بیشک اللہ تعالیٰ نے کئی مواقع پر اپنی غیبی مدد و نصرت سے تمہارے قدموں کو مضبوط فرمایا، اور اُس دنِ حنین کو یاد کرو جب تمہاری کثرت و تعداد نے تمہیں غرور و خود پسندی میں مبتلا کر دیا، مگر وہ کثرت تمہارے کسی بھی کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تمہارے قدموں تنگ کر گئی، پھر تم سر جھکائے، پیٹھ موڑ کر، بھاگ کھڑے ہوئے۔
وہ دو ہزار نومسلم اور کفارِ مکہ، جو لشکر اسلام میں شامل ہو کر مکہ مکرمہ سے نکلے تھے، جب جنگ کی سختی و شدت دیکھ کر سامنا کیا تو ہر ایک دم سر پر پیر رکھ کر بھاگ نکلے۔ ان کی اس بھگدڑ کو دیکھ کر انصار و مہاجرین کے قدم بھی تھم گئے، اور دل خوف و اضطراب سے لرز اٹھا۔
حضور نبی کریم ﷺ نے جب نظر اٹھا کر اس منظر کو دیکھا، تو گنتی کے چند جاں نثاروں کے سوا سب ادھر اُدھر ہو چکے تھے، مگر رسول اللہ ﷺ کے پائے استقامت میں بال برابر بھی لغزش نہ ہوئی۔ بلکہ آپ ﷺ، اکیلے ایک لشکر، بلکہ گویا ایک عالمِ کائنات کے مجموعے کی صورت اختیار کیے ہوئے، نہ صرف پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے بلکہ اپنے سفید خچر پر سوار، برابر آگے بڑھتے رہے۔ اور آپ ﷺ کے زبانِ مبارک سے یہ الفاظ جاری ہو رہے تھے کہ:
اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْاَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
تاریخِ اسلام کے معتبر و متواتر کتب و مصادر سے یہ حقیقت بالکل واضح و مصدقہ ہے کہ فتحِ مکہ کے بعد عمومی طور پر تمام عرب کے لوگ اسلام کے دائرۂ نور میں داخل ہو گئے، اور اکثر افراد نے بغیر کسی مزاحمت و تردد کے اپنے ایمان کا اعلان کیا۔ ان میں خاص طور وہ لوگ بھی شامل تھے جو اسلام کی حقانیت پر قلبی یقین رکھتے تھے، مگر قریش کے خوف و ہراس کی وجہ سے مسلمان ہونے میں تَوَقُّف برت رہے تھے، اور صبر و انتظار سے فتحِ مکہ کا لمحہ ناپ رہے تھے۔ پس جیسے ہی سرزمینِ حجاز کے قلب، مکہ مکرمہ، کو فتح نصیب ہوئی، وہ سب آزادانہ ارادے و خود اختیاری سے اسلام قبول کرنے پر اکٹھے ہوئے اور اپنے ایمان کا اعلان کیا۔
اس کے ساتھ ہی، عرب کے دلوں میں کعبۂ مطہر کے بے پناہ احترام اور تقدس کی وجہ سے یہ عقیدہ راسخ تھا کہ اس مقدس مقام پر کبھی باطل و شرک کا تسلط قائم نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا، حضور نبی کریم ﷺ نے جب مکہ کو فتح فرمایا، تو عرب کے ہر فرد کے دل میں اسلام کی حقانیت کی روشنی چمک اُٹھی، اور وہ سب، خواہ بچے ہوں یا بوڑھے، جوق در جوق، بلکہ فوج در فوج، ایمان کے سفر میں داخل ہوئے اور لامحدود اشتیاق کے ساتھ دینِ حق کی آغوش میں آ گئے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس عظیم واقعہ کی روشنی میں فرمایا:
اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰهِ وَالۡفَتۡحُۙ۞ وَرَاَيۡتَ النَّاسَ يَدۡخُلُوۡنَ فِىۡ دِيۡنِ اللّٰهِ اَفۡوَاجًا۞ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَاسۡتَغۡفِرۡهُ ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۞
جب اللہ تعالیٰ کی غیبی نصرت اور مدد کی بارش برسنے لگتی ہے، اور فتحِ عظیم نصیب ہو جاتی ہے، تو اے نبیِ اکرم ﷺ! تم دیکھو کہ لوگ فوج در فوج، قافلہ در قافلہ، اللہ کی راہ میں داخل ہو رہے ہیں، اور دل و جان کے ساتھ دینِ حق کی آغوش میں آ رہے ہیں۔ اس لمحے میں آپ ﷺ اپنے رب کی حمد و ثنا میں غرق ہو جاؤ، اُس کی تسبیح بیان کرو اور اُس سے مغفرت کی دُعا مانگو، کیونکہ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، رحمتوں کا بے پایاں خزانہ ہے۔
فتحِ مکہ کے اس شاندار موقع پر بھی یہی منظر رونما ہوا کہ ہر سمت سے لوگ جوق در جوق اسلام کی روشنی میں داخل ہو گئے، اور باقی ماندہ عرب کے حوصلے اس بات کے لیے نہ رہے کہ اب وہ دینِ حق کے سامنے ہتھیار اٹھا سکیں۔ لیکن مقامِ حُنَین میں دو قبیلے، ’’ہوازن‘‘ اور ’’ثقیف‘‘، آباد تھے جو نہ صرف جنگجو بلکہ فُنونِ حرب و تدبیر میں مہارت رکھتے تھے۔ ان پر فتحِ مکہ کا اثر بالکل الٹا ہوا اور اُن کے دلوں میں یہ خیال پروان چڑھ گیا کہ اب ہماری باری ہے، اور انہوں نے ٹھان لیا کہ مسلمانوں پر، جو اس وقت مکہ میں جمع ہیں، ایک زبردست و شنیع حملہ کیا جائے۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے اس معاملے کی تحقیق فرمائی تو معلوم ہوا کہ دونوں قبائل اپنی جنگی تیاریوں میں سرگرم ہیں اور قبیلہ ہوازن و ثقیف نے اپنے تمام افراد، مرد و عورت، بچوں اور حتیٰ کہ جانوروں کو میدانِ جنگ میں جمع کر لیا ہے تاکہ کوئی سپاہی فرار ہونے کا تصور بھی نہ کرے۔ ہوازن کے رئیس اعظم، مالک بن عوف، جو سو برس سے زائد عمر کے حامل ایک سنجیدہ و تجربہ کار سردار تھے، نے اس عظیم فوج کا سپہ سالاری سنبھالی۔ مزید یہ کہ عرب کے مشہور شاعر اور بہادر جنگجو، درید بن الصمہ، کو مشیرِ حرب کے طور پر میدانِ جنگ میں لایا گیا، تاکہ تدبیریں اور حربی منصوبے بہترین انداز میں نافذ ہوں۔
پیغمبرِانقلاب ﷺ نے اپنی لا زوال حکمت، بے پناہ شجاعت اور ربانی مدد کے سایے تلے بارہ ہزار کے عظیم لشکر کو جمع فرمایا۔ دس ہزار وہ دلیر مہاجرین و انصار تھے جو مدینہ منورہ سے آپ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے، اور دو ہزار نومسلم وہ تھے جو فتحِ مکہ کے بعد دینِ حق کی آغوش میں داخل ہوئے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اس لشکر کو اپنی قیادت میں اس شان و شوکت کے ساتھ حنین کی طرف گامزن کیا کہ ہر قدم پر جلال و وقار کی تابناکی نمایاں تھی۔
جب دشمن کی صفیں نظر آئیں، تو ہوازن و ثقیف کے تیر اندازوں نے پہلے ہی حملے میں تیر و کمان کی بارش کر دی اور ہزاروں کی تعداد میں تلواریں مسلمانوں پر برسا دیں۔ اس منظر کی شدت نے دو ہزار نومسلم اور کفارِ مکہ جو لشکرِ اسلام میں شامل ہو کر مکہ سے آئے تھے، کے دلوں میں لرزہ ڈال دیا اور وہ ایک دم سر پر پیر رکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
مگر اس مشکل و آشوبناک وقت میں بھی حضور نبی اکرم ﷺ کی پائے استقامت میں بال برابر لغزش نہ ہوئی، بلکہ آپ ﷺ ایک پہاڑ کی مانند ڈٹے رہے، اور آپ ﷺ کی غیرمتزلزل ثابت قدمی، رعب و دبدبہ اور شجاعت نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کر دیے۔ مٹھی بھر وفادار و دلیر سپاہی دشمن کے سامنے ڈٹے رہے، اور اس صورتحال میں حضور ﷺ نے داہنی طرف نظر اٹھا کر بلند آواز میں پکارا کہ:
یا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ!
یہ فرمان آواز سنتے ہی ایک صدائے رعد کی مانند جواب آیا:
ہم حاضر ہیں، یا رسول اﷲﷺ!
پھر حضور ﷺ نے رخِ بائیں فرمایا اور بلند آواز میں فرمایا:
یَا لَلْمُھَاجِرِیْنَ!فوراً، فوج کی قطاروں میں ایک ہم آہنگ، بجلی سی برپا ہوئی صدا:
ہم حاضر ہیں، یا رسول اﷲﷺ!
حضرت عباس رضی اللہ عنہ، جن کی آوازیں ایسی بلند تھیں کہ دور دور تک سنائی دیتیں، حضور ﷺ کے حکم پر انصار و مہاجرین کو پکارنے لگے۔ جب انھوں نے ’’یَامَعْشَرَ الْاَنْصَار‘‘ اور ’’یَالَلْمُھَاجِرِیْنَ‘‘ کے نعرے بلند کیے، تو ایسا ہوا گویا میدانِ جنگ میں طوفان برپا ہو گیا۔ تمام لشکر، ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر پلٹ پڑے، اور جن گھوڑوں کے قدم ازدحام کے باعث رُک گئے تھے، سپاہیوں نے اپنی زرہیں اتار کر گھوڑوں سے چھلانگ لگا دی اور دشمن پر جھپٹ پڑے۔
مسلمانوں کی یہ بے مثال شجاعت اور جان نثاری دیکھ کر جنگ کا پانسا پلٹ گیا۔ کفارِ ہوازن و ثقیف بھاگ کھڑے ہوئے، کچھ قتل ہوئے اور باقی گرفتار کر لیے گئے۔ قبیلہ ثقیف کے سپاہی، جو اپنی بہادری و فنونِ جنگ میں مشہور تھے، تمام دلیری کے ساتھ لڑتے رہے، یہاں تک کہ ان کے ستر بہادر شہید ہو گئے۔ لیکن جب ان کے علمبردار عثمان بن عبداﷲ قتل ہوگیا، تو باقی فوج کے پاؤں بھی اکھڑ گئے۔ اور یوں فتحِ مبین کے جلوے حضور رحمةُ اللِّعالمین ﷺ کے قدموں پر نازل ہوئے، اور کثیر تعداد و مقدار میں مالِ غنیمت ہاتھ آیا، جس نے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کو مزید بلند کیا۔
