فتح مکہ


 


چند ہی سال قبل جس مکہ معظمہ کی وادیوں سے پیغمبرِ انقلاب ﷺ کو ترکِ وطن پر مجبور کیا گیا تھا، آج اسی شہرِ آبا و اجداد میں وہ فاتحانہ جلال و جمال کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں۔ بارہ ہزار نفوس پر مشتمل لشکرِ حق، گرداگرد دریائے ایقان کی لہروں کی مانند موج زن ہے۔ حضورِ اقدس ﷺ کے سرِ انور پر سیاہ عمامہ وقارِ سلطانی کا ہالہ بنائے ہوئے ہے اور آپ کی ناقۂ تواضع پر سوار قامتِ اقدس خشیتِ الٰہی سے جھکی ہوئی ہے۔ زبانِ اطہر پر سورۃ الفاتحہ کے اعجاز آفریں ترانے اور شکر و سپاس کے زمزمے بہہ رہے ہیں۔

صفوں کی ترتیب میں رواں صحابۂ کرام کے حلقۂ عقیدت سے نعرۂ تکبیر کی صدائیں آسمان کو چیرتی ہوئی فضاؤں میں گونج رہی ہیں، گویا فرشتوں کے جُھنڈ تسبیح و تقدیس میں مصروف ہوں۔ اور یوں رسولِ عربی ﷺ نے عجز و انکسار کے ساتھ مکہ میں دخول فرمایا اور اس عظیم الشان ساعت میں اعلانِ فتح ہوا، جو تاریخِ انسانی میں توحید کے غلبے کا روشن مینار بن کر قیامت تک جگمگاتا رہے گا۔

سنِ ششمِ ہجری میں قافلۂ عشاقِ توحید عمرہ کی سعادت اور بیت اللہ کی زیارت کے لیے مدینۂ منورہ سے مکۂ معظمہ کی جانب روانہ ہوا۔ یہ قافلۂ نور ابھی منازلِ سفر طے کر ہی رہا تھا کہ مشرکینِ مکہ کی تعصب آلود رکاوٹ نے راستہ روکا اور پیغمبرِ رحمت ﷺ کو اپنے جان نثار صحابۂ کرام کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی سے باز رکھا۔ نتیجتاً ایک تاریخ ساز اور دور رس اثرات کا حامل معاہدہ طے پایا، جو صلحِ حدیبیہ کے نام سے موسوم ہوا۔

یہ معاہدہ گویا کہ وادیٔ عرب کے پرآشوب افق پر امن و آشتی کا صبح صادق تھا۔ اس نے دیرینہ کشاکش اور خون آشامی کی فضا کو اعتدال کی سمت موڑ دیا اور معاشرے میں سکون و اطمینان کی ایک نئی روح پھونک دی۔ معاہدے میں فریقین کے علاوہ دیگر قبائل کو بھی کھلی اجازت دی گئی کہ جس فریق کو چاہیں اپنی نصرت و معاونت کے لیے منتخب کر لیں۔ چنانچہ مکہ میں دو جلیل القدر قبائل آباد تھے؛ بنو بکر اور بنو خزاعہ، جو زمانۂ دراز سے باہمی کشمکش اور مسلسل انتقام در انتقام کی فضا میں مبتلا تھے۔ صلح کے بعد ان کے مابین وقتی طور پر امن قائم ہوگیا۔

اس معاہدے کے تحت بنو خزاعہ نے جانبِ رسالت مآب ﷺ میں اپنی وفاداری کی تجدید کی اور آپ کے جھنڈے تلے پناہ اختیار کی، جبکہ بنو بکر نے قریش کے ساتھ الحاق کیا۔ لیکن کچھ ہی عرصہ گزرا کہ قبائلی غیرت اور پرانی عداوت نے پھر سر اُٹھایا اور بنو بکر نے بنو خزاعہ پر حملہ کر ڈالا۔ یہ  معاہدے کی کھلی صریح خلاف ورزی تھی۔ قریشِ مکہ نے نہ صرف بنو بکر کو اسلحہ و سامانِ جنگ فراہم کیا بلکہ خود بھی نقاب اوڑھ کر ان کے ساتھ قتال میں شریک ہوئے اور بنو خزاعہ پر کاری ضرب لگائی۔

روایات کے مطابق جب بنو خزاعہ پسپا ہوکر حرمِ مقدس میں پناہ گزین ہوئے اور صلح و امان کی فریاد کی، تو اس حرمت والے گھر کی حرمت کو بھی پامال کیا گیا اور خونِ ناحق بہا کر ظلم و جبر کی داستان رقم کی گئی۔ یہ ظلم وہ چنگاری تھی جس نے تاریخ کے دھارے کو پلٹ دیا اور فتحِ مکہ کے پیش خیمہ کے طور پر ایک نئے باب کا آغاز کیا۔
دربارِ رسالت مآب ﷺ میں جب یہ لرزہ خیز خبر پہنچی اور مظلوم قبائل پر روا رکھے گئے ظلم و ستم کا حال سنایا گیا، تو آفتابِ رسالت ﷺ کے چہرۂ انور پر جلال کی بجلیاں کوند گئیں۔ پیغمبرِ انقلاب ﷺ نے نہایت شدتِ غضب اور غیرتِ ایمانی کے ساتھ اس بربریت پر اظہارِ برہمی فرمایا اور بنو خزاعہ کو نصرت و تائید کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ یوں قریش کی یہ بدعہدی اور پیمان شکنی صلح حدیبیہ کے عملی خاتمے کا اعلان ثابت ہوئی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب جنگ بندی کے نتیجے میں اسلام اپنی دعوتی قوت کے ساتھ عرب کے طول و عرض میں تیزی سے پھیل رہا تھا، دلوں پر ایمان کی کرنیں اتر رہی تھیں اور بہت سے لوگ حلقۂ بگوشِ اسلام ہوچکے تھے۔ اب مسلمان ایک جیتی جاگتی اور ناقابلِ نظرانداز قوت کے طور پر عرب کے نقشے پر ابھر چکے تھے۔ مشرکینِ مکہ پر گویا خوف اور پشیمانی کا سایہ طاری ہوگیا۔ وہ لرزہ براندام ہو کر اس سوچ میں ڈوب گئے کہ اس جرمِ عظیم کے نتائج سے کیسے محفوظ رہیں اور کس طرح مسلمانوں کے انتقام کو ٹالا جائے۔

اسی گھبراہٹ میں سردارِ قریش ابوسفیان نے صورتِ حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے معاہدہ برقرار رکھنے کی سعی کی۔ وہ مدینہ منورہ کا سفر کرکے براہِ راست حضور ﷺ کی خدمتِ اقدس میں صلح کی تجدید کے لیے پہنچا۔ یہ وہ وقت تھا جب قرابت کا رشتہ بھی اپنی آزمائش کے دور سے گزر رہا تھا۔ ابوسفیان کی صاحبزادی حضرت امّ حبیبہ رضی اللہ عنہا، جو نکاحِ مصطفوی ﷺ کے شرف سے بہرہ ور تھیں، کے گھر وہ اس امید پر داخل ہوا کہ بیٹی کی سفارش سے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے دل نرم کیے جائیں۔

لیکن اس گھر کے دروازے پر ایمان کی غیرت نگہبان تھی۔ ابوسفیان نے جب بارگاہِ مصطفوی ﷺ کے بسترِ مبارک پر بیٹھنے کی جسارت کرنا چاہی تو امّ المؤمنین نے برق رفتاری سے بستر لپیٹ دیا اور جگہ خالی کر دی۔ یہ منظر دیکھ کر ابوسفیان ششدر رہ گیا اور حیرت سے سوال کیا کہ یہ بستر کیوں لپیٹا گیا ہے؟ تو امّ المؤمنین نے ایمان کی حرارت سے لبریز لہجے میں فرمایا کہ:

آپ ایک مشرک ہیں، اور شرک نجاست ہے۔ میں نے گوارا نہ کیا کہ نبی کریم ﷺ کے مقدس بستر پر کوئی نجاست آلود وجود بیٹھے۔
یعنی ایمان اور شرک کے بیچ کوئی مصالحت ممکن نہیں، چاہے اس کا تعلق خونی رشتوں ہی سے کیوں نہ ہو۔

ابوسفیان کو یہ اندازِ جواب سخت ناگوار گزرا، اس کے قریشی وقار کو زک پہنچی، لیکن صدیقۂ ایمان حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اس ناراضی کی ذرا بھی پروا نہ کی اور اپنے موقف پر کوہِ گراں کی طرح قائم رہیں۔ ابوسفیان نے صلح کی تجدید کے لیے براہِ راست بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر اپنی گزارشات پیش کیں مگر جواب میں سکوتِ نبوی ﷺ ہی اس کا نصیب ہوا۔ اس نے مایوسی اور اضطراب میں حجاز کے بزرگوں اور معززین کو سفارشی بنایا لیکن وہاں بھی شنوائی نہ ہوئی۔ تلملاہٹ اور غصّے کے عالم میں آخرکار اس نے یک طرفہ طور پر تجدیدِ صلح کا اعلان کیا اور شکستہ دل و نامراد اپنے شہر مکہ کی طرف لوٹ گیا۔

ادھر قبائلِ خزاعہ کی سسکیاں اور قریش کی عہد شکنی کا ارتعاش جب دربارِ نبوت ﷺ تک پہنچا تو افقِ رسالت پر عزم و استقلال کے بادل گرجنے لگے۔ پیغمبرِ انقلاب ﷺ نے فیصلہ فرما لیا کہ اب ظلم و طغیان کے اس مرکز کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ مؤرخین روایت کرتے ہیں کہ قبیلۂ خزاعہ نے اپنے ایک فصیح شاعر عمرو بن سالم خزاعی کو خدمتِ اقدس میں بھیجا، جس نے درد میں ڈوبے اشعار کے ذریعے فریاد کی اور کہا کہ وہ مقامِ وتیرہ میں حالتِ رکوع و سجود میں تھے کہ قریش نے ہم پر شب خون مارا اور ہم پر قتلِ عام کیا۔ اس نوحہ گر کی فریاد سن کر حضور نبی کریم ﷺ کی رحمت جوش میں آئی اور ارشاد فرمایا کہ:

اے عمرو! تمہاری مدد کی جائے گی۔

یہ اعلان گویا آسمان سے بجلی کی گرج تھی جس نے مکہ کی سرزمین پر لرزہ طاری کر دیا۔ رسولِ عربی ﷺ نے مدینہ کے سپہ سالاروں کو حکم دیا کہ لشکرِ اسلام کو تیار کیا جائے۔ مدینہ اور اطراف کے قبائل کو پیام بھیجا کہ سب اس عظیم مہم میں شریک ہوں۔ مکہ کی سرزمین کو شرک و کفر کی گرفت سے آزاد کرانے کا عزمِ مصمم کر لیا گیا اور اس فیصلے کو پوری احتیاط کے ساتھ راز میں رکھا گیا تاکہ کوئی خبر قریش کے جاسوسوں تک نہ پہنچے۔

مدینہ کے اطراف میں نگرانی کے لیے دستے بٹھائے گئے تاکہ کوئی غیر مجاز شخص خبر لے کر نہ نکل سکے۔ جب سب تیاریاں مکمل ہو گئیں تو ایک عظیم الشان لشکر جس کی تعداد دس ہزار تک پہنچتی تھی، نبی رحمت ﷺ کی قیادت میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوا۔ لشکر کے اکثر افراد کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ حتمی منزل کہاں ہے، مگر سب جذبۂ اطاعت اور شوقِ قربانی میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے رواں دواں تھے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی