ و تطہیر سے منور کرتا رہا اور ان کے اندر ایک ایسے جامع و متوازن معاشرتی شعور کی بنیاد رکھتا رہا جو مستقبل میں ایک نظریاتی ریاست کے قیام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔
مکّۂ معظمہ کی صبر آزما جدوجہد اور مسلسل ایذاؤں کے بعد جب وحیِ ربّانی کی طرف سے ہجرت کا حکم نامہ صادر ہوا تو یہ گویا تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ نبیِ رحمت ﷺ، اپنی آنکھوں میں ایک مستحکم و عادلانہ ریاست کی خوابیدہ تصویر اور دل میں وحیِ الٰہی کی قوت سے معمور عزم و استقامت کے ساتھ، اپنے مخلص و جاں نثار رفقائے حیات کو ساتھ لے کر یثرب کی طرف گامزن ہوئے۔ یہ ہجرت دراصل ایک نئے تمدّن، ایک نئے معاشرتی دستور اور ایک عالمی پیغام کی اساس رکھنے والی مقدس تحریک کا نقطۂ آغاز تھا۔
جب مدینۂ طیبہ نے اپنے بختِ بیدار کی علامت کے طور پر تاجدارِ کائنات ﷺ کا استقبال کیا تو یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ اب یہ شہر محض کھجوروں اور بازاروں کا مرکز نہ رہے گا بلکہ یہ انسانی تاریخ کے روشن ترین سیاسی و مذہبی تجربے کا نقطۂ ارتکاز بننے والا ہے۔ یہاں لا قانونیت، قبیلوی عناد اور باہمی کشاکش کی وہ فضائیں جو یثرب کو بے سکونی اور انتشار کا شکار کیے ہوئے تھیں، حضورِ اقدس ﷺ کی قیادت کے سائے میں رفتہ رفتہ امن، عدل، رواداری اور اخوت کے نور سے منوّر ہو گئیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک پیغمبرِ انقلاب ﷺ نے اپنی الہامی بصیرت اور آسمانی رہنمائی کے ساتھ ایک منتشر و پراگندہ بستی کو ایک وحدتِ ایمانی، ایک بااصول ریاست اور ایک منظم معاشرے کی صورت میں ڈھالنے کا عہد باندھا۔
آپ ﷺ کی تدبیر، حکمت اور ہمہ گیر قیادت نے ابتدا ہی سے ایسے انقلابی اقدامات کو جنم دیا جن کے ذریعے میثاقِ مدینہ جیسے ایک متفقہ دستور کی راہ ہموار ہوئی اور ریاست کے ہر شعبے میں اصولِ عدل و مساوات نافذ ہونا شروع ہو گئے۔ وہ معاشرہ جس میں طاقتور کمزور کو روند ڈالتا تھا، وہ بستی جس میں خونریزی و فساد معمول تھا، وہ یثرب کا شہر جو فرقہ واریت اور قبائلی تعصبات کا گڑھ تھا، رسول اللہ ﷺ کے دستِ ہدایت میں آکر ایک ایسا اسلامی فلاحی شہر بن گیا جس میں امن و سکون، عدل و انصاف، اور خیر و برکت کی فضائیں چھا گئیں۔
منجملہ اُن حکیمانہ و انقلابی تدابیر، جوجنابِ ختم الرسل ﷺ نے مدینۂ منورہ میں آغازِ ریاست کے بعد اختیار فرمائیں،میں وہ عہد و پیمان بھی شامل ہیں جو آپﷺنے یہود و نصاریٰ اور مشرکینِ مکہ اور دیگر منتشر عرب قبائل کے ساتھ، حالات کے تغیر و تنوّع کے مطابق، مختلف نوعیت کی سیاسی و سماجی ضمانتوں کے طور پر طے فرمائے۔ یہ معاہدات دراصل وقتی سیاسی ضرورتوں کا نتیجہ نہ تھے، بلکہ یہ ایک ایسی مدبّر ریاستی حکمتِ عملی کا مظہر تھے جنہوں نے مسلمانوں کو بیرونی خطرات سے عارضی امن فراہم کیا اور داخلی سطح پر ایک منظم معاشرتی نظم کی راہ بھی ہموار کی۔
ان میں نمایاں ترین وہ معاہدات تھے جو سیاسی تدبیر کے آفتاب اور حکمتِ عملی کے ماہتاب بن کر اسلامی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہوگئے۔ خاص طور پر وہ قوتیں جو اسلام کے خلاف اپنے باطل نظریات اور سیکولر تعصبات کے ساتھ سب سے زیادہ شدید دشمنی رکھتی تھیں، اُن کے ساتھ بھی حضورِ اقدس ﷺ نے نہایت بصیرت اور تدبر سے وہ معاہدات کیے جو آئندہ کی تاریخ پر فیصلہ کن اثرات ڈالنے والے سنگِ میل ثابت ہوئے۔
ان ہی عہدناموں میں دو ایسے معاہدے ہیں جو نتائج کی وسعت، اثرات کی گہرائی اور تاریخ کی فیصلہ سازی کے اعتبار سے نہایت جلیل القدر اور بے مثال ہیں۔ ایک وہ میثاقِ مدینہ، جو دراصل انسانی تاریخ کا پہلا تحریری دستور ہے، جس نے ایک کثیر المذاہب اور کثیر القوم شہر کو ایک وحدتِ سیاسی و اجتماعی کے قالب میں ڈھال دیا اور باہمی امن، رواداری اور عدل و انصاف کے وہ اصول قائم کیے جو صدیوں بعد بھی دنیا کے قانون سازوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ دوسرا وہ عظیم الشان معاہدۂ حدیبیہ ہے، جو بظاہر بادی النظر میں مسلمانوں کے لیے بظاہر خسارے اور پسپائی کا معاہدہ دکھائی دیتا تھا، لیکن درحقیقت وہ ایک ایسی فتوحات کا دروازہ اور انقلابات کا مقدمہ ثابت ہوا جس کے اثرات نے پورے جزیرۂ عرب کو اسلام کے جھنڈے تلے مجتمع کیا اور اسلامی دعوت کو وسعت اور غیرمعمولی استحکام عطا کیا۔
یوں ان معاہدات کے ذریعے حضور سیّد الانبیاء ﷺ نے یہ واضح کردیا کہ سیاستِ نبوی کا مقصد وقتی اقتدار کا حصول نہ تھا، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر الہامی تدبیر تھی جو عدل، امن، وسعتِ نظر اور حکمت کے اصولوں پر استوار تھی۔
میثاقِ مدینہ کے جملہ نکات میں سب سے عظیم تر اور جلیل القدر نکتہ وہ ہے جسے تاریخِ آئین و دستور میں پہلی مرتبہ منصۂ شہود پر لایا گیا، یعنی حاکمیتِ اعلیٰ (Sovereignty of Almighty Allah)۔ یہی وہ آفتابِ درخشاں ہے جس کی شعاعوں نے دستور کے تمام اجزاء و کلیات کو محیط کیا اور ریاستِ مدینہ کی فکری و عملی اساس کو ایک لافانی بنیاد فراہم کی۔
یہ اصول دراصل ایک الہامی اعلانِ ربوبیت تھا کہ حقیقی اقتدارِ اعلیٰ اور فیصلہ سازی کی سند کسی فرد، قبیلے یا ادارے کے پاس نہیں بلکہ صرف اور صرف ربّ العالمین کے پاس ہے۔ کوئی زمینی قوت، خواہ وہ کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، اس حاکمیت میں شریک نہیں ہوسکتی۔ یہی وہ جوہری حقیقت تھی جس نے اسلامی ریاست کو ہر غیر اسلامی نظامِ سلطنت سے ممتاز و منفرد کر دیا۔
مدینہ منورہ اس وقت ایک کثیر المذاہب اور کثیر الاقوامی اجتماعیت کا مرکز تھا، جہاں یہود، نصاریٰ، مشرکین اور مسلم اُمتِ نوخیز سبھی اپنی اپنی انفرادی شناخت کے ساتھ آباد تھے۔ میثاقِ مدینہ نے ان سب کے وجود کو آئینی حیثیت سے تسلیم بھی کیا، لیکن اس تنوع اور تکثیریت کے باوجود یہ غیر معمولی بات تھی کہ تمام فریقوں کو اس حقیقت پر قائل کیا گیا کہ ریاستی امور کی بالادستی کا محور و مرکز صرف اللہ کی حاکمیت ہوگی۔
اس اصول میں مسلمانوں کی فلاح و اصلاح مضمر تھی اور غیر مسلم اقوام کے لیے بھی مساوی امن و سلامتی کی ضمانت موجود تھی۔ گویا یہ اعلان دراصل ایک ہمہ گیر آئینی فلسفہ تھا جو انسانیت کو یہ باور کراتا تھا کہ خدا کی حاکمیت کے سامنے سب برابر ہیں، اور ہر انفرادی، اجتماعی اور ریاستی معاملہ اسی سرچشمۂ ربوبیت کی طرف رجوع کیے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔
یہی وہ بنیادی قدم تھا جس نے ریاستِ مدینہ کو ایک ایسا نظامِ عدلِ مطلق عطا کیا جو وقت کی ہر جبر آلود ریاستی ساخت سے مختلف تھا۔ میثاقِ مدینہ میں اس بات کو بطور اصول درج کیا گیا کہ اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور ریاست کے ہر قضیہ و نزاع کا فیصلہ اسی کے احکام و ہدایات کے مطابق ہوگا۔ اس طرح اسلامی ریاست اپنے قیام کے اولین لمحوں میں ہی اس فکری و عملی امتیاز سے سرفراز ہوگئی جس نے اُسے قیامت تک کے لیے ایک نظریاتی و اصولی اتھارٹی کا مقام عطا کیا۔
یعنی میثاقِ مدینہ کی دفعات میں جو اصولی و اساسی حقیقت بطورِ خاص نمایاں کی گئی، وہ یہ ہے کہ اختلافات و نزاعات کا حتمی مرجع اور اعلیٰ ترین اتھارٹی صرف اللہ اور اُس کے برگزیدہ رسول محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ اس آئینی متن میں جو الفاظ وارد ہوئے، وہ یہ ہیں:
"و انکم مما اختلفتم فيه من شيء فان مرده الي الله و الي محمد"
"اور یہ کہ تم میں جب بھی کسی امر میں اختلاف رونما ہو، تو اُس کا فیصلہ اور اُس کی بازگشت خداوندِ متعال اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہی ہوگی، کیونکہ حکمِ آخر اور فیصلۂ حتمی صرف اللہ اور اُس کے رسول ﷺ ہی کا ہے۔"
یہ دفعہ دراصل ایک بنیادی و بالاتر عدالتی ضابطہ ہے جس نے آئینی نظام کو انسانی خواہشات اور قبیلوی مفادات کے شکنجے سے آزاد کر کے اُسے الہیاتی مرکزیت میں پرو دیا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ریاستی زندگی میں پیدا ہونے والے ہر قضیہ، ہر نزاع اور ہر اختلاف کو زمین پر بکھرے ہوئے مختلف مراکزِ طاقت کی بجائے ایک واحد، لاریب اور معصوم اتھارٹی کی طرف لوٹایا جائے گا، اور وہ ہے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی ذات۔ اس نے انسانی تاریخ کو یہ ناقابلِ فراموش سبق دیا کہ دستور کی روح تب ہی غیر جانبدار، غیر متزلزل اور عادلانہ ہوسکتی ہے جب وہ براہِ راست وحیِ ربانی کے ساتھ جُڑی ہو۔
اسی ضمن میں ایک اور نہایت اہم بات یہ تھی، جس میں ریاستی اور سماجی سطح پر قتل و قتال، نزاعات اور فتنہ و فساد کے خطرات کا علاج بیان کیا گیا۔ الفاظ یہ ہیں:
"و انه ما کان بين اهل هذه الصحيفة من حدث او اشتجار يخاف فساده فان مرده الي الله و الي محمد رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم و ان الله علي اتقي ما في هذه الصحيفة و ابره"
"اور یہ کہ اگر اس دستور کے حاملین کے درمیان کبھی کوئی حادثہ یا جھگڑا ایسا رونما ہو جائے جس کے نتیجہ میں فساد و بگاڑ کا اندیشہ ہو تو اُس کا فیصلہ اور اُس کا انجام خدا اور اُس کے رسول محمد ﷺ کی طرف ہی لوٹایا جائے گا، اور خدا اُس شخص کے ساتھ ہے جو اس دستور کے مندرجات کی زیادہ سے زیادہ احتیاط اور کامل ترین وفا شعاری کے ساتھ تعمیل کرے۔"
یہ دفعہ دراصل ایک آئینی ضمانت ہے کہ معاشرے میں اگر کبھی فتنہ انگیز واقعات یا خطرناک تنازعات جنم لیں، تو اُن کا تصفیہ قبیلوی یا شخصی طاقتوں کے ذریعے نہیں ہوگا بلکہ براہِ راست خدا اور اُس کے رسول ﷺ کے فیصلے کے تحت ہوگا۔ یوں یہ دفعہ ریاستی امن و استحکام کی بنیاد اور عدلِ محض اور فساد کش نظام کی ابدی سند ہے۔
مزید یہ کہ یہاں ایک نہایت اہم اخلاقی و روحانی تنبیہ بھی دی گئی کہ خداوندِ متعال اُس فریق اور اُس جماعت کے ساتھ ہے جو اس دستور کی تعمیل میں زیادہ سے زیادہ تقویٰ، زیادہ سے زیادہ دیانت داری اور زیادہ سے زیادہ وفا شعاری اختیار کرے۔ گویا میثاقِ مدینہ نے یہ اعلان کر دیا کہ آئینی وفاداری اور دستور پر کامل کاربندی کوئی معمولی امر نہیں بلکہ یہ ایک روحانی و ایمانی معیار ہے جس پر خدائی معیت اور نصرت کا وعدہ بندھا ہوا ہے۔
اس آئین و دستور کا ہر دفعہ محفوظ اور لائقِ غور ہے، لیکن چونکہ یہاں ہمارا مقصد صرف حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی کے اہم اور مخصوص واقعات کو بیان کرنا ہے، اس لیے ہم نے صرف اس آئین کے مرکزی نکتہ پر اکتفا کیا ہے۔
