فلکِ نیلگوں کے جذبے کا رشک۔۔۔



فلکِ نیلگوں کے جذبے کا رشک۔۔۔

تحریر:- حضرت مولانا سعید الرحمٰن صاحب 

(استاد الحدیث جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک)

آسمان سے قہر اور بادلوں نے وادیٔ نیر کا رخ کیا تو ایسے حوادثات کے سائے چھا گئے کہ عقلِ انسانی حیران رہ گئی۔ آباد و شاداب بستیاں یوں اجڑ گئیں جیسے وہاں کبھی کوئی سانس لینے والا بھی نہ رہا ہو۔ مسکراہٹوں کو یوں آہوں اور سسکیوں سے بدل ڈالا کہ گویا کبھی بہار دیکھی ہی نہ ہو۔ گلیاں کوچے نہ رہے، یوں لگتا تھا کہ ہر صحرا و بیابان یکایک ماتم کناں ہو گئے۔ ہر طرف گریہ و زاری کی ایسی فضا قائم ہوگئی کہ دن کی روشنیاں رات کے بھیانک بادلوں سے لپٹ کر عالم کو ماتم کدہ میں بدل گئیں۔ معصوم بچے بے یارو مددگار، مائیں بے سہارا، مرد غموں سے ایسے نڈھال کہ ہچکیاں رکنے کا نام ہی نہ لیتی تھیں۔

ایسی آفات و بلائیں جنہیں تاریخ کے اوراق میں زمانوں تک محفوظ کر کے عبرت کا سبق بنا دیا گیا۔ لیکن تقدیر پر رضا ہے، ناراضگی نہیں؛ یہ فیصلے اٹل ہیں، ان میں تبدیلی کی گنجائش نہیں۔

ایسے بحرانی حالات و حوادثات میں خالقِ کائنات نے مخلوقِ خدا میں وہ لوگ بھی پیدا کیے جو ایثار و اخلاص کے جذبے سے سرشار ہیں، جو غموں کے دوران خوشیاں پہنچانے والے اور کرب و الم کو راحت میں بدلنے والے مسیحا ہیں۔ خدمت و قربانی کی یہ لازوال داستانیں دنیا تک یاد رہیں گی۔

 ان نابغۂ روزگار لوگوں میں سے ایک نام مفتی فضل غفور صاحب کا بھی ہے، جنہوں نے سیلاب کے ابتدائی ایام سے تا امروز اپنے آپ کو وقف کر کے اس دیس کے باسیوں کو سہارا دیا اور ہر مرحلے میں ان مصیبت زدہ لوگوں کی داد رسی فرمائی۔ امدادی سرگرمیاں منظم طور پر جاری رکھیں۔ اور اب دینی مدارس کے طلباء کی ایک عظیم جماعت کو بلا کر پورے علاقہ میں بلا تفریق مذہب و جماعت صفائی کر کے علاقہ کا نقشہ بدل ڈالا۔

بہت سوں کو مفتی صاحب کی خدمت ہضم نہ ہوئی اور وہ بے سروپا بیانات دینے لگے، لیکن مفتی صاحب عزم و ہمت کا ایک مضبوط پہاڑ بنے رہے۔ چھوٹی بڑی تنظیموں نے ان کی خدمات کو سراہا اور شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ۔ اللہ  تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور برکت عطا فرمائے۔

انہوں نے کسی بات کو خاطر میں لائے بغیر خدمت کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور سرخروئی حاصل کی۔ یہ بھی بڑی ناانصافی ہوگی کہ باقی تنظیموں یا افراد کی خدمات کا اعتراف نہ کیا جائے۔ الحمد للہ، سب نے انسانیت کے نام پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔

آخر میں "انصار الاسلام" کے شاہین صفت نوجوانوں کو بلا تفریق خدمت کرنے پر ان کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ مزید اچھے نوجوانوں کی ایسی تربیت کر کے انہیں خدمت کے جذبے سے سرشار بنایا جائے گا اور اپنی تنظیم کو عوام کے دلوں میں جاگزین کریں گے۔ باقی رہا، دینی مدارس کے طلباء کرام کا ذکر، تو وہ میرے خیال میں تحصیل حاصل ہے لیکن یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ ان کی بے مثال خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی