بونیر میں آنے والے حالیہ سیلاب نے جہاں گھروں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا، وہیں ایک اور نہایت سنگین مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے جو بظاہر آنکھوں سے نظر نہیں آتا مگر وقت گزرنے پر یہ مسئلہ متاثرین کی زندگیوں کو اندر سے کھوکھلا کر دے گا۔ یہ مسئلہ ممکنہ نفسیاتی بحران ہے جس کے دہانے پر سیلاب متاثرین کھڑے ہیں۔ ظاہری بات ہے کہ جانی اور مالی نقصان وقتی طور پر لوگوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے، لیکن اصل چوٹ یہ نہیں۔ اصل نقصان ان لوگوں کی موجودہ نفسیاتی حالات ہیں جن کی طرف اگر توجہ نہ دی تو طویل عرصے تک اس کے اثرات موجود رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں بونیر کے متاثرین کی نفسیاتی صحت کو سنجیدگی سے سمجھنے اور اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
نفسیاتی امراض:
ماہرینِ نفسیات کے مطابق قدرتی آفات کے بعد سب سے عام نفسیاتی مسئلہ Post-Traumatic Stress Disorder پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) ہوتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان کو مختلف نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں سب اہم مسئلہ یہ ہے کہ متاثرہ افراد کو بار بار وہی مناظر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں جو انہوں نے آفت کے وقت دیکھے تھے۔ کبھی خواب میں، کبھی جاگتی آنکھوں میں، جس کی وجہ سے وہ نہ تو سکون کی نیند لے پاتا اور نہ ہی اس کو ذہنی و نفسیاتی سکون حاصل ہوتا ہے۔ اگر وہ فارغ بھی بیٹھا ہو یا کوئی کام کر رہا ہو، اس کے ذہن و دماغ پر انتہائی بھاری بوجھ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اکثر جسمانی امراض میں بھی مبتلاء ہوتا ہے۔ متاثرہ فرد کی یہ یادیں اتنی شدت سے لوٹتی ہیں کہ اس کو لگتا ہے جیسے وہ پھر سے اسی صورتحال میں موجود ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خوف اور بے چینی بڑھتی ہے، نیند خراب ہو جاتی ہے اور معمول کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ اب ان نتائج کو لیکر ذرا اہلیانِ بونیر کے متعلق سوچنے کی کوشش کریں کہ اگر ان میں کوئی سرکاری ملازم ہے اور وہ دن کے بارہ گھنٹے ڈیوٹی کرتا ہے اور ساری رات ڈیپریشن کی وجہ سے نیند نہ آئے تو صبح اس کی حالت کیا ہوگی؟ اس طرح کوئی طالب علم ہے جس کو پڑھنا ہے، سبق سمجھنا ہے اور امتحان کی تیاری کرنی ہے لیکن اس کے ذہن میں یہی چیزیں آ رہی ہیں تو اس کی حالت کیا ہوگی؟
کسی بھی آفت یا مشکل کے گزرنے کے بعد متاثرین میں ڈپریشن عام ہوتی ہے۔ وہ افراد جو اپنے پیاروں کو کھو بیٹھے ہوں یا جن کی محنت کی کمائی لمحوں میں بہہ گئی ہو، وہ لازماً ڈیپریشن کا شکار ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے لیے زندگی میں دلچسپی باقی نہیں رہے گی۔ مسلسل اداسی، مایوسی، تھکن اور خود کو یا دوسروں کو قصوروار سمجھنے کی کیفیت میں مبتلا رہے گا۔
مزید برآں، متاثرین اکثر بے چینی (Anxiety) کے شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی آوازوں پر چونک جانا، دل کی دھڑکن تیز ہونا، بلاوجہ گھبراہٹ، اور بار بار یہ سوچنا کہ کہیں دوبارہ سیلاب نہ آ جائے—یہ سب بے چینی کی صورتیں ہیں۔ بچوں میں یہ کیفیت اور بھی مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہے، جیسے رات کو ڈر کر اٹھ جانا، بستر گیلا کر دینا یا سکول جانے سے انکار کرنا وغیرہ۔
اثرات:
ان تمام نفسیاتی مسائل کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، روزگار پر منفی اثر پڑتا ہے اور خاندانی تعلقات میں تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ یعنی ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک قدرتی آفت کے اثرات برسوں تک معاشرے کو غیر مستحکم رکھتے ہیں۔
علاج و تجاویز:
ایسا نہیں ہے کہ ان نفسیاتی امراض کا علاج ممکن نہیں یا ان امراض پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ یہ سب ممکن ہے لیکن ان مسائل کے حل کے لیے بروقت علاج نہایت ضروری ہے۔ دنیا بھر میں نفسیاتی ماہرین نے ان کیفیات سے نکلنے کے متعدد طریقے بتائے ہیں جو متاثرین کو دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد دیتے ہیں۔ Psychotherapy ان میں سب سے اہم ہے۔ کاؤنسلنگ کے ذریعے متاثرہ افراد کو اپنے جذبات بیان کرنے کا موقع دیا جاتا ہے کہ اس نے جو بھی دیکھا ہو، بیان کرے تاکہ وہ ان حالات کو بار بار کہہ کر یا سن کر نارمل لے اور ذہن پرسکون ہو۔ اسی طرح Cognitive Behavioral Therapy - CBT) کگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (CBT) اس کے ساتھ ہی متعلقہ طریقہ علاج ہے جس میں انہیں منفی خیالات سے نکل کر مثبت سوچ اپنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں ایکسپوژر تھراپی متاثرین کو محفوظ ماحول میں اپنے صدمے کا سامنا کرنے میں مدد دیتی ہے تاکہ وہ خوف پر قابو پا سکیں۔ اسی طرح گروپ تھراپی بھی نہایت مؤثر ہیں، کیونکہ یہ متاثرہ فرد کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔
ان نفسیاتی مسائل کے لیے ادویات بھی علاج کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ڈپریشن اور بے چینی میں مؤثر ہیں، جبکہ بعض مخصوص ادویات نیند اور ڈراؤنے خوابوں کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ شدید کیفیت میں اینٹی سائیکوٹک دوائیں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ روحانی اعمال، ذکر و مراقبہ اور ورزش کی مدد سے بھی علاج کیا جاتا ہے لیکن سب سے بڑھ کر خاندان، دوستوں اور کمیونٹی کا تعاون ہے جو کسی بھی فرد کو اندھیروں سے نکال کر زندگی کی روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ بونیر کے سیلاب متاثرین کو مادی نقصانات کے ازالے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صحت کی بحالی بھی وقت کی اشد ضرورت ہے۔ اگر نفسیاتی مسائل کو بروقت پہچانا اور علاج کیا جائے تو یہ لوگ دوبارہ پُرعزم ہو کر اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان مسائل کو نظرانداز کیا گیا تو یہ نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ پورے معاشرے کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم آفات کے بعد بحالی کے کاموں میں نفسیاتی معاونت کو اولین ترجیح دیں۔
سفارشات برائے علماء و رضاکار:
اس وقت بونیر اور دیگر متاثرہ علاقوں میں موجود علماء کرام اور رضاکار ایک نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ وہ ماہرِ نفسیات نہیں ہیں، لیکن ان کے رویے اور طرزِ عمل متاثرین کے لیے ابتدائی نفسیاتی سہارا فراہم کر سکتے ہیں۔
سب سے پہلے، متاثرین کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ ان کے غم اور درد کو توجہ سے سننا، ان کے ساتھ وقت گزارنا اور انہیں یہ یقین دلانا کہ ان کے ساتھ برادری کھڑی ہے، ان کے لیے ایک بڑی سہولت بن سکتا ہے۔ علماء کرام قرآن و سنت کی روشنی میں صبر، دعا اور امید کی تعلیمات کو اجاگر کریں تاکہ متاثرین مایوسی سے نکل سکیں اور زندگی کو آزمائش کے زاویے سے دیکھ سکیں۔
رضاکار متاثرین کو معمولاتِ زندگی کی طرف لوٹنے کی ترغیب دیں۔ چھوٹے چھوٹے روزمرہ کاموں، جیسے عبادات، بچوں کی تعلیم و تربیت یا کمیونٹی سرگرمیوں میں شمولیت، سے ان کی تنہائی کم ہوگی اور اعتماد بحال ہوگا۔ اسی طرح گروہی سرگرمیوں اور باہمی تعاون سے متاثرین میں اجتماعیت اور امید پیدا کی جا سکتی ہے۔
تاہم، بعض متاثرین ایسے ہوتے ہیں جو شدید مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں، جیسے بار بار خودکشی کے خیالات، مسلسل ڈراؤنے خواب، یا حقیقت سے کٹ جانے کی کیفیت۔ ایسے افراد کے لیے ضروری ہے کہ علماء اور رضاکار فوری طور پر انہیں ماہرِ نفسیات یا قریبی صحت کے ادارے تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
ظاہری بات ہے کہ علماء کرام اور رضاکار نفسیاتی علاج فراہم کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں اور نہ وہ یہ کام کرسکتے ہیں ، لیکن وہ ایک سہارا بن سکتے ہیں جو متاثرین کو مایوسی سے نکال کر امید اور اعتماد کی راہ پر ڈالے۔ ان کا کردار نفسیاتی بحالی کا پہلا اور سب سے اہم قدم ہے، جو بعد میں پیشہ ورانہ علاج اور مکمل صحت یابی کی طرف لے جاتا ہے۔
Tags:
عمومی مضامین
