صلح حدیبیہ


 

یقیناً ربّ کائنات نے ان نفوسِ قدسیہ سے نہایت خوشنودی کا اظہار فرمایا جب وہ شجرِ بیعت کے سایۂ تقدیس تلے، سرورِ دو جہاں ﷺ کے دستِ مبارک پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے عہد میں مصروف تھے۔ ان کے قلوب کے نہاں خانوں میں مکنون راز بھی اس کی علمِ محیط میں جلوہ گر تھے، پس اس نے اپنے انوارِ سکینت سے ان کے دلوں کو سرشار کیا اور قریب الوقوع نصرت و فتح کے جام سے انہیں سیراب فرمایا۔

یہ آیتِ کریمہ اسی بیعتِ تاریخ ساز کی طرف اشارہ ہے جس میں نبیِ انقلاب، محسنِ انسانیت ﷺ کے فدائی اور جاں نثار رفقاء، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایمان و ایقان کی حرارت سے معمور ہو کر، جان و تن کے نذرانے پیش کرنے کا عہدِ وفا باندھا اور اپنے کامل یقین کو مہرِ تصدیق سے مزین کر دیا۔ یہ وہ بیعت تھی جسے تاریخ نے بیعتِ رضوان کے نام سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا — ایک ایسی بیعت جو پوری انسانی تاریخ میں اپنی نوعیت کا یکتا اور بے نظیر واقعہ ہے۔

ادھر چودہ سو جانثارانِ حق، ہر ایک کے پاس محض ایک تلوار، جنگی لباس سے بھی تہی دست، احرام کی سفید چادریں اوڑھے، اپنے مرکزِ ایمان، مدینہ منورہ، سے ڈھائی سو میل کی مسافت طے کر کے دشمن کے  شہر کے قریب پہنچے، اور اس حال میں ان سے قتال پر بیعت کرنے لگے جن کے پاس قوت و وسائل کے انبار اور ہر قسم کی کمک کے راستے ہموار تھے۔ یہ سب کچھ جانتے اور دیکھتے ہوئے بھی انہوں نے ایک بار نہیں بلکہ بارہا بیعت کی تجدید کی، یہاں تک کہ ہر دل قربانی کے عزم سے موجزن ہو گیا۔

ان نفوسِ مطمئنہ کے حق میں ربِّ قدیر نے سندِ خوشنودی صادر فرمائی جو قیامت تک ان کے ایمانِ کامل، اخلاصِ عمل اور استقامتِ عہد کی آسمانی شہادت رہے گی۔

حضرتِ ذو النورینؓ، جو سیدِ دو عالم ﷺ کے سفیر بن کر قریش کے سرداران سے گفت و شنید کے لیے تشریف لے گئے تھے، اہلِ مکہ نے بظاہر انہیں عمرہ کی انفرادی اجازت بھی پیش کی، مگر عشاقِ صادق کے امامؓ نے اپنے محبوب ﷺ کے بغیر طواف کو حرمتِ وفا کے منافی جانا اور ایک قدم بھی آگے بڑھانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ قریش نے انہیں مکہ میں روک لیا۔

ادھر حدیبیہ کے ریگزار میں خبر یہ پھیل گئی کہ حضرتِ عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ یہ خبر گویا صاعقہ بن کر نازل ہوئی — ہر دل لرز اٹھا، ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ مسلمانوں کے لیے یہ دین و شرفِ انسانیت پر حملہ تھا، کیونکہ ایک طرف وہ کامل الایمان صحابیِ رسول تھے اور دوسری طرف ایک سفیرِ صلح و امان بن کر گئے تھے، جن کے ساتھ حسنِ سلوک اور جان کی حفاظت ہر مہذب معاشرے اور سفارتی ضابطوں کا بنیادی تقاضا ہے۔

یہ خبر سن کر قلبِ مصطفوی ﷺ پر رنج و الم کی گھٹائیں چھا گئیں اور آپ ﷺ نے جلالِ نبوت کے ساتھ طبلِ قتال بجا دیا، ارشاد فرمایا:

قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! ہم عثمانؓ کا قصاص لیے بغیر ہرگز واپس نہ ہوں گے۔ 

  اس وقت سیدِ کائنات ﷺ کیکر کے درخت کے سایۂ عاطفت تلے جلوہ افروز تھے۔ جلالِ مصطفوی اور حُزنِ نبوی فضا میں رچ بس چکے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے ہمراہ موجود چودہ سو عشاقِ صادق سے قصاصِ عثمانؓ پر بیعت طلب فرمائی۔ خوش نصیبی کے اوراق پر ثبت ہو جانے والا یہ شرفِ اوّلین حضرت ابو سنانؓ کو نصیب ہوا جنہوں نے سب سے پہلے اپنا دستِ وفا بارگاہِ نبوی ﷺ میں رکھ کر جان نثاری کا عہد کیا۔


پھر یہ کیسی ساعتِ وجد آفریں تھی کہ ہر صحابی کا دل عشق و غیرت کے فواروں سے لبریز ہو کر جوش مارنے لگا۔ کوئی ایک بار، کوئی دو بار اور کوئی تین تین بار بیعت کر کے اس عہد کو مزید پختہ کرتا کہ عثمانؓ کی حرمت پر اپنی جانیں نچھاور کر دیں گے۔ حضرت سلمہ بن اکوعؓ کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے سہ بارہ بیعت کر کے اپنی عزم و ثبات کی سند عطا کی۔


جب یہ محفلِ وفا مکمل ہو چکی تو نبیٔ رحمت ﷺ نے اپنے دستِ مبارک کو، جو گویا وفادارِ عثمانؓ کا دست بن چکا تھا، اپنے دوسرے دستِ اقدس پر رکھا اور ارشاد فرمایا:


یہ بیعت عثمانؓ کی طرف سے ہے۔


یوں آسمانِ تاریخ پر بیعتِ رضوان کا یہ منظر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا — درخت کے سائے تلے لی جانے والی یہ بیعت  اہلِ ایمان کے لیے سندِ شرف بنی اور اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلامِ مقدس میں اس بیعت کرنے والوں پر اپنی خوشنودی اور سکینت کے نزول کی بشارت نازل فرما کر اس بیعت کو قیامت تک کے لیے ایک روشن مینار بنا دیا۔ 

یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وہ غیرتِ ایمانی اور حمیتِ دینی ایسی مقبول بارگاہِ خداوندی ہوئی کہ خالقِ کائنات نے براہِ راست اپنے کلامِ مقدس میں اس عظیم بیعت کی شان میں اعلان فرمایا:


اِنَّ الَّذِيۡنَ يُبَايِعُوۡنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوۡنَ اللّٰهَ ۚ يَدُ اللّٰهِ فَوۡقَ اَيۡدِيۡهِمۡ ۚ فَمَنۡ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنۡكُثُ عَلٰى نَفۡسِهٖ ۚ وَمَنۡ اَوۡفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيۡهُ اللّٰهَ فَسَيُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞

اے محبوبِ کبریا ﷺ! جو یہ بیعتِ وفا تمہارے دستِ اقدس پر کر رہے ہیں، وہ درحقیقت براہِ راست اللہ کے ساتھ بیعت کر رہے ہیں۔ تمہارے دستِ مبارک پر جو ہاتھ رکھے گئے وہ دراصل یدُ اللہ کے سائے میں آئے۔ پس جو اس پیمانِ وفا کو توڑے گا وہ دراصل اپنے ہی نفس پر عہد شکنی کا وبال لائے گا، اور جو اس عہدِ ایزدی کو پورا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اجرِ عظیم کی بشارت نوشتۂ تقدیر بنا دے گا۔


یہ اعلانِ ربانی  اس بیعت کی معنویت کو آسمانِ تقدیس تک بلند کرتا ہے اور دوسری طرف یہ باور کراتا ہے کہ بیعتِ رضوان صرف سیاسی یا عسکری اقدام نہیں بلکہ وہ عہد تھا جو بندے اور خالق کے مابین براہِ راست رشتۂ وفا میں پرویا گیا۔


اہلِ سیر اور مورخین نے لکھا ہے کہ جب تحقیق حال کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ حضرتِ عثمانِ غنیؓ کی شہادت کی خبر محض افواہ تھی اور وہ بخیر و عافیت ہیں، تو حدیبیہ کے خیمہ گاہ میں فرحت و مسرت کی ایسی لہر دوڑ گئی کہ گویا قلوبِ مؤمنہ کو سکینت و انشراح کا نغمہ سنا دیا گیا۔ دوسری جانب اہلِ مکہ جب اس بیعتِ جانفشانی اور مسلمانوں کے عزمِ مصمم سے آگاہ ہوئے تو ان پر رعب و ہیبت کی ایسی چادر تن گئی کہ وہ صلح کے امکان کی طرف مائل ہو گئے۔


یہاں سے صلح کا باب آغاز پذیر ہوا۔ قبیلۂ بنو خزاعہ — جو بظاہر اس وقت تک حلقۂ اسلام میں داخل نہ ہوا تھا لیکن ازل سے مسلمانوں کا حلیف اور رفیقِ خیرخواہ چلا آ رہا تھا — اپنے معتدل مزاج اور دانا سردار بدیل بن ورقاء کی قیادت میں بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوا۔ اس نے نہایت وقار اور صداقت کے ساتھ اطلاع دی کہ قریش نے مکہ کے اطراف میں بڑے لشکر جمع کر لیے ہیں، حدیبیہ کے تمام چشموں پر پہرے بٹھا دیے ہیں اور ان کا ارادہ طویل محاصرہ باندھنے کا ہے۔

سرورِ کائنات ﷺ نے جب بدیل بن ورقاء کی زبان سے یہ خبر سنی تو نہایت وقار اور صلابت کے ساتھ ارشاد فرمایا:

ہم یہاں کسی محاذ آرائی کے ارادے سے نہیں آئے، ہمارا مقصد محض بیت اللہ کی زیارت اور عمرہ کی ادائیگی ہے۔ ہاں! اگر قریش چاہیں تو ہم ایک مدتِ مقررہ کے لیے صلح کا معاہدہ کر سکتے ہیں۔ اگر وہ اس تجویز پر آمادہ نہ ہوں تو میں ہر حال میں — خواہ کچھ بھی ہو — ان کے ساتھ قتال پر آمادہ ہوں گا۔

بدیل یہ پیغام لے کر اہلِ مکہ کی طرف لوٹے اور نہایت اخلاص سے قریش کو حضور ﷺ کے عزائم اور اس صلح آمیز پیشکش سے آگاہ کیا، حتیٰ کہ اس کی تعریف میں بھی رطب اللسان ہوئے اور قریش کو اس پیشکش کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر کفارِ قریش نے بدیل کی بات کو محض ایک گریزاں رائے سمجھا اور اس پر کوئی خاص التفات نہ فرمایا۔

اس موقع پر حضرت عروہ بن مسعود ثقفیؓ — جو اس وقت تک دائرۂ اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے — اٹھے اور قریش کو محبت آلود اور نصیحت بھرے لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا:


اگر تم مجھے اپنے باپ کے مانند سمجھتے ہو، تو مجھے اجازت دو کہ میں محمد ﷺ کے پاس جاؤں اور ان سے براہِ راست کلام کروں۔

عروہ کی جانب سے اس شدتِ اصرار، تکرار اور ملتجیانہ انداز کو دیکھ کر قریش نے بالآخر اجازت مرحمت فرمائی۔

عُروہ بن مسعود حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے اور نہایت ادب و احترام کے ساتھ مکالمہ کا آغاز کیا۔ مگر اثنائے گفتگو میں ایک موقع ایسا آیا کہ عروہ نے اپنی عادت کے مطابق تند و تیز جملہ کہہ دیا اور بظاہر تحقیر آمیز لہجے میں بولے کہ:


اگر جنگ کی نوبت آگئی اور تم مغلوب ہوگئے، تو یقین جانو یہ سب تمہیں چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔

یہ جملہ ابوبکر صدیق اکبرؓ کے قلبِ غیرتمند پر بجلی بن کر گرا۔ عشقِ مصطفوی ﷺ اور غیرتِ ایمانی کے اس بحرِ ذخّار نے جوش مارا اور وہ فوراً لپک کر عروہ کو للکارنے لگے:

کیا ہم؟ ہم جو اللہ کے رسول ﷺ پر اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، کیا ہم تمہارے گمان کے مطابق اپنے آقا کو تنہا چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ ہرگز نہیں!

دورانِ گفتگو عروہ بار بار آپﷺ کی مبارک داڑھی کو پکڑتے اور سوال کرتے۔ عروہ کے بھتیجے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ چچا کا یہ غیرمہذب رویہ ان سے برداشت نہ ہوا، چنانچہ حضورﷺ کی محبت اور ادب میں رشتہ داری کا لحاظ کیے بغیر عروہ کو جھڑک دیا اور کہا:

اپنا ہاتھ رسول اللہﷺ کی داڑھی سے ہٹا لو، ایک مشرک کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ آپﷺ کی داڑھی کو ہاتھ لگائے۔

عروہ نے اس ملاقات میں صحابہ کرامؓ کی عقیدت، محبت اور والہانہ وابستگی کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور واپس جاکر قریش سے کہا:

میں قیصر و کسریٰ، نجاشی اور متعدد سلاطین کے درباروں میں حاضر ہوا ہوں، لیکن میں نے کسی بادشاہ کے مصاحبین کو اپنے بادشاہ کے ساتھ ایسا بے لوث تعلق اور خلوصِ محبت رکھتے نہیں دیکھا جیسا محمدﷺ کے ساتھیوں کو آپﷺ کے ساتھ دیکھا ہے۔ وہ اپنے نبی کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پس تمہارے لیے عافیت اسی میں ہے کہ ان سے صلح کر لو۔

آخرکار اہلِ مکہ صلح پر آمادہ ہوئے اور وہ صلح نامہ طے پایا جو بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت اور تلخ شرائط پر مشتمل تھا، جسے ہم گزشتہ کالم میں بیان کر چکے ہیں۔


جب معاہدہ مکمل ہوگیا تو نبی کریمﷺ نے صحابہ کرامؓ کو جانور ذبح کرنے، حلق کروانے اور احرام اتارنے کا حکم دیا۔ لیکن یہ کام ان کے لیے ایسا تھا گویا کوئی بھاری چٹان ہٹانے کو کہا گیا ہو۔ آپﷺ نے تین مرتبہ حکم دیا، مگر کسی نے بھی حرکت نہ کی۔ آپﷺ اپنی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ کے خیمے میں تشریف لے گئے اور یہ کیفیت ان سے ذکر کی۔ حضرت ام سلمہؓ نے صحابہ کرامؓ کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے عرض کیا:

یا رسول اللہﷺ! وہ شدید صدمے کی کیفیت میں ہیں، ان کی یہ حالت طبعی ہے۔ آپ ان پر ناراض نہ ہوں۔

پھر انہوں نے ایک نہایت حکیمانہ مشورہ دیا:

آپ خود جانور ذبح کریں اور سر منڈوا لیں، صحابہ کرامؓ آپ کو دیکھ کر تعمیل حکم کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

نبی کریمﷺ نے ایسا ہی کیا اور صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کو دیکھتے ہی قربانی اور حلق شروع کر دیا۔

یہ صلح نامہ بظاہر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف محسوس ہوتا تھا، لیکن اس کے بعد پیش آنے والے نتائج نے نبی کریمﷺ کی عظیم الشان سیاسی بصیرت کو واضح کر دیا۔ اس صلح کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی، دعوتِ اسلام کا دائرہ وسیع تر ہو گیا، پیغامِ اسلام عوام سے نکل کر خواص تک پہنچا، اور سلاطین کو دعوتی خطوط تحریر کیے گئے۔ کچھ ہی عرصے بعد سب نے اس صلح کے دور رس اثرات دیکھے اور فتح مبین کا تاریخی منظر سامنے آیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی