عہدِ نو کی بشارت


 

اے اہلِ ایمان! اے رفاقتِ صدق کے علمبردارو! اے جانِ نثارانِ صفِ اخلاص! میں تمہیں اس نعمتِ عظمٰی اور نصیحتِ کبریٰ کی وصیت کرتا ہوں جو ایک مومن دوسرے مومن کو بطورِ سرمایۂ حیات عطا کرسکتا ہے، اور وہ ہے تقویٰ کی تلقین! کہ یہی وہ گوہرِ نایاب ہے جو دل کو آخرت کی جانب متوجہ کرتا ہے اور روح کو خشیتِ الٰہی میں پختہ کرتا ہے۔

پس لازم ہے کہ تم اُن تمام مظاہر و محرّمات سے دامن بچاؤ جن سے ربِّ ذوالجلال نے تمہیں بچنے کا حکم فرمایا ہے۔ جان لو کہ اس سے ارفع نصیحت کوئی نہیں، اور اس سے برتر وعظ کہیں نہیں۔

بے شک جو بندہ اپنے ظاہر و باطن کے معاملات کو محض رضاے پروردگار کے لیے درست رکھے، اس کے اعمال میں اخلاص ہو، اس کے دل میں خوفِ خدا اور عمل میں تقویٰ ہو، تو اس کے لیے یہی سرمائے حیات آخرت کی نجات اور کامیابی کی ضمانت بن جائے گا۔ ایسے ہی لوگوں کے ذکر کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی بُلندی عطا فرمائے گا اور روزِ آخرت ان کے لیے یہ ذخیرۂ جاویداں ہوگا۔

لیکن افسوس! جو اس صراطِ مستقیم کو ترک کردے، وہ کل کے دن اپنی بداعمالیوں کو اپنے سامنے پائے گا، اور حسرت سے پکار اٹھے گا:

"کاش! میرے اور ان اعمالِ بد کے درمیان صحراے اَبد کا فاصلہ حائل ہوتا!"

یہ وہ پہلا تاریخ ساز خطبہ تھا جسے محسنِ اعظم ﷺ نے مدینۂ منورہ میں جلوہ فرما ہونے کے بعد ارشاد فرمایا۔ مکۂ معظمہ سے بحکمِ الٰہی ہجرت کی باضابطہ اجازت پانے کے بعد، سفر کی مشقتوں اور گردِ راہ کی تکالیف کو صبر و استقامت کے آبگینے میں سموئے ہوئے، سیدِ دو جہاں ﷺ اپنے رفیقِ صدق و صفا حضرت صدیق اکبرؓ کے ہمراہ جانبِ مدینہ رواں دواں تھے۔

ادھر مدینۂ منورہ میں آپ کے قدومِ مبارک کی بشارت پہنچ چکی تھی۔ اہلِ مدینہ کی آنکھیں جلوۂ نبی ﷺ کی منتظر تھیں اور دلوں میں شوق و ولولہ موجزن تھا۔ روزانہ علی الصبح، بچے بوڑھے، جوان و ضعیف، سب کے سب شہر سے باہر نکل آتے، نگاہیں افقِ اُمید پر جمائے رہتے اور دوپہر ڈھلنے پر محرومِ دیدار ہو کر واپس پلٹ جاتے۔


بالآخر وہ گھڑی بھی آ پہنچی جس کی آس میں مدینہ کی فضائیں تڑپ رہی تھیں۔ ایک روز جب اہلِ مدینہ حسبِ معمول انتظار سے لوٹنے کو تھے کہ ایک یہودی نے بلندی پر واقع ٹیلے سے نورِ مجسم ﷺ کے قدوم دیکھے۔ آپ سفید لباس میں ملبوس تھے اور بشریت کی آنکھوں کو خیرہ کرنے والی وہ ضیا بار شخصیت مدینہ کی سمت آ رہی تھی۔ یہودی بے اختیار پکار اٹھا:


’’اے یثرب کے لوگو! اے دیدار کے متوالیو! جس کا تم صدیوں سے انتظار کر رہے تھے، وہ آگیا ہے!‘‘ 

پورا شہر صدائے تکبیر سے گونج اُٹھا، گلی کوچے نورِ مسرت سے بھر گئے اور اہلِ ایمان، شوقِ دیدارِ یار کے نشۂ سرمدی میں سرشار، گھروں سے نکل کر  جمع ہونے لگے۔ محسنِ اعظم ﷺ کے استقبال کے لئے گویا مدینہ کا ذرہ ذرہ امنڈ آیا۔ بچے اپنی معصوم زبانوں سے مسرت و شادمانی کے نغمے پڑھ رہے تھے اور اپنے مقدر کی بلندی پر نازاں ہو کر رسولِ ہاشمی ﷺ کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ رحمۃ للعالمین ﷺ نے شفقت و محبت کے ہاتھ اُن کے سروں پر پھیرا اور دعاؤں کے موتی نچھاور فرمائے۔


شمعِ رسالت کے گرد پروانوں کی طرح اہلِ مدینہ کا ہجوم والہانہ اجتماع میں بدل گیا۔ مؤرخین رقم طراز ہیں کہ جب محسنِ انسانیت ﷺ مدینہ منورہ کی حدود میں داخل ہوئے تو قُبا میں جلوہ افروز ہوئے اور وہیں چند ایام قیام فرمایا۔ وہاں ایک مسجد کی بنیاد رکھی گئی، جسے تاریخ نے ’’مسجدِ قُبا‘‘ کے نام سے یاد رکھا اور جس کا ذکرِ جمیل ربِ قدیر نے اپنے کلامِ مقدس میں یوں فرمایا ہے کہ وہ مسجد جس کی بنیاد اوّل یوم سے تقویٰ پر رکھی گئی، بدرجہا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس میں عبادت کے لئے کھڑے ہو۔ اس میں ایسے نفوس بستے ہیں جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں اور اللہ پاکیزگی کو پسند کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔


چند روز کے قیامِ قُبا کے بعد آفتابِ رسالت ﷺ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں قبیلۂ بنو سالم کے مقام پر آپﷺ نے جمعہ کی نماز ادا فرمائی۔ ہجرتِ نبوی کے بعد یہ اسلام کی پہلی نمازِ جمعہ تھی۔ اس سے قبل محسنِ اعظم ﷺ نے ایک خطبۂ جامعہ ارشاد فرمایا جسے تاریخِ اسلام کے زرّیں اوراق میں اولین خطبہ کے طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ثبت کر دیا گیا۔  رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:

اے اہلِ ایمان! اے صفا و اخلاص کے جامہ پہنے رفیقو! اے صدق و وفا کے پیکرو! میں تمہیں وصیت و نصیحت کرتا ہوں اُس زادِ راہ کی طرف جو سب سے انمول، سب سے افضل اور سب سے کامل ہے، اور وہ ہے تقویٰ۔ یہی وہ متاعِ گراں مایہ ہے جو انسان کو دنیا کے غبار آلود راہوں سے اُٹھا کر آخرت کی رفعتوں سے ہم کنار کرتی ہے۔ مسلمان اپنے بھائی کو سب سے اعلیٰ جو وصیت کرسکتا ہے وہ یہی ہے کہ اُسے تقویٰ کی  پناہ میں دے دے، اُسے آخرت کی طرف متوجہ کرے اور پروردگار کی اطاعت کی طرف بلائے۔

پس! ڈرو اُن چیزوں سے جن سے ربِ ذوالجلال نے تمہیں بچنے کا حکم فرمایا ہے، کہ اس سے بڑھ کر کوئی نصیحت نہیں، نہ اس سے افضل کوئی وعظ ہے۔ بے شک! جو شخص خوفِ الٰہی کو دل میں جگہ دے کر عملِ صالح کی راہ پر گامزن ہوگا، وہی کامیاب و کامران ہوگا۔ تقویٰ ہی ہے جو آخرت کی منزلِ مقصود تک پہنچنے کا بہترین وسیلہ ہے۔


جو بندہ اپنے اور اپنے پروردگار کے درمیان تعلق کو ظاہر و باطن دونوں پہلوؤں میں درست رکھے اور محض رضائے الٰہی کے لئے زندگی بسر کرے، اُس کا ذکر زمین پر بھی سربلند کیا جائے گا اور روزِ آخرت کے لئے وہ اعمال کا عظیم سرمایہ پائے گا۔ اُس دن کے لئے جب کوئی دوسرا کسی کے کام نہ آئے گا، ہر جان اپنے ہی آگے بھیجے ہوئے اعمال کا محتاج ہوگی۔اور جو شخص اس صراطِ مستقیم سے روگردانی کرے گا، وہ اپنی بداعمالیوں کو اُس دن اپنے سامنے حاضر پائے گا اور پکار اُٹھے گا:

"کاش! میرے اور ان سیاہ کارناموں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ حائل ہوتا!"

سب حمد و ثنا اُس وحدہٗ لا شریک کے لئے سزاوار ہے جو مالکِ کون و مکاں ہے۔ میں اُسی کی تمجید کے زمزمے بلند کرتا ہوں، اُسی سے استعانت کی خیرات مانگتا ہوں، اُسی کے حضور استغفار کے موتی نچھاور کرتا ہوں، اُسی کی ہدایت کے چراغ کا طلبگار ہوں اور اُسی کی ربوبیت پر کامل ایمان رکھتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود برحق صرف وہی ہے، اُس کا کوئی شریک و سہیم نہیں، اور یہ بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمد مصطفیٰ ﷺ اُس کے برگزیدہ بندے اور نبی آخرالزماں ہیں جنہیں ربِ جلیل نے ہدایت و نور کی لَو تھما کر مبعوث فرمایا، ایسے دور میں کہ جب قافلۂ رسالت منقطع ہو چکا تھا، وحی کے دریچے بند ہو چکے تھے، جہالت کی تاریکیاں چھا چکی تھیں، علم و حکمت کے سوتے خشک ہو گئے تھے اور قیامت کی چاپ قریب آ پہنچی تھی۔ پس! جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا دامن تھاما اُس نے ہدایت و فلاح کی منزل پالی، اور جس نے سرکشی و نافرمانی کو شعار بنایا وہ ضلالت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرا اور بعید از بعید گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔


اے مومنو! میں تمہیں تقویٰ و پرہیزگاری کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہی وہ متاعِ جاوداں ہے جو تمہیں ربِ کائنات کے غضب سے بچا سکتی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ بندوں کو اپنے عتاب سے ڈراتا بھی ہے اور اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازتا بھی ہے۔ اُس کے اقوال سراسر صداقت ہیں، اُس کے وعدے کبھی خلاف واقع نہیں ہوتے، اور وہ خود اعلان کرتا ہے کہ نہ میری بات بدلتی ہے اور نہ میں اپنے بندوں پر ذرّہ برابر ظلم کرتا ہوں۔ پس! اپنے ظاہر و باطن، اپنے حال و استقبال اور اپنے خفیہ و جلی سب امور میں تقویٰ کو حرزِ جاں بنا لو، کہ تقویٰ ہی وہ کلید ہے جو تمہیں عظیم کامیابی کے دروازے تک لے جائے گی۔ یہی نورِ تقویٰ ہے جو روزِ قیامت چہروں کو ضیا بار اور دلوں کو سرشار کرے گا، یہی تقویٰ ہے جو بلند درجات اور رب کی رضا تک رسائی کا وسیلہ ہے۔


یاد رکھو! تمہارے پروردگار نے تمہیں اپنی عظیم کتاب، قرآنِ حکیم کا انعام دیا ہے تاکہ تم پر آشکارا ہو جائے کہ کون صدق پر قائم ہے اور کون کذب کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے۔ پس اپنے رب کی یاد کو لازم پکڑو، کہ اُس کی یاد دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ جو بندہ اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دے، اُس کے معاملات کے کفیل خود ربِ ذوالجلال ہو جاتے ہیں۔ وہی مالک ہے اور اُس پر کوئی مالک نہیں، وہی حاکم ہے اور اُس پر کوئی حاکم نہیں۔ بے شک اللہ اکبر!


جب مدینہ کے گلستاں میں داخلہ ہوا تو اہلِ ایمان سراپا اشتیاق بنے گلی کوچوں میں اُمڈ آئے، ہر ایک کی آرزو تھی کہ پیغمبر انقلاب ﷺ اُس کے گھر قیام فرمائیں۔ انصار کے ہر محلہ و کوچہ میں دلوں کی دھڑکنیں بڑھ جاتی تھیں اور اہلِ ایمان عرض کرتے:

"یا رسول اللہ ﷺ! ہماری جانیں، ہمارے اموال سب آپ پر قربان!"


مگر رسولِ رحمت ﷺ ہر ایک کے دل کی تسکین کے لیے دعائے خیر فرماتے اور اشارتاً کہتے:

"اونٹنی کو آزاد چھوڑ دو، یہ مامور منجانب اللہ ہے۔"


یوں وہ مبارک ناقہ اُس مقام پر بیٹھ گئی جہاں آج مسجدِ نبوی کی عظیم و برکت آشیانۂ نور کھڑا ہے۔ یہ زمین دو یتیموں کی ملکیت تھی جسے حضور ﷺ نے قیمت ادا کر کے خرید لیا اور اُسی جگہ کو مسجد کی تعمیر کے لیے منتخب فرمایا۔ سب سے قریب حضرت ابوأیوب انصاریؓ کا مکان تھا اور یوں وہ اس شرفِ میزبانی کے تاجدار بنے، جہاں محسنِ انسانیت ﷺ نے سات ماہ تک قیام فرمایا۔ یہی وہ ساعتِ مسعود تھی جس سے سنِ ہجری کا آغاز ہوا اور تاریخِ اسلام میں ایک نیا باب روشن ہوا۔


علماء و مؤرخین لکھتے ہیں کہ حضرت ابوأیوب انصاریؓ کی میزبانی بھی اُس قدیم وصیت کا نتیجہ تھی جو یمن کے عظیم بادشاہ تُبّع حِمیری نے چھوڑی تھی۔ اُس نے اپنے علما سے یہ خبر سنی تھی کہ یہاں ایک روز احمدِ مجتبیٰ ﷺ کا ظہور ہوگا۔ اُس نے ایک مکان اور ایک خط بطور امانت چھوڑے کہ اگر میرا وقت نہ آیا تو تم میں سے جو بھی اُن کے دیدار کو پہنچے یہ امانت اُن کے سپرد کر دے۔ نسل در نسل یہ وصیت چلتی رہی یہاں تک کہ وہ مکین اور وہ خط حضرت ابوأیوبؓ کے پاس محفوظ رہے، جنہیں حضور ﷺ کے حضور پیش کیا گیا۔


یوں اللہ تعالیٰ نے انصار کے قلوب کو اُس نورِ نبوت کے لیے آمادہ کیا اور یہی وہ پہلا اقدام تھا جس سے ریاستِ مدینہ کی اساس رکھی گئی، جہاں سے اسلام ایک آفاقی مذہب بن کر اُبھرا اور رسولِ اکرم ﷺ ایک کامل انسانیت ساز اور ہمہ گیر انقلابی کی صورت میں جلوہ گر ہوئے۔

1 تبصرے

  1. سبحان اللہ! کیا ہی عمدہ الفاظ اور پیارا اسلوب اختیار کیا ہے۔ پڑھ کر دل خوش ہوگیا۔

    جواب دیںحذف کریں
جدید تر اس سے پرانی