فاتحِ مکہ کا انتقام


 

لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَآءُ
آج تم پر کوئی الزام نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔

 یہ  سن کر اہلِ محفل پر گویا سکتہ طاری ہو گیا، یقین ان کے دلوں کے دریچوں میں قدم نہ رکھ سکا کہ جس مردِ میدان کو کبھی مغلوب کر کے ایذا رسانی کا ہدف بنایا گیا، جس کے جاں نثاروں کو خاک و خون میں تڑپایا گیا اور جن کی حیات کو طویل عرصہ تک جحیمِ ابتلاء میں بدل دیا گیا تھا، وہی مردِ کامل آج دستِ قدرت میں تمام اقتدار سمیٹے، فاتحانہ جاہ و جلال کے ساتھ موجود ہے اور اس کے باوجود وہ عام معافی کا اعلان کر رہا ہے۔ ایک معاند و متعصب مؤرخ بھی اپنے بغض کے باوجود یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوا کہ جب اہلِ مکہ، جن کے چہروں پر خوف و ہراس کی پرچھائیاں لہرا رہی تھیں، اس مردِ کامل کے روبرو صف بستہ کھڑے تھے تو اس نے نہ غرورِ سلطانی کا اظہار کیا، نہ انتقام کا شعلہ بھڑکایا بلکہ نہایت پر وقار اور فلک شگاف لہجے میں ارشاد فرمایا:

کہو! تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ آج میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟
اس ہیبت ناک اور لرزہ برانداز سوال نے حاضرینِ مجلس کے دلوں کو ہول و ہراس کی وادیوں میں دھکیل دیا۔ وہ اس وہم و گمان میں مبتلا ہو گئے کہ آج کا فاتح ہر ایک سے انفرادی اور الگ الگ طرز کا انتقام لے گا، خونِ ناحق کے ہر قطرے کا حساب چکائے گا، اور کوئی شریر اس کے قہر و غضب سے محفوظ نہ رہے گا۔ ان کے تصورات میں معرکۃ الآرا انتقام کے مناظر گونجنے لگے، گویا ہر فرد کو بدترین اذیت دے کر عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا۔ لیکن وہم و گمان کی یہ تمام عمارت اس وقت دھڑام سے زمیں بوس ہوئی جب رحمتِ مجسم، شفیعِ روزِ جزا ﷺ نے نہایت سنجیدگی، متانت اور رعب و جلال سے معمور آواز میں ارشاد فرمایا کہ:
 لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَآءُ

 آج وہ تاریخی و عظیم الشان دن ہے جب رحمتِ عالم ﷺ، فاتح و غالب کی صفت سے مکہ مکرمہ کے فرسودہ و مقدس گوشوں میں داخل ہوئے۔ محسنِ انسانیت ﷺ نے مکہ کی زمین پر قدم رکھتے ہی اپنے کلماتِ نورانی کا سلسلہ جاری فرمایا، جو لفظ لفظ میں رحمتوں و کرموں کے بے پایاں سمندر کی موجوں سے معمور ہیں۔ حضور ﷺ نے عام اعلان فرمایا کہ:

جو شخص ہتھیار ڈال دے، اس کے لیے امان ہے۔جو شخص اپنا دروازہ بند کرے، اس کے لیے امان ہے۔جو کعبہ میں داخل ہو جائے، اس کے لیے امان ہے۔

  ایک ایسے ماحول میں کہ جن کے گوشے گوشے میں سالوں کی دشمنی، ظلم و ستم اور انتقام کی خوشبو رچی بسی تھی، ان الفاظ پر غور کریں۔ فطرت کی یہ برکت، رحمت کا یہ طوفان اور انسانیت کی یہ اعلیٰ مثال ہے کہ فاتح ہونے کے باوجود رحمت، سادگی، اخلاص و عدل کی اعلیٰ صفتوں سے معمور ہے۔اسی موقع پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:

یا رسول اللہ ﷺ! ابوسفیان ایک فخر پسند آدمی ہے، اس کے لیے کوئی امتیازی کلام فرمائیے تاکہ اس کا سر فخر و بلندی سے بلند ہو جائے۔

 تب حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو، اس کے لیے امان ہے۔
 اس کے بعد ابوسفیان، جو اپنے صلابت و خودداری کے لیے مشہور تھا، مکہ کے گوشہ گوشہ میں بلند آواز سے اعلان کرنے لگا:


اے قریش! محمد ﷺ اتنا عظیم لشکر لے کر آئے ہیں کہ اس کا مقابلہ کسی کے بس میں نہیں۔ جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو، اس کے لیے امان ہے۔


یہ منظر اہلِ مکہ کے لیے بھی بے حد حیران کن تھا کہ سخت جان و بے باک سردار ابوسفیان کے منہ سے یہ الفاظ جاری ہوئے۔ ابوسفیان کی اپنی اہلیہ، ہند بنت عتبہ، یہ سن کر جل بھن کر طیش میں آ گئی اور اپنے غصے کی شدت میں شوہر کی مونچھ پکڑ کر چلائی:


اے بنی کنانہ! اس کم بخت کو قتل کر دو، یہ کیسی بزدلی اور کم ہمتی کی بات کر رہا ہے۔


اس چیخ و پکار کو سن کر بنو کنانہ تیزی سے ابوسفیان کے مکان کی جانب دوڑے، لیکن ابوسفیان نے اپنے علم و شعور و بصیرت کی بنا پر واضح فرمایا:

اس وقت غصے و طیش کی باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ میں نے خود اسلامی لشکر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور یقین دلاتا ہوں کہ اب ہم محمد ﷺ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یہ رحمت ہے کہ انھوں نے اعلان فرمایا ہے کہ جو شخص میرے مکان میں داخل ہو، اسے امان حاصل ہے۔ لہٰذا زیادہ سے زیادہ لوگ میرے مکان میں آ کر پناہ لے لیں۔


ابوسفیان کے خاندان والوں نے سوال کیا: ’’کتنے لوگ تیرے مکان میں آسکتے ہیں؟‘‘

تب ابوسفیان نے وضاحت کی کہ: 

محمد ﷺ نے ان لوگوں کے لیے بھی امان کا اعلان فرمایا ہے جو اپنے دروازے بند کر لیں، یا مسجدِ حرام میں داخل ہوں، یا ہتھیار زمین پر رکھ دیں۔


یہ سن کر سب حیران رہ گئے۔ کوئی ابوسفیان کے مکان کی طرف گیا، کوئی مسجدِ حرام کی جانب دوڑا، اور بعض اپنے ہتھیار زمین پر رکھ کر کھڑے ہو گئے۔ یوں ایک ہی اعلان کے ذریعہ فتح و امان کی یہ موجیں مکہ کے ہر گوشے میں پھیل گئیں اور دشمن کے دلوں میں خوف و احترام کی ایک نرالی لہر دوڑ گئی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی