کہاں تک بتا تیری خدمت کروں


 جب فلک کے پردے سے قہر آلود بادلوں نے اپنے دامن چھلکائے تو وادیٔ بونیر پر آفتابِ حوادث کا سایہ گہرا ہوگیا۔ آبِ بلا کی سرکش موجیں خس و خاشاک کی مانند بستیاں بہا لے گئیں، کچے مکان ریزہ ریزہ ہوکر غبارِ بربادی میں تحلیل ہوگئے۔ سبزہ زاروں کی مسکراہٹ پر خزاں کے زخم نقش ہوگئے اور کھیتیاں یوں اجڑیں گویا زندگی کے دامن سے رنگ و خوشبو چھین لی گئی ہو۔

سیلِ آفات کے شور میں گلی کوچے ماتم کدہ بن گئے۔ ہر سمت آہوں کی گھنٹیاں بجتی تھیں، نوحہ کناں فضائیں غم کی سیاہی میں لپٹی ہوئی تھیں۔ معصوم بچے خوف کے سائے میں لرزاں، بے سہارا عورتیں اندوہ کے کوفے میں محصور، اور ضعیف بزرگ بےبسی کی صلیب پر مصلوب دکھائی دیتے تھے۔ یہ منظر ہم نے پہلی مرتبہ دیکھا جس کا اثر ہم مدتوں تک محسوس کریں گے۔

اس سیلاب نے تباہی کے بے شمار مناظر چھوڑے ہیں۔ گھروں کی بربادی، کھیتوں کی تباہی، اور قیمتی جانوں کا نقصان ایک کربناک منظر ہم دیکھ رہے ہیں لیکن خوش قسمتی یہ ہے کہ حالیہ بحران میں انسانی ہمدردی اور خدمت کے وہ جذبے دیکھنے کو ملے ہیں جن کی مثالیں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔

سیلاب کے ابتدائی دنوں سے ہی مختلف ادارے اور افراد متاثرین کی مدد کے لیے میدانِ عمل میں موجود ہیں، لیکن اس کارِ خیر میں سب سے نمایاں کردار مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کا ہے۔ خصوصاً جمعیت علماء اسلام بونیر اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار ہر محاذ پر سبقت لیے ہوئے ہیں۔

سیلاب کے ابتدائی دنوں سے ہی مختلف ادارے اور افراد متاثرین کی مدد کے لیے میدانِ عمل میں موجود ہیں، لیکن اس کارِ خیر میں سب سے نمایاں کردار مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کا ہے۔ خصوصاً جمعیت علماء اسلام اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار ہر محاذ پر سبقت لیے ہوئے ہیں۔جمعیت علماء اسلام بونیر کے ضلعی امیر اور صوبائی نائب امیر حضرت مولانا مفتی فضل غفور صاحب پہلے ہی دن سے متاثرین کے ساتھ موجود ہیں۔ وہ متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی کر رہے ہیں اور آنے والی امدادی تنظیموں کی رہنمائی اور متاثرین تک ان کی رسائی کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں امدادی سرگرمیاں ایک منظم اور مربوط انداز میں جاری ہیں۔ اس کے حوالے مرکز سے لیکر ہر ضلع میں سیلاب متاثرین کی امداد کا سلسلہ جاری ہے اور جگہ جگہ امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں اور انتہائی منظم و شفاف طریقے سے متاثرین کی امداد کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار اپنی تیز رفتاری اور عملی کارکردگی سے عوام کے دل جیت رہے ہیں۔ وہ دن رات محنت کے ساتھ متاثرین تک خوراک، ادویات، کپڑے اور دیگر ضروری سامان پہنچا رہے ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق کروڑوں روپے مالیت کی امداد مستحقین تک پہنچائی جا چکی ہے۔ اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ملک بھر سے  سیاسی، مذہبی  اور سماجی شخصیات مختلف طریقوں سے متاثرین کے ساتھ اظہار یک جہتی کر رہے ہیں اور اپنے غم زدہ بھائی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

آج سے بونیر میں ایک منظم صفائی مہم کا آغاز ہوا ہے جو حضرت مولانا مفتی فضل غفور صاحب کی براہِ راست نگرانی میں جاری ہے۔ اس مہم میں تین ہزار سے زائد طلباء کرام بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ گھروں کی صفائی میں قیمتی سامان نکل رہا ہے جو دینی مدارس کے طلباء انتہائی دیانتداری کے ساتھ مالکان تک پہنچا رہے ہیں۔ 
مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات پر ہوئی کہ تمام لوگ بلا تفریق انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں اور اپنے غمزدہ بھائیوں کے غم کو اپنا سمجھ کر ان کی داد رسی کر رہے ہیں۔ یہی اسلام اور مؤمن و مسلم کی انفرادی پہچان ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی