افقِ یثرب پر ماہِ تمام کا طلوع


 

ہجرتِ مصطفوی ﷺ کا مرحلہ محض ایک جغرافیائی انتقال نہ تھا بلکہ جذبات و سیاست، فطرت و تدبیر اور محبت و مصلحت کے مابین ایک ایسا نازک تصادم تھا جس کی گونج ابد تک سنائی دے گی۔ آبائی خاک، جائے ولادت اور قریشی فضا کی طبعی وابستگیاں ایک طرف تھیں اور تقدیرِ ربانی کا غیر متزلزل فیصلہ دوسری طرف۔ اہلِ نظر فرماتے ہیں کہ ساعتِ خروج میں روضۂ مکّہ کے کوچہ و بازار بھی اس حزن و الم کے گواہ تھے جو قلبِ اطہر میں اضطراب و انکسار کی صورت منعکس تھا، مگر چونکہ یہ ارادۂ ایزدی تھا جس پر تاریخِ قیامت تک کے انقلابات کی بنیاد رکھی جانی تھی، لہٰذا محبوبِ کبریا ﷺ نے دل کی فطری تمنا کو قربان کرکے تدبیر و حکمت کی راہ اختیار فرمائی۔ یہ دراصل اس ازلی پیغام کی عملی تفسیر تھی کہ مقاصدِ عظیمہ کی تکمیل کے لئے جذبات کو پالیسی کا تابع بنانا ہی اصل مردانگی ہے۔

مکّہ معظمہ میں قیام ایک فطری کشش کا مظہر تھا، جب کہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت ایک شعوری، انتظامی اور سیاسی تدبیر کا آئینہ دار۔ یہاں مکّہ کے شقی دلوں کی محرومی اپنی انتہا کو پہنچی تو وہاں یثرب کے خوش بختوں پر سعادتوں کے در وا ہوئے۔ اہلِ قریش نے جب گلِ نبوت ﷺ کو اپنی سنگدلی سے بے دخل کیا تو اہلِ مدینہ نے اسی گلِ سرسبد کو جان و دل سے اپنایا اور یوں تاریخ نے بدنصیبی و خوش نصیبی کے مناظر کو ایک ہی صفحے پر رقم کر دیا۔

سیرت نگار اور مورخین کا کہنا ہے کہ شمس الضحیٰ کے لمحۂ درخشاں میں سیدِ عالم ﷺ اپنے رفیقِ صدیق کے ہمراہ قُبا کی بستی کے قریب جلوہ افروز ہوئے اور ایک سرسبز کھجور کے سایہ دار تنے کے جوار میں قیام فرمایا۔ ابھی یہ پرانوار قافلہ رُکا ہی تھا کہ بستی کے اہلِ ایمان کو مژدہ ملا اور اہلِ قُبا، عشق و شوق کے طوفان میں بہتے ہوئے، نعرۂ تکبیر کی گونج کے ساتھ استقبال کے لیے امنڈ آئے۔ انصار کے تیغ بہ دست، مگر دلوں میں محبت کے بے پایاں ولولے موجزن تھے، گویا ہتھیار ان کے ہاتھ میں تھے مگر دل سراسر آستانۂ نبوی ﷺ کے اسیر تھے۔ ابتداءً اکثر انصار کی آنکھیں جمالِ محمدی ﷺ کو نہ پہچان سکیں اور حضرت صدیق اکبرؓ کو ہی آفتابِ رسالت سمجھ کر سلام و عقیدت پیش کرتے رہے، لیکن جب صدیقِ اکبرؓ نے حرارتِ آفتاب سے بچانے کے لیے اپنی رداء کا سایہ حضور اقدس ﷺ پر کر دیا تو اہلِ قُبا پر حقیقتِ محمدی منکشف ہوئی کہ اصل مقصود کون ہے۔

یہاں سے قافلۂ قدس قبیلۂ بنی عمرو کے بزرگ، کلثوم ابن ہُدم کے دولت کدۂ متواضع پر جلوہ فرما ہوا۔ اسی قیام کے دوران سیدِ کائنات ﷺ نے پہلی شعاعِ تعمیرِ دین ڈالی اور وہ مسجد قائم کی جو ابدالآباد تک مسجدِ قُبا کے نام سے معمور و مشہور ہے۔

امانتِ الٰہی کے امین، حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ، جو اہلِ مکہ کی ودائع و امانات کی واپسی کے لیے شہرِ اُمّ القریٰ میں توقف فرمائے ہوئے تھے، بالآخر قُبا کی منزل پر بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے۔ سیدِ کائنات ﷺ نے چار شب و روز اس بستی کے افق کو اپنی ضیاء سے منور رکھا اور صبحِ جمعہ کو یہاں سے روانہ ہوئے۔ اثناءِ سفر وقتِ جمعہ آ پہنچا تو قبیلۂ بنی سالم کی بستی میں نزول فرمایا اور اولین نمازِ جمعہ ادا کی، جو تاریخِ اسلام کی ابتداء میں جمعہ کی شعاعِ اولین تھی۔ نماز کے بعد جب قافلۂ نبوت نے کوچ کا قصد کیا تو بستی کے لوگ اشتیاق و شوق سے آپ ﷺ کی ناقہ کی نکیل تھام کر عرض گزار ہوئے کہ حضور! ہمارے ہاں قیام فرما لیجئے، ہماری کثرتِ تعداد اور کثافتِ اسلحہ آپ کی خدمت و حفاظت کے ضامن ہیں۔ مگر سیدِ دو عالم ﷺ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ: 

’’اونٹنی کا راستہ چھوڑ دو، یہ مامور بالوحی ہے، جہاں اسے حکم ہوگا، وہیں زانوئے توقف ٹکائے گی۔‘‘

یہ اونٹنی جب بنی مالک بن نجّار کے محلہ میں وارد ہوئی تو از خود زمین پر بیٹھ گئی۔ وہی مقام بعد ازاں مسجدِ نبویؐ کے منبرِ رسالت سے مشرف ہوا۔ ناقہ پھر اٹھی اور گرد و پیش میں گھوم کر دوبارہ اسی موضع پر بیٹھ گئی، گویا فیصلۂ ربانی ثبت کر دیا گیا۔

یہ محض اتفاق نہ تھا بلکہ سلسلۂ خاندانی نسبتوں کی لطیف تجلی تھی؛ کہ یہی وہ خاندان تھا جس سے حضور ﷺ کے پردادا ہاشم نے عقد فرمایا تھا، یہی وہ ماحول تھا جہاں عبدالمطلب پروان چڑھے، یہی وہ بستی تھی جہاں والدِ ماجد عبداللہ کے آخری ایام بسر ہوئے اور جہاں آپ نے وفات پائی۔ حتیٰ کہ سیدہ آمنہ نے بھی بچپن میں اپنے یتیم لختِ جگر کو اسی خاندان کے سپرد کیا تھا اور واپسی میں راہِ اجل کو لبیک کہا۔ پس طبعی میلان کی ایک کڑی بھی اس خاندان سے بندھی تھی، مگر فیصلہ سراسر غیبی اشارے کا تھا، اور وہی ناقۂ نبوت اس امرِ الٰہی کی مُخبر و مظہر بنی۔

تاریخِ عرب کی فضائے بسیط نے آج تک وہ منظر نہ دیکھا تھا، جو روزِ ہجرتِ مصطفیٰ ﷺ مدینہ کی گلیوں اور کوچوں میں برپا ہوا۔ جب حبیبِ خدا ﷺ اپنے وصالِ ازلی کے شہر مکہ کو ترک فرما کر یثرب میں وارد ہوئے تو استقبال کی رفعت و عظمت شاہانِ زمانہ کے ایوانوں کو شرم سار کرگئی۔ سارے شہر میں ایک ہلچل تھی، ہر دہن پر ایک ہی صدا—

 قد جاء نبی اللہ! قد طلع رسول اللہ!

گلیاں و بازار صدائے مرحبا سے گونج اٹھے، چھتوں پر خواتین دیدارِ محبوب کے لیے صف بستہ کھڑی تھیں اور فضاؤں میں ترانے بکھر رہے تھے:

طلع البدر علينا


من ثنيات الوداع


وجب الشكر علينا


ما دعى لله داع


أيها المبعوث فينا


جئت بالأمر المطاع


جئت شرفت المدينة


مرحبا يا خير داع

افقِ یثرب پر ماہِ تمام کی ضیاء پاش کرنیں ثنیاتِ وداع کی وادیوں سے جلوہ فگن ہوئیں۔ اہلِ مدینہ پر سپاس و شکر کے نغمے لازم ٹھہرے کہ بارگاہِ ایزدی کے نقیبِ عظمیٰ نے انہیں صراطِ مستقیم کی طرف دعوت دی۔ رسولِ ہاشمی ﷺ کو منصبِ بعثت سے نوازا گیا اور آپؐ ایسی حکمت آفرین شریعت لے کر تشریف لائے جو اطاعت و انقیاد کے لائق تھی۔ مدینہ کی فضائیں آپؐ کی آمد سے مکرّم و مشرف ہو گئیں۔ اے منادیِ خیر، اے سفیرِ حق و صداقت! آغوشِ یثرب آپ کا خیر مقدم کرتی ہے اور قلوبِ اہلِ ایمان مسرت و عقیدت کے زمزمے بہا رہے ہیں۔

خاندانِ بنی نجار کے صحن و آنگن میں جب محسنِ انسانیت ﷺ جلوہ افروز ہوئے تو ان کی عفیف بیٹیاں اور عصمت مآب خواتین، جن کے دلوں میں محبت و عقیدت کا دریا موجزن تھا، زیارتِ جمالِ مصطفویﷺ کے شوق میں بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کی والہانہ عقیدت کو دیکھا تو محبت و شفقت کے جوش میں سراپا قیام ہوگئے۔ ان پاکیزہ ارواح کے دستِ نازک میں دف تھے، جنہیں وہ وجد و سرور کے عالم میں بجاتی تھیں اور نغماتِ عقیدت میں یہ خوشبو ریز اشعار گنگنا رہی تھیں:

"نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ"
”ہم بنی نجار کی پاکیزہ لڑکیاں ہیں، اور کیا ہی خوش نصیب پڑوسی ہیں ہمارے حضور محمد مصطفیٰ ﷺ۔“

کتبِ حدیث میں یہ روح پرور منظر ان الفاظ میں منقول ہوا ہے:

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَرَّ بِبَعْضِ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا هُوَ بِجَوَارٍ يَضْرِبْنَ بِدُفِّهِنَّ وَيَتَغَنَّيْنَ وَيَقُلْنَ: نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَعْلَمُ اللَّهُ إِنِّي لَأُحِبُّكُنَّ".

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی رحمت ﷺ جب مدینہ طیبہ کے بعض اطراف سے گزرے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بنی نجار کی کچھ کمسن دوشیزائیں، جن کے چہروں پر عقیدت کے اجالے دمک رہے تھے، دف بجا بجا کر وجد و شوق کے نغمے گنگنا رہی ہیں اور والہانہ انداز میں یہ شعر دہرا رہی ہیں کہ  ہم بنی نجار کی پاکیزہ لڑکیاں ہیں، اور کیا ہی حسین و خوش نصیب ہے وہ لمحہ کہ ہمارے پڑوس میں حضور محمد مصطفیٰ ﷺ جلوہ افروز ہوئے ہیں۔اس والہانہ عقیدت کو سن کر نبی کریم ﷺ کے لب ہائے مبارک پر تبسم کی کرنیں بکھر گئیں اور آپ ﷺ نے اپنی نورانی زبان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ میں بھی تم سے محبت رکھتا ہوں۔“

 


اور پھر بعض اہلِ علم نے اس موقع پر وارد ہونے والے مزید نعتیہ اشعار بھی ذکر کئے ہیں، جو عاشقانہ عقیدت کے پھول بن کر فضاؤں میں بکھر گئے:

أشرق البدر علينا _ واختفت منه البدور
مثل حسنك ما رأينا _ أنت يا وجه السرور

أشرق البدر علينا __ واختفت منه البدور
أنت شمسٌ __أنت بدرٌ __أنت نورٌ فوق نور
أنت مصباح الثريا ___ أنت كوكبٌ منير
أنت أمينٌ وغالي ___ أنت مفتاح الصدور

أشرقت أنوار أحمد ____ واختفت منها البدور
يا مؤيد يا ممجد ___ أنت نورٌ فوق نور
حوضك الصافي المبرد ___ وردنا يوم النشور
يا حبيبي يا محمد ___يا وجه السرور

يا حبيبي يا محمد_____يا عروس الخافقين
يا مؤيد يا ممجد ____ يا إمام القبلتين
ممکن ہے کہ یہ وجد آفریں اشعار بھی انہی عقیدت شعار خواتین کے لبوں سے بہہ نکلے ہوں، اور یثرب کی فضائیں ان کی نغمہ ریز عقیدت سے مہک اٹھی ہوں۔

1 تبصرے

  1. الحمدللہ ، میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام مضامین پڑھ رہا ہوں اور بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے قلم میں مزید نکھار پیدا کرے۔ آمین

    جواب دیںحذف کریں
جدید تر اس سے پرانی